Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، توبہ رحمت کے نزول کا سبب بنتی ہے۔ مستدرک الوسائل حدیث13707
Karbala TV Live
ترتیل قرآن کریم اردو

 

کربلا میں اصحابِ رسول (ص) کا کردار

حجت الا سلام ثمر علی نقوی

منبع: مجلہ نور معرفت

مقدمہ:

حضرت امام حسین علیہ السلام کاانقلاب پوری امت اسلامیہ کی نجات، توحید کی سربلندی اورانسانیت کی آزادی کاپیغام لے کرآیا تھا لیکن صدافسوس کہ اس انقلاب سے پوری امت اسلامیہ نے وہ فائدہ حاصل نہ کیا جس کے امام حسین علیہ السلام خواہشمند تھے ۔اس کی ایک وجہ دشمن کی جانب سے اس مقدس انقلاب کے خلاف مذموم الزام تراشیاں ہیں جن کے ذریعے مقاصدواہداف امام حسین(ع) کوغلط رنگ دے کرسادہ لوح مسلمانوں کواس نورالٰہی سے دوررکھنے کی ناجائزکوشش کی گئی۔بنی امیہ کے حامیوں اورظالم حکومتوں کے آلۂ کار افراد نے انقلاب حسین(ع) پرغیرآئینی اقدام کاالزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کی نوعیت خلیفۃ المسلمین کے خلاف بغاوت اورلشکرکشی کی ہے چنانچہ ’’شوکانی‘‘نقل کرتے ہیں:

’’کچھ علماء حد سے گذرگئے اوروہ فرزند رسول(ص) حضرت امام حسین(ع) کے اقدام کوشرابی، نشے باز اورحرمت شریعت مطہرہ کی ہتک کرنے والے یزید بن معاویہ(ان پرخدا کی لعنت ہو) کے خلاف بغاوت سمجھتے ہیں!!‘‘(۱)

اس الزام کاایک جواب یہ ہے کہ یہ بات سلف صالح کی روش کے متضاد ہے چنانچہ تاریخ شاہدہے کہ ا س وقت کے علماء ، صحابہ، تابعین اورسیاست دان سب اس بات پرمتفق تھے کہ حضرت امام حسین (ع) حق پرہیں انھوں نے یزید کے اس غیرانسانی اقدام کی مذمت کی اورکسی نے بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقدام کوخلیفہ المسلمین کے خلاف بغاوت نہیں سمجھا چنانچہ مولانا مودودی لکھتے ہیں:

’’اگرچہ ان(حسین (ع) ) کی زندگی میں اوران کے بعد بھی صحابہ وتابعین میں سے کسی ایک شخص کابھی یہ قول ہمیں نہیں ملتا کہ آپ(ع) کاخروج ناجائز تھااوروہ ایک فعل حرام کاارتکاب کرنے جارہے تھے۔‘‘(۲)

ہم ثابت کریں گے کہ صحابہ وتابعین کا مخالفت کرنا توکجا کثیرتعداد میں صحابہ کرام اورتابعین نے انقلاب حسین(ع) کی حمایت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کردیں بعض مادہ پرست لوگوں نے اس واقعہ کودوخاندانوں کی جنگ قرار دینے کی مذموم کوشش کی اوربعض افراد نے امام حسین(ع) کے مقصد کو’’حکومت طلبی‘‘ سے تعبیر کیاان اعتراضات کے جواب مدلل انداز میں مفصل کتب میں پیش کئے گئے ہیں اس مقالہ میں کوشش کی گئی ہے کہ ان پاکیزہ اذہان جنھیں ’’حقائق‘‘ کی تلاش رہتی ہے پرایک خاص زاویہ سے انقلاب امام حسین(ع) کے مقدس ہونے اوریزید کی اسلام دشمنی کوواضح کیاجائے۔

امام حسین علیہ السلام ایک فرد نہیں تھے جنہوں نے یزید بن معاویہ کی باطل حکومت کے خلاف قیام کیا بلکہ آپ(ع) اس مقدس تحریک کے عظیم راہبر تھے جواس وقت کی باطل ،اسلام دشمنی اورناجائز حکومت کے خلاف وجود میں آئی امام حسین(ع) کوپیغمبر اسلام(ص) نے ’’ہدایت کاچراغ‘‘قرار دیا تھا:(انّ الحسین(ع) مصباح الھدی وسفینۃ النجاۃ)اس وقت جب امت گمراہی کی تاریکیوں میں ڈوب رہی تھی امام حسین(ع) ہادی وراہنما بن کرایسی تحریک کاآغاز کرتے ہیں جس کا ہراسلام خواہ، غیرت منداوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت ومحبت رکھنے والے شخص نے ساتھ دیا۔

ہاں البتہ اس تحریک کی حمایت کرنے والوں کی نوعیت مختلف تھی بعض نے زبانی کلامی حمایت کی اوربعض افراد جن میں اصحاب رسول(ص) کی ایک خاص تعداد تھی نے اپنی جان کی بازی لگا کراس انقلاب کوپائیدار کرنے میں مدد کی۔

امید ہے یہ مقالہ’’حق‘‘کے ہرمتلاشی مخصوصاً ان افراد کے لئے جوصحابہ کرام رضوان اللہ علیھم سے خاص عقیدت ومحبت رکھتے بہترین راہنما ثابت ہوگا اس لئے کہ امام حسین (ع) کی پیروی میں صحابہ کرامؓ کی کثیر تعداد نے قربانیاں پیش کی ہیں بعض اصحاب کربلا میں پہنچ کرعلی الاعلان یزید کے باطل نظریات کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے بعض کربلا سے قبل کوفہ یادیگر مقامات پرامام حسین علیہ السلام کی حمایت کے جرم میںیزیدی کارندوں کے ہاتھوں شہید کردیئے گئے نیز بعض اصحاب جوکچھ وجوہات کی بناپرواقعہ کربلا میں شریک نہ ہوسکے تھے امام حسین(ع) کی شہادت کے بعدیزیدکے مظالم کے خلاف اورامام حسین(ع) کی حمایت میں قیام کرتے ہیں اورجانیں قربان کرکے ثابت کرتے ہیں کہ اس راہ میں موت شہادت وسعادت کی موت ہے۔

اس تحریر میں صرف ان اصحاب رسول اللہ(ص) کے احوال و واقعات کودرج کیاگیا ہے جوکربلا میں نواسۂ رسول اللہ(ص) کی حمایت کرتے ہوئے شہادت کے مقام پرفائزہوئے۔شہداء کربلا اصحاب کومختلف معتبر منابع سے ذکر کرنے کی کوشش کی گئی ہے بعض ان صحابہ کرام(ع) کے اسمائے گرامی درج کرنے سے اجتناب کیاگیا ہے جومعتبر کتب میں درج نہ تھے یہ بات بھی بیان کرناضروری ہے کہ’’ صحابی‘‘ کی تعریف میں اختلاف نظر کومدنظر رکھتے ہوئے اس نظریہ کے مطابق اصحاب کودرج کیا گیا ہے جوصحابی رسول(ص) کے مفہوم میں وسعت کا قائل ہے چنانچہ اس نظریہ کے حامی افراد میں ہم صرف ابن حجرعسقلانی کی عبارت کونقل کرتے ہیں:

’’واصحُّ ما وقفت علیہ من ذالک انّ الصحابی من لقی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومناً بہ ومات علی الاسلام ، فیدخل فی من لقیہ من طالت مجالستہ اوقصرت ، ومن رویٰ عنہ اولم یرْو، ومن غزا معہ اولم یغر ومن رأہُ رویۃً ولو لم یجالسہ ومن لم یرٰہ لعارضٍ کالعمی۔۔۔۔۔۔‘‘

’’صحیح ترین تعریف یہ ہے کہ حالت ایمان میں پیغمبر (ص) کی زیارت کرنے والے اوراسلام کی حالت پرفوت ہونے والے کوصحابی کہتے ہیں اس تعریف کے مطابق ہروہ شخص صحابی ہوگا جوطولانی مدت یاکم مدت پیغمبر(ص) کی صحبت میں رہا ،جنگ میں شریک ہوا یانہ ،باقاعدہ زیارت کی یاکسی مجبوری (جیسے نابینا ہونے)کی وجہ سے زیارت سے محروم رہا۔۔۔۔‘‘

اسی تعریف کے مطابق شہداء کربلا صحابہ میں بعض ایسے افراد کوبھی ذکرکیاگیا ہے جو’’صحابہ ادراکی‘‘ ہیں یعنی زیادہ مدت پیغمبر(ص) کی خدمت میں موجود نہ تھے گرچہ بعض صحابہ ایسے بھی ہیں جورسول اللہ(ص) کے ساتھ غزوات میں شریک ہونے کے باوجود شہادت سے محروم رہے پھر ۶۱ ؁ ھ میں نواسۂ رسول(ص) کا ساتھ دے کرشہادت کی آرزو تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

1- اسلم بن کثیر الازدی(یامسلم بن کثیر):

زیارت ناحیہ میں ان کانام’’اسلم‘‘ذکرہوا ہے جبکہ کتب رجال میں بجائے’’اسلم‘‘کے ’’مسلم بن کثیر الازدی الاعرج‘‘بیان ہوا ہے زیارت ناحیہ کے جملات یوں ہیں:’’السلام علیٰ اسلم بن کثیر الازدی الاعرج ۔۔۔۔۔۔‘‘ (۴) مرحوم زنجانی نے نقل کرتے ہیں کہ یہ صحابی رسول(ص) تھے (۵)مرحوم شیخ طوسی(رہ) اورمامقانی (رہ) نے اپنی کتب رجال میں نقل کرتے ہیں کہ جنگ جمل میں تیرلگنے سے پاؤں زخمی ہوگیا تھا جس کی وجہ سے’’اعرج‘‘(ایک پاؤں سے اپاہج)ہوگئے انھوں نے صحبت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودرک کیاتھا۔

عسقلانی لکھتے ہیں:’’ مسلم بن کثیر بن قلیب الصدفی الازدی الاعرج۔۔۔الکوفی لہ ادراک للنبی(ص) ‘‘ مذید اضافہ کرتے ہیں فتح مصر میں بھی یہ صحابی رسول(ص) حاضرتھے طبری اورابن شھرآشوب نے ان کاذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کربلا میں جملۂ اولیٰ میں شہید ہوئے۔(۶)

مسلم بن کثیر’’ازد‘‘ قبیلہ کے فرد تھے جب امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے ہجرت کی توان دنوں یہ صحابی رسول(ص) کوفہ میں قیام پذیر تھے یہی وجہ ہے امام حسین علیہ السلام کوکوفہ میں آنے کی دعوت دینے والوں میں یہ شامل ہیں پھرحضرت مسلم بن عقیل (ع) جب کوفہ میں سفیرحسین(ع) بن کرپہنچے توانھوں نے حضرت مسلم بن عقیل کی حمایت کی لیکن حضرت مسلم(ع) کی شہادت کے بعد کوفہ کوترک کیااورکربلا کے نزدیک حضرت امام حسین علیہ السلام سے جاملے اورپہلے حملہ میں جام شہادت نوش کیا۔(۷)

حضرت رسول اکرم(ص) نے اپنے اس صحابی کے متعلق جوایک جنگ میں ’’اعرج‘‘ہونے کے باوجود شریک ہوئے اوراپنی جان کی قربانی پیش کی فرمایا:’’والذی نفسی بیدہ لقد رأیت عمروبن الجموح یطأُ فی الجنہ بعرجتہ۔۔۔۔۔۔‘‘ یعنی مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبض ۂ قدرت میں میری جان ہے دیکھ رہا ہوں عمرو بن الجموح کو کہ لنگڑا ہوکربھی جنت میں ٹہل رہا ہے اس بنا پرحضرت مسلم بن کثیر کابھی وہی مقام ہے کہ اگرچہ قرآن فرماتا ہے:(لیس علی الاعمی خرج ولا علی الاعرج حرج)(۸)یعنی جہاد میں شرکت نہ کرنے میں اندھے پرکوئی حرج نہیں اورنہ ہی لنگڑے پرکوئی مؤاخذہ ہے لیکن اس فداکاراسلام نے نواسہ رسول(ص) کی حمایت میں اپنی اس اپاہج حالت کے باوجود جان قربان کرکے ثابت کیا کہ اسلام کے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے یہی وجہ ہے’’صاحب تنقیح المقال ‘‘ کے یہ جملے ہیں:’’شہیدالطف غنی عن التوثیق‘‘فرماتے ہیں چونکہ کربلا کے شھداء میں شامل لہذا وثاقت کی بحث سے بے نیاز ہیں۔

2- انس بن حارث:

حضرت پیغمبر (ص) کے صحابی تھے جنگ بدروحنین میں شرکت بھی کی(۹)مرحوم مامقانی فرماتے ہیں:’’(انس)بن حارث صحابی نال بالطف الشھادۃ ‘‘(۱۰)(صحابی رسول(ص) تھے اورکربلا میں شہادت کے مقام پرفائز ہوئے)ابن عبدالبراپنی کتاب الاستیعاب میں یوں رقمطراز ہیں ’’انس بن حارث رویٰ عنہ والد اشعث بن سلیم عن النبی(ص) فی قتل الحسین وقتل مع الحسین رضی اللہ عنھما‘‘ (۱۱)

’’انس بن حارث کے واسطہ سے اشعث بن سلیم کے والد نے نبی اکرم(ص) سے امام حسین(ع) کی شہادت سے متعلق روایت نقل کی ہے کہ یہ (انس بن حارث) حضرت حسین(ع) کے ہمراہ شہیدہوئے۔‘‘

الاستیعاب نے جس روایت کاذکر کیا ہے وہ یوں ہے کہ حضرت انس بن حارث نے رسول خدا(ص) سے سنا تھا کہ آپ(ص) نے فرمایا:’’میرابیٹا(حسین) کربلا کی سرزمین پرقتل کیاجائے گا جوشخص اس وقت زندہ ہواس کے لئے ضروری ہے کہ میرے بیٹے کی مددونصرت کوپہنچے۔‘‘ روای کہتا ہے کہ انس بن حارث نے پیغمبر(ص) کے اس فرمان پرلبیک کہتے ہوئے کربلا میں شرکت کی اورامام حسین(ع) کے قدموں پراپنی جان نچھاور کردی۔(۱۲)

اس حدیث نبوی (ص) کی اہمیت کے پیش نظر ضروری سمجھتے ہیں کہ اسے کامل سند کے ساتھ ذکر کردیا جائے:’’سعد(سعید)بن عبدالملک بن واقد الحرانی بن عطا بن مسلم الخقاف عن اشعث بن سلیم عن ابیہ قال سمعت انس بن حارث یقول:سمعت رسول اللہ(ص) یقول:ان ابنی ھذا(یعنی الحسین)یُقتل بارض یقال لھا کربلا فمن شھد منکم فلینصرہ۔‘‘

قال(العسقلانی):’’فخرج انس بن الحرث الی کربلا فقتل مع الحسین۔‘‘

صاحب فرسان نے ابن عساکر سے یوں نقل کیا ہے :’’وقال ابن عساکر انس بن الحرث کان صحابیاً کبیرا ممن رأی النبی(ص) وسمع حدیثہ وذکرہ عبدالرحمٰن السلمی فی اصحاب الصفہ۔۔۔۔۔۔‘‘(۱۳)

’’ابن عساکر لکھتے ہیں کہ انس بن الحرث ان عظیم اصحاب رسول(ص) میں سے تھے جنھیں حضرت پیغمبر(ص) کی زیارت نصیب ہوئی انھوں نے آپ(ص) سے حدیث بھی سنی تھی عبدالرحمٰن سلمی نے انھیں اصحاب صفہ میں شمار کیا ہے۔۔۔‘‘

بلاذری لکھتے ہیں کہ حضرت انس کوفہ سے نکل پڑے ایک مقام پرامام حسین(ع) اورعبیداللہ بن حرجعفی کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی فوراً امام حسین(ع) کی خدمت حاضرہوئے اورقسم کھانے کے بعد عرض کی ’’کوفہ سے نکلتے وقت میری نیت یہ تھی کہ عبیداللہ بن حر کی طرح کسی کاساتھ نہ دونگا(نہ امام(ع) کانہ دشمن کا) یعنی جنگ سے اجتناب کرونگا لیکن خدواند نے میری مدد فرمائی کہ آپ(ع) کی مدد ونصرت کرنے کومیرے دل میں ڈال دیا اورمجھے جرأت نصیب فرمائی تاکہ اس حق کے راستے میں آپ(ع) کاساتھ دوں۔‘‘حضرت امام حسین علیہ السلام نے انھیں ہدایت اورسلامتی ایمان کی نوید سنائی اورانھیں اپنے ساتھ لے لیا۔(۱۷)

یہ صحابی رسول(ص) نواسۂ رسول(ص) کے دشمنوں سے جنگ کرنے کی غرض سے کربلا میں موجود ہیں حضرت امام حسین(ع) نے اپنے اس وفادار ساتھی کویہ ذمہ داری سونپی کہ عمربن سعد کوحضرت (ع) کاپیغام پہنچائے اوراس ملعون کونصیحت کرے کہ شاید وہ ہوش میں آجائے اورقتل حسین(ع) سے باز رہے جب حضرت انس ، عمربن سعد کے پاس پہنچے تواس کوسلام نہ کیا عمربن سعد نے اعتراض کیا کہ مجھے سلام کیوں نہیں کیا، آیاتومجھے کافراورمنکر خدا سمجھتا ہے؟حضرت انس نے فرمایا:’’توکیسے منکر خداورسول(ص) نہ ہوجبکہ توفرزندرسول(ص) کے خون بہانے کاعزم کرچکا ہے!‘‘یہ جملہ سن کرعمربن سعد سرنیچے کرلیتا ہے اورپھرکہتا ہے کہ میں بھی جانتا ہوں کہ اس گروہ(گروہ حسین(ع) ) کاقاتل جہنم میں جائے گا لیکن عبیداللہ بن زیاد کے حکم کی اطاعت ضروری ہے۔(۱۸)

ابتدائے ملاقات سے حضرت انس تکلیف دہ حالات اپنی نظروں سے دیکھ رہے تھے لہذا جب دشمن کی طرف سے جنگ شروع ہوئی تو حضرت انسؓ بھی دیگر اصحاب حسین علیہ السلام کی طرح حضرت امام (ع) سے اجازت طلب کرکے عازم میدان ہوئے یہ مجاہد جوان نہیں تھا گوایمان جوان تھا نقل کرتے ہیں کہ حضرت انس کی حالت یہ تھی کہ سن پیری(بڑھاپے) کی وجہ سے خمیدہ (جھکی ہوئی)کمر کوشال(رومال) سے باندھ کرسیدھا کرتے ہیں ، سفیدابرو،آنکھوں پرپڑرہے تھے ، رومال پیشانی پرباندھ کراپنی آنکھوں سے ان بالوں کو ہٹاتے ہیں اور میدان کارزار میں روانہ ہوتے ہیں ۔حضرت امام حسین(ع) نے جب اپنے اس بوڑھے صحابی کودیکھا توحضرت کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اورفرمایا:’’خدا تجھ سے یہ قربانی قبول کرے اے پیرمرد۔‘‘(۱۹)

ہرمجاہد جنگ کرتے وقت رجز(مجاہدانہ اشعار)پڑھا کرتا تھا جورجز حضرت انس نے پڑھا ہے نہایت پرمعنی تھا پہلے اپنا تعارف کرایا پھرکہا:

’’واستقلبوا لقوم بغرٍالآن آل علی شیعۃ الرحمٰن،وآل حرب شیعۃ الشیطان‘‘(۲۰)

کاہل ودان نسب جانتے ہیں کہ میراقبیلہ دشمن کو نابود کرنے والا ہے اے میری قوم شیرغراں کی طرح دشمن کے مقابلے میں جنگ کرو کیونکہ آل علی(ع) رحمان کے پیروکارجبکہ آل حرب(بنوسفیان)شیطان کے پیروکار ہیں ۔بڑھاپے کے باوجود سخت جنگ کی ۱۲ یا۱۸ دشمنوں کوقتل کرنے کے بعد جام شہادت نوش کیا زیارت ناحیہ کے جملات یہ ہیں:’’السلام علی ٰ انس بن الکاھل الاسدی‘‘ (۲۱)

3- بکربن حی:

علامہ سماوی نے اپنی کتاب ابصارالعین میں حدایق الوردیہ سے نقل کیا ہے کہ ’’بکربن حی‘‘ کوفہ سے عمربن سعد کے لشکر میں شامل ہوکرکربلا پہچا لیکن جب جنگ شروع ہونے لگی توحضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکرعمربن سعد کے خلاف جنگ کرتے ہوئے پہلے حملے میں شہیدہوگئے منھی الآمال میں ان کاذکر ان شہداء میں موجود ہے جوحملہ اولیٰ میں شہیدہوئے۔(۲۲)تنقیح المقال نے ’’بکربن حی‘‘ کوشہدائے کربلا میں شمار کیاہے عبارت یوں ہے:’’بکربن حی من شھدالطف بحکم الوثاقۃ‘‘ ابن حجر عسقلانی نے’’ بکربن حی‘‘ کے ترجمہ میں لکھا ہے:’’بکربن حی بن علی تمیم بن ثعلبہ بن شھاب بن لام الطائی۔۔۔۔۔۔لہ ادراک ولولدہ مسعود ذکربالکوفہ فی زمان الحجاج وکان فارساً شجاعاً۔۔۔۔۔۔‘‘(۲۳)

(بکربن حی۔۔۔نے حضرت پیغمبر(ص) کے محضر مبارک کودرک کیا اوران کے بیٹے مسعود کے بارے میں ملتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں کوفہ میں مقیم تھا۔)

’’الاصابہ‘‘میں’’ بکربن حی‘‘ کے صحابی رسول(ص) ہونے کی گواہی ملتی ہے گوبیان نہیں کیا کہ یہ صحابی کربلا میں شہید ہوئے یانہ؟لیکن دیگر منابع رجال ومقاتل میں انھیں شہدائے کربلا میں شمار کیاگیاہے۔

4- جابربن عروہ غفاری:

کتاب’’شہدائے کربلا‘‘ میں بیان ہوا ہے کہ متاخرین کے نزدیک یہ صحابی رسول خد(ص) تھے جوکربلا میں شہید ہوئے جنگ بدر اوردیگر غزوات میں رسول اکرم(ص) کے ہمراہ شریک ہوئے یہ بوڑھے صحابی روز عاشورا رومال باندھ کراپنے ابروؤں کوآنکھوں سے ہٹاتے ہیں اورعازم میدان جنگ ہوتے ہیں جب امام علیہ السلام کی نظر پڑی توفرمایا:اے پیرمرد!خداتجھے اجردے۔‘‘(۲۴)

ذبیح اللہ محلاتی نے مقتل خوارزمی سے درج ذیل عبارت نقل کی ہے:’’ثم یرز جابر بن عروۃ الغفاری وکان شیخاً کبیراً وقد شھد مع رسول اللہ بدراً او حنیناً وجعل یشد وسطہ بعمامعتہ ثم شدحاجبیہ بعصابتہ حتی رفعھما عن عینیہ والحسین (ع) ینظر الیہ وھویقول شکراللہ سعیک یاشیخ فحمل فلم یزل یقاتل حتی قتل ستین رجلاً ثم استثھد رضی اللہ عنہ‘‘(۲۵)

بعض کتب جیسے تنقیح المقال، مقتل ابی مخنف اوروسیلۃ الدارین میں صحابی رسول(ص) اورشہیدکربلا کے عنوان سے بیان ہوا ہے البتہ دیگر معتبر منابع میں ان کاذکر موجود نہیں اس وجہ سے بعض محققین ان کے بارے میں مردد ہیں۔’’تنقیح ‘‘کے جملات یہ ہیں ’’جابر بن عمیر الانصاری ،صحانی مجہول ‘‘(۲۶) جبکہ وسیلۃ الدارین کی عبارت کے مطابق یہ صحابی رسول تھے اور جنگ بدر کے علاوہ دیگر جنگوں میں بھی شریک رہے۔

’’انّ جابر بن عروہ کان اصحاب رسول اللہ(ص) یوم بدر وغیرھا۔۔۔‘‘(۲۷)جب دشمن کے مقابلہ میں آئے تویہ رجز پڑھا:

قد علمت حقاً بنوغفار وخندف ثم بنو نزار

ینصرنا لاحمدمختار یاقوم حاموا عن بنی الاطہار

الطیبین السادۃ الاخیار صلی علھم خالق الابرار

’’یہ بنوغفار وخندف نزا ر قبائل جانتے ہیں کہ ہم یاور محمدمصطفیٰ (ص) ہیں اے لوگو آل اطہار(ع) جوسیدوسردار ہیں ان کی حمایت کرو کیونکہ خالق ابرار نے بھی ان پردرودوسلام بھیجا ہے۔‘‘

ان الفاظ کے ساتھ دشمن پرآخری حجت تمام کرتے ہوئے چندافراد کوواصل جہنم کرنے کے بعد جام شہادت نوش کیا۔(۲۸)

5- جنادۃ بن کعب الانصاری:

جنادہ بن کعب وہ صحابی رسول(ص) ہیں جوحضرت امام حسین(ع) کی نصرت کے لئے کربلا میں اپنی زوجہ اورکم سن فرزند کے ساتھ شریک ہوئے خود کواپنے بیٹے سمیت نواسۂ رسول(ص) کے قدموں پرقربان کردیا علامہ رسولی محلاتی نقل کرتے ہیں جنادہ صحابی رسول خد(ص) اورحضرت علی علیہ السلام کے مخلص شیعہ تھے جنگ صفین میں حضرت علی (ع) کے ساتھ شریک ہوئے(۲۹)اورکوفہ میں حضرت مسلم بن عقیل کے لئے بیعت لینے والوں میں شامل تھے حالات خراب ہونے کی وجہ سے کوفہ کوترک کیااورامام حسین(ع) سے جاملے۔

تنقیح المقال نے جنادہ کے ترجمہ کواس طرح بیان کیا ہے:’’جنادۃ بن (کعب)بن الحرث السلمانی الازدی الانصاری الخزرجی من شھداء الطف۔۔۔وقدذکراھل السیرانہ کان من اصحاب رسول اللہ(ص) ۔۔۔۔۔۔‘‘(۳۰)

صاحب کتاب فرسان نے تاریخ ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے:ابن مسعود روایت کرتے ہیں’’ حضرت پیغمبر اکرم(ص) نے جنادۃ بن الحارث کوایک مکتوب میں بیان فرمایا کہ یہ مکتوب محمدرسول اللہ(ص) کی جانب سے جنادہ اوراس کی قوم نیز ہراس شخص کے لئے ہے جوا س کی پیروی کرے گا کہ نماز قائم کریں اورزکوۃٰ ادا کریں اورخداورسول (ص) کی اطاعت کریں جواس حکم پرعمل کرے گا خداورسول(ص) کی حفظ وامان میں رہے گا۔‘‘(۳۱)اس فداکارصحابی رسول(ص) نے اپنے راہبر کے حکم پرعمل کرکے نہ فقط مال کی زکوۃٰ ادا کی بلکہ اپنی جان اوراولاد کی زکوۃٰ بھی دیتے ہوئے دنیاوآخرت کی سعادت حاصل کرلی حضرت جنادہ کی زوجہ ’’مسعود خزرجی‘‘کی بیٹی اوربڑی شجاع وفداکار خاتون تھی جب جنادہ شہیدہوچکے تواس مجاہدہ عورت نے اپنے خوردسال بیٹے عمروبن جنادہ کو(جوگیارہ یانوسال (۳۲)کی عمرمیں تھا)کوحکم دیا کہ جاؤ جہاد کرو یہ باادب بچہ ماں کی اجازت کے باوجود اپنے مولاوآقا حضرت امام حسین(ع) کی خدمت میں آیا اوربڑے احترام سے عرض کی مجھے جہاد کی اجازت عطافرمائیں۔حضرت (ع) نے اجازت دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ شاید تیری ماں راضی نہ ہو (کیونکہ تیرا سن چھوٹاہے اورتیری ماں بوڑھی ہے) یہ جملات سننے تھے کہ اس ننھے مجاہد نے عرض کی کہ’’انّ امّی قدامرتنی‘‘(میری ماں تومجھے اجازت دے چکی ہیں)میری ماں نے نہ فقط اجازت دی ہے بلکہ مجھے لباس جنگ اس نے خود پہنایا ہے اورحکم دیا ہے آپ(ع) پرجان قربان کردوں امام حسین(ع) نے جب اس کاجذبۂ جہاد دیکھا تواجازت دی میدان جنگ میں آکر صحابی رسول(ص) کے اس کمسن فرزند نے اپناتعارف بڑے نرالے انداز میں کرایاخلاف معمول اپنانام یاوالد اورقبیلہ کاذکر نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ اس کمسن بچے کے بارے میں مؤرخین میں اختلاف ہے کہ یہ کس کافرزند ہے بعض کتب میں یہ جملہ ملتا ہے کہ ’’خرج شباب قتل ابوہ فی المعرکہ‘‘(۳۳)دشمن کوللکار کرکہتا ہے:

امیری حسینٌ ونعم الامیر سرور فواد البشیرالنذیر

علیٌ وفاطمہ والداہ فھل تعلمون لہ من نظیر

لہ طلعۃ مثل شمس الضحیٰ لہ غُرّہ مثل بدرالمنیر(۳۴)

’’میرے آقا وسردار اوربہترین سردار حسین(ع) ہیں بشیرالنذیر(پیغمبراکرم(ص))کے دل کاچین ہیں علی (ع) وفاطمہ(ع) جس کے والدین ہوں کیا اس کی مثال(دنیا میں) کہیں مل سکتی ہے؟چمکتے سورج کی مانند نورافشانی کرنے والا اورچودھویں کے چاند کی مانند (تاریکیوں میں) روشنی دینے والا راہنماامام ہیں۔‘‘

میدان جنگ میں شہید ہوجانے کے بعد دشمن نے سرجدا کرکے ماں کی طرف پھینکا ماں نے سراٹھا کرکہا:’’مرحبا‘اے نورعین‘‘اورپھر دشمن کودے مارااورعمودخیمہ اٹھا کردشمن کی فوج پرحملہ کرناچاہا لیکن حضرت امام حسین(ع) نے واپس بلالیااوراس باوفا خاتون کے حق میں دعافرمائی۔حضرت جنادہ کانام بعض منابع میں ’’جابر‘‘(۳۵)یا’’جبار‘‘یا’’جیاد‘‘ درج ہوا ہے ان کے والد کے نام کوبھی بعض نے ’’حارث‘‘(۳۶)اوربعض نے ’’حرث‘‘(۳۷) ذکرکیا جبکہ قاموس(۳۸)میں ’’جنادہ‘‘ کے نام سے موجود ہے ان کے قبیلہ کانام’’سلمانی‘‘(۳۹)یا’’سلمانی ازدی‘‘(۴۰)بیان ہوا ہے یہ صحابی رسول(ص) ’’عذیت الھجانات‘‘کے مقام پرامام حسین(ع) کے حضورشرفیاب ہوئے اسی دوران’’حر‘‘امام حسین(ع) کاراستہ روک کرانھیں گرفتار کرناچاہتا تھا جبکہ امام(ع) کی شدیدمخالفت کی وجہ سے اس کام سے باز رہا امام علیہ السلام ان تازہ شامل ہونے والے افراد (جیسے جنادہ بن حارث)کے ذریعے کوفہ کے حالات سے مطلع ہوئے اس وقت سے لے کر روزعاشور تک ساتھ رہے صبح عاشور جنادہ بعض دیگر افراد کے ساتھ تلوار ہاتھ میں لے کردشمن کے لشکر پرحملہ آور ہوئے دشمن کے نرغہ میں جانے کی وجہ سے تمام افراد ایک مقام پردرجۂ شہادت پرفائز ہوئے۔(۴۱)زیارت رجبیہ وناحیہ میں ان پر’’سلام ‘ ‘ ذکرہوا ہے۔

6- جندب بن حجیر الخولانی الکوفی:

’’جندب بن حجیر کندی خولانی‘‘یا’’جندب بن حجر‘‘(۴۲)پیغمبر اکرم (ص) کے عظیم صحابی اوراہل کوفہ میں سے تھے یہ ان افراد میں سے ہیں جنھیں حضرت عثمان نے کوفہ سے شام بھیجا تھا جنگ صفین میں بھی شرکت کی اورحضرت علی علیہ السلام کی طرف سے قبیلہ’’ کندہ اورازد‘‘ کے لشکر کے سپہ سالار مقرر ہوئے اورواقعہ کربلا میں امام حسین(ع) کے ہمرکاب جنگ کرتے ہوئے شہیدہوئے۔(۴۳)

صاحب وسیلۃ الدارین لکھتے ہیں:’’قال ابن عساکر فی تاریخہ ھوجندب بن حجیر بن جندب بن زھیر بن الحارث بن کثیر بن جثم بن حجیر الکندی الخولانی الکوفی یقال لہ صحبۃ مع رسول اللہ وھو من اھل الکوفہ وشھد مع النبی(ص)۔۔۔۔۔۔وقال علماء السیر ومنھم الطبری:انہ قاتل جندب بن حجیربین یدیہ الحسین(ع) حتی قتل فی اول القتال۔۔۔۔۔۔‘‘(۴۴)

مندرجہ بالا ترجمہ کے مطابق یہ صحابی رسول(ص) اورشہدائے کربلا میں سے تھے۔

جندب بن حجیر کے صحابی رسول(ص) ہونے میں اتفاق ہے لیکن مقام شہادت میں اختلاف ہے ابن عساکر انھیں جنگ صفین کے شہداء میں ذکرکرتے ہیں۔(۴۵)لیکن بعض دیگر معتبر منابع انھیں شہدائے کربلا میں شمار کرتے ہیں تنقیح المقال میں ان کاترجمہ اس طرح ہے:’’۔۔۔شھد الطف۔۔۔وعدہ الشیخ من رجالہ من اصحاب الحسین(ع) واقول ھوجندب بن حجیرالکندی الخولانی الکوفی وذکراھل السیر انّ لہ صحبۃ و۔۔۔‘‘(۴۶)

نیز رجال طوسی ’’اقبال‘‘اور’’اعیان الشیعہ‘‘میں بھی شہدائے کربلا کی فہرست میں ذکر کیاگیا ہے۔(۴۷)

جندب کوفہ کے نامداراورمعروف شیعہ افراد سے تعلق رکھتے تھے کوفہ کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے وہاں سے نکل پڑے عراق میں حرکالشکر پہنچنے سے قبل حضرت امام حسین(ع) سے مقام ’’حاجر‘‘میں ملاقات کی اورامام (ع) کے ہمراہ وارد کربلا ہوئے جب روز عاشور(عمرسعد کی طرف سے)جنگ شروع ہوئی یہ دشمن کامقابلہ کرتے ہوئے پہلے حملہ میں مقام شہادت پرفائز ہوئے۔(۴۸)

7- حبیب بن مظاہر الاسدی:

خاندان بنی اسد کے معروف فرد حضرت رسول اکرم(ص)کے صحابی اور امام علی ، امام حسن وامام حسین علیھم السلام کے وفادار ساتھی تھے(۴۹)عسقلانی ان کاترجمہ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ’’حبیب بن مظاہر بن رئاب بن الاشتر۔۔۔الاسدی کان صحابیاً لہ ادراک وعمرحتی قتل مع الحسین(ع) یوم الطف مع ابن عمہ ربیۃ بن خوط بن رئاب مکنی اباثور‘‘(۵۰)

معتبر منابع میں ان کے حالات زندگی اورکربلا میں جہاد کاذکر مفصل ملتا ہے حبیب بن مظاہر حضرت علی علیہ السلام کے شاگردخاص اوروفادار صحابی تھے اپنے مولاعلی(ع) کے ساتھ کئی جنگوں میں شرکت کی بہت سے علوم پردسترس تھی زہدوتقویٰ کے مالک تھے ان کاشمار پارسان شب اورشیران روز میں ہوتا ہے ہرشب ختم قرآن کرتے تھے۔(۵۱)

صاحب رجا ل کشی (اختیار معرفۃ الرجال) ،فضیل بن زبیر کے حوالہ سے حضرت حبیب بن مظاہر اورمیثم تمار کے مابین ہونے والے مکالمے کونقل کرتے ہیں جس میں یہ دونوں حضرات اپنی شہادت سے متعلق پیش آنے والے حالات سے ایک دوسرے کوآگاہ کرتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے یہ تربیت شدہ شاگرد’’علم باطن‘‘اور’’علم بلایا ومنایا‘‘(آئندہ آنے والی مشکلات ومصائب)پرکس قدر تسلط رکھتے تھے تفصیلی مکالمہ ملاحظہ ہو۔ ’’رجال کشی ص۷۸‘‘

حضرت حبیب بن مظاہر کاشمار راویان حدیث میں بھی ہوتا ہے روایت میں ہے کہ حبیب ایک مرتبہ امام حسین(ع) سے سوال کرتے ہیں کہ آپ حضرات قبل از خلقت آدم(ع) کس صورت میں تھے؟حضرت امام حسین(ع) نے فرمایا:’’ہم نورکی مانند تھے اورعرش الٰہی کے گردطواف کررہے تھے اورفرشتوں کوتسبیح وتمحید وتھلیل سکھاتے تھے۔(۵۲)

حضرت حبیب ان افراد میں شامل تھے جنھوں نے سب سے پہلے امام حسین(ع) کوکوفہ آنے کی دعوت دی(۵۳)پھرجب حضرت مسلم بن عقیل کوفہ پہنچے توسب سے پہلاشخص جس نے حضرت مسلم کی حمایت اوروفاداری کااعلان کیا عابس بن ابی شبیب شاکری تھے اس کے بعد حبیب بن مظاہر کھڑے ہوئے اورعابس شاکری کی بات کی تائید کرتے ہوئے یوں گویا ہوئے:’’خدا تم پررحم کرے کہ تونے بہترین انداز میں مختصر الفاظ کے ساتھ اپنے دل کاحال بیان کردیا خدا کی قسم میں بھی اسی نظریہ پرپختہ یقین رکھتا ہوں جیسے عابس نے بیان کیا ہے۔(۵۴)

اس طرح حبیب حضرت مسلم کے بہترین حامی تھے اورمسلم بن عوسجہ کے ساتھ مل کرحضرت مسلم بن عقیل کے لئے لوگوں سے بیعت لیتے تھے (۵۵)لیکن جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کے بعداہل کوفہ کی بے وفائی کی وجہ سے ان کے قبیلہ والوں نے مجبوراً ان دونوں(حبیب اورمسلم بن عوسجہ)کو مخفی کردیا لیکن جونہی حبیب بن مظاہر کوامام حسین علیہ السلام کے کربلا پہنچنے کی خبر ملی تورات کے وقت سے فائدہ اٹھا کرحضرت (ع) سے جاملے حالت یہ تھی کہ دن کومخفی ہوجاتے اوررات کوسفر کرتے یہاں تک کہ اپنی دلی آرزو کوپالیا۔(۵۶)

اگرچہ بعض منابع نے ذکر کیا ہے کہ حضرت امام حسین(ع) کوجب جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی توآپ(ع) نے حبیب بن مظاہر کوخط لکھ کر بلایا(۵۷)لیکن یہ مطلب معتبر ذرائع کی روسے ثابت نہیں۔(۵۸)

کربلا پہنچنے کے بعد جب عمرسعد کے لشکر میں اضافہ ہوتا دیکھا توامام (ع) سے اجازت لے کر اپنے قبیلہ ’’بنی اسد‘‘ کے پاس گئے اورمفصل خطاب کے بعد انھیں امام حسین(ع) کی مدد ونصرت کے لئے درخواست کی جس کاخلاصہ ملاحظہ فرمائیے:’’۔۔۔میں تمہارے لئے بہترین تحفہ لایا ہوں وہ یہ کہ درخواست کرتا ہوں فرزند رسول(ص) کی مدد کے لئے تیار ہوجاؤ۔۔۔نواسۂ رسول(ص) آج عمرسعد کے بائیس ہزار لشکر کے محاصرہ میں ہے آپ لوگ میرے ہم قبیلہ ہیں میری بات پرتوجہ کریں تاکہ دنیا وآخرت کی سعادت تمہیں نصیب ہوسکے خدا کی قسم تم میں سے جوبھی فرزند رسول خد(ص) کے قدموں میں جان قربان کرے گا مقام اعلیٰ علیین پرحضرت رسول خد(ص) کے ساتھ محشور ہوگا۔(۵۹)حضرت حبیب کی تقریر اتنی موثر تھی کہ بہت سے لوگوں نے اس آواز پرلبیک کہا اورحضرت امام حسین علیہ السلام کاساتھ دینے کے لئے آمادہ وتیارہوگئے لیکن ’’ارزق بن حرب صیدادی‘‘ ملعون نے چارہزار سپاہیوں کے ساتھ ان افراد پرحملہ کرکے انھیں منتشر کردیا حبیب نے یہ اطلاع حضرت امام(ع) کوپہنچائی جب حضرت امام حسین(ع) اپنے خدا سے رازونیاز کرنے کے لئے عصرتاسوعا(نہم محرم)کودشمن سے مہلت طلب کی تواس دوران ’’حبیب ‘‘ نے لشکر عمرسعد کوموعظہ ونصیحت کرتے ہوئے کہا:’’خدا کی قسم!کتنی بری قوم ہوگی کہ جب فردائے قیامت اپنے پیغمبر(ص) کے حضور حاضر ہوں گے توایسے حال میں کہ اسی رسول(ص) کے نواسہ اور ان کے یاروانصار کے خون سے اس کے ہاتھ آلودہ ہوں گے۔‘‘

شہادت کی موت سے محبت کایہ عالم ہے کہ جب شب عاشور اپنے ساتھ ’’یزید بن حصین ‘‘سے مزاح کرتے ہیں تویزید بن حصین نے کہا کہ یہ کیسا وقت ہے مزاح کاجبکہ ہم دشمن کے محاصرے میں ہیں اورہم موت کے منہ میں جانے والے ہیں توحبیب نے کہا اے دوست اس سے بہتر کونسا خوشی کاوقت ہوگا جبکہ ہم بہت جلد اپنے دشمن کے ہاتھوں شہید ہوکربہشت میں پہنچنے والے ہیں۔(۶۰)

ایک روایت کے مطابق شب عاشور جب ہلال بن نافع نے حبیب بن مظاہر کوبتایا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا پریشان ہیں کہ میرے بھائی حسین(ع) کے صحابی کہیں بے وفائی نہ کرجائیں توآپ تمام اصحاب کوجمع کرکے درخیمہ پرلائے اورحضرت زینب (ع) کی خدمت میں صمیم دل سے اظہار وفاداری کیااوراپنی جانوں کانذرانہ پیش کرنے کادوبارہ عہد کیاتاکہ حضرت زینب(ع) کی یہ پریشانی ختم ہوسکے۔(۶۱)

صبح روز عاشور حضرت امام حسین(ع) نے اپنے لشکر کومنظم کیا دائیں طرف موجود لشکر کی کمانڈ زہیربن قین اوربائیں طرف حبیب بن مظاہر جبکہ قلب لشکر کی سربراہی حضرت ابوالفضل العباس (ع) کے سپرد کی اسی اثنا میں دشمن کے سپاہی وارد میدان ہوکرمبارزہ طلب کرتے ہیں توحبیب مقابلہ کے لئے آمادہ ہوئے لیکن حضرت امام (ع) نے روک لیا اس طرح ظہرعاشور جب امام (ع) نے لشکر عمرسعد سے نماز ادا کرنے کی خاطر جنگ بندی کے لئے کہا توایک ملعون نے گستاخی کرتے ہوئے کیا کہ تمہاری نماز قبول نہیں ہوگی(نعوذباللہ)اس وقت حضرت حبیب سے برداشت نہ ہوا اورفوراً یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے ’’اے حمار(گدھے)!تیرے خیال باطل میں آل پیغمبر(ص) کی نماز قبول نہیں؟! اورتمہاری نماز قبول ہے؟!!‘‘اس طرح دونوں کامقابلہ ہوا حبیب نے اس ملعون کوزمین پرگرادیا پھرباقاعدہ رجز پڑھتے ہوئے وارد میدان ہوئے شدید جنگ کی دشمن کے کئی افراد کوواصل جہنم کیا لیکن ایک تیمی شخص نے تلوار کاوار کیاجس کی تاب نہ لاکرآپ شہید ہوگئے اس نے آپ کے سرکوجداکرلیااسی سرکوبعد میں گھوڑے کی گردن میں باندھ کرکوفہ میں پھرایا گیا گویا کوفہ کانامور مجاہد اہل کوفہ سے یہ کہہ رہاتھا دیکھو یہ سرآل رسول(ص) کی خاطر کٹ سکتا ہے لیکن دشمن کے سامنے جھک نہیں سکتا (۶۲)السلام علیک یاحبیب بن مظاھرالاسدی۔

8- زاھر بن عمروالاسلمی:

’’زاھر‘‘شجاع اوربہادر شخص تھے صحابی رسول(ص) اوراصحاب شجرہ میں سے تھے اورمحبین اہل بیت علیھم السلام میں ان کا شمار ہوتا ہے حضرت رسول خد(ص) کے ہمراہ غزوہ حدیبیہ اورجنگ خیبرمیں شریک ہوئے۔

ذبیح اللہ محلاتی وسیلۃ الدارین کی عبار نقل کرتے ہیں:’’قال العسقلانی فی الاصابہ ھوزاھر بن عمرو بن الاسود بن حجاج بن قیس الاسدی الکندی من اصحاب الشجرۃ وسکن الکوفہ وروی عن النبی(ص) وشھدالحدیبیہ وخیبر۔۔۔۔۔۔‘‘(۶۳)

’’۔۔۔۔۔۔زاھر درحقیقت زاھر بن عمرو۔۔۔الکندی ہیں جواصحاب شجرہ میں سے تھے کوفہ میں مقیم تھے اورحضرت رسول خد(ص) سے روایت بھی نقل کی ہے حدیبیہ اورخیبر میں شریک تھے۔‘‘

ان کے بیٹے ’’مجزأۃ‘‘نے اپنے باپ کے واسطہ سے پیغمبر اکرم(ص) سے روایت بیان کی ہے فوق الذکر مطلب مختصر فرق کے ساتھ دیگر منابع میں بھی موجو د ہے(۶۴) لیکن بعض محققین کے خیال میں زاھر اورزاھر اسلمی دوالگ الگ افراد ہیں۔(۶۵)

البتہ تنقیح کی عبارت میں انھیں اصحاب شجرہ اورشہدائے کربلا میں شمار کیاگیا ہے’’ زاھر اسلمی والدمجزأۃ من اصحاب الشجرہ‘‘ نیز فرماتے ہیں:’’زاھر صاحب عمرو بن الحمق شھید الطف فوق الوثاقہ وعدہ الشیخ فی رجالہ من اصحاب ابی عبداللہ واقول ھوزاھر بن عمروالاسلمی الکندی من اصحاب الشجرہ روی عن النبی(ص) وشھد الحدیبیہ وخیبر وکان من اصحاب عمربن الحمق الخزاعی کمانص علی ذالک اھل السیرو۔۔۔‘‘(۶۶)

مذکورہ بالا عبارت سے ظاہرہوتا ہے کہ ’’زاھر‘‘نام کے دواشخاص ہیں لیکن مرحوم مامقانی کی نظرمیں زاھر بن عمرواسلمی کاشمار اصحاب شجرہ اورشہدائے کربلا میں ہونا ثابت ہے نیز بیان کرتے ہیں کہ یہ محب اہل بیت(ع) تھے بہت بڑاتجربہ کارپہلوان اوربہادرشخص تھا امام علی(ع) کی شہادت کے بعد ’’عمربن حمق‘‘کے ساتھ مل کر معاویہ کی ظالمانہ حکومت اورابن زیاد کے خلاف برسرپیکار رہا جب معاویہ نے ان کی گرفتاری اورقتل کاحکم صادر کیاتویہ دونوں شہرسے فرار کرگئے پہاڑوں اورجنگلوں میں زندگی بسرکرنے لگے یہاں تک کہ ’’عمروبن حمق‘‘حکومتی کارندوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعدشہید کردیاگیا لیکن زاھر زند ہ رہا آخرکار ۶۰ ؁ ھ میں حج کے موقعہ پرامام حسین(ع) کی خدمت میں شرفیاب ہوا اورآپ(ع) کے ساتھ مل کرکربلا کی جنگ میں شرکت کی عاشورا کے دن پہلے حملے میں جام شہادت نوش کیا۔(۶۷)

زیارت ناحیہ اوررجبیہ میں سلام ان الفاظ میں ذکرہوا السلام علی زاھر مولیٰ عمروبن حمق(۶۸)

9- زیاد بن عریب ابوعمرو:

قدیم محققین نے ان سے متعلق کوئی مطلب بیان نہیں کیا لیکن بعض معاصر نے ان کاترجمہ اس طرح درج کیا ہے:’’زیاد بن عریب بن حنظلہ بن دارم بن عبداللہ بن کعب الصائدبن ھمدان‘‘(۶۹)ابوعمروزیاد بن عریب نے حضرت پیغمبر(ص) کے محضر مبارک کودرک کیا ان کے والدبزرگوار بھی صحابی رسول تھے ابوعمروشجاع، عابد وزاھداورشب زندہ دار شخص تھے زیادہ نمازگزار تھے زہدوتقویٰ کی وجہ سے عزت دینی نے آرام سے نہ بیٹھنے دیالہذا واقعہ کربلا میں اپنا کردار اداکرنے کی غرض سے حضرت امام حسین(ع) کی خدمت میں پہنچے اوردشمن کے خلاف جہادومبارزہ کرنے کے بعد درج ۂ شہادت پرفائز ہوئے۔(۷۰)

10- سعد بن الحارث مولی امیرالمؤمنین(ع) :

سعدبن حرث خزاعی کے نام سے معروف ہیں قدیم منابع میں ان کانام شہدائے کربلا کی فہرست میں ذکرنہیں لیکن بعض متاخرین نے شہیدکربلا کے عنوان سے ان کے حالات زندگی قلمبندکیے ہیں سعد بن حرث خزاعی نے محضر پیغمبراکرم(ص) کودرک کیااس لحاظ سے صحابی رسول(ص) ہیں پھرامیرالمؤمنین(ع) کے ہمراہ رہے حضرت نے انھیں کچھ عرصہ کے لئے سپاہ کوفہ کی ریاست سونپی تھی نیز کچھ مدت کے لئے انھیں آذربائیجان کاگورنر بھی منصوب کیا صاحب فرسان نے’’ حدایق الوردیہ‘‘ ،’’ ابصارالعین‘‘،’’ تنقیح المقال‘‘ اور’’الاصابہ‘‘ جیسی معتبر کتب سے ان کے حالات نقل کیے ہیں۔(۷۱) نیز الاصابہ سے سعد کاترجمہ یوں نقل کیا ہے لیکن الاصابہ میں مراجع کرنے سے یہ مطلب نہیں ملا۔

’’سعید بدل سعد بن الحارث بن شاربہ بن مرۃ بن عمران بن ریاح بن سالم بن غاضر بن حبشہ بن کنجب الخزاعی مولیٰ علی بن ابی طالب(ع) لہ ادارک وکان علی شرطۃٍ علی (ع) فی الکوفہ وولاۃ آذربایجان ۔۔۔۔۔۔‘‘(۷۲)

وسیلۃ الدارین نے بھی ص۱۲۸ پر صحابی اورشہیدکربلا کے عنوان سے ذکرکیا ہے تنقیح المقال کی عبارت میں بھی اس طرح موجود ہے:

’’سعد بن الحارث الخزاعی مولیٰ امیرالمؤمنین صحابی امامی شہید الطف ثقہ‘‘ مذید لکھتے ہیں کہ سعد بن الحارث لہ ادراک الصحبۃ النبی(ص) وکان علی شرطۃ امیرالمؤمنین فی الکوفہ وولاۃ آذربائیجان(۷۳)

مذید تفصیلات ان کتب میں موجو د نہیں البتہ اتنا ضرور ملتا ہے کہ’’ سعد‘‘ امیرالمؤمنین (ع) کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن وامام حسین (ع) کاہرمیدان میں یارومددگار رہا جب حضرت امام حسین(ع) نے قیام کیاتو ابتداء میں اپنے مولا کی خدمت میں مکہ میں جاملے پھرمکہ سے کربلا آئے اورروزعاشور جنگ کرتے ہوئے جان قربان کردی۔(۷۴)

اس بات کاذکرضروری ہے کہ’’ مرحوم محقق شوشتری‘‘ نے اپنی کتاب میں ان کے صحابی ہونے پرتنقید کی ہے اس دلیل کی بنا پرکہ اگرصحابی ہوتے توقدیم منابع نے کیوں ذکر نہیں کیا(۷۵)لیکن مذکورہ بالا بعض معتبر منابع میں ان کاذکر صحابی رسول(ص) ہونے کے عنوان سے آجانا ہمارے مطلب کے اثبات کے لئے کافی ہے۔

11- شبیب بن عبداللہ مولیٰ الحرث:

’’شبیب بن عبداللہ بن شکل بن حی بن جدیہ‘‘حضرت رسول اکرم(ص) کے صحابی اورکوفہ کی معروف ومشہور شخصیت اوربڑے بافضیلت انسان تھے(۷۶)جہاں بھی ظلم وستم دیکھا اس کے خاتمہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے یہی وجہ ہے کہ جنگ جمل وصفین ونہروان میں بھی شرکت کی اورحضرت علی(ع) کے وفادار یارومددگار رہے (۷۷)

مختلف معتبرمنابع میں ان کاذکر موجود ہے جیسے’’ رجال طوسی‘‘،’’ استرآبادی‘‘،’’ تنقیح‘‘، ’’ مقتل ابی مخنف‘‘، ’’ تاریخ طبری‘‘ وغیرہ۔’’تنقیح‘‘ میں ان کاترجمہ اس طرح درج ہے:

’’شبیب بن عبداللہ مولی الحرث صحابی شہیدالطف ،فوق الوثاقہ ‘‘شبیب سیف بن حارث اورمالک بن عبداللہ کے ہمراہ کربلا پہنچے اوراپنے مولااما م حسین(ع) کی اطاعت میں جنگ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔کتاب روضۃ الشھداء ص۲۹۵ میں ان پرسلام نقل ہوا ہے :السلام علی شبیب بن عبداللہ مولیٰ بن سریع ۔

12- شوذب بن عبداللہ الھمدانی الشاکری:

جناب شوذب صحابی رسول اورحضرت علی(ع) کے باوفا ساتھی تھے مرحوم’’ زنجانی‘‘ نے علامہ’’ مامقانی‘‘ سے ان کاترجمہ نقل کیا ہے :’’ذکرالعلامہ مامقانی فی رجالہ شوذب بن عبداللہ الھمدانی الشاکری ان بعض من لایحصل لہ ترجمہ تخیل انّہ شوذب مولی عابس والحال ان مقامہ اجل من عابس من حیث العلم والتقویٰ وکان شوذب صحابیاً واشترک مع امیرالمؤمنین(ع) ۔۔۔‘‘(۷۸)

شوذب علم وتقویٰ کے اعتبار سے بلندپایہ شخصیت تھے کوفہ کی معروف علمی شخصیت ہونے کی وجہ سے اہل کوفہ کے لئے حضرت امیرالمومنین (ع) کی احادیث نقل کرتے تھے امام علی(ع) کے ساتھ تینوں جنگوں میں شریک رہے۔

جب حضرت مسلم بن عقیل کوفہ میں پہنچے توان کی بیعت کرنے کے بعد حضرت امام حسین(ع) تک اہل کوفہ کے مذید خطوط پہنچانے میں عابس شاکری کے ہمراہ رہے۔نہایت مخلص اورعابد وزاھد انسان تھے بڑھاپے کے عالم میں بھی ظلم کے خلاف عملی کردار ادا کیا کوفہ میں حضرت مسلم کی شہادت کے بعد عابس شاکری کے ہمراہ حضرت امام حسین(ع) کی خدمت میں کربلا پہنچتے ہیں جب حنظلہ بن سعد شبامی شہید ہوگئے توعابس نے شوذب سے پوچھا کہ کیاخیال ہے ؟کہتے ہیں تیرے ہمراہ فرزند رسول خد(ص) کی نصرت کے لئے جنگ کرنا چاہتا ہوں تاکہ شہادت کامقام حاصل کرسکوں عابس نے کہا اگر یہ ارادہ ہے توامام (ع) کے پاس جاکر اجازت طلب کروحضرت امام (ع) کی خدمت میں حاضر ہوکراجازت جہاد حاصل کی اورواردجنگ ہوئے چند دشمنوں کوواصل جہنم کیا آخر میں شہید ہوگئے(۷۹) ان الفاظ میں زیارت رجبیہ اورزیارت ناحیہ میں ان پرسلام بھیجا گیاہے السلام علی شوذب مولی شاکر(۸۰)

قابل توجہ امریہ ہے کہ بعض خیال کرتے ہیں کہ’’ شوذب ‘‘،’’عابس شاکر ‘‘کے غلام تھے جبکہ اہل علم حضرات سے پوشیدہ نہیں کہ لفظ مولی صرف غلام کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ’’ ہم پیمان‘‘ کے معنی بھی استعمال کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض محققین نے لکھا ہے کہ چونکہ شوذب مقام علمی ومعنوی کے اعتبار سے عابس پربرتری رکھتے تھے لہذا انھیں غلام عابس نہیں کہہ سکتے بلکہ عابس اوراس کے قبیلہ کے ہم پیمان وہم عہد تھے(۸۱)یہی دلیل علامہ مامقانی سے نقل شدہ ترجمہ میں بیان کی گئی ہے۔

13- عبدالرحمٰن الارحبی:

حضرت رسول اکرم(ص) کے بزرگ صحابی تھے تمام معتبرمنابع میں ان کاذکرموجود ہے جیسے ’’رجال شیخ طوسی‘‘،’’ رجال استرآبادی‘‘، ’’ مامقانی‘‘ ،نیز ’’الاستیعاب‘‘،’’ الاصابہ‘‘ اور’’وسیلۃ الدارین‘‘ نے بھی نقل کیاہے تاریخ طبری اورالفتوح میں ان کے بعض واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔

’’الاستیعاب‘‘ کی عبارت اس طرح ہے:’’۔۔۔ھوعبدالرحمن بن عبداللہ بن الکدن الارحبی۔۔۔۔۔۔‘‘انہ کان من اصحاب النبی(ص) لہ ھجرۃ۔۔۔

معاویہ بن ابی سفیان کی وفات کی خبر جب کوفہ پہنچی توکچھ لوگ’’ سلمان بن صرد خزاعی‘‘ کے گھرجمع ہوئے تاکہ اجتماعی طور پرحضرت امام حسین (ع) کوخط لکھ کردعوت دیں اورخلافت کوان کے سپرد کریں نیز کوفہ کے گورنر نعمان بن بشیر کوکوفہ سے باہرنکال دیں ان خطوط کو’’قیس مسہرصیداوی‘‘ ، عبدالرحمٰن ارحبی اورعمارۃ بن عبداللہ السلولی لے کرحضرت امام حسین(ع) کی خدمت میں ہوئے اس طرح یہ گروہ دوم تھا جوحضرت (ع) کودعوت دینے کے لئے آیا کیونکہ پہلا گروہ عبداللہ بن سمیع کی قیادت میں حضرت کی خدمت میں حاضرہوا تھا۔

عبدالرحمٰن ارحبی شجاع تجربہ کار فاصل اورفصیح وبلیغ صحابی تھے (۸۲)۵۰ یا ۵۳(۸۳)ددعوت نامے لے کر۱۲ رمضان المبارک ۶۰ ؁ ھ کومکہ کی طرف روانہ ہوئے بعض مورخین نے لکھا ہے کہ عبدالرحمٰن ارحبی ۱۵۰ افراد پرمشتمل ایک وفد کے ہمراہ حضرت امام حسین(ع) کی خدمت اقدس میں پہنچے۔(۸۴)

مکہ میں حضرت امام (ع) کواپنی وفاداری کایقین دلایا پھر حضرت کے نمائندہ خاص جناب امیرمسلم کے لئے کوفہ میں انقلابی سرگرمیوں میں مشغول رہے کوفہ میں حالات خراب ہونے کے بعد کربلا میں دشمنان دین کے خلاف جنگ میں شرکت کی جب عمربن سعد نے امام حسین(ع) کے قتل کاپختہ ارادہ کرلیا تواس صحابی رسول(ص) نے اپنی جان کی بازی لگاکربھی اپنے مولا وآقا کی حمایت کااعلان کیا اپنی شجاعت کے کارنامے دکھا نے کے علاوہ فصاحت وبلاغت کے ذریعے بھی حسین ابن علی(ع) کی حقانیت اوربنوامیہ کے بطلان کواپنے اشعارمیں واضح کیا تاریخ میں اس وفادار صحابی کے جورجز بیان ہوئے ہیں اس زمانہ کی بہترین عکاسی کرتے ہیں کیونکہ بنوامیہ نے اسلام کے نام پراسلام کی نابودی کاتہیہ کررکھا تھااس لئے وہ اصحاب کرام جواب پیغمبر اکرم(ص) کے قول وفعل کے ذریعے حقیقی اسلام کے راہبر کی شناخت کرچکے تھے آج دشمنان دین کواسلام کے حقیقی راہبر کی اطاعت وفرمانبرداری کی طرف دعوت دینا اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں عبدالرحمٰن کے رجز کاایک مصرعہ یوں ہے:

انی لمن ینکرنی ابن الکدن انی علی دین حسین وحسن(۸۵)

اس طرح امام حسین(ع) کو’’دین حق‘‘ کاعلمبردار سمجھتے ہوئے ان کے قدموں میں اپنی جان کانذرانہ پیش کرتے ہیں اس شہید باوفا پرزیارت ناحیہ میں ان الفاظ میں سلام پیش کیاگیا ہے:السلام علی عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کدرالارحبی(۸۶)

14- عبدالرحمٰن بن عبدربہ الخزرجی:

مختلف منابع نے ان کے لئے صحابی رسول(ص) ہونے کی گواہی دی ہے انھیں بعض نے انصاری بھی لکھا ہے اصل میں مدینہ میں مقیم تھے جب پیغمبراسلام(ص) نے مدینہ میں ہجرت فرمائی تواوس وخزرج قبائل نے اسلام قبول کیااس وقت سے ان سب کوانصاری کہاجاتا تھا صاحب قاموس الرجال نقل کرتے ہیں کہ ’’عبدالرحمٰن بن عبدربہ الانصاری الخزرجی کان صحابیاً لہ ترجمۃ ورویۃ وکان من مخلص اصحاب امیرالمؤمنین علیہ السلام‘‘(صحابی رسول(ص) تھے جن سے روایت بھی نقل ہوئی ہے اورحضرت امیرعلیہ السلام کے مخلص اصحاب میں سے تھے)

جس روایت کاتذکرہ کیاگیا ہے یہ درحقیقت ’’غدیرخم‘‘ کے مقام پرپیغمبراسلام(ص) کی جانب سے ولایت علی(ع) کاواضح اعلان کرنا ہے پھرجب وفات پیغمبر (ص) کے بعد اکثر افراد جن میں بعض نے دنیاوی مقاصد اوربعض نے خوف کی وجہ سے علی علیہ السلام خلیفۂ بلافصل تسلیم نہ کیا توایک مرتبہ رحبہ کے مقام حضرت علی(ع) نے لوگوں کوقسم دے کر پوچھا کہ جس نے پیغمبر(ص) سے میرے بارے میں کوئی حدیث فضیلت سنی ہوتوبلند ہوکربیان کرے اسی اثنا میں عبدالرحمٰن خاموش نہ بیٹھ سکے اوراٹھ کرکہا کہ میں نے غدیر خم کے مقام پررسول خد(ص) کویہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ فرمایا:’’من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ‘‘(جس جس کامیں مولا وسردار ہوں اس کایہ علی(ع) مولاوسردار ہے)

مناسب ہوگا کہ الاصابہ فی تمیز الصحابہ کی عبارت نقل کی جائے العسقلانی یوں رقمطراز ہیں:

’’عبدالرحمٰن بن عبدرب الانصاری ذکرہ ابن عقدہ فی کتاب المولاۃفی من روی حدیث:من کنت مولاہ فعلیٌّّ مولاہ وساق من طریق الاصبغ بن نباتہ قال لما نشدعلیٌّ الناس فی الرحبہ من سمع النبی (ص) یقول یوم غدیر خم ماقال الاقام ، ولایقوم الامن سمع ، فقام بضعۃ عشررجلاً منھم :’’ابوایوب‘‘،’’ ابوزینب‘‘ و’’عبدالرحمٰن بن عبدرب‘‘ فقالوا نشھد انا سمعنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول ’’ان اللہ ولی وانا ولی المومنین ؛فمن کنت مولاہ فعلی مولاہ‘‘(۸۷)

اس عظیم محقق کی عبارت کے مطابق دس سے زیادہ افراد کھڑے ہوئے اورگواہی دی کہ ہم نے سنا تھا کہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:بے شک اللہ ولی ہے میں بھی مومنین کاولی ہوں پس جس کامیں مولا ہوں اس کاعلی (ع) مولا ہے۔

ابصارالعین نے بھی بیان کیا ہے کہ’’کان ھذا صحابیاً وعلمہ امیرالمؤمنین القرآن ورباہ وھواحدرواۃ حدیث من کنت مولاہ۔۔۔حین طلب علیہ السلام۔۔۔۔۔۔‘‘

یعنی یہ صحابی پیغمبر(ص) تھے حضرت علی(ع) نے ان کی تربیت کی اورانھیں قرآن مجید کی تعلیم دی اورمن کنت مولاہ کی حدیث کو اس صحابی نے اس وقت بیان کیا جب حضرت علی(ع) نے گواہی طلب کی تھی(۸۸)

پیغمبر(ص) کی وفات کے بعدکوفہ میں سکونت اختیار کرلی اورکوفہ کی معروف شخصیت تھے یہی وجہ ہے کہ کوفہ میں امام حسین(ع) کے لئے لوگوں سے بیعت طلب کرتے تھے لیکن جب کوفہ میں امام حسین(ع) کے لئے راہ ہموار کرنے میں ناکام ہوئے تو کربلا میں امام (ع) سے ملحق ہوکردشمن کیخلاف جنگ لڑتے ہوئے پہلے حملہ میں یابعداز ظہر (۸۹) شہید ہوگئے۔

15- عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب:

کتاب’’ شہدائے کربلا ‘‘نے درج ذیل عبارت’’ الاصابہ‘‘ سے نقل کی ہے:’’ابوالھیاج عبداللہ بن ابی سفیان بن حارث بن عبدالمطلب بن ھاشم الھاشمی(۹۰) لیکن جب مراجع کیاتوہمارے ہاں موجود’’ الاصابہ‘‘ کی عبارت اس طرح تھی:’’عبداللہ بن الحارث بن عبدالمطلب بن ھاشم الھاشمی ابن عم النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وکان اسمہ عبدشمس فغیرہ النبی(ص)(۹۱)

ان کاباپ حضرت رسول اکرم(ص) کاعموزاد اوربرادررضاعی تھا یہ صحابی رسول(ص) (ص) ،عظیم شاعربھی تھے اورانھوں نے پیغمبر(ص) سے روایت بھی نقل کی ہے اپنے بعض اشعار میں حضرت علی(ع) کی مدح وثنا بھی بیان کی ہے۔

حضرت رسول اکرم(ص) کی وفات کے بعدامام علی(ع) کے ساتھ رہے انھیں کے ہمرکاب مختلف جنگوں میں شرکت کی ایک مرتبہ جب حضرت عبداللہ کوعلم ہواکہ عمروعاص نے بنی ھاشم پرطعن وتشنیع اورعیب جوئی کی ہے تو عمروعاص پرسخت غصہ ہوئے اوراسے موردعتاب قرار دیا آخر تک اہل بیت(ع) کے ہمراہ رہے کربلا میں جب حضرت امام حسین(ع) کامعلوم ہواتو ان کی خدمت میں پہنچ کراپنی وفاداری کاعملی ثبوت دیا۔اس طرح عاشور کے دن رسول خد(ص) کے نواسہ کی حمایت کرتے ہوئے یزیدی فوج کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔(۹۲)

16- عمرو بن ضبیعۃ:

مختلف منابع رجال ومقاتل میں ذکر ہوا ہے کہ یہ صحابی پیغمبر(ص) تھے اورکربلا میں حضرت امام حسین(ع) کے ہمرکاب شہادت پائی۔کتاب فرسان میں الاصابہ سے نقل کیاگیا ہے کہ ’’ھوعمروبن ضیبعۃ بن قیس بن ثعلبہ الضبعی التمیمی لہ ذکرفی المغازی۔۔۔‘‘نیز’’رجال استرآبادی‘‘ سے بھی نقل کرتے ہوئے یوں بیان ہوا ہے:’’قال المحقق استرآبادی فی رجالہ ھوعمروبن ضبیعہ۔۔۔وکان فارساً شجاعاً لہ ادراک(۹۳)

جناب مامقانی نے بھی انھیں صحابی ادراکی نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ تجربہ کار اورماہر جنگجو شخص تھا کئی ایک جنگوں میں شرکت کی نیز شجاعت میں شہرت رکھتا تھا(۹۴)

ابتدا میں عمرسعد کے لشکر کے ساتھ وارد کربلا ہوالیکن جب دیکھا کہ عمرسعد نواسہ رسول(ص) کے قتل کاارادہ رکھتا ہے توفوراً حضرت امام حسین(ع) کے ساتھ ملحق ہوگئے حملہ اولیٰ میں شہادت پائی زیارت ناحیہ میں عمر کے نام سے ذکرہوا ہے:السلام علی عمربن ضبیعہ الضجی(۹۵)

17- عون بن جعفر طیار:

کنیت ابوالقاسم ہے حضرت جعفربن ابیطالب(ع) کے بیٹے ہیں اگرچہ سن ولادت واضح بیان نہیں ہوا لیکن چونکہ واقعہ کربلا میں ۵۴ یا۵۷ سال کے تھے لہذا امکان ہے کہ ۴ ھ یا ۵ ھ کوحبشہ میں ولادت ہوئی ہوگی۔

یعقوبی کے نقل کے مطابق حضرت رسول اکرم(ص) نے جنگ موتہ میں حضرت جعفر طیار کی شہادت کے بعد سال ہشتم ہجری میں عون اوران کے بھائی عبداللہ ومحمد کواپنی گود میں بٹھایا اورپیارکرتے رہے(۹۶) ایک روایت کے مطابق رسول اکرم(ص) نے حضرت جعفرطیار کے بیٹوں کوبلایا اورسلمانی کو بلاکر کہا کہ ان بچوں کے سر کی اصلاح کرے اورپھرفرمایا:عون خلقت اوراخلاق میں میری شبیہ ہے الاصابہ میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے(۹۷)

جناب عون کا شمار حضرت علی (ع) کے یاروانصار میں ہوتا ہے حضرت علی(ع) کے ہمراہ جنگوں میں بھی شریک رہے حضرت ام کلثوم(ع) (حضرت زینب صغری) کاعقد حضرت علی (ع) نے عون سے کردیا(۹۸)

حضرت علی(ع) کی شہادت کے بعد ہمیشہ امام حسن وحسین علیھاالسلام کے ساتھ رہے یہاں تک کہ جب حضرت امام حسین(ع) یزیدبن معاویہ کے مظالم کی وجہ سے مدینہ سے روانہ ہوئے حضرت عون بھی اپنی زوجہ محترمہ کے ہمراہ اپنے مولا کے اس جہاد میں شریک رہے اورروز عاشور حضرت علی اکبر(ع) کی شہادت کے بعد حضرت امام (ع) کی اجازت سے وارد میدان ہوئے ۳۰ سوار اور۱۸ پیادہ سپاہ یزید کوواصل جہنم کیا لیکن زیدرقاد جہنمی نے آپ کے گھوڑے کوزخمی کردیا جس کی وجہ سے آپ گھوڑے پرنہ سنبھل سکے پھر اس ملعون نے تلوار کاوار کرکے شہیدکردیا۔

ان کے رجز کوتاریخ نے یوں نقل کیا ہے:

ان تنکرونی فانا بن جعفر شھید صدق فی الجنان ازھر

یطیر فیھا بجناح اخضر کفی بھذٰا شرفاً فی المحشر(۹۹)

18- کنانہ بن عتیق:

جناب کنانہ کوفہ کے شجاع اورمتقی وپرہیزگار افراد میں سے تھے اوران کاشمار قاریان کوفہ میں ہوتا ہے(۱۰۰)

جناب کنانہ اوران کاباپ عتیق حضرت رسول اکرم(ص) کے ہمرکاب جنگ احدمیں شریک ہوئے(۱۰۱)وسیلۃ الدارین نے کنانہ کے ترجمہ کورجال ابوعلی سے یوں نقل کیا ہے :’’قال ابوعلی فی رجالہ کنانۃ بن عتیق الثعلبی من اصحاب الحسین(ع) قتل معہ بکربلا وقال العسقلانی فی الاصابہ ھوکنانۃ بن عتیق بن معاویہ بن الصامت بن قیس الثعلبی الکوفی شھداء احداً ھووابوہ عتیق فارس رسول اللہ(ص) وقدذکرہ ابن منذہ فی تاریخہ۔۔۔۔۔۔‘‘(۱۰۲)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ’’جناب کنانہ‘‘ بھی ان اصحاب رسول خد(ص) میں سے ہیں جوحضرت امام حسین علیہ السلام کی مدد ونصرت کے لئے کربلا تشریف لائے اوراپنی جانوں کونواسہ رسول(ص) کے قدموں میں نچھاور کیا زیارت رجبیہ اورناحیہ میں ان پرسلام پیش کیاگیاہے:السلام علی کنانۃ بن عتیق(۱۰۳)

19- مجمّع بن زیاد جھنّی:

حضرت رسول اکرم(ص) کے اصحاب میں سے تھے جنگ بدرواحد میں شریک رہے مختلف منابع نے ان کوصحابی رسول(ص) اورشھیدکربلا کے عنوان سے ذکرکیا ہے جیسے ذخیرۃ الدارین، حدایق ،ابصارالعین ،تنقیح المقال، اوروسیلۃ الدارین وغیرہ

کتاب’’ الدوافع الذایتہ‘‘ نے ’’الاستعیاب ‘‘سے عبارت نقل کی ہے کہ’’ ھومجمّع بن زیاد بن عمروبن عدی بن عمروبن رفاعہ بن کلب بن مودعۃ الجھنی شھدا بدراً واحد

اس کے عبارت کے نقل کرنے کے بعدخود تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اَی انّہ صحابیٌ جلیل بناءً علی ذالک۔۔۔

تنقیح المقال نے بھی الاصابہ اورالاستعیاب سے اس طرح کی عبارت نقل کی ہے کہ یہ صحابی رسول(ص) تھے بدرواحدمیں شریک بھی رہے لیکن ہمارے ہاں موجود الاصابہ میں یہ عبارت موجود نہیں۔

بہرحال جناب مجمع نے کوفہ میں حضرت مسلم کی بیعت کی سب لوگ حضرت مسلم کوچھوڑ گئے لیکن حضرت مجمع ان افراد میں سے تھے جوڈٹے رہے اورکوفہ میں حالات سازگار نہ ہونے کیوجہ سے کربلا میں حضرت امام حسین(ع) سے ملحق ہوکریزیدی ارادوں کوخاک میں ملانے کی خاطر حضرت امام حسین(ع) کاساتھ دیا یہاں تک کہ اپنی جان قربان کردی دشمن کربلا میں اس مجاہد کوآسانی سے شکست نہ دے سکا توان کامحاصرہ کرلیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شہیدہوجاتے ہیں۔(۱۰۴)

20- مسلم بن عوسجہ:

شیعہ وسنی کے تمام معتبر ترین منابع جیسے الاستعیاب، الاصابہ، طبقات بن سعد، تنقیح، تاریخ طبری وغیرہ میں ان کاذکر موجود ہے کہ یہ صحابی رسول خد(ص) تھے اورصدراسلام کے بزرگ اعراب میں شمار ہوتے تھے ابتدائے اسلام کی بہت سی جنگوں میں شریک رہے غزوہ آذربائیجان اورجنگ جمل وصفین ونہروان میں بھی شرکت کی حضرت علی(ع) کے باوفا یارومددگار تھے(۱۰۵)نیز مختلف صفات کے مالک بھی تھے شجاع وبہادر ہونے کے ساتھ ساتھ قاری قرآن ،عالم علوم اورمتقی وپرہیزگار ،باوفا اورشریف انسان تھے۔(۱۰۶)

حضرت مسلم بن عقیل کے کوفہ وارد ہوتے ہی ان کی مددونصرت میں پیش پیش تھے اوران کی حمایت میں لوگوں سے بیعت لیتے تھے نیز مجاہدین کے لئے اسلحہ کی فراہمی اوردیگر امدادی کاروائیوں میں مصروف رہے(۱۰۷)

حضرت مسلم وجناب ہانی بن عروہ کی شہادت کے بعد مخفی طورپررات کے وقت اپنی زوجہ کوساتھ لے کر حضرت امام حسین(ع) کی خدمت میں پہنچے سات یاآٹھ محرم کومسلم کوفہ سے کربلا پہنچ گئے اورسپاہ یزید کے خلاف ہرمقام پرپیش پیش رہے۔جب امام (ع) نے حکم دیا کہ خیمہ کے اطراف میں آگ روشن کی جائے توشمرملعون نے آکر توہین آمیز جملات کہے جس پرمسلم بن عوسجہ نے حضرت امام حسین(ع) سے عرض کی کہ اگراجازت دیں تواسے ایک تیرسے ڈھیر کردوں لیکن حضرت(ع) نے فرمایا نہیں کیونکہ میں پسند نہیں کرتا کہ ہماری طرف سے جنگ کاآغاز ہو۔(۱۰۸)

شب عاشور جس وقت امام حسین(ع) نے اپنے اصحاب کوچلے جانے کی اجازت دی توجہاں بعض دیگر اصحاب امام (ع) نے اپنی وفاداری کایقین دلایا وہاں حضرت مسلم بن عوسجہ نے جوتاثرات بیان کئے وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں عرض کی:’’خدا کی قسم!ہرگزنہیں چھوڑ کے جاؤں گا یہاں تک کہ اپنے نیزہ کودشمن کے سینہ میں توڑ نہ دوں‘خداکی قسم اگرستر بارمجھے قتل کردیاجائے پھرجلاکرراکھ کردیاجائے اورذرہ ذرہ ہوجاؤں پھراگرزندہ کیاجاؤں توبھی آپ(ع) سے جدانہیں ہونگا۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ ہربار آپ(ع) پراپنی جان قربان کرونگا اس لئے کہ جان توایک ہی جائے گی لیکن عزت ابدی مل جائے گی۔‘‘(۱۰۹)

حضرت مسلم بن عوسجہ عظیم صحابی رسول (ص)وامام(ع) ہیں کہ جن کوحضرت امام حسین(ع) نے ایک آیت قرآنی کا مصداق قراردیا جب مسلم بن عوسجہ پچاس دشمنوں کوہلاک کرنے کے بعد شہید ہوگئے توحضرت امام(ع) فوراً ان کی لاش پر پہنچے اورفرمایا:’’خداتم پررحمت کرے اے مسلم‘‘پھر سورۂ احزاب کی آیت ۲۳ کی تلاوت کی :(فمنھم من قضٰی نحبہ ومنھم من ینتظر ومابدلواتبدیلاً) اس طرح امام (ع) نے اپنے نانا رسول اللہ(ص) کے صحابی کوالوداع کہا :السلام علی مسلم بن عوسجہ الاسدی۔۔۔وکنت اول من اشتری نفسہ واول شھید شھداللہ

21- نعیم بن عجلان:

ایک روایت کے مطابق نعیم اوران کے دوبھائیوں نظرونعمان نے حضرت رسول اکرم(ص) کودرک کیا اس طرح یہ صحابی ادرکی ہیں خزرح قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے حضرت رسول اللہ (ص) کی وفات کے بعد امام علی علیہ السلام کے ساتھ جنگ صفین میں حضرت کاساتھ دیاحضرت علی(ع) نے ان کے بھائی نعمان کوبحرین کے علاقے کاوالی بنایا(۱۱۰)

نعیم کے دونوں بھائی حضرت امام حسن (ع) کے زمانہ میں انتقال کرگئے جبکہ نعیم کوفہ میں زندگی بسرکررہے تھے کہ مطلع ہوئے کہ حضرت امام حسین(ع) عراق میں وار د ہوچکے ہیں کوفہ کوترک کرتے ہیں اورحضرت امام (ع) کی خدمت میں حاضر ہوکر غیرت دینی کاعملی ثبوت پیش کرتے ہیں اورنواسۂ رسول(ص) کے ساتھ اپنی وفاداری کااعلان کرتے ہوئے سپاہ یزید کے خلاف جنگ میں اپنے خون کاآخری قطرہ بھی قربان کردیتے ہیں۔(۱۱۱)کتاب مناقب کے مطابق روزعاشوراولین حملہ میں جام شہادت نوش کیا ۔(۱۱۲)زیارت ناحیہ اوررجبیہ میں ان پرسلام ذکرہواہے:السلام علی نعیم بن العجلان الانصاری(۱۱۳)

حوالہ جات:

(۱) نیل الاوطار،ج۷، ص۱۲۷ از ثورۃ العین ص۳۲۔
(۲) خلافت وملوکیت ،ص ۱۷۹۔
(۳) الاصابہ فی تمیز الصحابہ۔ ج۱۔ ص۶۔
(۴)اقبال الاعمال، ج۳، ص۷۹۔
(۵) وسیلۃ الدارین، ص۱۰۶۔
(۶) فرسان الھیجاء، ذبیح اللہ محلاتی، ص۳۶۔
(۷) شہدائے کربلا، گروہ مصنفین، ص۳۵۸۔
(۸) سورۂ فتح، آیت ۱۷۔
(۹) تنقیح المقال، مامقانی، ج۱، ص۱۵۴۔
(۱۰)مقتل الحسین ،مقرم ،ج۲ص۲۵۳۔
(۱۱)الاستعیاب،ابن عبداللہ، ج۱، ص۱۱۲۔
(۱۲)یہ مطلب درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے:اسد الغابہ،ابن اثیر،ج۱،ص۱۲۲۔تاریخ الکبیر،بخاری،ج۲، ص۳۰۔ الاصابہ فی تمییز الصحابہ،ابن جواھر العسقلانی، ج۱، ص۲۷۰۔
(۱۳)فرسان الھیجاء، محلاتی، ص۳۷۔
(۱۴)تاریخ الکبیر، بخاری، ج۲، ص۲۰۔
(۱۵)مثیرالاحزان،ص۷۱۔
(۱۶)اسد الغابہ، ابن اثیر، ج۱، ص۱۲۳۔
(۱۷)انساب الاشراف، بلاذری، ج۳، ص۱۷۵ (دارالتعارف)
(۱۸)فرسان الھیجاء،ص۳۷۔
(۱۹)حیاۃ الامام الحسین(ع) ،ج۳، ص۲۳۴۔
(۲۰)الفتوح، ج۵، ص۱۹۶۔
(۲۱)الاقبال، ج۳، ص۳۴۴۔
(۲۲)منتھی الآمال،ج۱،ص
(۲۳)الاصابہ، ج۱،ص۳۴۹۔
(۲۴)ایضاً،ص۱۱۸۔
(۲۵)فرسان الھیجاء، ص۵۴۔
(۲۶)تنقیح المقال، ج۱، ص۱۹۸۔
(۲۷)وسیلۃ الدارین، زنجانی، ص۱۱۲۔
(۲۸)مقتل الحسین(ع) ، ابی مخنف، ص۱۱۵،۱۱۶۔
(۲۹)زندگانی امام حسین(ع) ، رسول محلاتی، ص۲۵۲۔
(۳۰)تنقیح المقال،مامقانی،ج۱،ص۲۳۴(تین مجلد)
(۳۱)فرسان الھیجاء، ص۷۶۔
(۳۲)تنقیح المقال، ج۲، ص۳۲۷۔
(۳۳)حماسہ حسینی ،استاد شہید مطہری (رہ) ج۲،ص۳۲۷۔
(۳۴)شہدائے کربلا عبدالحسین بینش، ص۲۸۲۔
(۳۵)تاریخ طبری ،ج ۵،ص۲۲۶۔
(۳۶)ایض
(۳۷)انساب الاشراف ،البلاذری ،ج۳،ص۱۹۸۔
(۳۸)قاموس الرجال ،ج۲،ص۷۲۴۔
(۳۹)الکامل فی التاریخ ،ابن اثیر ،ج۴،۷۴۔
(۴۰)تنقیح المقال، ج۱، ص۲۳۴۔
(۴۱)شہدائے کربلا عبدالحسین بینش، ص۱۱۵۔
(۴۲)اقبال الاعمال ،ج۳،ص۷۸۔
(۴۳)شہدائے کربلا عبدالحسین بینش، ص۱۳۶۔
(۴۴)وسیلۃ الدارین ،ص ۱۱۴۔
(۴۵)تاریخ اسلام ،ابن عساکر ،ج۱۱،ص۳۰۳۔
(۴۶)تنقیح المقال، ج۱، ص۲۳۶۔
(۴۷)رجال ،شیخ طوسی (رہ) ،ص۷۲،اقبال ،ج۳،ص۳۴۶۔
(۴۸)شہدائے کربلا عبدالحسین بینش، ص۱۳۶۔
(۴۹)رجال ،شیخ طوسی (رہ) ،ص۳۸،۶۸۔
(۵۰)الاصابہ ،حرف ’’حا‘‘(حبیب بن مظاہر )
(۵۱)سفینۃ البحار،ج۲، ص۲۶۔
۵۲۔بحارالانوار،مجلسی،ج۴۰، ص۳۱۱۔(تسبیح یعنی سبحان اللہ‘تمحید یعنی الحمداللہ، اورتھلیل یعنی لاالہ الا اللہ کہنا)
(۵۳)تاریخ الطبری،ج۵،ص۳۵۲۔
(۵۴)ایضاً، ج۵، ص۳۵۵۔
(۵۵)ابصارالعین، سماوی، ص۷۸۔
(۵۶)اعیان الشیعہ، ج۲، ص۵۵۴۔
(۵۷)اسرا الشھادہ، ص۳۹۶۔
(۵۸) شہدائے کربلا،ص۱۳۴۔
(۵۹)الفتوح، ج۵، ص۱۵۹۔
(۶۰)اخیارالرجال، الکشی، ص۷۹۔
(۶۱)الدّمعۃ الساکبہ، ج۴، ص۲۷۴۔
(۶۲)شہدای کربلا ، ص۱۳۵۔
(۶۳)فرسان الھیجاء ص۱۳۸ از وسیلۃ الدارین ،ص۱۳۷۔
(۶۴)اسد الغابہ، ابن اثیرعلی بن محمد، ج۲، ص۱۹۲، الاصابہ،ج۱، ص۵۴۲۔
(۶۵)قاموس الرجال، شوشتری، ج۲، ص۴۰۲،۴۰۶
(۶۶)تنقیح المقال، ج۱، ص۴۳۸۔
(۶۷)شہدای کربلا، ص۱۶۴، ازتنقیح ، ج۱، ص۴۳۷ تاریخ مدینہ دمشق، ج۲۵، ص۵۰۲۔
(۶۸)اقبال، ص۷۹۔
(۶۹) جمھرۃ انساب العرب، ص۳۹۵۔
(۷۰)ابصارالعین، سماوی، ص۱۳۴، عنصرشجاعت، ج۲، ص۹۴۔
(۷۱) فرسان الھیجاء ،ص۱۵۴۔
ّ(۷۲) ایض
(۷۳) تنقیح المقال، ج۲، ص۱۲۔
(۷۴) شہدای کربلا ،ص ۱۸۰۔
(۷۵) قاموس الرجال، شوشتری، ج۵، ص۲۷،۲۸۔
(۷۶) وسیلۃ الدارین، ص۱۵۵ نقل از الاصابہ، ج۳، ص۳۰۵۔
(۷۷) فرسان الھیجاء، ص۱۶۷۔
(۷۸) وسیلۃ الدارین، ص۱۵۴۔
(۷۹) شہدائے کربلا، ص۱۹۸۔
(۸۰)اقبال، ص۳۴۶۔
(۸۱) عنصرشجاعت، ج۱، ص۱۳۰۔
(۸۲) یاران پائیدار، ص۹۷۔
(۸۳) تاریخ الطبری، ج۵، ص۳۵۲۔
(۸۴) الفتوح، ج۵، ص۴۸۔
(۸۵) انساب الاشراف،ج ۳، ص۱۹۶۔
(۸۶) الاقبال، ج۳، ص۷۹۔
(۸۷) الاصابہ، ج۲، ص۳۲۸۔
(۸۸) ابصارالعین فی انصارالحسین(ع) ، ص۹۲۔
(۸۹) ذخیرالدارین، ص۲۷۰۔
(۹۰) شہدائے کربلا، ص۲۲۸ نقل از الاصابہ ، ج۷، ص۱۵۱۔
(۹۱) الاصابہ، ج۴، ص۲۷۔
(۹۲) شہدائے کربلا، ص۲۲۹۔
(۹۳)فرسان الھیجاء، ج۲، ص۷۔
(۹۴) تنقیح المقال، ج۲، ص۳۳۲
(۹۵) الاقبال، ج۳، ص۷۸۔
(۹۶) تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۶۵۔
(۹۷) الاصابہ، ج۴، ص۷۴ نمبرشمار۶۱۱۱۔
(۹۸) تنقیح المقال، ج۲، ص۳۵۵۔
(۹۹) مقتل الحسین(ع) ، خوارزمی، ج۲، ص۳۱۔
(۱۰۰)ابصارالعین، ص۱۹۹۔
(۱۰۱) تنقیح المقال، ج۲، ص۴۲۔
(۱۰۲) وسیلۃ الدارین، ص۱۸۴۔
(۱۰۳) الاقبال، ص۷۸۔
(۱۰۴) ابصارالعین، ص۲۰۱۔
(۱۰۵) فرسان الھیجاء، ج۲، ص۱۱۶۔
(۱۰۶) تنقیح المقال، ج۳، ص۲۱۴۔
(۱۰۷) الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۳۔
(۱۰۸) تاریخ الطبری، ج۵، ص۴۲۴۔
(۱۰۹) ایضاً،ج۵، ص۴۱۹۔
(۱۱۰) تنقیح المقال، ج۳، ص۲۷۴۔
(۱۱۱)ایضاً۔
(۱۱۲)مناقب آل ابی طالب(ع) ، ج۴، ص۱۲۲۔
(۱۱۳) الاقبال، ج۳، ص۷۷۔