Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام محمد باقر نے فرمایا، جو شخص بددیانت کو امین بنائے گا وہ خدا سے کسی قسم کی شکایت نہیں کرسکتا۔ وسائل الشیعۃ حدیث24217

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 198: معاویہ کی غدّاری و فریب کاری اور غداروں کا انجام

خداکی قسم !معاویہ مجھ سے زیادہ چلتا پرزہ اور ہوشیارنہیں ۔مگر فرق یہ ہے کہ وہ غداریوں سے چوکتا نہیں اور بد کرداریوں سے باز نہیں آتا ۔اگر مجھے عیاری و غداری سے نفرت نہ ہو تی تو میں سب لوگوں سے زائد ہوشیار و زیرک ہوتا ۔لیکن ہر غدار ی گناہ اور ہر گناہ حکم الہی کی نافرمانی ہے ۔چنانچہ قیامت کے دن ہر غدار کے ہاتھو ں میں ایک جھنڈا ہو گا جس سے وہ پہچانا جائے گا خدا کی قسم ! مجھے ہتھکنڈوں سے غفلت میں نہیں ڈالا جاسکتا اور نہ سختیوں سے دبایا جا سکتا ہے ۔

۱وہ افرا د جو مذہب و اخلاق سے بیگانہ شرعی قید و بند سے آزاد اور جزا و سزا کے تصو ّر سے ناآشنا ہو تے ہیں ان کے لئے مطلب برآری کے لئے حیل و ذرائع کی کمی نہیں ہو تی وہ ہر منزل پر کامیابی و کامرانی کی تدبیریں نکال لیتے ہیں جہاں انسانی و اسلا می تقاضے اور اخلاقی و شرعی حدیں روک بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں وہاں حیلہ و تدبیر کا میدان تنگ اور جو لانگاہ عمل کی وسعت محدود ہوجاتی ہے ۔چنانچہ معاویہ کا نفوذ و تسلّط انہی تدابیر و حیلہ کا نتیجہ تھا کہ جن پر عمل پیرا ہونے میں اسے کو ئی روک ٹوک نہ تھی ۔نہ حلال و حرام کا سوال اس کے لئے سدّراہ ہو تا تھا ۔اور نہ پاداش آخرت کا کو ئی خوف اسے ان مطلق العنانیوں اور بیباکیوں سے روکتا تھا جیسا کہ امام راغب اصفہانی اس کی سیرت و کردار کا جائزہ لیتے ہو ئے تحریر فرماتے ہیں ۔

اس کا مطمع نظر یہی ہو تا تھا کہ جس طرح بن پڑے اپنا مطلب پورا کرو ۔نہ حلال و حرام سے اسے کوئی واسطہ تھا نہ دین کی اسے کوئی پرواہ تھی اور نہ خدا کے غضب کی کو ئی فکر تھی ۔

چنانچہ اس نے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے غلط بیانی و افترا ء پروازی کے سہارے ڈھونڈھے طرح طرح کے حربے استعمال کئے اور جب یہ دیکھا کہ امیرالمومنین کوجنگ میں الجھائے بغیر کامیابی تو طلحہ و زبیر کو آپ کے خلا ف ابھارکھڑا کردیا او ر جب اس صو رت سے بھی کامیابی نہ ہو ئی توشاموں کو بھڑکا کر جنگ صفین کا فتنہ برپا کردیا اور پھر حضر ت عمارکی شہادت سے جب ا س کا ظلم و عدوان بے نقاب ہونے لگا تو عوام فریبی کے لئے کبھی یہ کہہ کر دیا کہ عمار کے قاتل علی ہیں ۔کیونکہ وہی انہیں ہمراہ لانے والے ہیں اور کبھی حدیث پیغمبر میں لفظ فئتہ با غیة کی یہ تاویل کی کہ اس کے معنی با غی گروہ کے نہیں ۔بلکہ اس کے معنی طلب کرنے والی جماعت کے ہیں ۔یعنی عمار اس گروہ سے قتل ہوں گے جو خون عثمان کے قصاص کا طالب ہوگا ۔حالانکہ اس حدیث کا دوسرا ٹکڑ ا یہ ہے ۔یدعرھم الی الجنة و یدعو نہم الی النار (عمار ان کو بہشت کی دعوت دیں گے اور وہ انہیں جہنم کی طرف بلائیں گے )اس تاویل کی کو ئی گنجائش پیدا نہیں کرتاجب ایسے اوچھے ہتھیاروں سے بھی فتح و کامرانی کے آثار نظر نہ آئے تو قرآن کو نیزوں پر بلند کرنے کا پر فریب حربہ استعمال کیا حالانکہ اس کی نظروں میں نہ قرآن کا کوئی وزن اور نہ اس کے فیصلہ کی کوئی اہمیت تھی ۔اگر اسے قرآن کا فیصلہ ہی مطلوب ہوتا تو یہ مطالبہ جنگ کے چھڑنے سے پہلے کرتا اور پھر جب اس پر حقیقت کھل گئی کہ عمر و ابن العاص نے ابو موسیٰ کو فریب دے کر اس کے حق میں فیصلہ کیا ہے اور اس کے فیصلہ کو قرآن سے دور کابھی لگا ؤ نہیں ہے تو وہ اس پر فریب تحکیم کے فیصلہ پر رضا مند نہ ہو تا اورعمرو ابن العاص کو اس فریب کا ری کی سزا دیتا یا کم ازکم تنبیہ و سر زنش کرتا ۔مگر یہاں تو اس کے کا رناموں پر اس کی تحسین و آفرین کی جا تی ہے اور اس کا ر گردگی کے صلہ میں اسے مصر کا گورنر بنا دیا جاتا ہے ۔

اس کے برعکس امیر المومنین [ع]کی سیرت و شریعت و اخلا ق کے اعلیٰ معیار کانمونہ تھی وہ ناموافق حالات میں بھی حق و صدا قت کے مقتضیات کو نظر میں رکھتے تھے اور اپنی پاکیزہ زندگی کو حیلہ و مکر کی آلو دگیوں سے آلودہ نہ ہونے دیتے تھے و ہ چاہتے تو حیلوں کا توڑ حیلو ں سے کر سکتے تھے اوراس کی رکاکت آمیز حرکتوں کا جواب ایسی ہی حرکتوں سے دیا جاسکتا تھا جیسے اس نے فرات پر پہرا بٹھا کر پانی روک دیا تھا ۔تو اس کو اس امر کے جواز میں پیش کیا جاسکتا تھا کہ جب عراقیوں نے فرات پر قبضہ کرلیا تو ان پربھی پانی بند کر دیا جاتا اور اس کے ذریعہ سے ان کی قوت حرب و ضرب کو مضمحل کرکے انہیں مغلوب بنا لیا جاتا۔مگر امیرالمومنین ایسے ننگ انسانیت اقدام سے کہ جس کی کوئی آئین و اخلا ق اجازت نہیں دیتا کبھی اپنے دامن کو آلودہ نہ ہونے دیتے تھے اگرچہ دنیا والے ایسے حربوں کو دشمن کے مقابلہ میں جائز سمجھتے ہیں اور اپنی کامرانی کے لئے ظاہر و باطن کی دورنگی کی سیاست و حسن تدبیر سے تعبیر کرتے ہیں ۔مگر امیرالمومنین[ع]کسی موقعہ پر فریب کاری و دورنگی سے اپنے اقتدار کے استحکام کا تصو ّر بھی نہیں کرتے تھے چنانچہ جب لو گو ں نے آپ کو یہ مشور ہ دے کر عثمانی دور کے عمال کو ان عہدوں پر برقرا ر رہنے دیا جائے اور طلحہ و زبیر کو کوفہ و بصرہ کی امارت دے کر ہمنوا بنا لیا جائے اور معاویہ کوشام کا اقتدار سونپ کر اس کے دنیاو ی تدبر سے فائدہ اٹھایا جائے تو آپ نے دنیاوی مصلحتوں پر شرعی تقاضوں کو ترجیح دیتے ہو ئے اسے ماننے سے انکار کر دیا ۔اورمعاویہ کے متعلق صاف صاف لفظو ں میں فرمایا ۔

اگر میں کو اس کے مقبوضہ علاقہ پر برقرار رہنے دوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا قوت بازو بنا رہاہوں ۔

ظاہر ہے لوگ صرف ظاہر ی کامیابی کو دیکھتے ہیں اوریہ دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ یہ کامیابی کن ذرائع سے حاصل ہوئی ہے۔وہ شاطرانہ چالوں سے اور عیارانہ گھاتوں سے جسے کامیاب و کامران ہو تے دیکھتے ہیں اس کے ساتھ ہو جاتے ہیں او راسے مدبر و بافہم اور سیاست دان و بیدار مغز اور خدا جانے کیا کیا سمجھنے لگتے ہیں اور جو الہی تعلیمات اور اسلامی ہدایا ت کی پابندی کی وجہ سے چالوں اور ہتھکنڈوں کو کام میں نہ لائے اور غلط طریق کار سے حاصل ہوئی کامیابی پر محرومی کو ترجیح دے وہ ان کی نظروں میں سیاست سے ناآشنا او ر سو جھ بوجھ کے لحاظ سے کمزور سمجھا جاتا ہے ۔انہیں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہو تی کہ وہ یہ سوچیں کہ ایک پابند اصول و شرع کی راہ میں کتنی مشکلیں اور رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں کہ جو منزل کامرانی کے قریب پہنچنے کے باوجود اسے قدم آگے بڑھا نے سے روک دیتی ہیں ۔