Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، حسن ؑ اور حسین ؑ جوانانِ جنت کے سردار ہیں اور ان کے والد ان سے افضل ہیں بحارالانوارتتمہ کتاب الامامۃ ابواب علامات الامام و صفاتہ و شرائطہ باب12

نہج البلاغہ خطبات

میں اللہ کی حمد و ثناء کرتا ہوں ہر اس امر پر جس کا اس نے فیصلہ کیا اور ہر اس کا م پر جو اس کی تقدیر نے طے کیا ہو اور اس آزمائش پر جو تمہار ے ہاتھوں اس نے میری کی ہے ۔اے لوگو! کہ جنہیں کوئی حکم دیتا ہوں تو نافرمانی کرتے ہیں اور پکارتا ہوں تو میری آواز پر لبیک نہیں کہتے ۔اگر تمہیں (جنگ سے) کچھ مہلت ملتی ہے تو ڈینگیں مارنے لگتے ہو اور اگر جنگ چھڑ جاتی ہے تو بزدلی دکھاتے ہو ۔اور جب لوگ امام پر ایکا کر لیتے ہیں تو تم طعن و تشنیع کرنے لگتے ہو اگر تمہیں (جکڑ کر باندھ کر) جنگ کی طرف لایا جاتا ہے۔تو الٹے پیروں لوٹ جاتے ہو تمہارے دشمنوں کا برا ہو ۔تم اب نصرت کے لےے آمادہ ہو نے اور اپنے حق کے لےے جہاد کرنے میں کس چیز کے منتظر ہو ۔موت کا دن آئے گا اور البتہ آکر رہے گا تو وہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا ۔درآنحالانکہ میں تمہاری ہم نشینی سے بیزار اور (تمہاری کثرت کے باوجود ) اکیلا ہو ں ۔اب تمہیں اللہ ہی اجر دے کیا کوئی دین تمہیں ایک مرکز پر جمع نہیں کرتا اور غیرت تمہیں (دشمن کی روک تھا م پر ) آمادہ نہیں کرتی ۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ معاویہ چند تند مزاج او باشوں کو دعوت دیتا ہے اور وہ بغیر کسی امداد واعانت اور بخشش و عطا کے اس کی پیروی کرتے ہیں اور میں تمہیں امداد کے علاوہ تمہارے معینہ عطیوں کے ساتھ دعوت دیتا ہوں مگر تم مجھ سے پراگندہ و منتشر ہوجاتے ہو،اورمخالفتیں کرتے ہوحالانکہ تم اسلام کے رہے سہے افراد اور مسلمانوں کا بقیہ ہو ۔تم میرے کسی فرمان پر راضی ہوتے اورنہ اس پر متحد ہوتے ہو۔چاہے وہ تمہارے جذبات کے موافق ہو یا مخالف میں جن چیزوں کا سامنا کر نے والا ہو ں ۔ان میں سب سے زیادہ محبوب مجھے موت ہے میں نے تمہیں قرآن کی تعلیم دی او ر دلیل و برہان سے تمہارے درمیان فیصلے کئے اور ان چیزوں سے تمہیں روشناس کیا جنہیں تم نہیں جانتے تھے اور ان چیزوں کو تمہارے لےے خوشگوار بنایا جنہیں تم تھوک دیتے تھے ۔کاش کہ اندھے کو کچھ نظر آئے اور سونے والا(خواب غفلت سے)بیدا ر ہو۔وہ قوم اللہ (کے احکام)سے کتنی جاہل ہے کہ جس کاپیشر و معاویہ اور معلم نابغہ۱# کابیٹا ہے۔

۱نابغہ عمر و ابن عاص کی والدہ لیلیٰ غزیہ کا لقب ہے اسے بجائے باپ کے ماں کی طرف نسبت دینے کی وجہاس کی عمومی شہرت ہے،چنانچہ جب اروی بنتحارث معاویہ کے ہاں گئی تو دوران گفتگو میں عمرو ابن عاص کے ٹوکنے پر آپ نے اس سے کہا۔

اے نابغہ کے بیٹے تم بھی بولنے کی جرات کرتے ہو حالانکہ تمہاری ماں شہرہ آفاق اور مکہ میں گانے بجانے کا پیشہ کرتی تھی اور اجرت لیتی تھی چنانچہ تمہارے متعلق پانچ آدمیوں نے دعویٰ کیا او ر جب تمہاری ماں سے دریافت کیا گیا تو اس نے کہا کہ ہاں یہ پانچوں آدمی

میرے پاس آئے تھے لہٰذا جس سے یہ مشابہ ہو اس کا اسے بیٹا قرار دے لوتو تم عاصی ابن دائل سے زیادہ مشابہ نظر آئے جس کی وجہسے تم اس کے بیٹے کہلانے لگے۔

وہ پانچ آدمی یہ ہیں :عاصی ابن دائل ۱۔ابو لہب۲ ۔امیہ ابن۳ خلف ۔ہشام ۴ابن مغیرہ ۔ابو سفیان ۵ابن حرب۔

خطبہ 178: اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا