Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، تونگری اور خوشحالی پر خوشیاں نہ مناؤ اور فقر و آزمائش سے مت گھبراؤ ، اس لیے کہ سونے کو آگ کے ذریعے سے اور مومن کو آزمائش کے ذریعے سے جانچا جاتا ہے۔ غررالحکم حدیث10394

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

امام حسین علیہ السلام کی ہمدردی

سوال ۶۳ : جب امام حسین علیہ السلام یہ جانتے تھے کہ دشمن ان کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا پھر بھی آخری سانس تک آپ انہیں نصیحت کیوں فرماتے رہے اوران کے ساتھ اظہار ہمدردی کیوں کرتے رہے؟
جواب:خدا کی مخلوق پر شفقت اورہمدردی انبیائے الٰہی اوراولیاء خدا کی واضح خصوصیات میں سے ہے ، آیات قرآن اورتاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء و اولیاء کے لئے لوگوں کی گمراہی ناقابل تصور حد تک تکلیف دہ تھی اور وہ لوگوں سے اظہار ہمدردی کرتے رہتے تھے ، وہ جب یہ صورت حال دیکھتے کہ پیاسے آب گوارا کے چشموں کے کنارے پر بیٹھ کر پیاس سے بلبلا رہے ہیں تو ا س سے تکلیف محسوس کرتے اورآنسو بہاتے اوران کی ہدایت کے لئے دعا کرتے، لوگوں کا راہ حق وصراط مستقیم سے منحرف ہو کر کفرو باطل کے راستوں پر چل نکلنا ان کے دلوں پر بے پناہ تکلیف کا باعث تھا ، رسول اکرم ؐ کی لطیف روح پر بھی لوگوں کی گمراہی و نادانی سے اس حد تک دباؤ پڑتا کہ غم کی شد ت کی وجہ سے آپ کی جان خطرے میں پڑجاتی خداوند آپ کو تسلی دیتے ہو ئے ارشاد فر ما تا :
لعلک باخع نفسک الا یکونو ا مو منین(۱)
’’آپ اپنی جا ن ہا ر دیں گے اس پر کہ لو گ ایما ن کیوں نہیں لا تے ‘‘
(۲)نجمی ، محمد صادق ، سخنان حسین بن علی از مدینہ تا کربلا
جب تک آسمانی رہبروں میں یہ خصو صیت موجود نہ ہو ،رہبریت کا عمیق مفہو م پیدا نہیں ہو سکتا۔
اما م حسین علیہ السلام بھی اسی شجر رسا لت کا ثمر تھے ،آپ رسول ؐ خدا کے فر ز ند اور جزو وجود تھے ، آپ رسول ؐ سے تھے اور رسول آپ سے تھے، جیسا کہ {حسین منی وا نا من حسین} خو د رسول ؐ خدا نے فر ما یا ۔(۲)
حسین تما م کما لا ت رسول ؐ کے وا رث تھے اور آپ کے عالی فضا ئل کا آئینہ تمام نما تھے ، رسول خدا کی رحمت و عطو فت کے سر چشمے وجو د حسینؑ سے ہی پھو ٹ رہے تھے یہی وجہ ہے کہ اما م حسینؑ اپنی پو ری عمر با لخصو ص اپنی پو ری نہضت کے دور ا ن مسلسل لوگوں کو وعظ و نصیحت فر ما تے رہے، حتیٰ کہ دشمنوں کو بھی ہدا یت کر تے رہے ۔
عا شو رہ کے دن جب دشمن کا آپ سے آمنا سا منا ہوا آپ با وجو د اس کے کہ دیکھ رہے تھے کہ دشمن مکمل طو ر پر جنگ پر تیا ر ہو چکا ہے ، اس نے آپ کے خیا م پر پا نی تک بند کر رکھا ہے اوروہ آپ پر حملہ کر نے کے لئے لحظہ شما ری کر رہا ہے ، آپ نے پھر بھی دشمن کو نصیحت کر نے اور بیدا ر کرنے کی آخر ی وقت تک کو شش کی ، وقت نہ ہو نے کے باوجو د اور دشمن کے لشکر کے اس شور شرابے میں آپ نے ایک مفصّل خطبہ ارشا د فر مایا جس کے ہر جملے کو شر ح و سبط کی ضرورت ہے جس میں دشمن کی خیا نت و عنا د کی جڑ یں بیا ن کی گئی ہیں ۔ (۳)
اما م حسینؑ نے تودشمن کے لشکر کے سپہ سالاروں عمر سعد اورشمر ذی الجوشن کو بھی وعظ و نصیحت کرنے کا فریضہ ادا کیا ، عا شو رہ کے دن آپ نے دو لشکر وں کے در میان جب عمرسعد سے ملاقات کی تو فر ما یا :
’’تجھ پر افسو س ہے اے ابن سعد کیا اس خدا سے ڈرتے ہو جس
شعراء / ۳، کہف / ۶
’’تجھ پر افسو س ہے اے ابن سعد کیا اس خدا سے ڈرتے ہو جس کی طرف تمہیں لوٹ کے جا نا ہے اورجب کہ تم یہ بھی جانتے ہو میں کس کا بیٹا ہوں ، مجھ سے جنگ کرتے ہو ، ان کو چھوڑ کر میر ا ساتھ د و تا کہ تمہیں خدا کا قر ب نصیب ہو ، تو عمرسعد نے جو اب میں کہا میں ڈر تا ہوں کہ وہ میرا گھر خرا ب کر دیں گے ، حضر ت نے فر ما یا میں تمہیں گھر بنا دوں گا ، عمرسعدنے کہا مجھے خو ف ہے کہ وہ میرا مال و متا ع چھین لیں گے،اما م پا ک نے فر ما یا ، میں حجاز میں تمہیں اس سے زیادہ مال دو ں گا ، عمر سعد نے کہا مجھے اپنے با ل بچوں کی جا ن کا خطرہ ہے ، تو اما م پا کؑ خا مو ش ہو گئے اوراسے کوئی جو اب نہ دیا ‘‘
واضح ہے سیدا لشہدا ء کی اس ساری گفتگو میں آپ کا مقصد یہی تھا کہ ایک بد نصیب جو اپنے آپ کو یز ید و ابن زیا د کے ہاتھوں فر وخت کر چکا ہے اور حسینؑ کے قتل سے جہنم کے دا ئمی عذا ب سے دو چا ر ہو نے والا ہے نجا ت پا جائے ،اس گفتگو اور نصیحت سے اما م حسینؑ کے دو مقاصد تھے:
۱) دشمن پر اتما م حجت، تا کہ ان کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے،
۲) بعض افرا د کو بیدا ر کر نا جیسا کہ حر بن یز ید ریاحی تھے کہ جن کے دل میں ایمان اور محبت اہل بیتؑ کی روشنی موجود تھی ،
آپ کی اس نصیحت آمیز گفتگو نے لشکر دشمن میں سے بعض افراد کے دلوں پرا ثر بھی کیا اور ان میں سے بعض اما م حسینؑ کے سا تھ آکر شامل ہو گئے اور ابد ی سعا دت وشرف ان کے شامل حال ہو گیاـ۔
ایک گناہ گار ، سنگ دل اور بے رحم دشمن کے مقا بل اسی طرح کی محبت و شفقت الٰہی
(۳)سخنان امام حسین علیہ السلام ازمدینہ تا کربلا، ص ۲۱۹
ایک گناہ گار ، سنگ دل اور بے رحم دشمن کے مقا بل اسی طرح کی محبت و شفقت الٰہی رہبر کی خصو صیا ت میں سے ہے اور یہ فر زند زہر ا ء کی روش تھی کہ جو راستہ خدا وند نے آپ کے لئے معین فرما دیا تھا ،سخت ترین حالا ت میں بھی آپ بال برابر بھی ا س سے الگ نہیں ہوئے ۔