Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، جو شخص زیادہ بھائی بنانے کی کوشش نہیں کرتا وہ نقصان میں رہتا ہے تحف العقول ص368، بحارالانوار ج75ص232تتمہ کتاب الروضۃ، تتمہ ابواب الواعظ والحکم، باب 23مواعظ الصادق جعفر بن محمد ؑ

نہج البلاغہ خطبات

اگر تم اس خیال سے باز آنے والے نہیں ہو کہ میں نے غلطی کی اور گمراہ ہو گیا ہوں ، تو میری گمراہی کی وجہ سے امت محمد کے عام افراد کو کیوں گمراہ سمجھتے ہو اور میری غلطی کی پاداش انہیں کیوں دیتے ہو، اور میرے گناہوں کے سبب سے انہیں کیوں کافر کہتے ہو، تلواریں کندھوں پر اٹھائے ہر موقع و بے موقع جگہ پر وار کئے جار ہے ہو۔ اور بیخطاؤں کو خطاکاروں کے ساتھ ملائے دیتے ہو، حالانکہ جانتے ہو کہ رسول نے جب زانی کو سنگسار کیا تو نماز جنازہ میں اس کی پڑھی اور اس کے وارثوں کو اس کا ورثہ بھی دلوایا اور قاتل سے قصاص لیا تو اسکی میراث اس کے گھر والوں کو دلائی چور کے ہاتھ کاٹے اور فرمائے غیر محصنہ کے مرتکب کو تازیانے لگوائے تو اس کے ساتھ انہیں مالی غنیمت میں سے حصہ بھی دیا اور انہوں نے (مسلمان ہونے کی حیثیت سے) مسلمان عورتوں سے نکا ح بھی کئے۔ اس طرح رسول اللہ نے ان کے گناہوں کی سزا ان کو دی اور جو ان کے بارے میں اللہ کا حق (حد شرعی)تھا اسے جاری کیا، مگر انہیں اسلام کے حق سے محروم نہیں کیا اور نہ اہل اسلام سے ان کے نام خارج کئے ۔ اس کے بعد (ان شرانگیزیوں معنی یہ ہیں کہ )تم ہو ہی شرپسند اور وہ کہ جنہیں شیطان نے اپنی مقصد برآری کی راہ پر لگا رکھا ہے اور گمراہی کے سنسان بیابان میں لا پھینکا ہے (یاد رکھو کہ ) میرے بارے میں دو قسم کے لوگ تباہ و برباد ہوں گے ، ایک حد سے زیادہ چاہنے والے جنہیں (محبت کی افراط) غلطِ راستے پر لگادے گی ، اور ایک میرے مرتبہ میں کمی کر کے دشمنی رکھنے والے کہ جنہیں یہ عناد حق سے بے راہ کر دے گا۔ میرے متعلق درمیانی راہ اختیار کرنے والے ہی سب سے بہتر حالت میں ہوں گے تم اسی راہ پر جمے رہو اور اسی بڑے گروہ کے ساتھ لگ جاؤ۔ چونکہ اللہ کا ہاتھ اتفاق و اتحاد رکھنے والوں پر ہے اور تفرقہ و انتشار سے باز آجا جاؤ اس لیے کہ جماعت سے الگ ہو جانے والا شیطان کے حصہ میں چلا جاتا ہے ۔ جس طرح گلے سے کٹ جانے والی بھیڑ بھیڑ یئے کو مل جاتی ہے ۔ خبر دار ! جو بھی ایسے نعرے لگا کر اپنی طرف بلائے ، اسے قبل کردو، اگرچہ وہ اسی عمامہ کے نیچے کیوں نہ ہو ( یعنی میں خود کیوں نہ ہوں ) اور وہ دونوں حکم (ابو موسیٰ و عمر و ابن عاص) تو صرف اس لیے ثالث مقرر کئے گئے تھے کہ وہ انہی چیزوں کو زندہ کریں ۔ جنہیں قرآن نے زندہ کیا ہے اور انہی چیزوں کو نیست و نابود کریں جنہیں قرآن نے نیست و نابود کیا ہے کسی چیز کے زندہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس پر یک جہتی کے ساتھ متحد ہو ا جائے اور اس کے نیست و نابود کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے علیحدگی اختیار کر لی جائے اب اگر قرآن ہمیں ان لوگوں (کی اطاعت) کی طرف لے جاتا تو ہم ان کے پیرو بن جاتے اور اگر انہیں ہماری طرف لائے تو پھر انہیں ہمارا تباع کرنا چاہئے تمہارا بُرا ہ میں نے کوئی مصیبت تو کھڑی نہیں کی اور نہ کسی بات میں تمہیں دھوکا دیا ہے اور نہ اس میں فریب کاری کی ہے تمہاری جماعت ہی کی یہ رائے قرار پائی تھی کہ دو آدمی چن لیے جائیں جن سے ہم نے یہ اقرار لے لیا تھا کہ وہ قرآن سے تجاوز نہ کریں گے ۔ لیکن وہ اچھی طرح دیکھنے بھالنے کے باوجود قرآن سے مہک گئے اورحق کو چھوڑ بیٹھے اور ان کے جذبات لبے راہ روی کے مقتضی ہوئے ۔ چنانچہ وہ اس روشن پر چل پڑے (حالانکہ ) ہم نے پہلے ہی ان سے شرط کر لی تھی کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے اور حق کا مقصد پیش نظر رکھنے میں بد نیتی و بے راہ روی کو دخل نہ دیں گے (اگر ایسا ہوا تو وہ فیصلہ ہمارے لیے قابل تسلیم نہ ہو گا

خطبہ 125: خوارج کے عقائد کے رد میں