Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، مخلوق کو اس لیے پیدا کیا گیا ہے تاکہ اللہ اپنی حکمت کو ظاہر کرے، اپنے علم کو نافذ کرے اور اپنی تدبیر کو جاری فرمائے۔ بحارالانوار ابواب احتجاجات امیرالمومنین ؑ باب13 حدیث2

نہج البلاغہ خطبات

اس میں لوگوں کو دوسروں کے عیب بیان کرنے سے روکا ہے ۔

جن لوگوں کا دامن خطاؤں سے پاک صاف ہے اور بفضل الٰہی گناہوں سے محفوظ ہیں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ گناہگاروں اور خطاکاروں پر رحم کریں اور اس چیز کا شکر ہی (کہ الہہ نے انہیں گناہوں سے بچائے رکھا ہے ) ان پر غالب اور دوسروں کے عیب اچھالنے ) سے مانع رہے چہ جائیکہ وہ عیب لگانے والا اپنے کسی بھائی کی پیٹھ پیچھے برائی کرے اور اس کے عیب بیان کر کے طعن و تشنیع کرے یہ آخر خدا کی اس پر دہ پوشی کو کیوں نہیں یاد کرتا جو اس نے خود اس کے ایسے گناہوں پر کی ہے جو اس گناہ سے بھی جس کی وہ غیبت کر رہا ہے بڑے تھے اور کیونکر کسی ایسے گناہ کی بنا پر اس کی بُرائی کرتا ہے جب کہ خود بھی ویسے ہی گناہ کا مرتکب ہو چکا ہے اور اگر بعینہٖ ویسا گناہ نہیں بھی کیا تو ایسے گناہ کئے ہیں کہ جو اس سے بھی بڑھ چڑھ کر تھے ۔ خدا کی قسم ! اگر اس نے گناہ کبیرہ نہیں بھی کیا تھا اور صرف صغیرہ کا مرتکب ہوا تھا۔ تب بھی اس کا لوگوں کے عیوب بیان کرنا بہت بڑا گناہ ہے ۔

اسے خدا کے بدنے جھٹ سے کسی پر گناہ کا عیب نہ لگا، شاید اللہ نے وہ بخش دیا ہو، اور اپنے کسی چھوٹے (سے چھوتے ) گناہ کے لیے بھی اطمینان نہ کرنا شاید کہ اس پر تجھے عذاب ہو۔ لہذا تم میں سے جو شخص بھی کسی دوسرے کے عیوب جانتا ہو۔ اسے ان کے اظہار سے باز رہنا چاہئے اس علم کی وجہ سے جو خود اسے اپنے گناہوں کے متعلق ہے اور اس امر کا شکر کہ اللہ نے اسے ان چیزوں سے محفوظ رکھا ہے کہ جن میں دوسرے مبتلا ہیں کسی او رطرف سے متوجہ نہ ہونے دے :۔

(۱)عیب جوئی و خوردہ گیری کا مشغلہ اتنا عام اور ہمہ گیر ہو چکا ہے کہ اس کی برائی کا احساس تک جاتا رہا ہے اور اب تو نہ خواص کی زبانیں بند ہیں ۔ نہ عوام کی نہ منبر کی رفعت اس سے مانع ہے نہ محراب کی تقدیس ۔ بلکہ جہاں چند ہم خیال جمع ہو ں گے ۔ موضوع سخن اور دلچسپ مشغلہ یہی ہو گا۔ کہ اپنے فریق مخالف کے عیوب رنگ آمیزیوں سے بیان کئے جائیں اور کان دھر کر ذوق سماعت کا مظاہرہ کیا جائے ۔ حالانکہ غیبت کرنے والے کا دامن ان آلودگیوں سے خود آلودہ ہوتا ہے جن کا اظہار وہ دوسروں کے لیے کرتا ہے مگر وہ اپنے لیے یہ گوارا نہیں کرتا کہ اس کے عیوب آشکارا ہوں تو پرھ اسے دوسروں کے جذبات کا بھی پاس لحاظ کرتے ہوئے ۔ ان کی عیب گیری و دل آزاری سے احتراز کرنا چاہئے اور آنچہ برائے خود نمی پسندی برائے دیگر الم پسند پر عمل پیرا ہونا چاہیئے۔

غیبت کی تعریف یہ ہے کہ اپنے کسی برادر مومن کے عیب کو بغرض تنقیص اس طرح بے نقاب کرنا کہ اس کے لیے دل آزاری کا باعث ہو چاہے یہ اظہار زبان سے ہو یا محاکات سے اشارہ سے ہو یا کنایہ و تعریض سے بعض لوگ غیبت بس اسی کو سمجھتے ہیں جو غلط اور خلاف واقع ہو۔ اور جو دیکھا اور سنا ہوا سے جوں کا توں بیان کر دینا ان کے نزدیک غیبت نہیں ہوتی اور وہ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم غیبت نہیں کرتے بلکہ جو دیکھایا سنا ہے اسے صحیح صحیح بیان کر دیا ہے حالانکہ غیبت اسی سچ کہنے کا نام ہے اور اگر جھوٹ ہو تو وہ افتراء و بہتان ہے ۔ چنانچہ پیغمبر سے مروی ہے کہ :۔

آپ نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ غیبت کیا ہے لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ غیبت یہ ہے کہ تم اپنے کسی بھائی کے متعلق کوئی ایسی بات کہو جو اسی کے لیے نگواری کا باعث ہو۔ کہنے والے نے کہا کہ اگر میں وہی بات کہوں جو واقعاً اس میں پائی جاتی ہو؟ آپ نے فرمایا کہ اگر ہو جب ہی تو وہ غیبت ہے اور اگر نہ ہو تو تم نے اس پر افترا باندھا ہے ۔

غیبت میں مبتلا ہونے کے بہت سے وجود اسباب ہیں جن کی وجہ سے انسان کہین دانستہ اور کہیں نا دانستہ اس کا مرتکب ہوتا ہے ۔ امام غزالیۺ نے احیاء العلوم میں ان وجوہ و اسباب کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے ۔ ان میں چند نمایاں اسباب یہ ہیں :۔

(۱) کسی کی ہنسی اڑانے اور اسے پست و سبک دکھانے کے لیے (۲) لوگوں کو ہنسانے اور اپنی زندہ دلی و خوشی طبعی کا مظاہرہ کرنے کے لیے (۳) غیظ و غضب کے تقاضوں سے متاژر ہو کر اپنے دل کی بھڑاس نکلانے کے لیے(۴) کسی کی تنقیص سے اپنا تفوق جتلانے کے لیے (۵) اپنی بے تعلقی اور برائت ظاہر کرنے کے لیے کہ یہ بات مجھ سے سرزد نہیں ہوئی بلکہ فلاں سے سرزد ہوئی ہے (۶) کسی بزم میں بیٹھ کر ہم رنگ جماعت ہونے کے لیے تاکہ اس سے اخببیت نہ برتی جائے (۷) کسی ایسے شخص کی بات کو بے وقعت بنانے کے لیے کہ جس کے متعلق یہ اندیشہ ہو کہ وہ اس کے کسی عیب کو بے نقاب کر دے گا۔ (۸) اپنے کسی ہم پیشہ رقیب کی سرد بازاری کے لیے (۹) کسی رئیسوں کی بار گاہ میں تقرب حاصل کرنے کے لیے (۱۰) اظہار رنج و تاسف کے لیے یہ کہنا کہ مجھے افسوس ہے کہ فلاں شریف زادہ فلاں بُری بات میں مبتلا ہو گیا ہے (۱۱) اظہار تعجب کے لیے مثلاً اس طرح کہنا کہ مجھے حیرت ہے کہ فلاں شخص اور یہ کام کرے (۱۲) کسی امر قبیح پر غم و غصہ کا اظہار کرنے کے لیے اس کے مرتکب کا نام لے دینا۔

البتہ چند صورتوں میں عیب گیزی و نکتہ چینی غیبت میں شمار نہیں ہوتی:۔

(۱) مظلوم اگر دادرسی کے لیے ظالم کا گلہ کرے تو غیبت نہیں ہے ۔ جیسا کہ خداوندِ عالم کا ارشاد ہے ۔

اللہ برائی کے اچھالنے کو پسند نہیں کرتا مگر وہ کہ جس پر ظلم کیا گیا ہو۔“

(۲) مشورہ دینے کے موقعہ پر کسی کا کوئی عیب بیان کرنا غیبت نہیں ہے ۔ کیونکہ مشورہ میں غل و غش جائز نہیں ہے ۔

(۳) اگر استفتاء کے سلسلہ میں کسی خاص شخص کو متعین کے بغیر مسئلہ حل نہ ہوتا ہو تو علی قدر الضرورة اس کا عیب بیان کر دینا غیبت نہ ہو گا

(۴) کسی مسلمان کو ضرر سے بچانے کے لیے کسی خائن و بددیانت کی بدیانتی سے آگاہ کر دینا غیبت نہ ہوگا

(۵) کسی ایسے شخص کے سامنے کسی کی برائی کرنا کہ جو اسے برائی سے روک سکتا ہو غیبت نہیں ہے

(۶) روایت کے سلسلہ میں رواة پر نقد و تبصرہ غیبت میں داخل نہیں ہے

(۷) اگر کوئی شخص اپنے کسی عیب ہی سے متعارف ہو تو اسے پہنچوانے کے لیے اس کا ذکر کرنا غیبت نہ ہو گا جیسے بہرا گونگا، گنجا، لنگڑا وغیرہ

(۸) بغرض علاج طبیب کے سامنے مریض کے کسے عیب کو بیان کرنا غیبت نہیں ہے

(۹) اگر کوئی غلط نسب کا مدعی ہو تو اس کے نسب کی تردید کرنا غیب نہ ہوگا

(۱۰)اگر کسی کی جان و مال یا عزت کا بچاؤ اسی صورت میں ہو سکتا ہو کہ اسے کسی عیب سے روشناس کیا جائے تو یہ بھی غیبت نہیں ہے

(۱۱) اگر دو شخص آپس میں کسی کی ایسی برائی کا ذکر کریں کہ جو انہیں پہلے سے معلوم ہو تو یہ اگر چہ غیبت نہیں ہے تاہم زبان کو بچانا ہی بہتر ہے ممکن ہے کہ ان میں سے ایک بھول چکا ہو

(۱۲) جو علانیہ فسق و فجور کرتا ہو، اس کی برائی کرنا غیبت نہیں جیسا کہ روایت میں وراد ہوا ہے ۔ من القی جلباب الحیافلاغیبتہ لہ ۔ جو حیاء کی چادر اتار ڈالے اس کی غیبت۔ غیبت نہیں ۔

خطبہ 138: غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا