Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، انسان کی دو ہی فضیلتیں ہیں: ایک عقل اور دوسری گفتار ،وہ عقل کے ذریعے فائدہ اٹھاتا ہے اور گفتار کے ذریعے فائدہ پہنچاتا ہے۔ غررالحکم حدیث330

نہج البلاغہ خطبات

دنیا آخرت اپنی باگ ڈور اللہ کو سونپے ہوئے اس کے زیر فرمان ہے اور آسمان و زمین نے اپنی کنجیاں اس کے آگے ڈال دی ہیں اور تروتازہ و شاداب درخت صبح و شام اس کے آگے سر بسجود ہیں اور اپنی شاخوں سے چمکتی ہوئی آگے ( کے شعلے) بھڑکاتے ہیں اور اس کے حکم سے (پھل پھول) کر پکے ہوئے میوؤں ( کی ڈالیاں ) پیش کرتے ہیں ،

اسی خطبہ کا ایک جزیہ ہے ۔ اللہ کی کتاب تمہارے جسام نے اس طرح (کھل کر ) بولنے والی ہے کہ اس کی زبان کہیں لڑکھڑاتی نہیں اور ایسا گھر ہے جس کے کھمبے سر نگوں نہیں ہوتے اور ایسی عزت ہے کہ اس کے معاون شکست نہیں کھاتے:۔

اسی خطبہ کے ذیل میں فرمایا۔ اللہ نے آپ کو اس وقت بھیجا جب کہ رسولوں کی بعثت کا سلسلہ رکا پڑا تھااور لوگوں میں جتنے منہ تھے ۔ اتنی باتیں تھیں ۔ چنانچہ آپ کو سب رسولوں سے آخر میں بھیجا اور آپ کے ذریعہ سے وحی کا سلسلہ ختم کیا آپ نے اللہ راہ میں ان لوگوں سے جہاد کیا جو اس سے پیٹھے پھرائے ہوئے تھے اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرا رہے تھے :۔

اسی خطبہ کا ایک جزیہ ہے ۔ (دل کے ) اندھے کا منتہائے نظر یہی دنیا ہوتی ہے کہ اسے اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور نظر رکھنے والے کی نگاہیں اس سے پار چلی جاتی ہیں اور وہ اس امر کا یقین رکھتا ہے کہ اس کے بعد بھی ایک گھر ہے نگاہ رکھنے والا اس سے نکلنا چاہتا ہے اور اندھا اسی پر نظریں جمائے رہتا ہے با بصیرت اس سے (آخرت کے لیے ) زاد حاصل کرتا ہے اور بے بصیرت اسی کے سرو سمانا میں لگا رہتا ہے ۔

اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے تمہیں جاننا چاہئے کہ ہر شے سے آدمی کبھی کبھی سیر ہو جاتا ہے اور اکتا جاتا ہے سوار زندگی کے وہ کبھی مرنے میں راحت نہیں محسوس کرتا اور یہ اس حکمت کی طرح ہے کہ جو قلب مردہ کے لیے حیات ، اندھی آنکھوں کے لیے بینائی بہرے کانوں کے لیے شنوائی ار تشنہ کام کے لیے سیرابی ہے ، اور اسی میں پورا پورا سامان کفایت و سروسامان حفاظت ہے ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے کہ جس کے ذریعہ تمہیں سجھائی دیتا ہے اور تمہاری زبان میں گویائی آتی ہے اور (حق کی آواز ) سنتے ہو۔ اس کے کچھ حصے کچھ حصوں کی وضاحت کرتے ہیں اور بعض بعض کی صداقت کی) گواہی دیتے ہیں یہ ذات الٰہی کے متعلق الگ الگ نظریئے نہیں پیش کرتا اور نہ اپنے ساتھی کو اس کی راہ سے ہٹا کر کسی اور راہ پر لگا دیتا ہے ۔ (مگر) تم نے دلی کدورتوں اور گھورے پر اُگے ہوئے سبزہ کی خواہش پر ایکا کر لیا ہے ۔ امیدوں کی چاہت پر تو تم میں صلح صفائی ہے اور مال کے کمانے پر ایک دوسرے سے دشمنی رکھتے ہو تمہیں (شیطان ) خبیث نے بھٹکا دیا ہے اور فریبوں نے تمہیں بہکا رکھا ہے میرے اور تمہارے نفسوں کے مقابل میں اللہ ہی مدد گار ہے۔

خطبہ 131: خداوند ِعالم کی عظمت اور قرآن کی اہمیت اور پیغمبر کی بعثت اور دُنیا اور اہل دُنیا کا تذکرہ