Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، مومن، غیرت مند اور کریم ہوتا ہے جبکہ فاسق و فاجر ، دھوکے باز اور کمینہ ہوتا ہے۔ کنزالعمال حدیث681، مستدرک الوسائل حدیث9970

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

عا شورہ کی نماز

سوا ل ۶۴: عا شو رہ کے دن دشمن کے لشکر کے سا منے اما م حسینؑ کوظہرکی نما ز ادا کر نے کی کیاضرورت تھی کہ جس کی وجہ سے آپ کے بعض سا تھی شہید ہو گئے؟
جو اب :نما ز دین کا ستو ن ہے(۱)اور عبد و مو لیٰ کے درمیا ن مضبو ط تر ین تعلق ہے، مومن کی پہچا ن نما ز سے ہو تی ہے، نما ز کی سیڑھی کے ذریعے عبد او پر چڑھتا ہے اور بساط قرب الٰہی پر قدم رکھتا ہے۔ (۲)
نما ز خدا کے ساتھ انس اور رسول ؐ خدا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، (۳)
نما ز انبیا ئے الٰہی کی پہلی اور آخری وصیت تھی،(۴)
نما ز ہی بر ائی ا ور گنا ہ سے روکنے والی ہے ،(۵)
حتیٰ کہ نا قص ترین نما ز بھی انسا ن اورگنا ہ کے درمیا ن حائل ہو جا تی ہے ،(۶)
معا ویہ بن وہب اما م صا دق علیہ السلا م کے صحابی ہیں وہ آپؑ سے سوا ل کر تے ہیں وہ کون سی چیز ہے جو بند وں کو سب سے زیا دہ خدا کے نزدیک کر تی ہے اور سب سے زیادہ خدا کو محبوب ہے ؟
تو آپ نے فر ما یا :
(۱) میز ان الحکمۃ، ج۵، ص ۳۶۸ حدیث ۱۰۲۴۳
(۲) حوالہ سابق ، حدیث ۱۰۲۳۸
(۳) حوالہ سابق، ص ۳۶۷،حدیث ۱۰۲۳۵
(۴) حوالہ سابق ، ح ۱۰۲۳۴
ما اعلم شیئا بعد المعر فۃ افضل من ھذ ہ الصلاۃ(۷)
’’خدا کی معرفت کے بعد نما ز سے زیادہ میں کسی چیز کو افضل نہیں سمجھتا‘‘
اما م حسین علیہ السلام کی یہ نہضت حق کے قا ئم کر نے ، دین خدا کے زند ہ کر نے اور اسے ظالموں ، خواہشا ت پرستوں اور خرافات کا شکا ر افرا د کے پنجوں سے نجا ت دلا نے کی خاطر تھی۔
جب نما ز دین کا ستو ن ہے تو پھر دین و شر یعت محمد ی کا محافظ و نگہبا ن کربلا کے خونی معرکے کے دورا ن دشمن کی مسلسل یلغا ر کے سا منے اس دین کے ستو ن کو نماز عشق پڑھ کر کیوں نہ محکم و استو ا ر کرے ؟ ابو ثمامہ صیدا وی جو کہ اپنے مو لا کی محبت میں جا ن کی پروا نہیں کر تے ، ظہر عاشورہ کو دشمن کے شد ید محا صرے کے دو را ن اپنے مو لا سے عرض کر تے ہیں کہ مولا نما ز ظہر کا وقت ہو چکا ہے اور خو اہش کر تا ہوں کہ زند گی کی یہ آخری نما ز اپنے امام کی اقتدا ء میں پڑ ھ کرا پنے معبو د کے حضو ر حاضر ی دوں ، امام حسینؑ اس کے جوا ب میں فر ما تے ہیں تم نے نما ز کا وقت مجھے بتلایا ہے خداوند تجھے نمازیوں میں قرا ر دے۔(۸)
اما م حسینؑ نے معر کے کے دو را ن اپنے با قی ما ند ہ سا تھیوں کے ہمرا ہ دشمن کے تیروں کے سا منے نما ز ظہر ادا کی ، بعض اصحا ب نما ز کے دور ان ہی زخمی ہو کر گر ے اور شہید ہو گئے۔
سید ا لشہد اء اور آپ کے سا تھیوں کی شب عا شور ہ عبا دت و منا جا ت اور تلاوت قرآن کی آوازوں نے بند گی کا وہ خو بصورت منظر پیش کیا کہ جس کی مثال نہیں ملتی ۔
(۵) عنکبو ت / ۴۵
(۶) میز ان الحکمۃ، ج۵ ص ۳۷۱ حدیث ۱۰۲۵۴
(۷) حوالہ سابق، ص ۳۶۹ حدیث ۱۰۲۴۵
اما م حسینؑ نے نما ز سے عشق و محبت اور معبو د کے سا تھ را ز و نیا ز کو اپنے پدرِ بزرگو ا ر سے میراث میں پایا ، ابن عبا س نے جنگ صفین کے سخت ترین لمحات میں حضرت امیرؑ کو دیکھا کہ آپ آسما ن کی طر ف با ر با ر دیکھتے ہیں ، سوا ل کیا مو لا کسی چیز کا انتظا ر ہے؟ فر ما یا میں نما ز کے وقت کا منتظر ہوں ، ابن عبا س نے عرض کیا مولا اس وقت ہم جنگ چھوڑ کر کیسے نما ز کے لئے کھڑے ہو سکتے ہیں ، تو مو لا نے فرما یا :
انما قا تلنا ھم علی الصلوۃ
’’ ہماری ان شامیوں کے ساتھ جنگ ہی نما ز کی خا طر ہے‘‘
اب آپ ذرا غو ر کریں جب ہمار ے پیشو ا جنگ و جہا د کے میدا ن میں بھی نما ز کو اس طرح اہمیت دیتے ہیں تو ہم گھروں میں بیٹھ کر نما ز کے بارے میں سستی و کاہلی کا مظاہرہ کریں یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ بات عقل میں کیسے سما سکتی ہے کہ ہم ان پا کیزہ ہستیوں کے ساتھ عشق و محبت کا اظہا ر کریں اور خو د کو ان کا پیر و، تا بع اور مطیع شما ر کریں اور پھر نماز کے بجا لانے سے پہلو تہی کریں ، جو ان ذوات مقدسہ کے لئے مقصد حیا ت رہی اور جنگ کے میدا نوں میں بھی اس کی اہمیت لوگوں کو بتلاتے رہے اور اسے وجہ جنگ ارشا د فرماتے
رہے۔
اپنے آپ سے سو ال کریں کہ نما ز اور خدا کے ساتھ را ز و نیاز میں ایسی کو ن سی لذت اور راز پنہا ں ہے کہ اما م حسین علیہ السلام کہ جنہوں نے دشمن کی یہ حسر ت پو ر ی نہ ہونے دی کہ آپ ان کے سامنے جھک جا ئیں اور مشہو ر جملہ ’’ہیہا ت منا الذلۃ ‘‘ ارشاد فرمایاجو رہتی دنیا تک جبینِ وقت پر لکھا ہے اور آزا دی پسند افراد کو در س آزادی و انقلا ب دے رہا ہے،۹ محر م کی عصر کو جب دشمن کا لشکر خیام حسینی کی طرف بڑھا تو آپ نے اپنے بھا ئی عباس سے فر ما یا ـ:
(۸)بحار الا نوار ، ج۴۵، ص ۲۱
’’ ا ن سے کل تک جنگ مؤ خر کر نے کا کہیں ‘‘
لعلنا نصلی لربنا وندعوہ ونستغفرہ ، فھو یعلم انی کنت ا حب الصلا ۃ و تلاوۃ کتابہ وکثرۃ الدعاء والاستغفار(۹)
’’آج کی رات ہم خدا کی بار گا ہ میں عبا دت ،دعا و استغفا ر میں گذارنا چاہتے ہیں ،میرا پروردگار جا نتا ہے کہ میں اس کے حضور نما ز ، تلا وت قر آن ، دعا اور استغفا ر کو کتنا پسند کر تا ہوں ‘‘
خدا وند کے حضو ر نما ز اور را ز و نیا ز میں کیسی لذت تھی کہ سیدالشہد اء اس کی خا طر دشمن سے جنگ مو ٔ خر کر نے کا سوا ل کر تے ہیں ـ ۔