Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، گناہوں کا اقرار کرنے والا، گناہوں سے توبہ کرنے والے کی مانند ہے۔ مستدرک الوسائل حدیث 13671

نہج البلاغہ خطبات

اے لوگو! ہر شخض اسی چیز کا سامنا کرنے والا ہے جس سے وہ راہ فرار اختیار کئے ہوئے ہے اور جہاں زندگی کا سفر کھینچ کر لے جاتا ہے وہی حیات کی منزل منتہا ہے موت سے بھاگنا اسے پا لینا ہے۔ میں نے اس موت کے چھپے ہوئے بھیدوں کی جستجو میں کتنا ہی نہ مانا گزارا مگر مشیت ایزدی یہی رہی کہ اس کی (تفصیلات) بے نقاب نہ ہوں ۔ اس کی منزل تک رسائی کہاں وہ تو ایک پوشیدہ علم ہے تو ہاں میری وصیت یہ ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو ضائع و برباد نہ کرو۔ ان دونون ستونوں کو قائم و برقرار رکھو اور ان دونوں چراغوں کو روشن کئے رہو۔ جب تک منتشر و پراگندہ نہیں ہوتے تم میں کوئی برائی نہیں آئے گی۔ تم میں سے ہر شخص اپنی وسعت بھر بوجھ اٹھائے۔ نہ جاننے والوں کا بوجھ بھی ہلکا رکھا گیا ہے (کیونکہ) اللہ رحم کرنے والا‘ دین سیدھا (کہ جس میں کوئیالجھاؤ نہیں ) اور پیغمبر عالم و دانا ہے۔ میں کل تمہارا ساتھی تھا اور آج تمہارے لیے عبرت بنا ہوا ہوں اور کل تم سے چھوٹ جاؤں گا۔ خدامجھے اور تمہیں مغفرت عطا کرے۔

اگر اس پھسلنے کی جگہ پر قدم جمےرہے تو خیر اور اگر قدموں کا جماؤ اکھڑ گیا تو ہم بھی انہی (گھنی) شاخوں کی چھاؤں ہوا کی گزرگاہوں اور چھائے ہوئے ابر کے سایوں میں تھے (لیکن) اس کے تہ بہ تہ جمے ہوئے لکے چھٹ گئے اور ہوا کے نشانات مٹ مٹا گئے۔ میں تمہارا ہمسایہ تھا کہ میرا جسم چند دن تمہارے پڑوس میں رہا اور میرے مرنے کے بعد مجھے جسد بے روح پاؤ گے کہ جو حرکت کرنے کے بعد تھم گیا اوربولنے کے بعد خاموش ہوگیا تاکہ میرا یہ سکون اور ٹھہراؤ اور آنکھوں کا مندھ جانا اور ہاتھ پیروں کا بے حس و حرکت ہو جانا تمہیں پند و نصیحت کرے۔ کیونکہ عبرت حاصل کرنے والوں کیلئے یہ (منظر) بلیغ کلموں اور کان میں پڑنے والی باتوں سے زیادہ موعظت و عبرت دلانے والا ہوتا ہے- میں تم سےاس طرح رخصت ہو رہا ہوں جیسے کوئی شخص (کسی کی) ملاقات کیلئے چشم براہ ہو۔ کل تم میرے اس دور کو یاد کرو گے اور میری نیتیں کھل کر تمہارے سامنے آجائیں گی اور میری جگہ کے خالی ہونے اور دوسروں کے اس مقام پر آنے سے تمہیں میریقدر و منزلت کی پہچان ہوگی۔

۱۔ یعنی انسان موت سے بچنے کیلئے جو ہاتھ پیر مارتا ہے اور چارہ سازی کرتا ہے اس میں جتنا زمانہ صرف ہوتا ہے وہ مدت حیات ہی ہے کہ جو کم ہو رہی ہے اور جوں وقت گزرتا ہے موت کی منزل قریب ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ زندگی ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے موت سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔

۲۔ خلا کم ذم (تم پر کوئی برائی عائد نہ ہوگی) یہ جملکہ بطور مثل استعمال ہوتا ہے۔ جسے سب سے پہلے جذیمہ ابرش کے غلام قصیر نے استعمال کیا تھا۔

۳۔ مقصد یہ ہے کہ جب یہ ساری چیزیں فنا ہو جائیں گی تو ان میں رہنے والے کیونکر موت سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ یقینا انہیں بھی ہر چیز کی طرح ایک نہ ایک دن فنا ہونا ہے لہذا میرے جام حیات کے چھلک جانے پر تعجب ہی کیا۔

خطبہ 147: موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا