Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، جس نے کسی مومن کو اذیت دی، اس نے مجھے اذیت دی بحارالانوار ج64 ص72، کتاب الایمان والکفر، ابواب الایمان والاسلام، باب1فضل الایمان، مستدرک الوسائل حدیث 10335

نہج البلاغہ خطبات

اللہ نے اپنے رسول کو اس وقت مبعوث کیا جبکہ (ہدایت )کا کوئی نشان باقی نہ رہا تھا نہ (دین کا)کوئی بلند مینار اور نہ (شریعت ) کی کوئی واضح راہ موجو دتھی ۔ اے اللہ کے بندو !میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں اور اس دنیا سے متنبہ کئے دیتا ہوں کہ جو کوچ کی جگہ اور بے لفظی و بے معنی و بدمزگی کا مقام ہے ۔اس میں بسنے والا آخر اس سے چل چلاؤ پر مجبور ہوگا اور ٹھہرنے والا اپنا رخ موڑکر اس سے الگ ہوجائے گا یہ اپنے رہنے والوں سمیت اس طرح ڈانواڈول ہورہی ہے جس طرح وہ کشتی جسے تند ہوائیں ہچکولے دے رہی ہو ں کچھ توان میں سے ہلاک و غرق ہوگئے ہیں اورجو بچ رہے ہیں وہ موجوں کی سطح پر تھپیڑے کھا رہے ہیں اور ہوائیں اپنے دامنوں سے انہیں دھکیل رہی اور ہولناکیوں میں بڑھائے لےے جا رہی ہیں جو غرق ہو چکا ہے ،وہ ہاتھ نہیں لگے گا ،اور جو بچ رہا ہے وہ مہلکوں میں پ-ڑا رہے گا ۔

اے اللہ کے بندو!اعما ل نیک بجالاؤ ،ابھی جب کہ زبانوں کے لےے کوئی رکاوٹ نہیں ۔بدن تندرست اور ہا تھ پیروں میں لچک ہے (کہ جو چاہو ان سے کام لے سکتے ہو)آنے جانے کی جگہ وسیع اورمیدان (عمل )کشادہ ہے ،قبل اس کے فرصت رفتہ موقع نہ دے اور موت ٹوٹ پڑے ۔اپنے لےے موت کو یہ سمجھو کہ وہ آچکی ۔اس کا انتظار نہ کرو کہ وہ آئے گی۔خطبہ ۱۹۵:پیغمبر کے ساتھ آپ  کی خصوصیات،اور یہ کہ آپ [ع] ہی نے پیغمبر کی تجہیز و تکفین کے فرائض سرانجام دیئے

خطبہ 194: