Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، حقیقی معنوں میں بخیل وہ ہوتا ہے جو اپنے مال سے واجب زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اور نہ ہی اپنی قوم کے قریب ترین افراد کے کام آتا ہےجبکہ باقی ہرجگہ فضول خرچی کرتا ہے۔ بحارالانوار کتاب الایمان والکفرباب136حدیث30

نہج البلاغہ خطبات

خدا کی قسم ! انہوں نے مجھ پر کوئی سچا الزام نہیں لگایا اور نہ اہوں نے میرے اور اپنے درمیان انصاف برا وہ مجھ سے اس حق کا مطالبہ کرتے ہیں جسے خود ہی انہوں نے چھوڑ دیا اور اس خون کا عوض چاہتے ہیں ۔ جسے انہوں نے خود بہایا ہے ۔ اب اگر اس میں میں ان کا شریک تھا تو پھر اس میں ان کا بھی تو حصہ نکلتا ہے اور اگر وہی اس کے مرتکب ہوئے ہیں میں نہیں تو پھر اس کا مطالبہ صرف انہی سے ہونا چاہئے اور ان کے عدل و انصاف کا پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے خلاف حکم لگائیں اور میرے ساتھ میری بصریت کی جلوہ گری ہے ، نہ میں نے خود (جان بوجھ کر ) کبھی اپنے کو دھوکا دیا اور نہ مجھے واقعی کبھی دھوکا ہوا اور بلا شبہ یہی وہ باغی گروہ ہے جس میں ایک ہمارا سگا (زبیر) اور ایک بچھو کا ڈنگ (حمیرا) ہے اور حق پر سیاہ پردے ڈالنے والے شبھے ہیں (اب تو) حقیقت حال کھل کر سامنے آچکی ہے اور باطل اپنی بنیادوں سے ہل چکا ہے اور شرر انگیزی سے اس کی زبان بندی ہو چکی ہے خدا کی قسم ! میں ان کے لیے ایک ایسا حوض چھلکاؤں گا جس کا پانی نکالنے والا میں ہوں کہ جس سے سیراب ہو کر پلٹنا ان کے امکان میں ہو گا اور نہ اس کے بعد کوئی گڑھا کھود کر پانی پی سکیں گے :۔

اسی خطبہ کا ایک جُزیہ ہے : تم اس طرح (شوق و رغبت سے ) بیعت بیعت پکارتے ہوئے میری طرف بڑھے جس طرح نٹی بیاہی ہوئی بچوں والی اونٹنیاں اپنے بچوں کی طرف میں نے اپنے ہاتھوں کو اپنی طرف سمیٹا تو تم نے انہیں اپنی جانب پھیلا دیا۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو تم سے چھیننا چاہا۔ مگر تم نے انہیں کھیچا۔ خدایا ان دونوں نے میرے حقو کو نظر انداز کیا ہے اور مجھ پر ظلم ڈھایا ہے اور میری بیعت کو توڑ دیا ہے ۔ اور میرے خلاف لوگوں کو اکسایا ہے ، لہذا تو جو انہوں نے گرہیں لگائی ہیں انہیں کھول دے اور جو انہوں نے بٹاہے اسے مضبوط نہ ہونے دے اور اور انہیں ان کی امیدوں اور کرتوتوں کا بُرا نتیجہ دکھا۔ میں نے جنگ کے چھڑنے سے پہلے انہیں باز رکھنا چاہا اور لڑائی سے قبل انہیں ڈھیل دیتا رہا۔ لیکن انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی اور عافیت کو ٹھکرا دیا۔

خطبہ 135: طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق فرمایا