Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، سرکشی سے بچتے رہو،کیونکہ یہ بہت جلد شکست سے دوچار کردیتی ہے اور سرکش انسان کو نشانۂ عبرت بنادیتی ہے۔ غررالحکم حدیث2657

نہج البلاغہ خطبات

اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈنے والوں کے لیے بہترین وسیلہ اللہ اور اس کے رسول [ص] پر ایمان لانا ہے اور اس کی راہ میں جہاد کرنا کہ وہ اسلام کی سر بلند چوٹی ہے ۔ اور کلمہٴ توحید کی وہ فطرت (کی آواز) ہے اور نماز کی پابندی کی وہ عین دین ہے اور زکوٰة ادا کرنا کہ وہ رفرض و واجب ہے اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا ، کہ وہ عذاب کی سپر ہیں اور خانہٴ کعبہ کا حج وعمرہ بجا لانا کہ وہ فقر کو دور کرتے اور گناہوں کو دھودیتے ہیں ۔ اور عزیزوں سے حسن سلوک کرنا کہ وہ مال کی فروانی ، اور عمر کی درازی کا سبب ہے ۔ اور مخفی طور پر خیرات کرنا کہ وہ گناہوں کا کفارہ ہے اور کھلم کھلا خیرات کرنا کہ وہ بپری موت سے بچاتا ہے اور لوگوں پر احسانات کرنا کہ وہ ذلّت و رسوائی کے مواقع سے بچاتا ہے ۔ اللہ کے ذکر میں بڑھے چلو۔ اس لیے کہ وہ بہترین ذکر ہے اور اس چیز کے خواہشمند بنو، کہ جس کا للہ نے پرہیز گاروں سے وعدہ کیا ہے ۔ اس لیے کہ اس کا وعدہ سب وعدوں سے زیادہ سچا ہے ۔ نبی [ص] کی سیرت کی پیروی کرو کہ وہ بہترین سیرت ہے ۔ اور ان کی سنت پر چلو، کہ وہ سب طریقوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہے ، اور قرآن کا علم حاصل کرو، کہ وہ بہترین کلام ہے ! اور اس میں غورو فکر کرو کہ یہ دلوں کی بہار ہے اور اس کے نورسے شفا حاصل کرو کہ سینوں ( کے اندر چھپی ہوئی بیماریوں ) کے لیے شفا ہے ۔ اور اس کی خوبی کے ساتھ تلاوت کرو کہ اس کے واقعات سے زیادہ فائدہ رساں ہیں ۔ وہ عالم جو اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتا اس سرگرداں جاہل کے مانند ہے جو جہالت کی سرمستیوں سے ہوش میں نہیں آتا، بلکہ اس پر (اللہ کی ) حجت زیادہ ہے اور حسرت و افسوس اس کے لیے لازم و ضروری ہے اور حسرت و افسوس اس کے لیے لازم و ضروری ہے ۔ اور اللہ کے نزدیک و زیادہ قابل ملامت ہے۔

خطبہ 108: فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا