Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، بخل تمام عیبوں کا مجموعہ ہے، وہ ایسی مہار ہے جس کے ذریعہ ہر برائی کی طرف کھینچ کر لے جایا جاتا ہے۔ نھج البلاغۃ حکمت 378

نہج البلاغہ خطبات

اے لوگو ! اگر تمہیں اپنے کسی بھائی کی دینداری کی پختگی اور طور طریقوں کی درستگی کا علم ہو توپھر اس کے بارے میں افواہی باتوں پر کان نہ دھرو ۔ دیکھو! کبھی تیر چلانے والا تیر چلاتا ہے اور اتفاق سے تیرِ خطا کر جاتا ہے اور بات ذرا میں ادھر سے ادھر ہو جاتی ہے اور جو غلط بات ہو گی ۔ وہ خود ہی نیست و نابود ہوجائے گی۔ اللہ ہر چیز کا سننے والا اور ہر شے کی خبر رکھنے والا ہے ۔ معلوم ہونا چاہئے کہ سچ اور جھوٹ میں صرف چار انگلیوں کا فاصلہ ہے ۔ جب آپ سے اس کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کر کے اپنے کان اور آنکھ کے درمیان رکھا اور فرمایا جھوٹ وہ ہے جسے تم کہو کہ میں نے سنا اور سچ وہ ہے جسے تم کہو کہ میں نے دیکھا۔

خطبہ 139: سُنی سُنائی باتوں کو سچا سمجھنا چاہئے