Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جسے جھوٹی آرزوئیں یادِ خدا سے غافل کرکے کھیل تماشے میں نہیں لگائے رکھتیں تحف العقول ص 301، بحارالانوار تتمۃ کتاب الروضۃ باب24

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 197: نماز ،زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا

حضرت اپنے اصحاب کو یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ نماز کی پابندی اور اس کی نگہداشت کرو اسے زیادہ سے زیادہ بجالاؤا ور اس کے ذریعہ سے خدا کا تقرب چاہو ،کیونکہ نماز مسلمانوں پر وقت کی پابند ی کے ساتھ واجب کی گئی ہے ۔کیا (قرآ ن میں )دوزخیوں کے جواب کو تم نے نہیں سنا کہ تمہیں کو ن سی چیز دوزخ کی طرف کھینچ لائی ؟تو وہ کہیں گے کہ ہم نماز ی نہ تھے بلاشبہ نما ز گنا ہو ں کو جھاڑ کر اس طرح الگ کر دیتی ہے جس طرح چوپاؤں کی گردنوں سے ان کے پھندے کھول کر انہیں رہا کیا جاتا ہے ۔رسول نے نما زکو اس گرم چشمہ سے تشبیہ دی ہے جو کسی شخص کے گھر کے دروازہ پر ہو اور وہ اس میں دن رات پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا امید کی جاسکتی ہے کہ ا س کے (جسم پر) کو ئی میل رہ جائیگا ؟نما ز کا حق تو وہی مردا ن باخدا پہچانتے ہیں جنہیں متاع دنیا کی سج دھج اور مال و اولاد کا سرور دیدہ و دل ا س سے غفلت میں نہیں ڈالتا ۔(چنانچہ اللہ سبحانہ٘ کا ارشاد ہے کہ "کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جنہیں خد ا ذکر اور نماز پڑ ھنے اور زکٰو ة دینے سے نہ تجارت غافل کرتی ہے نہ خرید و فروخت -"اور رسول باوجود یہ کہ انہیں جنت کی نوید دی جاچکی تھی (بکثرت ) نماز پڑھنے سے اپنے کو زحمت و تعب میں ڈالتے تھے چونکہ انہیں اللہ کاارشاد تھا "کہ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس کی پابندی کرو "چنانچہ حضرت اپنے گھر والو ں کو خصوصیت کے ساتھ نما ز کی تاکید بھی فرماتے تھے او رخود بھی اس کی کثرت اور بجا آوری میں زحمت ومشقت برداشت کرتے تھے ۔پھر مسلمانوں کے لئے نماز کے ساتھ زکوٰة کو بھی تقرب خدا کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے تو جو شخص اسے برضا و رغبت ادا کرے گا ۔اس کے لئے یہ گناہوں کا کفارہ اور دوزخ سے آڑ او ربچاؤ ہے (دیکھو ! ادا کرنے کے بعد )کوئی شخص اس کا خیا ل تک دل میں نہ لائے اور نہ اس پر زیادہ ہائے وائے مچائے کیو نکہ جو شخص دلی لگن کے بغیر زکوٰة دے کہ اس سے بہتر چیز چشم براہ رہتا ہے وہ سنت سے بے خبر اجر کے اعتبار سے نقصان اٹھانے والا ،غلط کار اور دائمی پریشانی و ندامت میں گرفتار ہے پھر امانت کا ا د اکرنا ہے ،جو اپنے کو امانت کا اہل نہ بنا سکے وہ ناکام و نامراد ہے اس امانت کو مضبوط آسما نوں میں پھیلی ہو ئی زمینوں اور لمبے چوڑے گڑے ہو ئے پہاڑوں پر پیش کیا گیا بھلا ان سے تو بڑھ کر کو چیز لمبی اونچی اور بڑی نہیں ہے تو اگر کوئی چیز لمبائی چوڑائی یا قوت و غلبہ کے بل بوتے پر سر تابی کر سکتی ہو تی تو یہ سرتابی کر سکتے تھے ۔لیکن یہ تو اس کے عقاب و عتاب سے ڈر گئے اور اس چیز کو جان گئے ۔جسے ان سے کمزورتر مخلو ق انسان نہ جان سکا بلا شبہ انسان بڑا نا انصاف اور بڑا جاہل ہے ۔یہ بندگان خدا رات (کے پردوں )اور دن( کے اجالوں )میں جو گناہ کرتے ہیں وہ اللہ سے ڈھکے چھپے ہوئے نہیں وہ تو ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز سے آگا ہ اور ہر شے پر اس کا علم محیط ہے تمہارے ہی اعضا ء اس کے سامنے گواہ بن کر پیش ہوں گے اور تمہارے ہی ہاتھ پاؤں اس کے لاؤلشکر ہیں اور تمہاری تنہائیوں (کے عشرت کدے )اس کی نظروں کے سامنے ہیں ۔