Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، اللہ نہ تو کسی کو مجبور کرتا ہے اور نہ ہی (اُس نے) تمام کام کسی کے حوالے کردئیے ہیں بلکہ معاملہ دونوں باتوں کے درمیان ہے۔ اصول کافی کتاب التوحید باب الجبر والقدر حدیث13

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 199: راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی سے گھبرانا نہ چاہئے اور قوم ثمود پر عذاب کے وارد ہونے کی کیفیت

اے لوگو !ہدایت کی راہ میں ہدایت پانے والوں کی کمی سے گھبرا نہ جاؤکیونکہ لوگ تو اسی دنیا کے خوان نعمت پر ٹوٹے پڑتے ہیں جس سے شکم پری کی مدت کم اور گر سنگی کا عرصہ دراز ہے۔

اے لوگو ! (افعال و اعمال چاہے مختلف ہو ں مگر رضاؤناراضگی کے جذبات تمام لوگوں کو ایک حکم میں لے آتے ہیں آخر قوم (۱) ثمود کی اونٹنی کو ایک ہی شخص نے پے کیا تھا ۔لیکن اللہ نے عذاب سب پر نازل کیا کیو نکہ وہ سارے کے سارے اس پر رضا مند تھے ۔چنانچہ اللہ کا ارشاد ہے ۔کہ انہوں نے اونٹنی کے پاؤں کاٹ ڈالے اور صبح کے وقت (جب عذاب کے آثار دیکھے تو اپنے کئے پر )نادم و پریشان ہو ئے (عذاب کی آمد یو ں تھی)کہ زمین کے دھنسنے (اور زلزلوں کے جھٹکوں سے )ایسی گھڑگھڑاہٹ ہو نے لگی جیسے نرم زمین میں ہل کی تپی ہو ئی پھالی کے چلانے سے آواز آتی ہے ۔اے لوگو ! جو روشن و واضح راہ پر چلتا ہے وہ سر چشمہ ء (ہدایت )پر پہنچ جاتاہے اور جو بے راہ روی کرتا ہے وہ صحرائے بے آب وگیا ہ میں گر پڑتا ہے۔

(۱) ثمود ابن عامر ابن سام کی اولاد قوم ثمود کہلاتی ہے ان کا موطن و مستقر حجاز و شام کے راستے میں مقام وادی القری تھا جو متفرق بستیوں پر مشتمل ہو نے کی وجہ سے اس نام سے مو سوم تھا ۔خداوند عالم نے ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے ان میں حضرت صالح کو مبعوث فرمایا جو ۶برس کی عمر سے ۱۲۰برس کی عمر تک انہیں ہدایت وتبلیغ کرتے رہے مگر وہ بتوں کی پرستش اور اپنی گمراہی و ضلالت سے باز نہیں آئے ۔آخر اللہ نے ایک اونٹنی کو ا ن کے سامنے اپنی آیت و نشانی کے طور پر پیش کیا جس کے متعلق حضرت صالح نے ان سے کہا کہ ایک دن چشمہ کا پانی یہ پئے گی اور ایک دن تم اور تمہارے مویشی پئیں گے او ر یہ جہاں چاہے چرتی پھر ے تم اس سے کوئی تعرض نہ کرنا اور اگر تم نے اسے کوئی صدمہ پہنچایا تو تم پر عذاب الہی نازل ہو گا ۔چنانچہ کچھ عرصہ تک ایسا ہی ہوتا رہا کہ ایک دن وہ اپنی ضروریا ت کے لئے پانی لے لیتے اور دوسرے دن اس اونٹنی کے پینے کے لئے چھوڑ دیتے ۔مگر ان لوگوں نے اس پر اکتفا نہ کیا اور آپس میں مشور ہ کرکے ا س اونٹنی کو ہلاک کرنے کا تہیا کر لیا چنانچہ قدار ابن سالف نے اس کی کونچیں کاٹ کر اسے ہلاک کر دیا ۔حضرت صالح نے اللہ کی نافرمانی کی ہے اگر تم تین دن کے اندر اندرتوبہ نہ کر لو گے تو تم پر عذاب نازل ہوگا ۔مگر ان لوگوں نے نہ مانا اور ان کی بات کا تمسخر اڑادیا ۔آخر تین دن گزرنے کے بعد ایسا آتش فشاں زلز لہ آیا جس نے ان کا نام و نشان تک صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔