Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، مومن آسمان میں ویسا ہی مشہور و معروف ہے جیسے کوئی شخص اپنے اہل و عیال میں معروف ہوتا ہے اور اللہ کے نزدیک وہ کسی مقرب فرشتے سے زیادہ معزز ہوتا ہے۔ عیون اخبارالرضا ؑباب31 حدیث62

نہج البلاغہ خطبات

خطبہ 121: جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں فرمایا

تم میں سے جو شخص بھی جنگ کے موقع پر اپنے دل میں حوصلہ و دلیری محسوس کرے اور اپنے کسی بھائی سے کمزوری کے آثار دیکھے تو اسے چاہیئے کہ اپنی شجاعت کی برتری کے ذریعہ سے جس کے لحاط سے وہ اس پر فوقیت رکھتا ہے اس سے (دشمنوں کو) اسی طرح دو رکرے ، جیسے انہیں اپنے سے دور ہٹاتا ہے ۔ اسی لیے کہ اگر اللہ چاہے تو اسے بھی ویسا ہی کر دے ۔ بیشک موت تیرزی سے ڈھونڈھنے والی ہے نہ ٹھہرنے والا اس سے بچ کر نکل سکتا ہے اور اور نہ بھاگنے والا اسے عاجز کر سکتا ہے ۔ بلا شبہ قتل ہونا عزت کی موت ہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابن ابی طالب کی جان ہے کہ بستر پر اپنی موت مرنے سے تلوار کے ہزار وار کھانا مجھے آسان ہیں ۔

اسی خطبہ کا ایک حصہ یہ ہے گویا میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم(شکست و ہزیمت کے وقت) اس طرح کی آوازیں نکال رہے ہو جس طرح سو سماروں کے اژدہان کے وقت ان کے جسموں کے رگڑ کھانے کی آواز ہوتی ہے ۔ نہ تم اپنا حق لیتے ہو اور نہ توہین آمیز زیادتیوں کی روک تھام کر سکتے ہو۔ تمہیں راستے پر کھلا چھوڑ دیا گیا ہے ۔ نجات اس کے لیے ہے ۔ کہ جو اپنے کو جنگ میں جھونک دے اور جو سوچتا ہی رہ جائے اس کے لیے ہلاکت و تباہی ہے۔