Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، بدترین امور بدعتیں ہیں، یادرکھو! ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں (لےجاتی) ہے۔ مستدرک الوسائل حدیث14207

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

سوا ل ۶۶ : اما م حسینؑ کے اصحا ب اور سا تھی کیا خصوصیات رکھتے تھے؟ کیا سب ایک جیسی صورت حال کے حامل تھے اور ابتداء سے آخر تک آپ کے ساتھ رہے؟
جو ا ب :کسی مکتب و مسلک کے پیرو کا ر اس مکتب کی اصالت ، گہرائی اور صلا حیت ہدایت کے بہترین گواہ ہو تے ہیں ،اما م حسینؑ کے اصحاب اور خا ندان کے افراد وفا محبت، عشق اورایثار کے میدا ن میں سب سے آگے نکل گئے ، وہ آسما ن فضیلت و کما ل پر اس طرح چمک رہے ہیں کہ تمام لوگوں کے لئے رو شنی بخش ہیں اور ان کے پاکیز ہ نام آزاد و پا ک لوگوں کی محفلوں کی زینت بن چکے ہیں ۔
ان کی عظمت و کما ل کے بیا ن کے لئے اما م حسین علیہ السلام کا یہ فر ما ن ہی کا فی ہے جو آپ نے ۹ محرم کے دن عصر کے وقت فر ما یا :
’’اما بعد فا نی لا اعلم اصحابا أوفی ولا خیرا من اصحابی ولا اہل بیتی أبر وأصل من اہل بیتی ،جز اکم
اللّٰہ عنی خیرا ۔(۱)
’’خدا کی حمد و ثنا ء کے بعد ، بتحقیق میں اپنے اصحا ب سے زیا دہ باوفا اصحا ب کہیں اور نہیں پا تا اور نہ اپنی اہل بیت سے زیادہ نیک اور صلہ رحم کر نے والی اہل بیت کسی کی پاتا ہوں ، خدا وند میری طرف سے تمہیں نیک جز ا دے ‘‘
اما م حسینؑ کے اصحا ب کے بارے ایک زیا رت میں وارد ہے :
انتم سا دات الشہدا ء فی الدنیا والا ٓخرۃ (۲)
’’دنیا و آخر ت میں آپ شہد اء کے سر دا ر ہیں ‘‘
ایک زیا رت اما م صا د ق علیہ السلا م سے منقو ل ہے جس میں ارشادہے :
انتم خاصۃ اللّٰہ اختصّکم اللّٰہ لابی عبدا للّٰہ (۳)
بحارالانوار ، ج۴۴، باب ۳۵، فروغ شہادت ، ص۱۹۲
’’ آپ لو گ درگا ہ الٰہی کے خوا ص میں سے ہوں خدا وند نے تمہیں امام حسینؑ سے خا ص کر دیا‘‘
سیدا لشہدا ء کے اصحا ب کے بارے ’’ خا صۃ اللہ ‘‘ کی اصطلاح کا استعما ل ان کے عظیم الشا ن مقام و مر تبے کے بیا ن کی خا طر ہے۔
ان پا ک ہستیوں کی زند گی کا مطالعہ کر نے سے پتہ چلتا ہے کہ زند گی کے اس خوبصورت اختتا م جو کہ بلند ترین افتخا ر و عظمت کا باعث تھا کے با وجو د نہضت سیدا لشہد اء کے آغاز سے وہ سب محبت و ارا دت اور اما م حسین علیہ السلام کی ہمرا ہی کے لحا ظ سے ایک جیسی صورت حال نہیں رکھتے تھے۔ چو نکہ اس نظر سے ان اصحا ب کی زند گی پر نظر کر نے سے بڑے مفید نکات سامنے آتے ہیں ، لہٰذا ہم اختصا ر کے ساتھ چند اصحا ب کی زندگی کا سر سری مطا لعہ آپ کے سا منے پیش کر تے ہیں تا کہ ان کی زند گی کے پر پیچ واقعات سے ہم فائدہ اٹھا سکیں ۔
۱) حُربن یز ید ریا حی
اما م حسین علیہ السلام کا قافلہ منزلیں طے کر تا ہو اجب منزل شراف پر پہنچا تووہیں پر حُر بھی اپنے فوجیوں کے ساتھ وارد ہوا اور اسے اما مؑ کورو کنے کے لئے بھیجا گیا تھا ، یہ لشکر تھکا ماندہ ہو ا پیاس سے بلکتا ہوا وہاں وا رد ہوا ،سیدا لشہداء نے جب ان کی پیاس کی یہ حالت دیکھی تو اپنے اصحا ب کو حکم دیا کہ انہیں پانی پلائیں اور ان کے گھوڑوں کو بھی سیراب کریں اوران کی سواریوں پرپانی بھی ڈالیں ،اصحاب نے آپ کے اس حکم پرعمل کرتے ہوئے لشکر کے افراد کو سیراب کرنا شروع کیا اوردوسری طرف ان کے گھوڑوں کے سا منے پا نی کے برتن بھر کر رکھ رہے تھے ، حُر کے سپا ہیوں میں سے ایک شخص بیا ن کر تا ہے کہ میں شد ید
(۲)کامل الزیارات ،باب ۷۹ ، ص۱۹۶
(۳)حوالہ سابق ، ص ۲۴۲،زیارات، ۱۸
اما م حسین علیہ السلام کا قافلہ منزلیں طے کر تا ہو اجب منزل شراف پر پہنچا تووہیں پر حُر بھی اپنے فوجیوں کے ساتھ وارد ہوا اور اسے اما مؑ کورو کنے کے لئے بھیجا گیا تھا ، یہ لشکر تھکا ماندہ ہو ا پیاس سے بلکتا ہوا وہاں وا رد ہوا ،سیدا لشہداء نے جب ان کی پیاس کی یہ حالت دیکھی تو اپنے اصحا ب کو حکم دیا کہ انہیں پانی پلائیں اور ان کے گھوڑوں کو بھی سیراب کریں اوران کی سواریوں پرپانی بھی ڈالیں ،اصحاب نے آپ کے اس حکم پرعمل کرتے ہوئے لشکر کے افراد کو سیراب کرنا شروع کیا اوردوسری طرف ان کے گھوڑوں کے سا منے پا نی کے برتن بھر کر رکھ رہے تھے ، حُر کے سپا ہیوں میں سے ایک شخص بیا ن کر تا ہے کہ میں شد ید پیا س و تھکاوٹ کے عالم میں سب لشکر کے بعد وہاں پہنچا،اصحا ب اما م چو نکہ دوسرو ں کو پانی پلا رہے تھے میر ی طرف کسی نے تو جہ نہ کی ، اسی دورا ن اما م حسینؑ میری طرف متو جہ ہو ئے تو آپ خود میری طرف تشریف لائے ، میں شدت پیاس اور تھکاوٹ کی وجہ سے خودصحیح طرح سے پانی نہیں پی سکا، لہٰذا حضر ت نے خو د مشک سے مجھے پا نی پلایا اس مہما ن نوا زی کے بعد لشکر نے جب آرا م کر لیا اور نما ز ظہر کا وقت ہو ا ، اما م کے موذّن نے اذا ن دی تو حضر ت امام حسینؑ نے حُر سے فر ما یا تم اپنے لشکر کے ساتھ نماز پڑھو تو حُر نے عرض کیا میں اپنے لشکر سمیت نماز آپ کی امامت میں پڑھو ں گا ، اس طرح عصر کی نماز بھی پڑ ھی گئی ، نماز عصر کے بعد اما م پا کؑ نے لشکر حُر کو خطبہ ارشا د فر ما یا جس میں ان پر حجت تما م کی۔
جب اما م حسینؑ اور حُر کے در میا ن گفتگو ہو ئی تو حر نے کہا ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم آپ سے جد ا نہ ہوں یہاں تک کہ آپ کو ابن زیاد کے پاس کوفہ لے جائیں ، تو آپ غضبناک ہو گئے اور فر مایا حُر تمہارے لئے موت اس فکر و سو چ سے زیادہ بہتر ہے ،پھر آپ نے اپنے لشکر سے فر ما یا، سوا ر ہو جا ؤ واپس چلو حُر اپنے لشکر کے سا تھ آکر رکاوٹ بن گیا ، حضر ت نے فر ما یا ثکلتک امّک ماترید؟ تیر ی ماں تیرے غم میں رو ئے کیا چاہتے ہو؟ حُرنے کہا اگر کوئی اورمیر ی ما ں کا نا م لیتا تو اسے جوا ب دیتا لیکن آپ کی ماں وہ عظیم ہستی ہیں کہ جن کا احترام کرنا لازم ہے۔
عاشورہ کے دن جب حُر نے دیکھا کہ لشکر ابن سعد جنگ پر کمر باند ھ چکا ہے اور حُر نے سیدا لشہدا ء کا استغا ثہ مظلو میت سنا تو اپنے آپ کو سعا دت و شقاوت اور جنت و جہنم کے دوراہے پر پا یا، اس حالت میں حرّ نے مکمل سوچ اورغور و فکر کے ساتھ سعا دت کی راہ کا انتخاب کر لیا ، اپنے گھوڑے کو ایڑی لگا ئی اور اما م حسینؑ کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوئے کہ اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھے ہو ئے تھے ، عرض کیا اے فرزند رسول میری جان آپ پر قربا ن ہو،میں ہی وہ شخص ہوں جس نے آپ پر واپسی کا راستہ بند کیا اور میں باعث بنا کہ آپ اس کرب و بلاء اور رنج و مصیبت کی زمین پرا تریں ، میں یہ گما ن نہیں کرتا تھا کہ یہ لوگ آپ سے جنگ کریں گے اوراس طرح کابر تا ؤ کریں گے، میں اب شر مند ہ اور پشیما ن ہوں خدا کی بار گاہ میں تو بہ کرتا ہوں کیا خدا و ند میری تو بہ قبو ل کرلے گا؟
اما م پا کؑ نے فرما یا ہاں خدا وند تمہا ری توبہ قبو ل کر لے گا اور تمہا را جر م معا ف کر دے گا؟(۴)
وہ کو ن سی وجہ تھی جس کی وجہ سے حُر واپس آگئے ؟ جو اب میں کہا جا سکتا ہے کہ حُرکا امام حسین علیہ السلام کے مقابل ادب و احتر ام کی حدو د کا پاس رکھنا ، آپ کے پیچھے نماز پڑھنا اورسیدہ فاطمہ زہرا ءؑ کے لئے اظہا ر تعظیم و اکرام کر نا وہ عوامل تھے جو حُر کی نجات و سعادت کا باعث بنے۔
بالا ٓخر حُر نے اما م حسینؑ کے سامنے بڑی جانبازی وفدا کاری کا مظا ہر ہ کیا اورزخمی ہو کر جب گر ے تو زندگی کی کچھ رمق با قی تھی جب اصحاب آپ کا بد ن اٹھا کر سیدالشہداء کے حضو ر لے آئے اما م پا کؑ نے اپنا دست مبا ر ک حُرکے چہر ے پر پھیر ا اور فر ما یا :
انت الحرکما سمتک امک ، وانت الحر فی الدنیا و انت الحرفی الاخرۃ۔(۵)
’’اے حُر تو آزا د ہے جیسا کہ تیر ی ماں نے تیرا نا م رکھا تو دنیا اور آخرت میں آزاد ہے‘‘
اما م پاکؑ کا حُرکے بارے میں یہ فر ما ن دلالت کر تا ہے کہ حُر دنیا وی تعلقات اور ہو یٰ و ہوس سے تمام تعلقا ت توڑ کر اس عظیم منز ل پر پہنچ گئے جو انبیا ئے الٰہی و صدیقین کے ساتھ خاص ہے ، حُرکا اس کمال پر پہنچنا سیدا لشہدا ء کی خا ص نظر کرم ( نظر ولائی ) کا نتیجہ تھا
(۴) شیخ عباس قمی ، منتہی الامال ، ج۱، ص۶۱۳، سخنان امام حسینؑ از مدینہ تاکربلا ، ص ۱۳۷
اما م پاکؑ کا حُرکے بارے میں یہ فر ما ن دلالت کر تا ہے کہ حُر دنیا وی تعلقات اور ہو یٰ و ہوس سے تمام تعلقا ت توڑ کر اس عظیم منز ل پر پہنچ گئے جو انبیا ئے الٰہی و صدیقین کے ساتھ خاص ہے ، حُرکا اس کمال پر پہنچنا سیدا لشہدا ء کی خا ص نظر کرم ( نظر ولائی ) کا نتیجہ تھا اورآخر ت کی سختیوں سے چھٹکا را بھی اسی کما ل پر فائز ہونے کا نتیجہ ہے جس کی طرف سیدالشہدا ء نے وانت الحر فی الاخرۃ (۶)کہہ کر ارشا دفر ما یا ۔
حُر بن یز ید کا یہ عاقلا نہ انتخاب اور مرد انہ فیصلہ ہر اس انسا ن کے لئے چر اغ راہ ہے جو عزت وذلت ، پاکی وپلیدی ، رفعت وپستی اور کفر و ایما ن کے دوراہے پر کھڑا ہو ، تعلقات اوران کے خو بصورت چہر ے کے پیچھے سے ان کی بد صورتی کو دیکھ لینا اور انہیں پاؤں کی ٹھو کر ما رکر ٹھکر ا دینا حُرجیسے آزا د مرد ہی کا کا م تھا ، لشکر ظلم و ظلمت کو چھوڑکر لشکر نور سے آملنا اگر چہ بہت مشکل ہے لیکن اس میں ابد ی سعا دت اوردنیا وا ٓخرت کی سربلند ی ہے۔
حُر کی سرگذشت درحقیقت ہم سب کی زندگی کی ترجمان ہے کہ جب ہم خود کو اطاعت اور عصیا ن و عا رضی ہو یٰ و ہو س کے دورا ہے پر قرا ر پائیں تو ہمیں آزادی کی روش اپنانا ہوگی، یہ چند روزہ دنیا وی لذت اور جو انی کا غر ور ہمیں فریب میں مبتلا نہ کر دے اور ہمیں درستی ، را ستی اور تقویٰ کے راستے سے منحر ف نہ کر دے ۔
یہاں پر اما م صادق علیہ السلام کے نورا نی ارشا د کی گہر ا ئی روشن ہوجاتی ہے کہ فرمایا :
کل یو م عا شورہ وکل ارض کربلا (۷)
یعنی وا قعہ عاشورہ صر ف کربلا کے اندر عا شورہ کے دن میں محصورنہیں سمجھنا چاہیے بلکہ عاشورہ ایک جا ری و سا ری چشمہ ہے جو ہر زمانے میں ہر جگہ پر جاری ہے اور ایک جاوید فرہنگ ہے ،حق و با طل کے ھا بیل و قا بیل ،حضر ت علیؑ اور معاویہ اورامام حسینؑ و یزید کے درمیا ن کشمکش مسلسل اور دا ئمہ ہے اور لشکر ظلمت کو چھوڑکر کاروان نور سے آملنے
(۵)بحارالانوار، ج۴۵، ص۱۴
(۶)فروغ شہادت ، ۲۰۸
یعنی وا قعہ عاشورہ صر ف کربلا کے اندر عا شورہ کے دن میں محصورنہیں سمجھنا چاہیے بلکہ عاشورہ ایک جا ری و سا ری چشمہ ہے جو ہر زمانے میں ہر جگہ پر جاری ہے اور ایک جاوید فرہنگ ہے ،حق و با طل کے ھا بیل و قا بیل ،حضر ت علیؑ اور معاویہ اورامام حسینؑ و یزید کے درمیا ن کشمکش مسلسل اور دا ئمہ ہے اور لشکر ظلمت کو چھوڑکر کاروان نور سے آملنے کے لئے کبھی بھی دیر نہیں ہے، حتیٰ کہ اگر انسا ن کی عمر سے صرف چند سا نسیں ہی با قی رہ گئی ہوں ’’ھل من نا صرینصرنا ‘‘ کی آوا ز آج بھی مسلسل گو نج رہی ہے اور ہمیشہ گونجتی رہے گی اوراما م حسینؑ او رحسینی آج بھی لوگوں کوراہ حق و حقیقت کی مدد کے لئے پکار رہے ہیں ، آواز یں دے رہے ہیں ۔
۲) زہیر بن قین
زہیر کوفہ کی بڑی مشہور شخصیت اور دلیر شخص تھے ، جنگوں میں ا ن کا مرتبہ بڑ ا مشہور تھا، ابتدا ء میں آپ عثما نی نظر یا ت رکھتے تھے، ۶۰ ہجری میں جب سید الشہدا ء مکہ سے کوفہ کے لئے نکلے تو زہیر بھی اپنے خاندا ن کے ساتھ حج سے واپس آرہے تھے ، آپ یہ بات پسند نہیں کر تے تھے کہ سیدا لشہدا ء کے ساتھ آپ کی ملاقا ت ہو اور ایک ہی منز ل پر پڑا ؤ ہو، جہاں سے اما م علیہ السلام کو چ کرتے وہاں زہیر پڑ اؤ کر تے جہاں اما مؑ پڑا ؤ کر تے زہیر وہاں سے کوچ کرجاتے ، ایک منزل پر مجبو راً اکٹھے پڑ ا ؤ کر نا پڑ ا تو زہیر نے اپنا خیمہ اما م کے خیام سے کافی فا صلے پر لگایا ،زہیر کے ساتھیوں میں سے بعض بیان کرتے ہیں کہ دوپہر کے وقت ہم کھانے کے لئے بیٹھے تھے کہ اما م کا قاصد آگیا آکر اس نے سلام کیا اور کہا اے زہیر تجھے ابا عبدا للہ الحسینؑطلب فرما رہے ہیں ، یہ بات ہمارے لئے اتنی غیر متوقع تھی کہ ہم سب بے حس و حرکت ہو گئے ایسے کہ لقمے ہما رے گلے میں رہ گئے نہ انہیں نگل سکتے نہ اگل سکتے ۔
زہیر کی زو جہ نے کہا سبحا ن اللہ نو ا سہ رسو ل تمہیں بلا رہے ہیں اور تم جا نے میں متردد ہو، بیوی کی بات سن کر زہیر جیسے ہوش میں آگئے ، زہیر امام حسینؑکی خدمت میں حاضر ہو ئے ان سے باتیں ہو ئی گو یا آپ کی نو رانی گفتگو نے زہیر کے دل میں آگ لگا دی، دل کے تاریک حصے رو شن ہو گئے اور زہیر حسینی بن گئے ، خو شی اور کھلکھلاتے چہر
(۷)فروغ شہادت ، ص۲۰۸
زہیر کی زو جہ نے کہا سبحا ن اللہ نو ا سہ رسو ل تمہیں بلا رہے ہیں اور تم جا نے میں متردد ہو، بیوی کی بات سن کر زہیر جیسے ہوش میں آگئے ، زہیر امام حسینؑکی خدمت میں حاضر ہو ئے ان سے باتیں ہو ئی گو یا آپ کی نو رانی گفتگو نے زہیر کے دل میں آگ لگا دی، دل کے تاریک حصے رو شن ہو گئے اور زہیر حسینی بن گئے ، خو شی اور کھلکھلاتے چہر ے کے ساتھ واپس آئے اوراپنے خیمے اکھا ڑ کر اما م حسینؑ کے خیا م کے قر یب لگا لئے، پھر اس خا طر کہ اس مشکل راستے میں زو جہ مو منہ کو تکلیف نہ ہو اسے طلا ق دے دی اور کچھ ساتھیوں کی ذمہ دا ری لگا ئی کہ اس کے گھر تک پہنچا دیں ،ا س دور رس نگا ہ رکھنے والی نیک خا تو ن نے دامن زہیر تھا م لیا اور اسے قسم دی کہ قیا مت کے دن رسول ؐ خدا کے سامنے ا س کی سفا ر ش ضرور کریں ۔
جب حُرکے لشکر نے اما م حسینؑ پر راستہ بند کر دیا تو زہیر نے مولا کے اذن کے ساتھ ان سے گفتگو کی اور اما م کوا ن سے جنگ کر نے کا مشور ہ دیا لیکن اما م نے قبو ل نہ فرمایا، ۹محرم کے دن عصر کے وقت جب اما م پا کؑ نے اپنے سا تھیوں کو چلے جا نے کی اجازت دی تو زہیر بھی ان افرا د میں ایک تھے جنہوں نے بڑ ی مؤ ثر تقریر کر کے اپنے خلوص و محبت اوراخلاص و ایثا ر کو اما م کے سامنے ثابت کیا اور کہا خدا کی قسم اگرمیں ہز ار بار قتل کیا جاؤں تا کہ اس طریقے سے خدا وند آپ کی جان اور آپ کے خا ندا ن کی جان بچالے تو میں ایسا کروں گا۔ (۸)
عاشورہ کے دن سیدا لشہدا ء نے اپنے لشکر کے میمنہ کی سر برا ہی زہیر کے سپر د کی ، امام پاکؑ کے بعد زہیر ہی وہ پہلے شخص تھے جو اسلحہ کے سا تھ لیس ہو کر دشمن کے مقابل گئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی ، ظہر کے وقت جب امام نما ز پڑ ھنے لگے تو زہیر اور سعد بن عبداللہ امام کے سا منے ڈھا ل بن کر کھڑ ے ہو ئے جو تیر بھی آتا اپنے اوپر اسے لے لیتے ، نما ز کے بعد زہیر میدا ن جنگ میں گئے اورداد شجا عت دیتے ہو ئے مر تبہ شہادت پر فائز ہوئے ، اما م پاکؑآپ کے سر ھا نے تشریف لا ئے اور آپ کے لئے دعا ئے خیر کی اور قاتلوں پر نفرین فرمائی۔(۹)
اما م حسینؑ کے ساتھ مختصر سی ملاقا ت اور زہیر کا عقید ہ و راستہ بدل لینا وا قعہ عاشورہ
(۸)بحارالانوار، ج۴۴،ص۳۹۳
اما م حسینؑ کے ساتھ مختصر سی ملاقا ت اور زہیر کا عقید ہ و راستہ بدل لینا وا قعہ عاشورہ کے عجیب اورپر رمز و راز واقعا ت میں سے ہے ، پتہ نہیں زہیر نے اس مختصر ملاقا ت میں امام پاکؑ سے کیا سنا کہ زمین سے اٹھ کر آسما ن پر پہنچ گیا اور اما م کا فدا ئی اور شیفتہ بن گیا ، واضح ہے زہیر اپنے زمانے کے ولی کے مو رد عنا یت بن گئے اور فطر ت پر پڑے حجابات اٹھ گئے ، آپ نے اما م حسین علیہ السلام کی ولا یت و اما مت کو اپنے ظر ف وجود کے مطا بق پہچان لیا، زہیر کی گفتگو ، جہاد اور عظیم ایثا ر آپ کی روحا نی عظمت و معرفت پر دلا لت کرتے ہیں ،جو آپ کو اما م حسین علیہ السلام کی اما مت و منز لت کے بارے حاصل ہو ئی تھی۔ (۱۰)
یہ مسلّم ہے جب تک انسا ن کے اندر ایسی قا بلیت او ر جو ہر نہ ہو توقر عہ خوش بختی اس کے نا م نہیں نکل سکتا اور نہ ایسا قا بل فخر انجا م حا صل ہو سکتا ہے۔
گو ہر پاک بباید کہ شودلایق فیض
ورنہ ہر سنگ و گلی لو لؤ و مرجان نشود
رسول ؐ خدا ایک حدیث میں ارشا د فر ما تے ہیں ـ :
’’ کبھی نسیم رحمت تم پر چلتی ہے بیدار رہو اور اپنے آپ کو اس کی جہت میں قرا رد و اس سے رخ نہ موڑو ‘‘ (۱۱)
حُرو زہیر جیسے جو ا نمر دوں نے اپنے آپ کو اس نسیم رحمت کی جہت میں قرا ر دیا ، ان کے وجود کے درخت کی آبیا ری ہو گئی اورعشق و معرفت اور سعا دت کا پھل انہیں نصیب ہوا۔اما م حسینؑ نے اپنے اس سفر میں کچھ اور لوگوں کو بھی اس کا رو ان نو ر میں شمو لیت کی دعوت دی لیکن وہ بد بخت اس قابل نہیں تھے کہ سید احرار کے ہمرا ہ در جہ شہادت پر فائز ہو کر ان کے نام بھی تا ریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہو جا ئیں ،ا یسے افرا د کی تعدا د زیادہ ہے اوران کے الگ الگ مقا صد تھے ،ہم یہاں صرف ایک مور د مثال کے طور پر ذکر کرتے ہیں ـ۔
(۹)منتہی الامال، ج۱، ص ۶۰۷، فرہنگ عاشورہ ، ص ۲۰۱
(۱۰)فروغ شہادت ، ص۲۰۰
(۱۱)رسالہ لب الالباب ،علامہ سید محمد حسین طہرانی ، ص۲۵، انتشارات حکمت
عبید اللّٰہ بن حُرجعفی
منز ل بنی مقا تل میں اما م پا ک علیہ السلام کو بتا یا گیا کہ عبیدا للہ بن حُر جعفی بھی اس منزل پر ٹھہر ا ہو اہے ، یہ شخص عثما ن کے حامیوں میں سے تھا ، ان کے قتل کے بعد یہ معا ویہ کے پاس چلا گیا اور جنگ صفین کے موقع پر معا ویہ کے لشکر میں شامل ہوکر حضر ت علیؑ کے خلاف جنگ میں شر یک ہو ا ۔ (۱۲)
اما م پا ک نے پہلے اپنے ایک فر د حجاج بن مسر وق کو اس کے پا س بھیجا ، حجا ج نے اس سے کہا میں تمہا ر ے لئے بہت قیمتی تحفہ لا یا ہوں ، حسینؑ بن علیؑ یہاں ٹھہر ے ہو ئے ہیں اور تجھے اپنی مدد کے لئے دعو ت دے رہے ہیں ان کے ساتھ شامل ہو کر تم بہت بڑے مرتبۂ ثو اب و سعادت پر فائز ہو سکتے ہو ، عبید اللہ نے کہا خدا قسم میں جب کوفہ سے نکلا تو لوگوں کی اکثریت امام حسینؑ اور آپ کے ساتھیوں کے خلا ف جنگ کے لئے تیار ہو رہی تھی ، مجھے یقین ہے کہ حسین اس جنگ میں قتل ہو جا ئیں گے اور میں ان کی مدد کی طا قت نہیں رکھتا اور میں ان سے ملاقات بھی نہیں کر نا چاہتا ، حجاج اما مؑ کے پا س وا پس آگئے اور عبیدا للہ کا جواب آپ کی خد مت میں پہنچا دیا ، اما م پا کؑ خو داپنے بعض سا تھیوں کے ساتھ عبیدا للہ کے پا س تشریف لے گئے اس نے اما م کا استقبا ل کیا اور سلا م کیا ، حضر ت نے اسے فر ما یا تم نے اپنی زند گی میں بہت زیادہ گنا ہ کئے ہیں اوربہت زیا دہ غلطیاں کی ہیں کیا
گناہوں سے توبہ کرنا اور پا کیز ہ ہونا نہیں چاہتے ؟ عبیدا للہ نے عرض کیا کیسے توبہ کر وں ؟
اما م نے فر ما یا :
تنصر ابن بنت نبیک و تقاتل معہ۔
’’دختر رسول ؐ کے بیٹے کی مدد کر و اور اس کی رکا ب میں اس کے دشمنوں سے جنگ کر و‘‘
(۱۲)تاریخ طبری ، ج۷، ص ۱۶۷
عبیدا للہ نے کہا خدا کی قسم میں جا نتا ہوں جو بھی آپ کے حکم کی پیر و ی کرے گا اسے ابدی سعا دت و خو ش بختی نصیب ہو گی، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ میری مدد سے آپ کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہو ، آپ کو خدا کی قسم مجھے اس امر سے معاف رکھیں ، کیونکہ میں مر نا نہیں چاہتا ہاں میر ا گھوڑا جو کہ دوڑنے میں معروف ہے اسے قبو ل کر لیں ، حضر ت نے فر ما یا جب تم اپنی جان ہماری را ہ میں نثا ر نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں بھی نہ تمہاری ضرورت ہے نہ تمہارے گھوڑے کی ،عبیدا للہ آخر عمر تک ایسی عظیم سعا دت کو ضا ئع کر نے پر افسوس کر تا رہا ،اگر آئمہ معصو مینؑکے طرز عمل کو غور سے ملاحظہ کریں تو جنگ و صلح اور حرکت و سکو ن میں ان کے کر دا ر کا ملاحظہ کرنے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آئمہ راہ انبیاء کا ہی تسلسل تھے، ان کا ہدف انسانوں کی رہائی اورغرق ہونے والوں کی نجات کے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔یہ ہد ف کبھی عمومی طو ر پر پو را کر تے اور کبھی خصوصی طور پر ۔
اما م حسینؑکا عبیدا للہ کے پا س جا نا طبیب کا بیما ر کے پا س جا نا تھا ، اولیا ئے الٰہی کی لغت میں ایک فر د کو نجا ت دلا نا اور اسے کاروا ن کما ل و سعادت میں شامل کر نا ،ان کے لئے بہت اہمیت رکھتا تھا ، یہ کام اسی مقد س قیا م کی خا طر تھا جس کے راستے میں سیدالشہداء نے اپنا سب کچھ قربا ن کر دیا ، لیکن جب اما م دیکھتے ہیں کہ عبیدا للہ نے آپ کے مقصد کا ادرا ک نہیں کیا اورا پنا گھو ڑا پیش کر کے اس نے ثا بت کر دیا کہ وہ صرف مادی سطح تک ہی پہنچا ہے اور کا میابی و ناکامی کو ظا ہر ی طو ر پر دیکھ رہا ہے تو حضر ت نے فر ما یا کہ مجھے نہ
تمہاری ضرورت ہے نہ تمہا رے گھوڑ ے کی ۔ (۱۳)
جو ن اما م حسینؑ کا سیاہ غلام
دوسری طرف جو ن جیسے افرا د بھی کربلا و عا شورہ میں حا ضر ہیں ـ،جو ن ایک سیاہ غلام تھے جنہیں حضر ت علیؑنے خرید کر ابو ذر غفا ری کو بخش دیا تھا ۔ جو ن ۳۲ ہجری تک ابو ذر کے ہمرا ہ تھے کہ جب ابو ذر ر بذہ کے بے آب و گیا صحر ا میں جلا و طنی کی حالت میں وفات پاگئے ، اس کے بعد جو ن حضر ت علیؑ کے پا س وا پس آ گئے اور آپ کی خدمت گذا ری کے افتخار سے مفتخر ہو ئے، مو لا کے بعد آپ اما م حسن علیہ السلام کی خد مت میں تھے ، ان کے بعد اما م حسین علیہ السلام کی خدمت میں تھے اورپھر سیدالساجدین اما م زین العا بدینؑکے خادم قرا ر پائے اور انہی کے ہمرا ہ تھے جب کر بلا پہنچے ۔
عا شورہ کے دن جب جنگ کی بھٹی گرم ہو گئی اور غلا م سیا ہ کا نورا نی دل سیدالشہداء کی مظلومیت پر غم زدہ و ملو ل ہو گیا تو اس نے آکر اما م سے اذن جہا د طلب کیا ۔تو امام نے فر ما یاـ:
’’ میں تجھے واپس چلے جا نے کی اجا ز ت دیتا ہو ں کیو نکہ تم تو ہمارے سا تھ ہو ئے آرام و سکو ن کی خاطر نہ کہ جنگ و مصا ئب کی خا طر، لہٰذا ہما را سا تھ دینا ضرور ی نہیں ہے‘‘
اس رو شن دل غلا م نے خو د کو مو لا کے قد موں پر گر ا دیا اور حضر ت کے پاؤ ں کے بوسے دیتے ہو ئے عرض کیا’’ اے نواسۂ رسول یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نعمت و آسا ئش میں تو آپ کے ہمرا ہ رہوں اور مشکلات و سختیوں میں چھو ڑ کر چلا جا ؤ ں ۔ خدا کی قسم میرے بد ن کی بو ا چھی نہیں ، میری نسل پست ہے اور میری جلد کا رنگ سیاہ ہے، لیکن خدا کی قسم میں ہر گز آپ سے جدا نہیں ہوں گا یہاں تک میرا سیا ہ خون آپ کے خو ن کے ساتھ مل جا ئے، بالآخر جو ن نے اما م حسینؑ سے اجاز ت لی ، میدا ن میں گئے اور بڑی شجاعت و دلیر ی سے جنگ کی، بالا ٓخر جام شہادت نوش کیا۔
سید الشہداء کے سا تھیوں کے لئے سب سے بڑ ی لذت یہ تھی کہ جب زند گی کے آخر ی لمحوں میں آنکھیں کھولتے تو سیدا لشہدا ء کا رخ انور انہیں اپنے سر ھا نے نظر آتا ۔
سخنان امام حسین از مدینہ تا کربلا ،ص۱۶۵
سید الشہداء کے سا تھیوں کے لئے سب سے بڑ ی لذت یہ تھی کہ جب زند گی کے آخر ی لمحوں میں آنکھیں کھولتے تو سیدا لشہدا ء کا رخ انور انہیں اپنے سر ھا نے نظر آتا ۔ اس نقد جنت کو دیکھ کر مو ت ان کے لئے شہد سے زیا دہ شیر یں اور گوا را ہو جا تی ہے ۔
گر طبیبانہ آئی بہ سر بالینم
بہ دو عالم ندھم لذت بیماری را
اما م پا ک جو ن کے سر ھا نے تشر یف لا ئے اور دعا فر ما ئی :
اللھم بیض وجھہ و طیب ریحہ واحشر ہ مع الا برار و عرف بینہ وبین محمد وآل محمد (۱۴)
’’خدا یا اس کا چہر ہ سفید کر دے ، اسے خوشبو عطا فرما ، اسے پرہیزگاروں کے ساتھ محشو ر فر ما اوراس کے اور محمدؐ وا ٓل محمدؐکے درمیا ن پہچا ن کا رابطہ بر قرا ر فر ما ‘‘
اما م کی یہ دعا یوں مستجا ب ہو ئی کہ اس کا اثر اسی دنیا میں ظاہر ہو گیا، جیسا کہ اما م محمد باقر علیہ السلام اپنے پد ر بز ر گو ار سے نقل فر ما تے ہیں کہ جب لوگ شہدا ئے کر بلاکی تدفین کے لئے آئے تو جو ن کا بد ن انہیں دس دن کے بعد ملا اورا س سے مشک و عبنر کی خوشبو ئیں پھو ٹ رہی تھیں ـ ۔(۱۵)
ترکی غلا م
ایک اور غلا م جو کہ تر کی غلا م کے نا م سے معر و ف تھے بھی کربلا ء میں تھے ۔ جب وہ زخمی ہو کر گرے اور اما م اس کے سر ھا نے تشر یف لا ئے اور گر یہ فر ما یا اور وہی کام کیا جوآپ نے اپنے شبیہ رسول بیٹے علی اکبر کے ساتھ کیا یعنی اما م نے اپنا چہرہ اس غلا م کے چہرے پر رکھ دیا ، اما م کا یہ کام اس غلا م کے لئے اس حد تک ناقابل یقین تھا کہ اس نے آخر ی وقت میں تبسم کیا اور اس کی روح قفس عنصر ی سے پرواز کر گئی۔ (۱۶)
اما م پا کؑ نے اس عمل سے ثا بت کر دیا کہ آپ کو اپنے پا ک و مخلص سا تھیوں سے
(۱۴)بحارالانوار ، ج۴۵، ص ۳۲
(۱۵)حوالہ سابق (۱۶)فروغ شہادت ، ص ۲۱۴
اما م پا کؑ نے اس عمل سے ثا بت کر دیا کہ آپ کو اپنے پا ک و مخلص سا تھیوں سے کس حد تک محبت تھی ، اقدا ر کی حفا ظت اور حق کی برپا ئی کے را ستے میں اپنے و غیر اور سیاہ وسفید میں کوئی فرق نہیں ہے سب کا رنگ خدا ئی ہے اور سب میں وجہ مشتر ک تقویٰ ہے۔