Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، دنیا خدا کی پوشیدہ حجت (امام عصر ؑ) سے اسی طرح فائدہ حاصل کرے گی جس طرح بادلوںمیں چھپے ہوئے سورج سے حاصل کرتی ہے الامالی للصدوق ؒ مجلس34حدیث15

نہج البلاغہ خطبات

تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے کہ جس نے شریعت اسلام کو جاری کیا اور اس (کے سرچشمہٴ) ہدایت پر اترنے والوں کے لیے اس کے قوانین کو آسان کیا، اور اس کے ارکان کو حریف کے مقابلے میں گلبہ و سرفرازی دی۔ چنانچہ جو اس سے وابستہ ہو اس کے لیے امن جو اس میں داخل ہو اس کے لے صلح و آشتی ، جو اس کی بات کرے اس کے لیے دلیل، جو اس کی مدد لے کر مقابلہ کرے اس لیے اسے گواہ قرار دیا ہے اور اس سے کسب ضیا کرنے والے کے لیے نور ، سمجھنے بوجھنے اور سوچ بچار کرنے والے کے لیے فہم و دانش ، غور کرنے والے لیے (روشن) نشانی ، ارادہ کرنے والے کے لیے بصیرت، نصیحت قبول کرنے والے کے لیے عبرت ، تصدیق کرنے والے کے لیے نجات بھروسا کرنے والے کے لیے اطمینان ، ہر چیز اسے سونپ دینے والے کے لیے راحت، صبر کرنے والے کے لیے سپر بنایا ہے ۔ وہ تمام سیدھی راہوں میں زیادہ روشن اور تمام عقیدوں میں زیادہ واضح ہے اس کے میانر بلند ، راہیں درخشاں اور چراغ روشن ہیں ۔ اس کا میدان (عمل) باوقار اور مقصد و غایت بلند ہے ۔ اس کے میدان میں تیز رفتار گھوڑوں کا اجتماع ہے ۔ اس کی طرف بڑھنا مطلوب و پسندیدہ ہے ۔ اس کے شاہسوار عزت والے ، اور اس کا راستہ (اللہ و رسولﷺ کی) تصدیق ہے اور اچھے اعمال (راستے کے ) نشانات ہیں ۔ دنیا گھوڑ دوڑ کا میدان اور موت پہنچنے کی حد، اور قیامت گھوڑوں کے جمع ہونے کی جگہ اور جنت بڑھنے کا انعام ہے ۔

اس خطبہ کا یہ جز نبی ﷺ کے متعلق ہے :۔

یہاں تک کہ آپ ﷺ نے روشنی ڈھونڈھنے والے کے لیے شعلے بھڑکائے اور (راستہ کھوکر ) سواری کے روکنے والے کے لیے نشانات روشن کئے (اے اللہ!) وہ تیرے بھروسے کا امین اور قیامت کے دن تیرا (ٹھہرایا ہوا) گواہ ہے ۔ وہ تیرا نبی ﷺ مرسل در رسول برحق ہے ۔ جو (دنیا کے لیے) نعمت و رحمت ہے(خدایا) توانہیں اپنے عدل و انصاف سے ان کا حصہ عطا کر اور اپنے فضل سے انہیں دہرے حسنات اجر میں دے (اے اللہ!) ان کی عمارت کو تمام معماروں کی عمارتوں پر فوقیت عطا کر اور اپنے پاس ان کی عزت و آبرو سے مہمانی کر اور ان کے مرتبہ کو بلندی و شرف بخش، اور انہیں بلند درجہ دے اور نعمت و فضیلت عطا کر، اور ہمیں ان کی جماعت میں اس طرح محشور کر کہ نہ ہم ذلیل و رسوا ہوں ، بہ نادم و پریشان نہ حق سے روگردان ، نہ عہد شکن ، نہ گمراہ ، نہ گمراہ کن اور نہ فریب خوردہ۔

سید رضی کہتے ہیں :۔

یہ کلام اگرچہ پہلے گزر چکا ہے ، مگر ہم نے پھر اعادہ کیا ہے چونکہ دونوں روایتوں کی لفظوں میں کچھ اختلاف ہے ۔

اسی خطبہ کا ایک جزیہ ہے ۔

جس میں اپنے اصحاب سے خطا ب فرمایا : ۔ تم اپنے اللہ کے لطف و کرم کی بدولت ایسے مرتبہ پر پہنچ گئے کہ تمہاری کنیزیں بھی محترم سمجھی جانے لگیں ، اور تمہارے ہمسایوں سے بھی اچھا برتاؤ کیا جانے لگا ۔ اور وہ لوگ بھی تمہاری تعظیم کرنے لگے جن پر تمہیں نہ کوئی فضیلت تھی، نہ تمہارا کوئی ان پر احسان تھا کہ اور وہ لوگ بھی تم سے دہشت کھانے لگے جنہیں تمہارے حملہ کا کوئی اندیشہ نہ تھا، اور نہ تمہارا ان پر تسلط تھا۔ مگر اس وقت تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ کے عہد توڑے جارہے ہیں ، اور تم غیظ میں نہیں آتے ۔ حالانکہ اپنے آباؤ اجداد کے قائم کردہ رسم و آئیں کے توڑے جانے سے تمہارے رگ حمیت جنبش میں آجاتی ہے ۔ حالانکہ اب تک اللہ کے معاملات تمہارے ہی سامنے پیش ہوتے رہے اور تمہارے ہی (ذریعہ سے ) ان کا حل ہوتارہے اور تمہاری ہی طرف ہر پھر کر وٴتے ہیں ۔ لیکن تم نے اپنی جگہ ظالموں کے حوالے کر دی ہے ، اور اپنی باگ ڈور انہیں تھمادی ہے اور اللہ کے معاملات انہیں سونپ دیئے ہیں کہ وہ شبہوں پر عمل پیرا اور نفسانی خواہشوں پر گامزن ہیں ۔ خدا کی قسم! اگر وہ تمہیں ہر ستارے کے نیچے بکھیر دیں ، تو بھی اللہ تمہیں اس دن(ضرور) جمع کرے گا، جو ان کے لیے بہت بُرا دن ہوگا۔

خطبہ 104: شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبر کی عظمت کے متعلق فرمایا