Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، اپنے مکتوب میں: مومن کی آزمائش اس کے نیک اعمال کے مطابق ہوتی ہے، لہٰذا جس کا دین بہتر اور اعمال اچھے ہوں گے، اس کی آزمائش بھی اُتنی ہی سخت ہوگی۔ بحارالانوار کتاب الایمان والکفر باب 12حدیث29

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 193: خداوند عالم کی توصیف ،تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کے برپا ہونے کی کیفیت

تمام تعریف اس اللہ کے لےے ہے جس نے اپنی فرما نروائی و جلال کبریائی کے آثار کو نمایا ں کرکے اپنی قدرت کی عجیب و غریب نقش آرائیوں سے آنکھ کی پتلیوں کو محو حیرت کر دیا ہے اور انسانی د اہموں کو اپنی صفتوں کی تہہ تک پہنچنے سے روک دیا ہے ۔میں اقرار کرتا ہو ں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ایسا اقرار جو سراپا ایمان ،یقین ،اخلاص اور فرمانبرداری ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندہ و رسول ہیں ۔جنہیں ا س وقت رسول بنا کر بھیجا کہ جب ہدایت کے نشان مٹ چکے تھے ۔اور دین کی راہیں اجڑ چکی تھیں ،آپ نے حق کو آشکار کیا ۔خلق خد اکو نصیحت کی ۔ہدایت کی جانب رہنمائی فرمائی اور افراط و تفریط کی سمتوں سے بچ کر درمیانی راہ پر چلنے کا حکم دیا ۔خدا ان پر اور ا ن کے اہل بیت پر رحمت نازل کرے ۔

اے خدا کے بندو !اس بات کو جانے رہو کہ اس نے تم کو بیکا ر پیدا نہیں کیا اور نہ یونہی کھلے بندوں چھوڑ دیا ہے جو نعمتیں اس نے تمہیں دی ہیں ، ان کی مقدار سے آگا ہ اور جو احسانات تم پر کئے ہیں اس کا شمار جانتا ہے ۔اس سے فتح و کامرانی اور حاجت روائی چاہو ۔اس کے سامنے دست طلب پھیلاؤ ۔ اس سے بخشش و عطا کی بھیک مانگو ۔تمہارے اور اس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے اور نہ تمہارے لےے اس کا درواز ہ بند ہے ،وہ ہر جگہ اور ہر ساعت وہر آن اور جن وانسان کے ساتھ موجود ہے نہ جودو سخا سے اس میں کوئی رخنہ پڑتا ہے نہ دادو دہش سے اس کے ہاں کمی ہوتی ہے نہ مانگنے والے اس کے خزانوں کو ختم کر سکتے ہیں نہ بخشش و فیضان اس کی نعمتوں کو انتہا تک پہنچا سکتا ہے نہ ایک طرف التفات دوسروں سے اس کی توجہ کو موڑسکتا ہے اور نہ ایک آوازمیں محویت دوسری آوازسے اسے بے خبر بناتی ہے نہ اسے (بیک وقت ایک نعمت کا دینا ۔دوسری نعمت کے چھین لینے سے مانع ہوتا ہے اور نہ غضب (کے شرارے )رحمت (کے فیضان ) سے اسے روکتے ہیں اور نہ لطف و کرم اسے تنبیہ و عقاب سے غافل کرتا ہے ،اس کی ذات کی پوشیدگی اس کے آثا ر کی جلوہ پاشیوں پر نقاب نہیں ڈالتی اور نہ آثار کی جلوہ طرازیاں ا س کی ذات کی پوشیدگی کو الگ کرسکتی ہیں ۔وہ قریب پھربھی دور ہے اور بلند مگر نزدیک ہے ،وہ ظاہر مگر اسی کے ساتھ باطن وہ پوشیدہ مگر آشکار اہے ۔وہ جزا دیتا ہے مگر اسے جزا نہیں دی جاسکتی اس نے خلقت کائنات کو سوچ سو چ کر ایجاد نہیں کیا اور نہ تکان کی وجہ سے ان سے مدد لینے کا محتاج ہے ۔اے اللہ کے بندو!میں تمہیں خوف خد اکی نصیحت کرتا ہوں کیونکہ یہ سعادت کی با گ ڈور او ر (دین کا )مضبوط سہارا ہے اس کے بندھنوں سے وابستہ رہو اور اس کی حقیقتوں کو مضبوطی سے پکڑ لو کہ یہ تمہیں آسائش کی جگہوں ،آسو دگی کے گھروں ، حفاظت کے قلعوں او ر عزت کی منزلوں میں پہنچائے گا ۔جس دن کہ آنکھیں (خو ف کی وجہ سے)پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ہر طرف اندھیرا ہو گا ۔دس دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں بیکار کر دی جائیں گیااور صور پھونکا جائے گا ۔تو ہر جا ن بدن سے نکل جائے گی زبانیں گونگی ہو جائیں گی ۔اور بلند پہاڑ اور مضبوط چٹانیں ریزہ ریزہ ہو جائیں گی ،او ر سخت پتھر (آپس میں ٹکرا ٹکرا کر)چمکتے ہوئے سراب کی طرح ہو جائیں گے اور جہا ں آبادیاں (اور فلک بوس عمارتیں )تھیں ہو جگہیں ہموار میدان کی صورت میں ہو جائیں گی (اس موقعہ پر )نہ کوئی عزیز ہوگا جو (اس عذاب کی روک تھام کرے )نہ عذرو معذرت پیش کی جاسکے گی کہ کچھ فائد ہ بخشے۔