Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، جس شخص میں یہ تین خوبیاں پائی جائیں گی اس کا ایمان کامل ہوگا ۱۔عقل ۲۔حلم اور۳۔علم غررالحکم حدیث4658

نہج البلاغہ خطبات

جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے ، تو حضرت ان کے پڑاؤ کی طرف تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا:۔

کیا تم سب(۱) کے سب ہمارے ساتھ صفین میں موجود تھے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کچھ تھے اور کچھ نہیں تھے تو حضرت نے فرمیا کہ پھر تم دو گروہوں میں الگ الگ ہو جاؤ۔ ایک وہ جو صفین میں موجود تھا اور ایک وہ جو وہاں موجود نہ تھا تاکہ میں ہر ایک سے جو گفتگو اس سے مناسب ہو وہ کروں ۔ اور لوگوں سے پکار کر کہا: کہ بس اب (آپس میں ) بات چیت نہ کرو، اور خاموشی سے میری بات سنو اور دل سے توجہ کرو، اور جس سے ہم گواہی طلب کریں وہ اپنے علم کے مطابق (جوں کی توں ) گواہی دے ۔ پھر حضرت نے ان لوگوں سے ایک طویل گفتگو فرمائی۔“

منجملہ اس کے یہ فرمایا کہ جب ان لوگوں نے حیلہ و مکر اور جعل و فریب سے قرآن (نیزوں پر) اٹھائے تھے تو کیا تم نے نہیں کہا تھا کہ۔

وہ ہمارے بھائی بند اور ہمارے ساتھ (اسلام کی) دعوت قبول کرنے والے ہیں ۔ اب چاہتے ہیں کہ ہم جنگ سے ہاتھ اٹھا لیں اور وہ اللہ سبحانہ ، کی کتاب پر (سمجھوتہ کے لیے) ٹھہر گئے ہیں ۔ صحیح رائے یہ ہے کہ ان کی بات مان لی جائے اور ن کی گلو خلاصی کی جائے ، تو میں نے تم سے کہا تھا کہ اس چیز کے باہر ایمان اور اندر کینہ و عناد ہے ۔ اس کی ابتداء شفقت و مہربانی اور نتیجہ ندامت و پشیمانی ہے ۔ لہذا تم اپنے رویہ پر ٹھہرے رہو، اور اپنی راہ پر مضبوطی سے جمے رہو۔ اور جہاد کے لیے اپنے دانتوں کو بھیچ لو اور اس(۲) چلانےوالے کی طرف دھیان نہ کرو اگر اس کی آواز پر لبیک کہی گئی تو یہ گمراہ کرے گا اور اگر اسے یونہی رہنے دیا جائے تو ذلیل ہو کر رہ جائے گا (لیکن ) جب تحکیم کی صورت انجام پاگئی تو میں تمہیں دیکھ رہا تھا کہ تم ہی اس پر رضا مندی دینے والے تھے ۔ خدا کی قسم اگر میں نے اس سے انکار کر دیا ہوتا تو مجھ پر اس کا کوئی فریضہ واجب نہ ہوتا اور نہ اللہ مجھ پر اس(کے ترک) کا گناہ عائد کرتا اور قسم بخدا اگر میں اس کی طرف بڑھا تو اس صورت میں بھی میں ہی وہ حق پرست ہوں جس کی پیروی کی جانا چاہیئے اور کتاب خدا میرے ساتھ ہے اور جب سے میرا اس کا ساتھ ہوا ہے ۔ میں اس سے الگ نہیں ہوا۔ ہم (جنگوں میں ) رسول کے ساتھ تھے اور قتلہونے والے وہی تھے ۔ جو ایک دوسرے کے باپ ، بیٹے ، بھائی اور رشتہ دار ہوتے تھے ۔ لیکن ہر مصیبت اور سختی میں ہمارا ایمان بڑھتا تھا اور حق کی پیروی اور دین کی اطاعت میں زیادتی ہوتی تھی اور زخموں کی ٹیسوں پر صبر میں اضافہ ہوتا تھا مگر اب ہم کو ان لوگوں سے کہ جو اسلام کی رو سے ہمارے بھائی کہلاتے ہیں جنگ کرنا پڑ گئی ہے ، چونکہ ان( ان کی وجہ سے) اس میں گمراہی ، کجی ، شبہات اور غلط سلط تاویلات داخل ہو گئے ہیں تو جب ہمیں کوئی ایسا ذریعہ نظر آئے کہ جس سے (ممکن ہے) اللہ ہماری پریشانیوں کو دور کر دے ، اور اس کی وجہ سے ہمارے درمیان جو باقی ماندہ (لگاؤ) رہ گیا ہے ۔ اس کی طرف بڑھتے ہوئے ایک دوسرے سے قریب ہوں تو ہم اسی کے خواہشمند رہیں گے اور کسی دوسری صورت سے جو اس کے خلاف ہو ہاتھ روک لیں گے ۔“

(۱) اے ابن ابی الحدید نے لکھا ہے کہ یہ خطبہ تین ایسے ٹکڑوں پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے سے غیر مرتبط ہیں ۔ چونکہ علامہ سید رضی حضرت کے خطبوں کا کچھ حصہ منتخب کرتے تھے اور کچھ درج نہ کرتے تھے جس سے سلسلہٴ کلام ٹوٹ جاتا تھا اور ربط برقرار نہ رہتا تھا ۔ چنانچہ ایک ٹکڑا ان ترک پر اور دوسرا صبرو اعلی مفض الجراح پر ختم ہو تا ہے اور تیسرا آخر کلام تک ہے۔

(۲) اس سے معاویہ یا عمر بن عاص مراد ہے ۔

خطبہ 120: جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑگئے تو اُن پر احتجاج کرتے ہوئے فرمایا