Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، مومن، لوگوں کا مددگار ہوتا ہے، کم خرچ ہوتا ہے، اپنے معاش کے لئے اچھی تدبیریں کرتا ہےاور ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔ مطالب السئول ص54، اصول کافی باب المومن و علاماتہ حدیث38، وسائل الشیعۃ حدیث20255

نہج البلاغہ خطبات

تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے جس کی حمد ہمہ گیر ہے ۔جس کا لشکر غالب اور عظمت و شان بلند ہے ۔میں ا س کی پے درپے نعمتوں اور بلند پایہ عظمتوں پر اس کی حمدو ثنا ء کرتاہوں ۔اس کے حکم کا درجہ بلند ہے ۔چنانچہ اس نے گنہگاروں سے درگزر کیا اور اس کا ہر فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہے وہ گزری ہوئی او ر گزرنے والی باتوں کو جانتا ہے اور بغیر کسی کے نقش قدم پہ چلے اور بغیر کسی کے سکھائے پڑھائے اور کسی بافہم صنعت گر کے نمونہ ومثال کی پیروی کئے بغیر اور بغیر لغزشوں سے دو چار ہوئے اور بغیر (مشیروں ) کی جماعت کی موجودگی کے وہ اپنے علم و دانش سے مخلوقات کو ایجاد و اختراع کرنے والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد [ص]اس کے بندے او ر رسو ل ہیں جنہیں اس وقت بھیجا جبکہ لوگ گمراہیوں میں چکر کاٹ رہے تھے اور حیرانیوں میں غلطان و پیچان تھے ۔ہلاکت و تباہی کی مہاریں انہیں کھینچ رہی تھیں ۔اور زنگ و کدورت کے تالے ان کے دلوں پر لگے ہوئے تھے ۔

اے خد اکے بندو !میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیّت کرتا ہوں ۔ کہ یہ اللہ کاتم پر حق ہے اور تمہارے حق کو اللہ پر ثابت کرنے والاہے اور یہ تقویٰ کے لےے اللہ سے اعانت چاہو اور(تقرب الہی کے لےے اس سے مدد مانگو )اس لےے کہ تقویٰ آج (دنیا میں )پناہ و سپر ہے اورکل جنت کی راہ ہے۔اس کاراستہ آشکار او ر ا س کا راہ پیما نفع میں رہنے والاہے ۔جس کے سپرد یہ ودیعت ہے وہ اس کا نگہبان ہے یہ تقویٰ اپنے آپ کو گزر جانے والی اور پیچھے رہ جانے والی امتو ں کے سامنے ہمیشہ پیش کرتا رہا ہے کیونکہ و ہ سب اس کی حاجتمند ہونگی کل جب خداوند عالم اپنی مخلوق کو دوبارہ پلٹائے گااور جو دے رکھاہے و ہ واپس لے گا اوراپنی بخشی ہوئی نعمتو ں کے با رے میں سوال کرے گا تو اسے قبول کرنے والے بہت ہی تھوڑے نکلیں گے ۔وہ گنتی کے اعتبار سے کم اور اس توصیف کے مصداق ہیں جو اللہ نے فرمائی ہے کہ ---"میرے بندوں میں شکر گزار بندے کم ہیں "لہٰذا تقویٰ کی (آواز پر) اپنے کان لگاؤ،سعی و کوشش سے برابر اس کی پابندی کرو اور اس کی گزری ہوئی کوتاہیوں کا عوض قرار دو ،اور ہر مخالفت کرنے والے کے بدلہ میں اسے اپنا ہمنوا بناؤ اسے خواب غفلت سے اپنے چوکنے کا ذریعہ بناؤ ۔اور اسی میں اپنے دن کا ٹ دو ،اور اسے اپنے دلوں کا شکار بناؤاور گناہوں کو اس کے ذریعہ سے دھو ڈالو اور اس سے اپنی بیماریوں کا علاج کرو اور موت سے پہلے اس کا توشہ حاصل کرو ۔اور جنہوں نے اسے ضائع وبربا دکر دیا ہے۔ان سے عبرت حاصل کرو ۔یہ نہ ہو کہ دوسرے تقویٰ عمل کرنے والے تم سے عبرت اندوز ہوں ۔دیکھو ! اس کی حفا ظت کرو ،اور اس کے ذریعہ سے اپنے لےے سرو سامان حفاظت فراہم کرو ۔دنیا کی آلو دگیوں سے اپنا دامن پاک و صاف رکھو ،اورآخرت کی طرف والہانہ انداز سے بڑھو ۔جسے تقویٰ نے بلندی بخشی ہو اسے پست نہ سمجھو اور جسے دنیا نے اوج و رفعت پر پہنچایا ہو ،اسے بلند مرتبہ نہ خیال کرو ۔اس کے چمکنے والے بادل پر نظر نہ کرو ۔اس کی باتیں کرنے والوں کی باتو ں پر کان نہ دھرو ،او رنہ اس کی دعوت دینے والے کی (آواز پر)لبیک کہو ،اور نہ اس کی عمدہ و نفیس چیزوں پر مر مٹو ۔کیونکہ اس کی چمکتی ہوئی بجلیا ں نمائش ،اور اس کی باتیں جھوٹی ہیں اس کا اثاثہ تباہ او ر اس کا عمدہ متاع غارت ہونے والا ہے۔دیکھو !یہ دنیا جھلک دکھا کر منہ موڑ لینے والی چنڈال اور منہ زور اڑیل اور جھوٹی بڑی خائن اور ہٹ دھرم ،ناشکری ہے اور سیدھی راہ سے مڑنے رخ پھیرنے والی اور کجر و پیچ و تاب کھانے والی ہے ،ا س کا وتیرہ (ایک سے دوسرے کی طرف) پلٹ جانا ہے ۔اور اس کا ہر قدم زلزلہ انگیز ہے۔اس کی عزت (سراسر ) ذلت ۔اس کی سنجیدگی عین ہر زہ سرائی اور اس کی بلندی سراسر پستی ہے یہ غارتگری و تباہ کاری ،ہلاکت و تاراجی کا گھر ہے اس کے رہنے والے پاد ررکاب چل چلاؤ کے منتظر ،وصل و ہجر کی کش مکش میں گرفتار اس کے راستے پاشا ن و پریشان اس سے گریز کی راہیں دشوار اور اس کے منصوبے ناکام ہیں چنانچہ اس کی محفوظ گھاٹیو ں نے ان کو (بے یارو مددگار) چھوڑ دیا ،ان کے گھروں نے انہیں دور پھینک دیا اور ان کی ساری دانشمندیوں نے انہیں درماندہ کر دیا اب جو ہیں (ان کی حالت یہ ہے )کہ کچھ کی کونچیں کٹی ہوئی ہیں اور کچھ گوشت کے لوتھڑے ہیں جن کی کھال اتری ہوئی ہے اور کچھ کٹے ہوئے جسم او ر بہے ہوئے خون ہیں اور کچھ (غم و اندوہ سے) اپنے ہاتھ کاٹنے والے اور کچھ کف ِافسوس ملنے والے اور کچھ (فکرو تردد) میں رخسار کہنیوں پر رکھے ہو ئے ہیں ،او رکچھ اپنی سمجھ کو کوسنے والے اور کچھ اپنے ارادوں سے رو گردانی کرنے والے ہیں ۔(لیکن اب کہاں )جب کہ چارہ سازی کا موقعہ ہاتھ سے نکل چکا اور ناگہانی مصیبت سامنے آگئی اب نکل بھاگنے کا وقت کہا ں ،یہ تو ایک ان ہونی بات ہے جو چیز ہاتھ سے نکل گئی سو نکل گئی اور جو وقت جا چکا سو جاچکا اور دنیا اپنی من مانی کرتے ہو ئے گزر گئی "ان پر نہ آسما ن رویا نہ زمین اور نہ ہی انہیں مہلت دی گئی۔"

خطبہ 189: خداوند عالم کی توصیف ،تقویٰ کی نصیحت ، دنیا اور اہل دنیا کی حالت کا بیان