Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، بخیل کے بخل کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے رب کے بارے میں بدگمانی کرتا ہے، کیونکہ جو شخص خدا کی طرف سے عوض ملنے کا یقین رکھتا ہے وہ خرچ کرنے میں دریا دلی دکھاتا ہے۔ بحارالانوار کتاب الایمان والکفر باب136 حدیث35

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 202: اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا

اکثر اپنے اصحاب سے پکار کر فرمایا کرتے تھے خدا تم پر رحم کرے کچھ سفر کا سازوسامان کرلو ۔کوچ کی صدائیں تمہارے گوشو گذار ہو چکی ہیں ۔ دنےا کو وقفہ قیام کو زیادہ تصور نہ کرو، اور جو تمہارے دسترس میں بہترین زاد ہے، اسے لے کر (اللہ کی طرف پلٹو) کیونکہ تمہارے سامنے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے اور پر ہوں و خوفناک مراحل ہیں کہ جہاں اترے اور ٹھہرے بغیر تمہیں کوئی چارہ نہیں تمہیں جاننا چاہیے کہ موت کی ترچھی نظریں تم سے قریب پہنچ چکی ہیں اور گویا تم اس کے پنجوں میں ہو جو تم میں گڑو دئیے گئے ہیں اور موت کے شدا مدد مشکلات تم پر چھا گئے ہیں ۔ دنیا سے سارے علائق قطع کر لو اور زاد و تقوی سے اپنے کو تقویت پہنچاؤ۔

(سیدرضی کہتے ہیں کہ اس خطبہ کا کچھ حصہ پہلے بھی گزر چکا ہے لیکن اس روایت کے الفاظ پہلی روایت سے کچھ مختلف ہیں ۔