Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام موسیٰ کاظم نے فرمایا، مومن وہ ہوتا ہے، جو دوسرے مومن کے ساتھ انس رکھتا ہے۔ اصول کافی باب فی قلۃ عدد المومنین حدیث7

نہج البلاغہ خطبات

تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جس کی معرفت کی حقیقت ظاہر کرنے سے اوصاف عاجز ہیں اور اس کی عظمت و بلندی نے عقلوں کو روک دیا ہے جس سے وہ اس کی سرحد فرمانروائی تک تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں پاتیں ۔ وہ اللہ اقتدار کا مالک ہے اور (سراپا) حق اور (حق کا) ظاہر کرنے والا ہے وہ ان چیزوں سے بھی زیادہ (اپنے مقام پر) ثابت و آشکارا ہے کہ جنہیں آنکھیں دیکھتی ہیں عقلیں اس کی حد بندی کرکے اس تک نہیں پہنچ سکتیں کہ وہ دوسروں سے مشابہہ ہو جائے اور نہ ہم اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کسی چیز کے مانند ہو جائے۔ اس نے بغیر کسی نمونہ و مثال کے اور بغیر کسی مشیر کار کے مشورہ کے اور بغیر کسی معاون کی امداد کے مخلوقات پیدا کیا۔ اس کے حکم سے مخلوق اپنے کمال کو پہنچ گئی اور اس کی اطاعت کیلئے جھک گئی اور بلاتوقف لبیک کہی اور بغیر کسی نزاع و مزاحمت کے اس کی مطیع ہوگئی۔ اس کی صنعت کی لطافتوں اور خلقت کی عجیبو غریب کارفرمائیوں میں کیا کیا۔ گہری حکمتیں ہیں کہ جو اس نے ہمیں چمگادڑوں کے اندر دکھائی ہیں کہ جن کی آنکھوں کو (دن کا) اجالا سکیڑ دیتا ہے حالانکہ وہ تمام آنکھوں میں (روشنی) پھیلانے والا ہے اور اندھیرا ان کی آنکھوں کو کھول دیتا ہے۔حالانکہ وہ ہرزندہ شے کی آنکھوں پر نقاب ڈالنے والا ہے اور کیونکر چمکتے ہوئے سورج میں ان کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں کہ وہ اس کی نورپاش شعاعوں سے مدد لے کرر اپنے راستوں پر آجاسکیں اور نور آفتاب کے پھیلاؤ میں اپنی جانی پہچانی ہوئی چیزوں تک پہنچ سکیں ۔ اس نے تو اپنی ضو پاشیوں کی تابش سے انہیں نور کی تجلیوں میں بڑھنے سے روک دیا ہے اوران کے پوشیدہ ٹھکانوں میں انہیں چھپا دیا ہے کہ وہ ا س کی روشنی کے اجالوں میں آسکیں ۔ دن کے وقت تو وہ اس طرح ہوتی ہیں کہ ان کی پلکیں جھلک کر آنکھوں پر لٹک آتی ہیں اور تاریکی شب کو اپنا چراغ بنا کر رزق کے ڈھونڈنے میں اس سے مدد لیتی ہیں ۔ رات کی تاریکیاں ان کی آنکھوں کو دیکھنے سے نہیں روکتیں اور نہ اس کی گھٹا ٹوپ اندھیاریاں راہ پیمائیوں سے باز رکھتی ہیں ۔ مگر جب آفتاب اپنے چہرے سے نقاب ہٹاتا ہے اور دن کے اجالے ابھر آتے ہیں اور سورج کی کرنیں سوسمار کے سوراخ کے اندر تک پہنچ جاتی ہیں تو وہ اپنی پلکوں کو آنکھوں پر جھکا لیتی ہیں اور رات کی تیرگیوں میں جو معاش حاصل کی ہے۔ اسی پر اپنا وقت پوراکرلیتی ہیں ۔ سبحان اللہ کہ جس نے رات ان کے کسب معاش کیلئے اور دن آرام و سکون کیلئے بنایا ہے اور ان کے گوشت ہی سے ان کے پربنائے ہیں اورجب اڑنے کی ضرورت ہوتی ہے تو انہی پروں سے اونچی ہوتی ہیں گویا کہ وہ کانوں کی لویں ہیں کہ نہ ان میں پروبال ہیں اور نہ کریاں مگر تم ان کی رگوں کی جگہ کو دیکھو گے کہ اس کے نشان ظاہر ہیں اور ا س میں دو پر سے لگے ہوئے ہیں کہ جو نہ اتنے باریک ہیں کہ پھٹ جائیں اور نہ اتنے موٹے ہیں کہ بوجھل ہوجائیں (کہ اڑا نہ جاسکے) وہ اڑتی ہیں تو بچے ان سے چمٹے رہتے ہیں جب وہ نیچے کی طرف جھکتی ہیں تو بچے بھی جھک پڑتے ہیں اور جب وہ اونچی ہوتی ہیں تو بچے بھی اونچے ہو جاتے ہیں اور اس وقت تک الگ نہیں ہوتے جب تک ان کے اعضاء میں مضبوطی نہ آجائے اور بلند ہونے کیلئے ان کے پر (ان کا بوجھ) اٹھانے کے قابل نہ ہوجائیں وہ اپنی زندگی کی راہوں اور اپنی مصلحتوں کو پہچانتے ہیں پاک ہے وہ خدا کہ جس نے بغیر کسی نمونہ کے کہ جو اس سے پہلے کسی نے بنایا ہو‘ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے۔

چمگاڈر ایک عجیب و غریب پرندہ ہے جو انڈے دینے کے بجائے بچے دیتا ہے‘ دانہ بھرانے کے بجائے دودھ پلاتا اور بغیر پردوں کے پرواز کرتا ہے۔ اس کی انگلیاں جھلی دار ہوتی ہیں جن سے پروں کا کام لیتا ہے۔ ان پروں کا پھیلاؤ ڈیڑھ انچ سے پانچ فٹ تک ہوتاہے۔یہ اپنے پیروں کے بل چل پھرنہیں سکتا اس لیے اڑ کر روزی حاصل کرتا اور درختوں اور چھتوں میں الٹا لٹکا رہتا ہے۔ دن کی روشنی میں اسے کچھ نظر نہیں آتا اس لیے غروب آفتاب کے بعد ہی پرواز کرتا ہے اور کیڑے مکوڑے اور رات کو اڑنے والے پروانے کھاتا ہے۔ چمگاڈروں کی ایک قسم پھل کھاتی ہے اوربعض گوشت خوار ہوتی ہیں جو مچھلی کا شکار کرتی ہیں ۔ شمالی امریکہ کے تاریک غاروں میں خونخوار چمگاڈریں بھی بڑی کثرت سے پائی جاتی ہیں یہ بڑی خطرناک اور مہلک ہوتی ہیں ۔ ان کی خوراک انسانی و حیوانی خون ہے۔ جب یہ کسی انسان کاخون چوستی ہیں تو انسانی خون میں زہر سرایت کر جاتا ہے جس کے نتیجہ میں پہلے ہلکا سا بخار اور درد سر ہوتا ہے پھر سانس کی نالی متورم ہوجاتی ہے۔ کھانا پینا چھوٹ جاتا ہے۔ جسم کا نیچے والا حصہ بے حس و حرکت ہوجاتا ہے۔ آخر سانس کی آمد و شد رک جاتی ہے اور وہ دم توڑ دیتا ہے۔یہ خوں آشام چمگاڈریں اس وقت حملہ کرتی ہیں جب آدمی بے ہوش ہو یا سو رہا ہو۔ جاگتے میں حملہ کم ہوتا ہے اور خون چوستے وقت درد کا احساس تک نہیں ہوتا۔

چمگاڈر کی آنکھ خاص قسم کی ہوتی ہے جو صرف تاریکی ہی میں کام کرسکتی ہے اور دن کے اجالے میں کچھ نہیں دیکھ سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی آنکھ کی پتلی کا پھیلاؤ آنکھ کی وسعت کے مقابلہ میں بڑا ہوتاہے اور تیز روشنی میں سمٹ جاتا ہے اور کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک بڑی طاقت کے کیمرہ سے کھلی روشنی میں تصویر اتاری جائے تو روشنی کی چھوٹ سے تصویر دھندلی اترتی ہے۔ اسی لیے کیمرہ کے شیشہ کا سائز جوبمنزلہ آنکھ کی پتلی کے ہوتا ہے چھوٹا کر دیاجاتاہے تاکہ روشنی کی چکاچوند کم ہوجائے اور تصویر صاف اترے۔ اگر چمگاڈر کی پتلی کا پھیلاؤ آنکھ کے مقابلہ میں کم ہوتا تو و ہ بھی دوسرے جانوروں کی طرح دن کی روشنی میں دیکھ سکتی تھی۔

خطبہ 153: چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں