Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، مومن کا کاروبار پاکیزہ ہوتا ہے، اس کے اخلاق اچھے ہوتے ہیں، اس کا باطن صاف ہوتا ہےوہ اپنے زائد مال کو خرچ کرتاہےاور زیادہ گفتگو سے پرہیز کرتا ہے۔ اصول کافی باب المومن و علاماتہ حدیث18، وسائل الشیعۃ حدیث20244

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

رونے پر آما دگی

سوا ل۷۱ : کیا کریں کہ ہمیں اما م حسینؑ کے مصا ئب پر رونا آئے ، امام حسینؑ پر گریہ کی روحی ونفسیاتی آما دگی کا کیا طریقہ ہے؟
جوا ب : اس سوال کے جواب کے لئے ضروری ہے کہ پہلے علم نفسیا ت کی رو سے ایک طرز عمل اورایک ہیجا نی کیفیت کے جلو ے کے طو رپر گریہ کا معنی بیان کریں ، پھر گر یہ میں اثر کرنے والے اسبا ب و عوا مل ذکر کریں گے۔
(۷) نذیر الحمدا ن، ۲۰۰۲،
(۸) قصص /۷۳ ، اسر اء / ۱۷ ، فر قان/ ۴۷، یو نس / ۶۷
(۹) ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلا غہ ،ج ۱۶،ص ۲۲
(۱۰)طریقہ دار ، ۱۳۸۰
گر یہ کی متعدد اور وسیع اقسا م ہیں ،جن میں غم کے گر یہ سے لے کر خو شی کے گریہ تک سب شامل ہیں ، واضح ہے کہ اما م حسینؑ پر گریہ سو گ و غم کا گر یہ ہے ، لہٰذا گر یہ کی اقسام میں سے صرف غم وسوگ کے گریہ کی تعریف اوراس کے عوا مل ذکر کرنا ہوں گے ،غم و سوگ کا گر یہ درحقیقت غمگینی کا جلو ہ یعنی غم کی حالت کے احسا س کے مقابل شخص کا ردعمل گریہ کی صورت میں ہوتا ہے اور عزادا ری و سوگو ا ری ( گر یہ جس کا جلوہ ہے) ما تم اور غم و اندو ہ کا اجتما عی طر ز عمل ہے ،لیکن اگر ہم عزا دا ری کر نا چاہتے ہیں تو غم حاصل کر نا ضروری ہے جس سے گر یہ پیدا ہوتا ہے یعنی اگر سیدا لشہدا ء پر گریہ کر نا چاہتے ہیں تو دل میں غم حسین ہو نا ضروری ہے اور داغ اما م حسینؑ ہمارے دل پر ہو نا چاہیے ۔
ای صبا نکھتی از کو ی فلانی بہ من آر
گر دیگر ان بہ عیش و طرب خرستد و شاد
زار و بیمار غم راحت جانی بہ من آر
مارا غم نگا ر بود مایۂ سرور
’’اے با د صبا فلاں کے کو چے سے خوشبو میرے لئے لا ؤ ، میں غم کا ما را بیما ر ہوں میر ی راحت جان لا دو ‘‘
چو نکہ گر یہ کے لئے غم کا ہو نا ضرور ی ہے لہٰذا پہلے غم کی تعریف کریں گے اس کے بعد غم پیدا کر نے والے اسبا ب بیا ن کریں گے ۔
غم یا غمگین ہو نا ایک رد عمل ہے، ایک تکلیف دہ واقعہ کے مقابل اور ایک ایسی صورت حال و کیفیت ہے جو کسی شخص یا چیز کے ہاتھ سے دے بیٹھنے کے بعد پیدا ہو تی ہے ، غم و داغدیدگی وہاں ہوتی ہے جہاں کسی ایک شخص کی موت ہو جا ئے یا وہ چیز تلف ہو جا ئے جس سے انسان کو جذباتی لگاؤ ہو ۔ پس اس شے یا شخص کے ساتھ قلبی تعلق و لگاؤ ہونا چاہیے تاکہ اس کے چلے جا نے سے انسان اس کے غم میں مبتلا ہو جا ئے اور اس کے نہ ہو نے سے غمگین ہو کر سو گ و عزا منا ئے، اب اگر آپ چاہتے ہیں کہ غم حسین علیہ السلام آپ کے سینے میں جاگزین ہو جا ئے تاکہ ان کی شہا دت پر آپ غمگین ہو جائیں تو پہلے سیدالشہداء سے قلبی تعلق پیدا کریں ، جو دل اما م حسینؑ کے ساتھ وابستہ نہیں ہے ہو سکتا ہے ان کی مخالف چیزوں کے ساتھ وا بستہ ہو، اسے اما م حسین علیہ السلام کی شہادت سے تکلیف بھی محسوس نہیں ہو گی اور نہ اس کے آرام و سکون میں خلل پڑ ے گا، جیسے اما م حسینؑ کے ہونے سے اسے قرار نہیں ، اسی طرح ان کے نہ ہو نے اسے بے قرا ری بھی نہیں ہوگی ۔
جو اما م حسینؑسے وابستہ ہے اسے اما م حسینؑ ہی کی جد ائی کا غم ہو گا، جب غم آگیا جو کہ علت ہے تو اس کا معلو ل گریہ خو د بخو د آجا ئے گا ، کسی عزیز ہستی کے بچھڑنے کا غم ہو نا یعنی گریہ کرنا ۔
پس معلو م ہوگیا کہ گر یہ کے لئے دلبستگی و لگاؤ ضروری ہے اور اما م حسینؑ کے ساتھ قلبی لگا ؤ معرفت و شناخت کے مر ھو ن منت ہے ، کسی شے کی پہچا ن کا طریقہ یہ ہے کہ آپ یہ جان لیں کہ آپ کی زندگی میں اس کا کیا کردار ہے خصوصاً عملی کردار اور زند گی کے مقاصد کو پا نے کے لئے وہ کس حد تک مؤثر ہے اوراسے آپ کی زند گی میں کیا حیثیت حاصل ہے ، جب اس کی معرفت حاصل ہو جا ئے گی تو اس کے سا تھ قلبی تعلق بھی پیدا ہو جائے گا۔
علمی لحا ظ سے کسی شے کی معرفت کے علاوہ اس کے ساتھ رہنے سے بھی اس کے بارے قلبی تعلق پیدا ہوجا تا ہے ، صر ف اپنی شخصی زند گی میں تھوڑا سا غور و فکر کر نے سے بھی ان حقا ئق کا پتہ چل جا ئے گا کہ کیسے اس شخص کے چلے جا نے سے جس کے ساتھ کافی وقت گذارا ہو ( اگر چہ وہ اجنبی ہو) انسا ن غم زدہ ہو جا تا ہے اور اس میں غم کے جذبات ابھرنے لگتے ہیں ۔
اگر ہم بھی اما م حسینؑ پر گر یہ کر نا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ان کے بارے میں اپنی معرفت میں اضافہ کریں ،ا ما م حسین علیہ السلام کی پہچا ن ، ان کے اہدا ف و مقاصد ، مکتب و عقید ہ ہماری فردی ، اجتما عی اوردینی زند گی میں ان کے کردا ر کی پہچا ن اوراس معرفت کے ساتھ زندگی بسر کر نا یہ وہ سب امور ہیں جو اما م حسینؑ کے ساتھ قلبی تعلق و لگا ؤ کا باعث بنتے ہیں ،ہم نے جو یہ کہا کہ اس معرفت کے ساتھ زند گی بسر کر نا اس کا مطلب یہ ہے کہ اما م حسینؑ اور آپ کے مقاصد کے بارے میں ہماری شناخت و معرفت صرف ذہنی تصور تک ہی محدو د نہ رہے بلکہ اس معرفت کو بنیادبنا کر زند گی بسر کی جائے ،تا کہ اما م حسینؑ سے تعلق پیدا ہو سکے ورنہ صرف ذہنی معرفت تو ہمیں بہت سے افرا د کے بارے میں حاصل ہوتی ہے لیکن ان کے چلے جا نے سے ہم غمگین نہیں ہو تے، پس معرفت کے ساتھ اس معرفت کو بنیا د بنا کر اس فر د کے ساتھ زند گی گذارنا بھی ضرور ی ہے یا اسے ہماری زند گی میں ایسا مقا م و مرتبہ حاصل ہو نا چاہیے کہ گو یا اس نے مد تیں ہمارے ساتھ ایک چھت کے نیچے زند گی گذاری ہیں اس طرح سے قلبی تعلق پیدا ہو تا ہے۔
البتہ واضح ہے کہ قلبی تعلق سب کو برا بر حاصل نہیں ہو تا،بلکہ کم اورزیادہ ہو سکتاہے، ایک شخص کے ساتھ چند افرا د نے زند گی گذا ر ی ہو اور اس کی معرفت رکھتے ہو ں تو یہ ضروری نہیں کہ سب کا اس سے قلبی لگا ؤ بھی ایک جیسا ہو ، کسی میں زیاد ہ ہو گا کسی میں کم ، جس میں یہ لگاؤ جتنا زیادہ ہو گا اسے اس کی جدائی کا غم بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
افسو س ہے کہ بعض نے یا د حسینؑ سے اپنے دل زند ہ نہیں کئے، وہ اما م پا ک علیہ السلام کی معرفت و شنا خت نہیں رکھتے، ایسے افر اد نہ صرف یہ کہ اما م حسین علیہ السلام کی شہادت پر غمگین ہو کر سوگ نہیں منا تے بلکہ دوسروں کے گر یہ و سوگواری کا تمسخر بھی اڑا تے ہیں ۔
اس جو اب کے حوا لہ جات
۱) داستا ن پر ی رخ ، رو ا ن شنا سی مر ضی ، سمت ۱۳۷۲، ص ۲۷ اور ۳۲۷۔
۲) معتمد ی ، غلا م حسین ، انسا ن و مرگ ، نشر مرکز ، ۱۳۷۲ ، ص ۲۱۹
۳) خسرو ی ، زہر ہ ، رو ان در ما نی دا غدیدگی ، نشر نقش ہستی ، ۱۳۷۴، ص ۶۱ اور ۵۳
۴)شعا ری نژا د، علی اکبر ، فر ہنگ علو م رفتا ری ، امیر کبیر ، ۱۳۶۴، ص ۴۲۵۔