Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، جس بندے میں چار خصلتیں پائی جاتی ہیں اس کا ایمان کامل ہوتا ہے، اس کا اخلاق اچھا ہو، خود کو حقیر سمجھے، فضول باتوں سے بچا رہے اور اپنے بچے ہوئے مال کو خرچ کردے بحارالانوار کتاب الایمان والکفر باب14

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

عا شورہ کی نماز

سوا ل ۶۴: عا شو رہ کے دن دشمن کے لشکر کے سا منے اما م حسینؑ کوظہرکی نما ز ادا کر نے کی کیاضرورت تھی کہ جس کی وجہ سے آپ کے بعض سا تھی شہید ہو گئے؟
جو اب :نما ز دین کا ستو ن ہے(۱)اور عبد و مو لیٰ کے درمیا ن مضبو ط تر ین تعلق ہے، مومن کی پہچا ن نما ز سے ہو تی ہے، نما ز کی سیڑھی کے ذریعے عبد او پر چڑھتا ہے اور بساط قرب الٰہی پر قدم رکھتا ہے۔ (۲)
نما ز خدا کے ساتھ انس اور رسول ؐ خدا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، (۳)
نما ز انبیا ئے الٰہی کی پہلی اور آخری وصیت تھی،(۴)
نما ز ہی بر ائی ا ور گنا ہ سے روکنے والی ہے ،(۵)
حتیٰ کہ نا قص ترین نما ز بھی انسا ن اورگنا ہ کے درمیا ن حائل ہو جا تی ہے ،(۶)
معا ویہ بن وہب اما م صا دق علیہ السلا م کے صحابی ہیں وہ آپؑ سے سوا ل کر تے ہیں وہ کون سی چیز ہے جو بند وں کو سب سے زیا دہ خدا کے نزدیک کر تی ہے اور سب سے زیادہ خدا کو محبوب ہے ؟
تو آپ نے فر ما یا :
(۱) میز ان الحکمۃ، ج۵، ص ۳۶۸ حدیث ۱۰۲۴۳
(۲) حوالہ سابق ، حدیث ۱۰۲۳۸
(۳) حوالہ سابق، ص ۳۶۷،حدیث ۱۰۲۳۵
(۴) حوالہ سابق ، ح ۱۰۲۳۴
ما اعلم شیئا بعد المعر فۃ افضل من ھذ ہ الصلاۃ(۷)
’’خدا کی معرفت کے بعد نما ز سے زیادہ میں کسی چیز کو افضل نہیں سمجھتا‘‘
اما م حسین علیہ السلام کی یہ نہضت حق کے قا ئم کر نے ، دین خدا کے زند ہ کر نے اور اسے ظالموں ، خواہشا ت پرستوں اور خرافات کا شکا ر افرا د کے پنجوں سے نجا ت دلا نے کی خاطر تھی۔
جب نما ز دین کا ستو ن ہے تو پھر دین و شر یعت محمد ی کا محافظ و نگہبا ن کربلا کے خونی معرکے کے دورا ن دشمن کی مسلسل یلغا ر کے سا منے اس دین کے ستو ن کو نماز عشق پڑھ کر کیوں نہ محکم و استو ا ر کرے ؟ ابو ثمامہ صیدا وی جو کہ اپنے مو لا کی محبت میں جا ن کی پروا نہیں کر تے ، ظہر عاشورہ کو دشمن کے شد ید محا صرے کے دو را ن اپنے مو لا سے عرض کر تے ہیں کہ مولا نما ز ظہر کا وقت ہو چکا ہے اور خو اہش کر تا ہوں کہ زند گی کی یہ آخری نما ز اپنے امام کی اقتدا ء میں پڑ ھ کرا پنے معبو د کے حضو ر حاضر ی دوں ، امام حسینؑ اس کے جوا ب میں فر ما تے ہیں تم نے نما ز کا وقت مجھے بتلایا ہے خداوند تجھے نمازیوں میں قرا ر دے۔(۸)
اما م حسینؑ نے معر کے کے دو را ن اپنے با قی ما ند ہ سا تھیوں کے ہمرا ہ دشمن کے تیروں کے سا منے نما ز ظہر ادا کی ، بعض اصحا ب نما ز کے دور ان ہی زخمی ہو کر گر ے اور شہید ہو گئے۔
سید ا لشہد اء اور آپ کے سا تھیوں کی شب عا شور ہ عبا دت و منا جا ت اور تلاوت قرآن کی آوازوں نے بند گی کا وہ خو بصورت منظر پیش کیا کہ جس کی مثال نہیں ملتی ۔
(۵) عنکبو ت / ۴۵
(۶) میز ان الحکمۃ، ج۵ ص ۳۷۱ حدیث ۱۰۲۵۴
(۷) حوالہ سابق، ص ۳۶۹ حدیث ۱۰۲۴۵
اما م حسینؑ نے نما ز سے عشق و محبت اور معبو د کے سا تھ را ز و نیا ز کو اپنے پدرِ بزرگو ا ر سے میراث میں پایا ، ابن عبا س نے جنگ صفین کے سخت ترین لمحات میں حضرت امیرؑ کو دیکھا کہ آپ آسما ن کی طر ف با ر با ر دیکھتے ہیں ، سوا ل کیا مو لا کسی چیز کا انتظا ر ہے؟ فر ما یا میں نما ز کے وقت کا منتظر ہوں ، ابن عبا س نے عرض کیا مولا اس وقت ہم جنگ چھوڑ کر کیسے نما ز کے لئے کھڑے ہو سکتے ہیں ، تو مو لا نے فرما یا :
انما قا تلنا ھم علی الصلوۃ
’’ ہماری ان شامیوں کے ساتھ جنگ ہی نما ز کی خا طر ہے‘‘
اب آپ ذرا غو ر کریں جب ہمار ے پیشو ا جنگ و جہا د کے میدا ن میں بھی نما ز کو اس طرح اہمیت دیتے ہیں تو ہم گھروں میں بیٹھ کر نما ز کے بارے میں سستی و کاہلی کا مظاہرہ کریں یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ بات عقل میں کیسے سما سکتی ہے کہ ہم ان پا کیزہ ہستیوں کے ساتھ عشق و محبت کا اظہا ر کریں اور خو د کو ان کا پیر و، تا بع اور مطیع شما ر کریں اور پھر نماز کے بجا لانے سے پہلو تہی کریں ، جو ان ذوات مقدسہ کے لئے مقصد حیا ت رہی اور جنگ کے میدا نوں میں بھی اس کی اہمیت لوگوں کو بتلاتے رہے اور اسے وجہ جنگ ارشا د فرماتے
رہے۔
اپنے آپ سے سو ال کریں کہ نما ز اور خدا کے ساتھ را ز و نیاز میں ایسی کو ن سی لذت اور راز پنہا ں ہے کہ اما م حسین علیہ السلام کہ جنہوں نے دشمن کی یہ حسر ت پو ر ی نہ ہونے دی کہ آپ ان کے سامنے جھک جا ئیں اور مشہو ر جملہ ’’ہیہا ت منا الذلۃ ‘‘ ارشاد فرمایاجو رہتی دنیا تک جبینِ وقت پر لکھا ہے اور آزا دی پسند افراد کو در س آزادی و انقلا ب دے رہا ہے،۹ محر م کی عصر کو جب دشمن کا لشکر خیام حسینی کی طرف بڑھا تو آپ نے اپنے بھا ئی عباس سے فر ما یا ـ:
(۸)بحار الا نوار ، ج۴۵، ص ۲۱
’’ ا ن سے کل تک جنگ مؤ خر کر نے کا کہیں ‘‘
لعلنا نصلی لربنا وندعوہ ونستغفرہ ، فھو یعلم انی کنت ا حب الصلا ۃ و تلاوۃ کتابہ وکثرۃ الدعاء والاستغفار(۹)
’’آج کی رات ہم خدا کی بار گا ہ میں عبا دت ،دعا و استغفا ر میں گذارنا چاہتے ہیں ،میرا پروردگار جا نتا ہے کہ میں اس کے حضور نما ز ، تلا وت قر آن ، دعا اور استغفا ر کو کتنا پسند کر تا ہوں ‘‘
خدا وند کے حضو ر نما ز اور را ز و نیا ز میں کیسی لذت تھی کہ سیدالشہد اء اس کی خا طر دشمن سے جنگ مو ٔ خر کر نے کا سوا ل کر تے ہیں ـ ۔