Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، جب قیامت کا دن ہوگا تو منادی ندا دے گا ’’عبادت کرنے والوں کی زینت کہاں ہیں؟‘‘ گویا میں اپنے فرزند علی بن الحسین ؑ کو دیکھ رہا ہوں کہ صفوں کو چیر کر آگے بڑھ رہے ہیں بحارالانوار ابواب تاریخ سیدالساجدین ؑباب1

نہج البلاغہ خطبات

حضرت کے اصحاب میں سے ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے آپ کو منصب سے الگ رکھا۔ حالانکہ آپ اس کے زیادہ حقدار تھے۔

تو آپ نے فرمایا : کہ اے برادر بنی اسد! تم بہت تنگ حوصلہ ہو اور بے راہ ہو کر چل نکلے ہو۔ (اسکے باوجود) چونکہ ہمیں تمہاری قرابت کا پاس و لحاظ ہے اور تمہیں سوال کرنے کا حق بھی ہے‘ تو اب دریافت کیا ہے تو پھر جان لو کہ (ان لوگوں کا) اس منصب پر خود اختیاری سے جم جانا‘ باوجودیکہ ہم نسب کے اعتبار سے بلند تھے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رشتہ قرابت بھی قوی تھا ان کی یہ خود غرضی تھی جس میں کچھ لوگوں کے نفس اس پر مر مٹے تھے اور کچھ لوگوں کے نفسوں نے اس کی پروا تک نہ کی اور فیصلہ کرنے والا اللہ ہے اور اس کی طرف بازگشت قیامت کے روز ہے۔ (اس کے بعد حضرت نے بطور تمثیل یہ مصرع پڑھا) (۱) چھوڑو اس لوٹ مار کے ذکر کو کہ جس کا چاروں طرف شور مچا ہوا تھا۔“ اب تو اس مصیبت کو دیکھو کہ جو ابو سفیان کے بیٹے کی وجہ سے آئی ہے مجھے تو (اس پر) زمانہ نے رلانے کے بعد ہنسایا ہے اور زمانہ کی (موجودہ روش سے) خدا کی قسم! کوئی تعجب نہیں ہے۔ اس مصیبت پر تعجب ہوتا ہے کہ جس سے تعجب کی حد ہوگئی ہے۔ اور جس نے بے راہ رویوں کو بڑھا دیا ہے۔ کچھ لوگوں نے اللہ کے روشن چراغ کا نور بجھانا چاہا اور اس کے سرچشمہ (ہدایت کے) فوارے کو بند کرنے کے درپے ہوئے اور میرے اور اپنے درمیان زہریلے گھونٹوں کی آمیزش کی۔ اگر اس ابتلا کی دشواریاں ہمارے اور ان کے درمیان سے اٹھ جائیں تو میں انہیں خالص حق کے راستے پر لے چلوں گا اور اگر کوئی اور صورت ہوگئی تو پھر ان پر حسرت و افسوس کرتے ہوئے تمہارا دم نہ نکلے۔

اس لیے کہ یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں ‘ اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

۱۔ یہ عرب کے مشہور شاعر امرا ء القیس کے ایک شعر کا مصرع ہے جس کا دوسرا مصرع یہ ہے۔ ”و ھات حدیثا ما حدیث الرواحل “ اس شعر کا واقعہ یہ ہے کہ جب امراء القیس کا باپ حجر کندی مارا گیا تو وہ قبائلژ عرب میں چکر لگاتا تھا تاکہ ان کی مدد سے اپنے باپ کا قصاص لے سکے۔ چنانچہ بنی جدیلہ کے ایک شخص طریف کے یہاں چند دن ٹھہرا اور پھر وہاں سے اپنے کو غیر محفوظ سمجھ کر چل دیا اور خالد ابن سدوس کے ہاں جا اترا اس دوران میں بنی جدیلہ کا ایک شخض باعث ابن خویص اس کا اونٹ ہنکا لایا۔ امراء القیس نے اپنے میزبان سے اس کا شکوہ کیا تو اس نے کہا کہ تم اپنی اونٹنیاں میرے ساتھ کر دو میں تمہارے اونٹ ان سے واپس لائے دیتا ہوں ۔ چنانچہ خالد ان کے ہاں گیا اور ان سے کہا کہ تم نے میرے مہمان کے اونٹوں کو لوٹ لیاہے۔ تمہیں ان اونٹوں کو واپس کر دینا چاہیے۔ ان لوگوں نے کہا کہ وہ نہ تمہارا مہمان ہے اور نہ تمہاری زیر حمایت ہے خالد نے قسم کھا کر کہا کہ واقعی میرا مہمان ہے اور یہ اس کی اونٹنیاں میرے ساتھ ہیں ۔ ان لوگوں نے کہا کہ پھر ہم وہ اونٹ واپس کر دئیے دیتے ہیں ‘ کہا تو یہ لیکن ان اونٹوں کو واپس کرنے کے بجائے ان اونٹنیوں کو بھی ہنکا کر لے گئے اور ایک قول یہ ہے کہ ان لوگوں نے وہ اونٹ خالد کے روانہ کر دئیے تھے اور اس نے امراء القیس کو دینے کے بجائے خود ان پر قبضہ کرلیا تھا۔ جب امراء القیس کو اس کا پتہ چلا تو اس نے چند اشعار کہے جن کا ایک شعر یہ تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان اونٹوں کا ذکر چھوڑو جنہیں لوٹا جاچکا ہے۔ اب ان اونٹنیوں کی بات کرو جو ہاتھ سے جاتی رہی ہے۔

حضرت کے اس شعر کو بطور تمثیل پیش کرنے سے مقصد یہ ہے کہ اب جبکہ معاویہ برسرپیکار ہے اس کی بات کرو اور ان لوگوں کی غارت گریوں کا ذکر رہنے دو کہ جنہوں نے پیغمبر کے بعد میرے حق پر چھاپہ مارا۔ وہ دور گزر چکا ہے‘ اب اس دور کے فتنوں سے نپٹنے کا وقت ہے۔ لہذا وقت کی بات کرو اور بے وقت کی راگنی نہ چھیڑو۔ یہ اس لیے فرمایا کہ سائل نے یہ سوال جنگ صفین کے موقع پر کیا تھا۔ جب جنگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے اور کشت و خون کی گرم بازاری تھی۔

خطبہ 160: حضرت کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ