Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، ’’اللّٰہ‘‘ کے معنی ہیں جس کے بارے میں مخلوق حیران ہو اور اس کی طرف پناہ لی جائے اور ’’اللّٰہ‘‘ وہی تو ہے جو آنکھوں کے ادراک سے پوشیدہ اور وہم و گمان سے مخفی ہے التوحید باب 4، بحارالانوار کتاب التوحید باب6

نہج البلاغہ خطبات

خدا کی قسم! اگر مجھے ایسا مال بھی کہیں نطر آتا جو عورتوں کے مہر اور کنیزوں کی خریداری پر صرف کیا جا چکا ہوتا تو اسے بھی واپس پلٹا لیتا۔ چونکہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے میں وسعت ہے اور جسے عدل کی صورت میں تنگی محسوس ہو اُسے ظلم کی صورت میں اور زیادہ تنگی محسوس ہو گی۔

خطبہ 16: جب اہل مدینہ نے آپ (ع) کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا:

میں اپنے قول کا ذمہ دار اور اس کی صحت کا ضامن ہوں ۔ جس شخص کو اس کے دیدہء عبرت نے گذشتہ عقوبتیں واضح طور سے دکھا دی ہوں ، اسے تقویٰ شبہات میں اندھا دھند کودنے سے روک لیتا ہے۔ تمہیں جاننا چاہیے کہ تمہارے لیے وہی ابتلا آت پھر پلٹ آئے ہیں ، جو رسول کی بعثت کے وقت تھے۔ اس ذات کی قسم جس نے رسول کو حق و صداقت کے ساتھ بھیجا۔ تم بری طرح تہ و بالا کیے جاؤ گے اور اس طرح چھانٹے جاؤ گے جس طرح چھلنی سے کسی چیز کو چھانا جاتا ہے اور اس طرح غلط ملط کئے جاؤ گے جس طرح (چمچے سے ہنڈیا) یہاں تک کہ تمہارے ادنےٰ اعلیٰ اور اعلیٰ ادنیٰ ہو جائیں گے جو پیچھے تھے آگے بڑھ جائیں گےاور جو ہمیشہ آگے رہتے تھے و ہ پیچھے چلے جائیں گے۔ خدا کی قسم میں نے کوئی بات پرد ے میں نہیں رکھی، نہ کبھی کذب بیانی سے کام لیا۔ مجھے اس مقام اور اس دن کی پہلے ہی سے خبر دی جاچکی ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ گناہ اس سرکش گھوڑوں کے مانند ہیں جن پر ان کے سواروں کو سوار کر دیا گیا ہو اور باگیں بھی ان کی اتار دی گئی ہوں اور وہ لے جا کر انہیں دوزخ میں پھاند پڑیں اور تقویٰ رام کی ہوئی۔ سواریوں کے مانند ہے جن پران کے سواروں کو سوار کیا گیا ہو۔ اس طرح کہ باگیں ان کے ہاتھ میں دےدی گئی ہوں اور وہ انہیں (باطمینان) لے جا کر جنت میں اتار دیں ۔ ایک حق ہوتا ہے اور ایک باطل اور کچھ حق والے ہوتے ہیں ، کچھ باطل والے۔ اب اگر باطل زیادہ ہو گیا تو یہ پہلے بھی بہت ہوتا رہا ہے اور اگر حق کم ہو گیا ہے تو بسا اوقات ایسا ہوا ہے اور بہت ممکن ہے کہ وہ اس کے بعد باطل پر چھا جائے۔ اگرچہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی چیز پیچھے ہٹ کر آگے بڑھے۔ علامہ رضی فرماتے ہیں کہ اس مختصر سے کلام میں واقعی خوبیوں کے اتنے مقام ہیں کہ احساس خوبی کا اس کے تمام گوشوں کو پا نہیں سکتا اور اس کلام سے حیرت و استعجاب کا حصہ پسندیدگی کی مقدار سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس حالت کے باوجود جو ہم نے بیان کی ہے اس میں فصا حت کے اتنے بے شمار پہلو ہیں کہ جن کے کرنے کا یارا نہیں ۔ نہ کوئی انسان اس کی عمیق گہرائیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ میری اس بات کو وہی جان سکتا ہے جس نے اس فن کاپورا پورا حْ ادا کیا ہو، اور اس کے رگ و ریشہ سے واقف ہو اور جاننے والوں کے سوا کوئی ان کو نہیں سمجھ سکتا۔

اسی خطبے کا ایک حصہ یہ ہے۔

جس کے پیشِ نظر دوزخ و جنت ہو، اس کی نظر کسی اور طرف نہیں اٹھ سکتی، جو تیز قدم دوڑنے والا ہے، وہنجاتیافتہ ہےاور جو بلب گارہو، مگر سست رفتار اُسے بھی توقع ہو سکتی ہے۔ مگر جو (ارادةً) کو تاہی کرنے والا ہو، اُسے تو دوزخ ہی میں گرنا ہے۔دائیں بائیں گمراہی کی راہیں ہیں اور درمیانی راستہ ہی صراطِ مستقیم ہے۔ اس راستے پر اللہ کی ہمیشہ رہنے والی کتاب اور نبوت کے آثار ہیں ۔ اسی سے شریعت کا نفاذ و اجراء ہوا ۔ اور اسی کی طرف) آخر کار بازگشت ہے جس نے (غلط) ادعا کیا وہ تباہ و برباد ہوا اور جس نے افتراء باندھا ، وہ ناکام و نامراد رہا جو حق کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے۔ تباہ ہو جاتا ہے اور انسان کی جہالت اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ وہ اپنی قدرو منزلت کو نہ پہچانے وہ اصل و اساس ، جو تقویٰ پر ہو، برباد نہیں ہوتی ، اور اس کے ہوتے ہوئے کسی قوم کی کشت (عمل) بے آب و خشک نہیں رہتی۔ تم اپنے گھر کے گوشوں میں چھپ کر بیٹھ جاؤ آپس کے جھگڑوں کی اصلاح کرو، توبہ تمہارے عقب میں ہے۔ حمد کرنے والا صرف اپنے پروردگارکی حمد کرے اور بھلا برا کہنے والا اپنے ہی نفس کی ملامت کرے۔

(۱) بعض نسخوں میں من ابدی صفحتہ للحق ھلک کے بعد ” عند جھلة الناس“بھی مرقوم ہے ۔ اس بناء پر اس جملہ کے یہ معنی ہوں گے کہ جو حق کی خاطر کھڑا ہو وہ جاہلوں کے نزدیک تباہ برباد ہوتا ہے ۔

(۲) عظمت و جلالِ الٰہی سے دل و دماغ کے متاثر ہونے کا نام تقویٰ ہے جس کے نتیجے میں انسان کی روح خوف و خشیت الٰہی سے معمور ہو جاتی ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عبادت و ریاضت میں سر گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ ناممکن ہے کہ دل میں اس کا خوف بسا ہو اور اس کا اظہار انسان کے افعال و اعمال سے نہ ہو اور عبادت و نیاز مندی سے چونکہ نفس کی اصلاح اور روح کی تربیت ہوتی ہے ۔ لہذا جوں جوں عبادت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ نفس کی پاکیزگی بڑھتی جاتی ہے ۔ اسی لئے قرآن کریم میں تقویٰ کا اطلاق کبھی خوف و خشیت پر کبھی بندگی اور نیاز مندی پر اور کبھی پاکیزگی قلب و روح پر ہوا کرتا ہے ۔ چنانچہ فا یای فاتقون میں تقویٰ سے مراد خوف ہے اور اتقو اللہ حق تقاتہٖ میں تقویٰ سے مراد عبادت و بندگی ہے اور من بخش اللہ و بنتقہ فاؤلٰئِک ھم الفائزون میں تقویٰ سے مراد پاکیزگی نفس طہارتِ قلب ہے۔

احادیث میں تقویٰ کے تین درجے قرار دیئے گئے ہیں ۔ پہلا درجہ یہ کہ انسان واجبات کی پابندی اور محرمات سے کنارہ کشی کرے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ مستحبات کی بھی پابندی کرے اور مکروہات سے بھی دامن بچا کر رہے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ شبہات میں مبتلا ہونے کے اندیشہ سے حلال چیزوں سے بھی ہاتھ اٹھالے ۔ پہلا درجہ عوام کا ، دوسرا درجہ خواص کا اور تیسرا درجہ خاص الخواص کا ہے ۔ چنانچہ خدا وندِ عالم نے ان تینوں درجوں کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا۔

لیس علی اللذین امنوا وعملوا الصلحت جناح فیما طعموا اذا ما اتقوا وامنواو عملوا الصلحت ثم اتقوا و امنوا ثم اتقوا و احسنوا واللہ یحب المحسنین

جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اعمال بجا لائے ان پر جو وہ (پہلے ) کھاپی چکے ہیں اس میں کچھ گناہ نہیں ۔ جب انہوں نے پرہیز گاری اختیار کر لی اور ایمان لے آئے اور نیک کام کئے ، پھر پرہیز گاری کی اور ایمان لے آئے پھر پرہیز گاری کی اور اچھے کام کئے اور اللہ اچھے کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔

امیر المومنین فرماتے ہیں کہ اسی عمل کے لئے جماؤ ہے ۔ جس کی بنیاد تقویٰ پر ہو اور وہی کشتِ عمل پھلے پھولے گی۔ جسے تقویٰ کے پانی سے سینچا گیا ہو، کیونکہ عبادت وہی ہے جس میں احساسِ عبودیت کا رفرما ہو، جیسا کہ اللہ سبحانہ، کا ارشاد ہے: افمن اسس بنیانہ علی تقویٰ من اللہ ورضوان خیرام من اسس بنیانہ علی شفا جرف ھارف نہاریبہ فی نارجھنم۔ کیا وہ شخص کہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی ، و ہ بہتر ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیادہ ایک گرنے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ جو اسے لے کر جہنم کی آگ میں گر پڑے۔

چنانچہ ہر وہ اعتقاد جس کی اساس علم و یقین پر نہ ہو، اس عمارت کے مانند ہے جو بغیر بنیاد کے کھڑی کی گئی ہو۔ جس میں ثبات و قرار نہیں ہو سکتا اور ہر وہ عمل جو بغیر تقویٰ کے ہو، اس کھیتی کے مانند ہے جو آبیاری کے نہ ہونے کی وجہ سے سوُکھ جائے۔