Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، فیصلہ کرنے کی آفت، لالچ اور طمع ہے غررالحکم حدیث3936

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 188: تقویٰ کی اہمیت ،قبر کی ہولناکی،اور اللہ اور رسول اور اہل بیت [ع] کی معرفت رکھنے والے کی موت شہادت ہے

میں اس کے انعامات کے شکر یہ میں اس کی حمد کرتا ہوں اور اس کے حقوق سے عہدہ برآہونے کے لےے اسی سے مد د چاہتا ہو ں ۔وہ بڑے لاؤ لشکر اور بڑ ی شان والا ہے ۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔جنہوں نے اس کی اطاعت کی طرف لوگوں کو بلایا اور دین کی راہ میں جہاد کر کے اس کے دشمنوں پر غلبہ پایا ۔ان کے جھٹلانے پر لوگوں کا ایکا کر لینا اور ان کے نور کو بجھانے کے لےے کوشش و تلاش میں لگے رہنا ان کو اس (تبلیغ و جہاد کی )راہ سے ہٹا نہ سکا ۔اب تم کو لازم ہے کہ خو ف الہی سے لپٹے رہو۔اس لےے کہ اس ریسمان کے بندھن مضبوط اور اس کی پنا ہ کی چو-ٹی ہرطرح محفوظ ہے او ر موت اور اس کی سختیوں (کے چھا جانے) سے پہلے فرائض و اعمال اپنے پورے کردو ،اور اس کے وارد ہونے سے قبل تہیا کرلو ،کیونکہ آخری منزل قیامت ہے اور یہ عقلمند کے لےے نصیحت دینے اور نادان کے لےے عبرت بننے کے لےے کا فی ہے اور اس کی آخری منزل کے پہلے تم جانتے ہی ہوکہ کیا کیا ہے ۔قبروں کی تنگنائی بر زخ کی ہو لناکی خوف کی دحشتیں (فشار قبر سے ) پسلیوں کا اِدھر سے اُدھر ہو جانا ،کانوں کا بہرا پن ،لحد کی تاریکی ،عذاب کی دھمکیاں ،قبر کے شگاف کا بند کیا جانا اور اس پر پتھر کی سلوں کاچن دیا جانا ۔اے اللہ کے بندوں !اللہ سے ڈر و ! ڈر و کیونکہ دنیا تمہارے لےے ایک ہی ڈھرّے پر چل رہی ہے اور تم اورقیامت ایک ہی رسّی میں بندھے ہوئے ہو ،گویا کہ وہ اپنی علامتوں کو آشکار کرکے آچکی ہے اور اپنے جھنڈ وں کولے کر قریب پہنچ چکی ہے اور تمہیں اپنے راستے پر کھڑا کر دیاہے گویا وہ اپنی مصیبتوں کو لے کر تمہارے سرپر کھڑی ہوئی ہے۔اور اپنا سینہ ٹیک دیا ہے اور دنیا اپنے بسنے والو ں سے کنارہ کشی کر چکی ہے اور انہیں اپنی آغو ش سے الگ کردیا ہے گویا کہ وہ ایک دن تھا جو بیت گیا اور ایک مہینہ تھا جو گزر گیا ۔اس کی نئی چیزیں پرانی او رموٹے تازے (جسم ) دبلے پتلے ہو گئے ۔ایک ایسی جگہ میں (پہنچ کر ) جو تنگ و (تار)ہے اور ایسی چیزوں میں (پھنس کر) جو پیچیدہ و عظیم ہیں اور ایسی آگ میں (پڑکر) جس کی ایذائیں شدید ،چیخیں بلند شعلے اٹھتے ہو ئے بھڑکنے کی آوازیں غضبناک لپٹیں ﷼ تیز ﷼ ۔بھڑکنا تیز۔ خطرات دہشناک ،گہراؤ نگاہ سے دور اطراف تیرہ و تا ر (آتشیں )دیگیں کھولتی ہوئی اور تمام کیفیتیں سخت و ناگوار ہیں اور جو لوگ اللہ کا خوف کھاتے تھے ۔انہیں جوق در جوق جنت کی طرف بڑھایا جا ئے گا ،وہ عذاب سے محفوظ ،عتاب و سرزنش سے علیحدہ او رآگ سے بری ہو ں گے ،گھر ان کا پر سکون اور وہ اپنی منزل وجائے قرار سے خوش ہوں گے ۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے دنیا میں اعمال پاک و پاکیزہ تھے ۔اور آنکھیں اشکباررہتی تھیں دنیا میں ان کی راتیں خضوع و خشوع اور توبہ و ا ستغفار میں (بیداری کی وجہ سے)دن اور دن لوگوں سے متوحش و علیحدہ رہنے کے باعث ان کے لےے رات تھے، تو اللہ نے جنت کو ان کی جائے باز گشت اور وہا ں کی نعمتوں کو ان کی جزا ء قرار دیا ہے اور وہ اس کے سزا وار اور اہل و حقدارتھے ۔اس ہمیشہ رہنے والی سلطنت اور برقرار رہنے والی نعمتو ں میں ۔

لہٰذا اے خد ا کے بندو!ان چیزوں کی پابندی کرو جن کی پابندی کرنے سے تم کامیاب ہونے والا کامیاب اورا نہیں ضائع و برباد کرنے سے غلط کا رنقصان رسیدہ ہوگا ۔موت آنے سے پہلے اعمال کا ذخیرہ مہیا کر لو اس لےے کہ جن اعمال کو تم آگے بھیج چکے ہو گے انہی کے ہاتھوں میں تم گروی ہوگے اور جو کارگزاریا ں انجام دے چکے ہو گے انہی کا بدلہ پاؤ گے اور سمجھتے رہنا چاہیئے کہ گویا موت تم پر وارد ہو چکی ہے ۔جس کے بعد نہ تو تمہارے لےے پلٹنا ہے ۔اور نہ گناہوں اور لغزشوں سے دستبرداری کا موقع ہے ۔خداوند عالم ہمیں اور تمہیں اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کی توفیق دے اور اپنی رحمت کی فراوانیوں سے ہمیں اور تمہیں دامن عفو میں جگہ دے ۔زمین سے چمٹے رہو ۔بلا وسختی کو برداشت کرتے رہو ،اپنی زبان کی خواہشوں سے مغلوب ہوکر اپنے ہاتھو ں اورتلواروں کو حرکت نہ دو اور جن چیزوں میں اللہ نے جلدی نہیں کی ان میں جلدی نہ مچاؤ۔بلاشبہ تم میں سے جوشخص اللہ اور اس کے رسول اور ان کے اہلبیت کے حق کو پہچانتے ہو ئے بستر پر بھی دم توڑے وہ شہید مرتا ہے اور اس کاذمہ اللہ کے ذمہ ہے ۔اور جس عمل خیر کی نیت ا س نے کی ہے اس کے ثواب کا مستحق ہو جاتا ہے اور اس کی یہ نیت تلوار سونتنے کے قائم مقام ہے ۔بیشک ہر چیز کی ایک مدت اور معیاد ہو ا کرتی ہے۔