Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی زین العابدین نے فرمایا، (امام مہدی ؑ کے) ظہور کا انتظار بہت سی مصیبتوں سے چھٹکارے کا سبب ہے بحارالانوار کتاب امیرالمومنین ؑ باب44حدیث1

نہج البلاغہ خطبات

تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جس نے حمد کو اپنے ذکر کا افتتاحیہ‘ اپنے فضل و احسان کے بڑھانے کا ذریعہ اور اپنی نعمتوں اور عظمتوں کا دلیل راہ قرار دیاہے۔ اے اللہ کے بندو! باقی ماندہ لوگوں کے ساتھ بھی زمانہ کی وہی روش رہے گی جو گزر جانے والے کے ساتھ تھی جتنا زمانہ گزر چکا ہے وہ پلٹ کر نہیں آئے گا اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ہمیشہ رہنے والا نہیں آخر میں بھی اس کی مصیبتیں ایک دوسرے سے بڑھ جانا چاہتی ہیں اور اس کے جھنڈے ایک دوسرے کے عقب میں ہیں ‘ گویا تم قیامت کے دامن سے وابستہ ہو کہ وہ تمہیں دھکیل کر اس طرح لیے جا رہی ہے جس طرح للکارنے والا اپنی اونٹنیوں کو جو شخص اپنے نفس کو سنوارنے کے بجائے اور چیزوں میں پڑ جاتا ہے وہ تیرگیوں میں سرگرداں اور ہلاکتوں میں پھنسا رہتا ہے اور شیاطین اسے سرکشیوں میں کھینچ کر لے جاتے ہیں اور اس کی بداعمالیوں کو اس کے سامنے سج دیتے ہیں آگے بڑھنے والوں کی آخری منزل جنت ہے اور عمداً کوتاہیاں کرنے والوں کی حد جہنم ہے۔

اللہ کے بندو! یاد رکھو کہ تقویٰ ایک مضبوط قلعہ ہے اور فسق و فجور ایک (کمزور) چار دیوار ی ہے کہ جو نہ اپنے رہنے والے سے تباہیوں کو روک سکتی ہے اور نہ ان کی حفاظت کرسکتی ہے۔ دیکھو تقویٰ ہی وہ چیز ہے کہ جس سے گناہوں کا ڈنک کاٹا جاتا ہے اور یقین ہی سے منتہائے مقصد کی کامرانیاں حاصل ہوتی ہیں ۔

اے اللہ کے بندو! اپنے نفس کے بارے میں کہ جو تمہیں تمام نفسوں سے زیادہ عزیز و محبوب ہے اللہ سے ڈرو اس نے تو تمہارے لیے حق کا راستہ کھول دیا ہے اور اس کی راہیں اجاگر کر دی ہیں ۔ اب یا تو امٹ بدبختی ہوگی یا دائمی خوش بختی و سعادت‘ دار فانی سے عالم باقی کیلئے توشہ مہیا کر لو تمہیں زاد راہ کا پتہ دیا جاچکا ہے اور کوچ کا حکم مل چکا ہے اور چل چلاؤ کیلئے جلدی مچائی جا رہی ہے۔ تم ٹھہرے ہوئے سواروں کے مانند ہوکہ تمہیں یہ پتہ نہیں کہ کب روانگی کا حکم دیاجائے گا۔ بھلا وہ دنیا کو لے کرکیا کرے گا جو آخرت کیلئے پیداکیا گیا ہو اور اس مال کا کیا کرےگا جو عنقریب اس سے چھن جانے والا ہے اور اس کا مظلمہ و حساب اس کے ذمہ رہنے والا ہے۔

اللہ کے بندو۱ خدا نے جس بھلائی کا وعدہ کیاہے اسے چھوڑانہیں جاسکتا اور جس برائی سے روکا ہے اس کی خواہش نہیں کی جاسکتی۔

اللہ کے بندو! اس دن سے ڈرو کہ جس میں عملوں کی جانچ پڑتال اورزلزلوں کی بہتات ہوگی اور بچے تک اس میں بوڑھے ہوجائیں گے۔

اے اللہ کے بندو! یقین رکھو کہ خود تمہارا ضمیر تمہارا نگہبان اور خود تمہارے اعضاء و جوارح تمہارے نگران ہیں اور تمہارے عملوں اور سانسوں کی گنتی کو صحیح صحیح یاد رکھنے والے (کراماً کاتبین) ہیں ان سے نہ اندھیری رات کی اندھیاریاں چھپا سکتی ہیں اور نہ بند دروازے تمہیں اوجھل رکھ سکتے ہیں ۔ بلاشبہ آنے والا کل ”آج کے دن سے قریب ہے۔“

”آج کا دن“ اپنا سب کچھ لے کر چلا جائے گا۔ اور ”کل“ اس کے عقب میں آیا ہی چاہجتا ہے۔ گویا تم میں سے ہر شخص زمین کےاس حصہ پر کہ جہاں تنہائی کی منزل اور گڑھے کا نشان (قبر) ہے پہنچ چکا ہے۔ اس تنہائی کے گھر وحشت کی منزل اور مسافرت کے عالم تنہائی (کی ہولناکیوں ) کا کیا حال بیان کیاجائے۔ گویا کہ صور کی آواز تم تک پہنچ چکی ہے اور قیامت تم پر چھا گئی ہے اور آخری فیصلہ سننے کے لیے تم (قبروں سے) نکل آئے ہو باطل کے پردے تمہارے آنکھوں سے ہٹا دئیے گئے ہیں اور تمہارے حیلے بہانے دب چکے ہیں اور حقیقتیں تمہارے لیے ثابت ہوگئی ہیں اور تمام چیزیں اپنے اپنے مقام کی طرف پلٹ پڑی ہیں ۔ عبرتوں سے پند و نصیحت اور زمانہ کے الٹ پھیر سے عبرت حاصل کرو اور ڈرانے والی چیزوں سے فائدہ اٹھاؤ۔

خطبہ 155: دُنیا کی بے ثباتی،پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت