Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام محمد باقر نے فرمایا، اللہ نے مومن کو تین خوبیوں سے نوازا ہے: دنیا اور دین میں عزت، آخرت میں کامیابی اور عالمین کے دلوں میں رعب۔ بحارالانوار کتاب الایمان والکفر باب15حدیث21

نہج البلاغہ خطبات

پیغمبر کے وہ اصحاب جو (احکام شریعت ) کے امین ٹھہرائے گئے تھے اس بات سے اچھی طرح آگا ہ ہیں کہ میں نے کبھی ایک آن کے لےے کبھی اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے سرتابی ۱#نہیں کی اور میں نے اس جوانمردی کے بل بوتے پر کہ جس سے اللہ نے مجھے سرفراز کیا ہے پیغمبر کی دل و جان سے مدد ان موقعوں پر کی جن موقعوں سے بہادر (جی چرا کر)بھاگ کھڑے ہوئے تھے اور قدم (آگے بڑھنے کی بجائے)پیچھے ہٹ جاتے تھے ۔جب رسول نے رحلت فرمائی تو ان کا سر (اقدس )میرے سینے پرتھا اور جب میرے ہا تھوں میں ان کی روح طیب نے مفارقت کی تو میں نے (تبرکاً) اپنے ہاتھ منہ پر پھیر لےے ۔میں نے آپ کے غسل کا فریضہ انجام دیا ۔اس عالم میں کہ ملائکہ میرا ہاتھ بٹا رہے تھے ۔(آپ کی رحلت سے)گھر اور اس کے اطراف و جوانب نالہ و فریاد سے گونج رہے تھے اور ایک گروہ چڑھتا تھا ۔وہ حضرت پر نماز پڑھتے تھے اور ان کی دھیمی آوازیں برابر میرے کانوں میں آرہی تھیں ۔یہاں تک کہ ہم نے انہیں قبر میں چھپادیا تو اب ان کی زندگی میں اور موت کے بعد مجھ سے زائد کون ان کا حق دار ہوسکتا ہے ؟(جب میرا حق تمہیں معلوم ہوچکا )تو تم بصیرت کے جلو میں دشمن سے جہاد کرنے کے لےے صدق نیت سے بڑھو ۔اس ذات کی قسم کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ،بلاشبہ میں جادہ حق پر ہوں اوروہ (اہل شام باطل کی ایسی گھاٹی پر ہیں کہ جہاں سے پھسلے کہ پھسلے میں جو کہہ رہا ہو ں وہ تم سن رہے ہو میں اپنے اور تمہارے لےے اللہ سے آمرزش کا طلب گار ہوں ۔

۱#ابن ابی الحدید نے تحریر کیا ہے کہ امیرالمومنین کا ارشا د ہے "کہ میں نے کبھی پیغمبر کے احکام سے سرتابی نہیں کی "یہ ان لوگوں پر ایک طرح کا طنز ہے کہ جو پیغمبر کے حکام کو رد کرنے میں بیباک تھے اور انہیں ٹوکنے کی جسار ت کرگزرتے تھے جیساکہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب پیغمبر کفار قریش سے صلح پر آمادہ ہو گئے تو صحابہ میں سے ایک صاحب اتنے برا فروختہ ہوئے کہ وہ پیغمبر کی رسالت میں شک کا اظہا ر کرنے لگے جس پر حضرت ابو بکر کو یہ کہنا پڑا :

تم پر افسوس ہے تمہیں ان کی رکاب تھامے رہنا چاہیئے ۔یہ یقینا اللہ کے رسول ہیں اور اللہ انہیں ضائع و برباد نہیں ہو نے دے گا ۔

ا س شک کے ازالہ کے لےے فنم ان َّ اور لام تاکید کے ذریعہ نبو ّ ت کے یقین دلانے کی کوشش کرنا اس امر کا پتہ دیتا ہے کہ مخاطب شک کی منزل سے بھی کچھ آگے نکل چکا تھا کیونکہ یہ تاکیدی لفظیں وہیں پر استعمال کی جاتی ہیں جہاں انکار تک کی نوبت پہنچ چکی ہو ،بہر صورت اگر ایمان عدم شک کا نام ہے تو شک سے ایمان کا مجروح ہونا بھی ضروری ہے جیساکہ اللہ سبحانہ٘ کا ارشاد ہے ۔

مومن بس وہی لوگ ہیں جو اللہ و رسو ل پر ایمان لانے کے بعد شک نہیں کرتے۔

اسی طرح جب پیغمبر نے ابن سلو ل کی میت پر نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو پیغمبر سے کہا کیف تستعفر لر اس المنافقین کیا کیا ان منافقوں کے سردار کے لےے آپ دعائے مغفرت کریں گے اور یہ کہہ کر پیغمبر کو دامن سے پکڑ کر کھینچ لیا جس پرپیغمبر کو یہ کہنا پڑا کہ میرا کوئی اقدام حکم خد اکے بغیر نہیں ہو تا ۔اسی طرح جیش اسامہ کے ہمراہ جانے میں پیغمبر کے تاکیدی حکم کو ٹھکرادیا گیا اور ان تمام سر تابیوں سے بڑھ کر وہ سر تابی تھی جو تحریر وصیّت کے سلسلہ میں ظاہر ہوئی اور پیغمبر کی طرف ایسی غلط نسبت دی گئی کہ جس سے احکام شریعت پر سے اعتماد ہی اٹھ جاتا ہے اور حکم کے متعلق یہ احتمال پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم وحی الہی کی بناء پر ہے یا معاذاللہ کسی بد حواسی کانتیجہ ہے۔

۲۔اس سے کس کو انکار ہوسکتا ہے کہ اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب ہر معرکہ اور جان جوکھوں کے موقعہ پر پیغمبر کے سینہ سپر رہے اور اپنی خدا داد جرات و ہمت سے ان کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیتے رہے چنانچہ پہلا جانثاری کا موقعہ وہ ہے کہ جب قریش نے قتل پیغمبر کا عزم بالخرم کرلیا تو آپ تلواروں کے ترغہ اور دشمنوں کے ہجوم میں بستر نبوّت پر سو گئے جس سے دشمنوں کو اپنے ارادے میں ناکام ونامراد ہو نا پڑا ۔پھر ان جنگوں میں کہ جہاں دشمن ہجوم کرکے پیغمبر پر ٹوٹ پڑتے تھے اور اچھے اچھے بہادروں کے قدم ڈگمگا جاتے تھے ۔آپ علم لشکر کو لے کر پامردی سے جمے رہتے تھے چنانچہ ابن عبدالعزیز تحریر کرتے ہیں ۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ امیرالمومنین میں چار خصوصیتیں ایسی تھیں جو ان کے علاوہ کسی کو حاصل نہ تھیں ایک یہ کہ آپ نے ہر عربی و غیر عربی سے پہلے رسول کے ساتھ نماز پڑھی اور دوسرے ہر معرکہ میں علمبردار ہوتے رہے اور تیسرے جب لوگ پیغمبر کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے تھے تو آپ صبر و استقامت سے جمے رہتے تھے اور چوتھے یہ کہ آپ ہی نے پیغمبر کو غسل دیا اور قبر میں اتارا۔

اسلامی غزوات کاجائزہ لیا جائے تو اس میں کو ئی شبہ نہیں رہتا کہ جنگ تبوک کے علاوہ کہ جس میں بحکم پیغمبر امیرالمومنین شرکت نہ کر سکے تمام جنگیں آپ کی حسن کارکردگی کی آئینہ دار ہیں تمام فتو حات آپ کے قوت بازو کی مرہون منت ہیں چنانچہ جنگ بدر میں ستر کفا ر قتل ہوئے جن میں سے نصف امیرالمومنین کی تلوار سے مارے گئے جنگ احد میں جب مسلمانوں کے مال غنیمت پرٹوٹ پڑنے کی وجہ سے فتح شکست کی صورت اختیار کر گئی اور دشمنوں کے اچانک حملہ سے مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے تو امیرالمومنین جہاد کو فریضہ ایمانی سمجھتے ہوئے ثابت قدمی سے جمے رہے اور پیغمبر کی ہمدردی و جان نثاری میں وہ کار نمایاں کیا کہ جس کا پی-غمبر نے بھی اعتراف کیا اور ملک نے بھی اقرار کیا ۔جنگ احزاب میں پیغمبر کے ہمراہ تین ہزار نبردآزما تھے ۔مگر عمرو ابن عبدود کے مقابلہ میں بڑھنے کی کسی ایک کو بھی جرات نہ ہوتی ۔آخر امیر المومنین نے اسے قتل کرکے مسلمانوں کو رسوائی سے بچا لیا۔جنگ خیبر میں حضرت ابو بکراور حضرت عمر علم لے کر گئے مگر پلٹ آئے اس موقع پربھی امیرالمومنین نے اس مہم کو سر کیا ۔جنگ حنین میں مسلمانوں کو اپنی کثرت پر بڑا گھمنڈ تھا چونکہ ان کی تعداد دس ہزار تھی اور کفار کی گنتی چار ہزار تھی ،مگر یہاں بھی مال غنیمت پر لپک پڑے جس کی وجہ سے کفار کو موقع مل گیا کہ وہ ان پر ٹوٹ پڑیں ۔چنانچہ اس اچا نک حملہ سے مسلمان گھبرا کر بھاگ کھڑے ہو ئے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشا دہے ۔

اللہ نے بہت سے موقعو ں پر تمہاری مدد کی اور حنین کے دن بھی کہ جب تم اپنی کثرت پر اتراتے تھے اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی ، پھرتم پیٹھ پھیر کر چلتے بنے ۔

اس موقع پر بھی امیر المومنین  پہاڑ کی طرح جمے رہے اور آخر تائید خداوندی سے فتح و کامرانی حاصل ہوئی

خطبہ 195: