Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، جب تمہارے حکمران برے لوگ ہوں گےاور تمہارے مالدار بخیل ہوں گے، تمہارے معاملات عورتوں کے ذریعے طے ہوں گے، تو تمہارے لئے موت‘ زندگی سے بہتر ہوگی تحف العقول ص 36، بحارالانوار کتاب الروضۃ باب7

نہج البلاغہ خطبات

آپ کی بیعت ہو چکنے کے بعد صحابہ کی ایک جماعت نے آپ سے کہا کہ بہتر ہے کہ آپ ان لوگوں کو جنہوں نے عثمان پو فوج کشی کی تھی سزا دیں تو حضرت نے ارشادفرمایا کہ۔

اے بھائیو! جو تم جانتے ہو میں اس سے بے خبر نہیں ہوں ۔ لیکن میرے پاس(اس کی) قوت و طاقت کہاں ہے جبکہ فوج کشی کرنے والے اپنے انتہائی زوروں پر ہیں وہ (اس وقت) ہم پر مسلط ہیں ہم ان پر مسلط نہیں اور عالم یہ ہے کہ تمہارے غالم بھی ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور صحرائی عرب بھی ان سے مل جل گئے ہیں ۔ اور اس وقت بھی وہ تمہارے درمیان اس حالت میں ہیں کہ جیسا چاہیں تمہیں گزند پہنچا سکتے ہیں ۔ کیا تم جو چاہتے ہو اس پر قابو پانے کی کوئی صورت تمہیں نظر آتی ہے؟ بلاشبہ یہ جہالت و نادانی کا مطالبہ ہے ۔ ان لوگوں کی پشت پر مدد کا ایک ذخیرہ ہے۔ جب یہ قصہ چھڑنے لگا تو اس معاملہ میں لوگوں کے مختلف خیالاتہوں گے ۔ کچھ لوگوں کی رائے تو وہی ہوگی جو تمہاری ہے اور کچھ لوگوں کی رائے تمہاری رائے کے خلاف ہو گی اور کچھ لوگوں کی رائے نہ ادھر ہوگی۔ نہ ادھر۔ اتنا صبر کرو کہ لوگ سکون سے بیٹھ لیں اور دل اپنی جگہ پر ٹھہر جائیں اور آسانی سے حقوق حاصل کئے جا سکیں ، تم میری طرف سے مطمئن رہو اور دیکھتے رہو کہ میرا فرمان تم تک کیا آتاہے ۔ کوئی ایسی حرکت نہ کرو، جو طاقت کو متزلزل اور قوت کو پامال کردے اور کمزوری و ذلت کا باعث بن جائے ۔ میں اس جنگ کو جہاں تک رک سکے گی، روکوں گا۔ اور جب کوئی چارہ نہ پاؤں گا تو پڑھ آخری علاج داغنا تو ہے ہی۔

خطبہ 166: جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا