Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، جو تجارت کرنا چاہتا ہے اُسے پہلے اپنے دین کو سمجھنا چاہئے، تاکہ وہ حلال و حرام کو پہچان سکے، کیونکہ جو شخص دین کو سمجھے بغیر تجارت کرے گا وہ شکو ک و شبہات میں گھر جائے گا۔ وسائل الشیعۃ حدیث22797

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

کر بلا میں ظلم کی جڑیں (عوامل)

سوال ۶۵: کربلا میں جوظلم و ستم ہوا، خود سید الشہداء نے اس بارے میں کیا فرمایا ؟کیوں کہ اس کی جو وجوہ آپ بیا ن فر مائیں گے وہ ہی حقیقت وواقعیت ہوں گی ؟
جواب : انسا نوں میں ظلم و ستم اور در ند گی ،قساوت قلبی اور سنگ دلی سے پید ا ہوتی ہے، قساوت قلبی و سنگ دلی کے کئی عوا مل ہیں لیکن ان میں سے سب سے زیا دہ تا ثیر حرا م غذا کی ہے ، دل کی موت ، فطرت الٰہی پر حجا بوں کا طا ری ہو جا نا ، حق کی طرف میلان پیدا نہ ہو نا اور خدا و اولیا ء الٰہی سے دشمنی و عنا د،حرا م خوری کے ہی ثمرا ت میں سے ہے اور دین اسلام میں عبا دت کا مفہوم اس حد تک وسیع ہے کہ حرا م کھا نے سے پر ہیز کو بہت بڑ ی عبادت شما ر کیا گیا ہے ۔ اس کے مقابل حرام کھا نے کو بہت بڑ ا گنا ہ شما ر کیا گیا ہے ۔
اما م محمد با قرعلیہ السلام ایک حدیث میں فر ما تے ہیں ــ:
ما عباد ۃ افضل عندا للّٰہ من عفۃ بطن وفرج
(۹) بحا ر الا نوار، ج۴۴ ص ۳۹۲
’’پیٹ اور شر م گا ہ کوحرا م سے بچا نے سے بڑ ھ کر کوئی عبا دت نہیں ہے‘‘(۱)
ایک اوروجہ جو کہ حرا م خو ری ہی سے پیدا ہو تی ہے، حق و با طل میں تمیز کو کھو دینا ہے ۔ اسے قرآن کریم اور ارشا دات معصو مینؑ میں دلوں پر مہر لگنے سے تعبیر کیا گیا ہے، اس کے نتا ئج میں سے باطل پر اصرار ، حق کے مقا بل ہٹ دہر می ، ظلم و ستم اور کفر جیسے امور ہیں ،امام حسینؑ نے عاشورہ کے دن کہ جب لشکر انہیں نگینے کی طرح گھیر چکا تھا ایک خطبے میں انہی دوعوا مل کی طرف اشا ر ہ فر ما تے ہیں :
فمن اطا عنی کان من المر شدین ومن عصانی کا ن من المھلکین کلکم عا ص المر ی غیر مستمع قولی ،
فقد ملئت بطو نکم من الحرا م و طبع علی قلوبکم ۔
’’جومیری اطاعت کرے گا وہ ہدایت یافتہ ہے اورجومیری مخالفت کرے گا وہ ہلا ک ہو جا ئے گا ،لیکن تم سب میر ی مخالفت کر و گے اور میر ی بات پر تو جہ نہیں کر و گے کیونکہ تمہارے پیٹ حرا م سے بھر چکے ہیں اور تمہا رے دلوں پر مہر لگ چکی ہے ، افسوس ہے تم پر کیوں خاموش ہو کر سنتے نہیں ہو‘‘(۲)
تیسرا عامل جو کہ تما م انحرا فات کی اصلی ترین وجہ ہے خدا وند سے غفلت اور حق کو بھلا دینا ہے ، ذکر خدا ہر کما ل و سعا دت کا سر چشمہ ہے جب انسا ن یادخدا میں ہے تو اس کی مثال اس قطرہ کی سی ہے جو عظمت ، کما ل اور خو بصور تی کے بحر بیکران سے متصل ہوچکاہے، وجود کے تنگ حصا ر سے نکل چکا ہے اور نمو د و صفا ء کی بے کراں فضا ؤں میں پرواز کر رہا ہے اور غفلت کی حالت میں اس کی مثا ل اس گڑ ھے والی ہے جس میں پا نی ٹھہرا ہو ا ہے اور آب حیا ت کے چشمے سے کٹ چکا ہے جو با لا ٓخر خراب ہو کر بد بو دا رہو جا ئے گا ۔
(۱)وسائل الشیعہ ، ج۱۱، ص ۱۹۷، باب ۲۲
(۲)بحارالانوار ، ج ۴۵ ، ص ۸
یادِحق وخدا سے خالی جان و روح شیطا ن کے لئے بہترین چرا ہ گا ہ ہے اور اس کے چیلو ں کے لئے کھیلنے کا میدا ن ہے ، ایسے ہی دل میں گنا ہ و عصیا ن کا بیج بڑے سکون سے خوب شاخ و برگ نکا لتا ہے اور کچھ ہی عر صے میں انسا ن دام شیطا ن کااسیر ہو جاتا ہے اور اس کے گروہ میں داخل ہو جاتا ہے۔
اما م حسینؑ نے اپنے خطبے میں دشمن کے سامنے اسے مخاطب قرار دیتے ہو ئے ارشا د فرمایا :
ولقدا ستحوذ علیکم الشیطان فا نسا کم ذکر اللّٰہ العظیم ۔(۳)
’’شیطا ن نے تمہار ے اوپر قبضہ جما لیا ہے جس کی وجہ سے اس نے تمہیں یا دخدا سے غافل کر دیا ہے‘‘
امام حسینؑ کا یہ فر ما ن قرآن پا ک کی آیت کا مضمو ن ہے کہ خدا فرما تا ہے :
’’شیطا ن نے سختی سے تمہا را احاطہ کر لیا ہے لہٰذا اس نے ذکر خدا تمہیں بھلا دیا ہے یہ لو گ گروہ شیطا ن ہیں اور یاد رکھو گروہ شیطان ہی خسارے میں ہے‘‘(۴)
اما م حسینؑکا یہ کلا م صدیوں پر محیط اور تما م زما نے کے انسانوں کے لئے ایک پیغام ہے، خزانۂ سعادت ہے اور تما م انحرا ف اور گنا ہ جو کہ ہر طرح کے ظلم و جنا یت کا باعث ہیں کی تند و تیز دھار کے سا منے صرف یہی سپر ہے۔