Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، گناہوں پر دل سے پشیمان ہونا، گناہوں کو مٹادیتا ہے۔ مستدرک الوسائل حدیث13674

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

عاشورہ کی یاد جذبات یا عا قلا نہ

سوا ل ۷۲ : جب انسا ن کے اعما ل، فکر و اند یشہ اور عقل و معرفت کی بنیا د پر انجا م پا نے چا ہئیں تو پھر عا شورہ کی یا د جذ بات و احسا سات ابھا ر کر کیوں منا ئی جا تی ہے ؟ اور جذبات میں سے بھی صرف منفی جذبات ( گریہ و زاری) کا ہی انتخا ب ہو تا ہے،سکوت اور ہنسی جیسے جذبات سے کیوں استفا دہ نہیں کیا جا تا؟
جوا ب : اس سوا ل کے جوا ب کی خاطر پہلے دو مقدمے بیا ن کر نا ضرور ی ہیں ۔
پہلا :کو ن سے عوا مل طر ز عمل میں مو ثر وا قع ہو تے ہیں ؟ مسلمانوں اور شیعہ کا عزاد اری امام حسینؑ سے مقصد کیا ہے؟
پہلا مقد مہ : ایک طرز عمل میں موثر عوامل
انسا ن جو بہت سے اعما ل انجا م دیتا ہے ان میں سے ایک طر ز عمل وا قعہ کر بلا پر عزادا ری ہے، لہٰذا انسان کے طرز عمل کے با رے نفسیات کے جوا صو ل و ضو ا بط ہیں وہ اس پر بھی لاگو ہیں ۔ ایک طرز عمل کے اظہا ر کے لئے جتنے اصو ل ، قواعد اور مو ار د ذکر کئے گئے ہیں وہ سیدا لشہدا ء کی عزادا ری جیسے عمل پر بھی صادق ہیں ۔
علم نفسیا ت کی رو سے کم ا ز کم دو عا مل انسا ن کے طرز عمل میں مو ثر واقع ہوتے ہیں ۔ ایک معرفت ، اور دوسرا جذ بہ ۔
معر فت موجب بنتی ہے کہ انسا ن ایک مطلب کوسمجھ کو قبو ل کر لے اور اپنی معرفت کے مطابق عمل کر ے ، انسا ن جب تک ایک خا ص عمل کے بارے معرفت نہ رکھتا ہواسے انجام نہیں دے سکتا ، لیکن معرفت اگرچہ عمل کے انجا م کے لئے ضرور ی ہے لیکن اس کے لئے صرف معرفت ہی کا فی نہیں ہے بلکہ ایک اور عا مل کی ضرو ر ت ہے جو ہمارے اندر جذبہ پیدا کرے۔ ہر کا م کی انجام دہی کے لئے اس کی معرفت کے علا وہ اس کے بارے شوق اور میلا ن بھی موجود ہونا چاہیے تاکہ وہ کام انجا م پا سکے ، اس کا م کے بارے میلان ہو ،تا کہ اس کی انجام دہی کا اقدا م اٹھا ئے ۔
مثا ل کے طو ر پر معرفت راستہ دکھا تی ہے ،لیکن طرز عمل کی گا ڑی کو ایک طاقت و قوت کی ضرور ت ہے جو اسے اسٹا ر ٹ کر ے اور دکھا ئے ہو ئے پہچا نے ہو ئے را ستے پر وہ گاڑی چل سکے، یعنی جذ بہ انسا ن کے طر ز عمل کی مو ٹر ہے اور معرفت راستہ دکھا تی ہے ، اس سے معلو م ہو گیا کہ خو د معر فت کسی عمل کے انجا م پا نے کے لئے کافی نہیں ہے اور ہمیں متحرک نہیں کر سکتی ۔
اب وا قعہ کر بلا اور اما م حسین علیہ السلام کی شخصیت اور ان کے اہدا ف کے بارے میں ہماری معرفت اگرچہ آپ پر عز ا دا ری و سو گو ا ری کے لئے ضرور ی ہے لیکن اس کے لئے یہ تنہا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جذ بے کا ہو نا بھی ضروری ہے۔
بہت سے لو گ اما م حسین علیہ السلام کو جا نتے ہیں لیکن آپ پر سو گوا ری کے لئے ان کے اندر کوئی جذبہ موجود نہیں ہے، لہٰذا سا لہا سا ل مسلمان لبا س میں زند ہ رہتے ہیں ، اما م حسینؑ سے ناواقف بھی نہیں ہو تے لیکن آپ کی عزا دا ری کا ذرہ بر ابر شو ق ان میں موجو د نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کی عزاداری پر ان کا مذ اق اڑا تے ہیں اور اسے ایک بے فا ئد ہ و جاہلانہ بلکہ نقصان دہ عمل شما ر کرتے ہیں ، کہتے ہیں اما م حسینؑ نے ایک قیا م کیا جیسا بھی غمگین یا تلخ جو بھی تھا ختم ہوگیا ، اب صدیوں بعد اس پر رو نے کی کیا تکّ بنتی ہے یا اسے زندہ رکھنے کی کیاضرورت ہے؟ اس سے اما م حسین علیہ السلام کو کیا فائد ہ ہو گا یا ہمیں اس سے کیا فا ئد ہ حاصل ہوگا ۔
البتہ عزا دا ری کا جذ بہ پیدا کر نے کے طریقے بھی موجود ہیں ، لیکن فی الحا ل ہماری گفتگو کا محو ر وہ نہیں ہیں بلکہ ہماری گفتگو اس پر ہے کہ عزا دا ران اما م حسین علیہ السلام کس جذبے کے تحت عزا دا ری کر تے ہیں ، تا کہ معلو م ہو سکے کہ وہ معرفت اور یہ جذ بہ کس طرح کی عزاداری کا تقا ضا کر تے ہیں ـ ۔
دوسرا :شیعیان کا عزاداری کے بار ے جذبہ
جذ بہ کس طر ز عمل کی وجہ سے ہو تا ہے یعنی جب سوا ل کر تے ہیں کہ فلاں عمل کا جذبہ کیا تھا تو اس کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ اس طرز عمل کے اپنا نے کی وجہ کیا تھی ، جس کی وجہ سے یہ عمل انجا م دیا گیا ہے۔
یہاں بھی بہتر ہے کہ معلو م ہو جا ئے کہ عز ادا ر مسلما ن کس وجہ سے واقعہ عا شو رہ کی یاد مناتے ہیں ؟ البتہ ہو سکتا ہے کہ ہر شخص اپنی معرفت کی بنیا د پر عزا دا ری کا اپنا ایک خاص جذبہ رکھتا ہو جو صرف اسی کے ساتھ مر بو ط ہو ،یعنی اس میں مختلف طرح کے جذبات کا رفر ما ہو سکتے ہیں ۔ لیکن یہاں ہمارامقصد ان سب جذبوں کو فہر ست وا ر بیا ن کر نا نہیں ہے، بلکہ ہماری مراد اس جذ بے کا بیان کر نا ہے جو دینی تعلیما ت سے ہم آہنگ ہو یا ایک عام جذبہ ہو جو تما م عزا دا روں کے لئے عزادا ری کی وجہ بن سکتا ہو ۔
اسلا می فکر کی گہرائی اور انسا نوں کی یا دا شت میں تا ریخ سا ز وا قعات کی یاد درج ذیل تین جذ بوں میں سے کسی ایک وجہ سے منا ئی جا تی ہے۔
۱) اس واقعہ کی یا د کو زند ہ رکھنے اور اس کی تجد ید کی خاطر ،
۲) اس واقعہ کے حق کی پہچا ن اوراس کی ادا ئیگی کی خاطر،
۳)اس وا قعہ سے آج کی زند گی کے لئے درس عبر ت لینے کی خاطر،
اس لحاظ سے انسانی زندگی کے تمام ادوار میں واقعہ عاشورہ کو رسالت کے تسلسل(۱) اوردین کے اہدا ف و مقا صد کی تکمیل ( معا شرہ کی ہدا یت ) میں ایک بڑا کر دا ر حاصل رہا ہے، لہٰذا اس کی یاد منا کر ہم اپنے ذہن اور دینی ما حول میں اسے زند ہ رکھتے ہیں تا کہ ہماری زندگی کے لئے ہمیشہ نمو نہ عمل بنا رہے ۔
دوسر ی طرف مسلمانوں کے اذہا ن میں یہ بات بھی پا ئی جاتی ہے کہ وہ اما م حسین
(۱) یہ حدیث نبو ی ؐ حسین منی و انا من الحسین ‘‘کی طر ف اشا ر ہ ہے ، تا ریخ اسلا م ،ج۳ ،ص ۱۹
دوسر ی طرف مسلمانوں کے اذہا ن میں یہ بات بھی پا ئی جاتی ہے کہ وہ اما م حسینؑ کے مقروض ہیں اور اسی احسا س کے سا تھ وہ سید الشہدا ء کی مجلس عزا میں شر کت کرتے ہیں تا کہ اس طرح سے اپنے ضمیر کو مطمئن کر سکیں ۔
اب ممکن ہے کسی کے لئے واقعہ کربلا میں فی الحا ل ہدایت موجود نہ ہو لیکن جب یہ واقعہ ہوا اس وقت جواس سے اسلام کو فائد ہ پہنچا اس کی بنا پر اس کا حق آج بھی آپ کی گردن پر ثابت ہے اورا س حق کی کم از کم ادا ئیگی یہ ہے کہ عزا دا ری کی مجا لس میں شرکت کریں ،البتہ عا شورہ حسینی کی یا د منا نے سے حق و قر ض کی ادا ئیگی کے ساتھ پیغا م عاشورہ کی یا د منا کر ہم قیا م اما م حسین علیہ السلام کو اپنے لئے نمو نہ عمل بھی بنا سکتے ہیں تا کہ حق و باطل کی کشمکش میں حسینی کردا ر کا مظا ہر ہ کیا جا ئے۔
واضح ہے کہ کسی عمل کا جذ بہ اس کی شکل و صورت اور مقدا ر کی تعیین بھی کر تا ہے ، جوعمارت رہا ئش کی غرض سے تعمیر کی جا تی ہے وہ اس عمارت سے فر ق رکھتی ہے جوتجارت کی غر ض سے تعمیر کی جا تی ہے۔
واقعہ عا شورہ کی یاد بھی اس طرح منا ئی جا نی چاہیے کہ اس کے اہدا ف و مقاصد کو پورا کر سکے، کیسے مجا لس عزا داری بر قر ار کی جا ئیں تاکہ حق ادا ہو سکے ، کیسے شہاد ت حسینؑ بن علیؑ کی یا د منائیں تا کہ ان کی تعظیم کے ساتھ ساتھ اس سے در س زند گی لے سکیں اور وہ رسالت کا تسلسل بن سکے؟
کیا ایک محفل مو سیقی کے ساتھ حسینؑ بن علی علیہ السلام کی یا د منا سکتے ہیں ، ان کا حق ادا کر سکتے ہیں ؟کیا تھوڑی دیر کے لئے خا مو شی اختیا ر کر کے یہ حق ادا کیا جا سکتا ہے ، کیا رقص و سرور کی محفل سے یہ ممکن ہے ؟ کیا ایک سیمینا ر یا مقالے پڑھنے سے اہدا ف و مقا صد امام حسینؑکوزندہ رکھا جا سکتا ہے اور خط رسالت کو تسلسل دیا جا سکتا ہے ؟
جیسا کہ اوپر بیا ن ہو چکا عمل کی شکل و صورت ایسی ہو جو ا س مقصد کو پو را کر سکے جس کی خا طر یہ عمل منعقد کیا جا رہا ہے ، لہٰذا اس کی بعض شکلیں توایسی ہیں جو نہ صرف اس کے مقاصد کو پورا نہیں کرتیں بلکہ ان مقاصد کو ضا ئع کر تی ہیں ، حسینؑجو راہ عدا لت و حق کے شہید ہیں ،ان کی یا د محفل رقص و مو سیقی سے تو نہیں منا ئی جا سکتی اور نہ اس سے ان کے مقصد کو زندہ کیا جا سکتا ۔
بعض شکلیں ایسی ہیں جو مقصد کو ضا ئع تو نہیں کر تیں لیکن اسے پو را بھی نہیں کرتیں بلکہ صرف اس کے بعض پہلوؤں کو پورا کر تی ہیں یا اصلا ً اس کے مقصد سے بے ربط ہیں ، جیسے کچھ دیر کی خا موشی مقصد اما م حسینؑ کو کیسے زند ہ رکھ سکتی ہے ؟
ایک سیمینا ر یا ایک علمی مقا لہ اگر چہ اما م حسینؑ کے ا ہدا ف و مقاصد کے بارے ہماری معلومات میں اضافہ کر سکتے ہیں لیکن اما م حسینؑ کے مقصد کو زندہ رکھنے کے لئے کافی نہیں ہیں ۔
ہم میں سے اکثر کو عفو و در گذر کے خیر ہو نے کا پتہ ہے لیکن اس کے انجا م دینے کا جذبہ نہیں رکھتے، مقا صد حسینی اورا ن کے ہماری دنیا وی و اخری سعا دت میں کردا ر کے بارے صرف ہما ری معرفت کافی نہیں ہے کہ ہم اما م حسینؑ کے ر استے پر قد م بڑ ھا ئیں ۔
وا قعہ عا شورہ کی یا د اس وقت ہمیں ان کی راہ پر چلنے کے لئے کر ے گی جب ہمارے اندر اس کا جذبہ پیدا ہو جا ئے جس کی وجہ سے ہمارے اندر اس کے انجا م دینے کی خواہش پیدا ہو جائے اور ہم اس نہضت کے ساتھ ساتھ قدم بڑ ھا ئیں ہمارے جذبات ابھارنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم بھی حسینی کام کر سکیں اور اس طرح سے ان کا حق ادا کرسکیں اورا ن کی یا د کو ز ند ہ رکھ سکیں ۔
اوران مجالس سے تب حق کی ادائیگی اور مقا صد حسینی حاصل ہو سکتے ہیں کہ جب یہ کم ا ز کم دو عنصر پر مشتمل ہو ں ۔
۱) اما م حسینؑ، ان کی نہضت اورا ن کے اہدا ف و مقاصد کی معرفت کی بنیا د پر برقرار ہوں ۔
۲) اس معرفت کے بعد انسا ن کے جذ با ت و احسا سات کو اما م حسینؑ کے راستے پر قدم اٹھا نے کے حوالے سے ابھاریں اور تحر یک دیں ، یعنی شعو ر بھی دیں اور شوق و میلان بھی دیں ،شعو ر حسینی اور جذبہ حسینی افکا ر و اذہا ن میں زند ہ کر دیں تا کہ حسینی کام کیا جا سکے۔
اب آپ کی یہ بات کہ چلیں جذبا ت و احسا سا ت ابھا ر نا تو ٹھیک لیکن ان میں سے صرف منفی جذبے یعنی گر یہ و زا ر ی کا انتخا ب کیا گیا ہے کہ مر ثیے ، مصائب اور نوحے پڑھے جا تے ہیں ؟
جو اب : یہ صحیح ہے کہ گر یہ ، ہنسی اور خو شی سب جذبا ت ہی کی حالتیں ہیں لیکن ان کی تاثیر ایک جیسی نہیں ہے ،لہٰذا ہمیں ایسے احسا س کا انتخاب کر نا ہو گا کہ جو اس معرفت و شعور کے ساتھ ساتھ اس غرض و جذبے کو بھی پور ا کر سکے جو ان مجا لس میں ہما رے مد نظر ہے ، اگر امام حسین علیہ السلام کی یا د ہنسی و خوشی کی محفلیں منعقد کر کے منا ئی جا ئے تو اس سے مقصد اما م حسین علیہ السلام کو زند ہ نہیں کیا جا سکتا ، ہنسی مذاق آدمی میں شہا دت کا جذبہ بیدا ر نہیں کر سکتے اور نہ ہی استقامت و پا ئیدا ری اورثابت قد می کی دعوت دے سکتے ہیں ۔
دوسری طرف انسا ن کے جذبا ت و احسا سات کا گر یہ کے ساتھ بہت گہر ا تعلق ہے، جب کہ مل کر ہنسنے کے لئے ضرور ی نہیں ہے کہ کوئی قلبی یا جذباتی تعلق بھی ہو بہت سے لوگ جو آپ کی ہنسی و خو شی میں آپ کے شر یک ہو تے ہیں لیکن دل کی گہر ائیوں میں پتہ ہوتا ہے کہ انتہا ئی نا را ض و ناخوش ہیں یعنی دل سے خوش نہیں ہوتے صرف خوشی کا اظہار کر تے ہیں ، لیکن گر یہ و سو گو ا ری میں ظاہر و با طن کا یہ اختلا ف کم تر ہو تا ہے اسی وجہ سے کہاجا تا ہے کہ خوشی میں شر یک ہو نا کوئی فن نہیں ہے، فن تو یہ ہے کہ وہ آپ کے دکھ اور درد کا سا تھی ہو ، اس کے علاوہ کسی وا قعہ سے متا ثر ہو نے کی گہرا ئی غمگین ہو نے سے ہی ظا ہر ہو تی ہے نہ کہ خوشی میں ۔
ان دو نکات کو سا منے رکھتے ہو ئے اما م حسین علیہ السلام کی ہمرا ہی کی گہرا ئی گر یہ ہی کی حالت میں ظاہر ہو سکتی ہے ، گر یہ و سو گو ار ی سے مصیبت زدہ شخص کے ساتھ مخلصانہ ہمراہی کا پتہ چلتا ہے ، اگر اس کے ساتھ مکمل ہمد ر د ی و ہمرا ہی ثا بت کر نا چاہتے ہیں تو اس کے غم و حزن میں شر یک ہوں نہ کہ اس کی خوشی میں شریک ہوکر یہ ثا بت کریں ، اس بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ جو یاد مجا لس عزا و سو گو ار ی کے ذریعے منا ئی جا تی ہے وہ مقصد امام حسین علیہ السلام کو زند ہ رکھنے اور اما م حسینؑ کے ساتھ ہمد ردی و ہمراہی اور حق کی ادائیگی پر بہتر دلالت کر تی ہے۔
اس جواب کے حوالہ جات
۱) ایڈوارڈ ج مو ری ، انگیز ش و ہیجا ن ، ترجمہ بر اہینی محمد تقی ، شرکت سہا می چہر ، ۱۳۶۳ ص ۳۲
۲) مھر آرا ء علی اکبر ، زمینہ رو ان شنا سی اجتما عی ، انتشا را ت مھر دا رد ۱۳۷۳ ، ص ۱۸۴
۳) مصباح ، محمد تقی ، آذر خشی دیگر از آسما ن کربلا ، انتشارا ت مو سسہ آموزش ، پژو ھشی اما م خمینی ۱۳۷۹، ص ۱۱۔۲۰
۴) رسولی محلاتی ، سید ہا شم ، خلاصہ تا ریخ اسلام ، ج۳ انتشا را ت دفتر نشر فرہنگ اسلامی ، ۱۳۷۲ ، ص ۱۹
ساتو اں حصہ
احکام عزادا ری
سید مجتبیٰ حسینی