Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام محمد باقر نے فرمایا، اللہ تعالیٰ بدعمل اور بدزبان شخص کو دشمن رکھتا ہے۔ اصول کافی باب البذاء حدیث4

نہج البلاغہ خطبات

تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جو بندوں کا پیدا کرنے والا‘ فرش زمین کا بچھانے والا‘ ندی نالوں کا بہانے والا اور ٹیلوں کو سرسبز و شاداب بنانے والا ہے۔ نہ اس کی اولیت کی کوئی ابتداء اور نہ اس کی ازلیت کی کوئی انتہا ہے وہ ایسا اول ہے جو ہمیشہ ہے اور بغیر کسی مدت کی حد بندی کے ہمیشہ رہنے والا ہے‘ پیشانیاں اس کے آگے (سجدہ میں ) گری ہوئی ہیں اور لب اس کی توحید کے معترف ہیں اس نے تمام چیزوں کو ان کے پیدا کرنے کے وقت ہی سے جداگانہ صورتوں اور شکلوں میں محدود کر دیا‘ تاکہ اپنی ذات کو ان کی مشابہت سے الگ رکھے۔ تصورات اسے حدود و حرکات اور اعضاء و حواس کے ساتھ متعین نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کب سے ہے“ اور نہ یہ کہہ کر اس کی مدت مقرر کی جاسکتی ہے کہ وہ ”کب تک ہے۔“ وہ ظاہر ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ”کس سے (ظاہر ہوا) وہ باطن ہے مگر یہ نہیں کہا جائے گا کہ (کس میں ) وہ نہ دور سے نظر آنے والا کوئی ڈھانچہ ہے کہ مٹ جائے اور نہ کسی حجاب میں ہے کہ محدود ہو جائے۔ وہ چیزوں سے اس طرح قریب نہیں کہ ساتھ چھو جائے اور نہ وہ جسمانی طور پر ان سے الگ ہوکر دور ہوا ہے۔ اس سے کسی کا ٹکٹکی باندھ باندھ کر دیکھنا‘ کسی لفظکا دہرایا جانا‘ کسی بلندی کا دور سے جھلکنا اور کسی قدم کا آگے بڑھنا پوشیدہ نہیں ہے نہ اندھیری راتوں میں اور نہ چھائی ہوئی اندھیاریوں میں کہ جن پر روشن چاند اپنی کرنوں کا سایہ ڈالتا ہے اور نورانی آفتاب طلوع و غرب (کے چکروں ) میں اور زمانہ کی ان کی گردشوں میں اندھیرے کے بعد نور پھیلاتا ہے کہ جو آنے والی رات اور جانے والے دن کی آمد و شد سے (پیدا) ہوتی ہے وہ ہر مدت و انتہا اور ہر گنتی اور شمار سے پ ہلے ہے- اسے محدود سمجھ لینے والے جن اندازوں اور اطراف و جوانب کی حدوں اور مکانوں میں بسنے اور جگہوں میں ٹھہرنے کو اس کی طرف منسوب کر دیتے ہیں وہ ان نسبتوں سے بہت بلند ہے۔ حدیں تو اس کی۔ مخلوق کیلئے قائم کی گئی ہیں اور دوسروں ہی کی طرف ان کی نسبت دی جایا کرتی ہے۔ اس نے اشیاء کو کچھ ایسے مواد سے پیدا نہیں کیا کہ جو ہمیشہ سے ہو اور نہ ایسی مثالوں پر بنایا کہ جو پہلے سے موجود ہوں ‘ بلکہ اس نے جو چیز پیدا کی اسے مستحکم کیا اور جو ڈھانچہ بنایا اسے اچھی شکل و صورت دی۔ کوئی شے اس کے (حکم سے) سرتابی نہیں کرسکتی نہ اس کو کسی اطاعت سے کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ اسے پہلے مرنے والوں کا ویسا ہی علم ہے جیساباقی رہنے والے زندہ لوگوں کا اور جس طرح بلند آسمانوں کی چیزوں کو جانتا ہے۔ ویسے ہی پست زمینوں کی چیزوں کو پہچانتا ہے۔

اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے : اے وہ مخلوق کہ جس کی خلقت کو پوری طرح درست کیا گیا ہے اور جسے شکم کی اندھیاریوں اور دوہرے پردوں میں بنایا گیا ہے اور ہر طرح سے ان کی نگہداشت کی گئی ہے۔ تیری ابتدا مٹی کے خلاصہ سے ہوئی اور تجھے جانے پہچانے ہوئے وقت اور طے شدہ مدت تک ایک جماؤ پانے کی جگہ میں ٹھہرایا گیا کہ تو جنبین ہونے کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پھرتا تھا نہ تو کسی پکار کا جوابدیتا تھا اور نہ کوئی آواز سنتا تھا۔ پھر تو اپنے ٹھکانے سے ایسے گھر میں لایا گیا کہ جو تیرا دیکھا بھالا ہوا نہ تھا اور نہ اس سے نفع حاصل کرنے کے طریقے پہچانتا تھا کس نے تجھ کو ماں کی چھاتی سے غذا حاصل کرنے کی راہ بتائی اور ضرورت کے وقت طلب مقصود کی جگہ پہنچوائیں ۔ بھلا جو شخص ایک صورت و اعضاء والی کے پہچاننے سے بھی عاجز ہو وہ اس کے پیدا کرنے والے کی صفات سے کیسے عاجز و درماندہ نہ ہوگا اور کیونکر مخلوقات کی سی حد بندیوں کے ساتھ اسے پالینے سے دور نہ ہوگا۔

خطبہ 161: اللہ کی توصیف،انسان کی خلقت،اور ضروریاتِ زندگی کی طرف رہنمائی