Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، گناہوں پر پشیمان ہونا، دوبارہ گناہ کرنے سے روک دیتا ہے۔ مستدرک الوسائل حدیث 13674

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

عا شورہ کے اخلاقی و عرفا نی پہلو

سوا ل ۶۲ : نہضت اما م حسینؑ کے اخلاقی اور عرفانی پہلوؤں کی وضاحت کریں ؟
جواب : آسما ن کر بلا کے ستا روں کی طرح کسی اور آسما ن کے ستا روں نے ایسی عظمت وفضیلت نہیں دیکھی ہو گی ، سور ج جتنا مر دّد ، بے رنگ اور لر زید ہ عا شورہ کے دن تھا اتنا کسی اوردن نہ ہو ا ہوگا، رو ئے زمین کے کسی نقطے پر اس طرح خو بصورتی و بد صورتی ساتھ ساتھ نظر نہ آئی ہو گی جیسے نینوا میں دیکھی گئی ، تاریخ انسانی کے کسی حا د ثے میں انسان و انسا نیت کے لئے اس طرح کاپیغا م نہیں ہو گا، جیسا پیغام واقعہ عا شورہ میں تھا ۔
میدا ن کربلا میں توحید پھر زند ہ ہوئی ،عشق کے معنی معلو م ہو گئے ، قرآن کو حیات نوملی، فرشتوں کے سجد ۂ آدم کے راز سے پر دہ اٹھ گیا ، اور ایک جملے میں خدا وند کی اپنے تمام جلال وجما ل کے سا تھ تجلی ہوئی۔
عباس علیہ السلام نے نہر علقمہ کے کنا رے تشنہ لبوں کے ساتھ ، معرفت ، غیر ت ، حریت ، وفا اور ایثا ر کے چشمے تا ابد حقیقت طلب دلوں کی خشک زمین پر جا ری کر دئیے ۔
کر بلا کے گر م اور خو نی صحرا کے علمدا ر کا علم قیا مت تک باطل کے خلاف حق کی اور بدصورتی و رذیلت کے خلاف خو بصورتی و فضیلت کی فتح و کا مرا نی کا نشان بن کر لہراتا رہے گا ، کربلا مکمل طو ر پر انسا ن سا زی اور معیار معرفت کا مکتب ہے۔
کسی دا نش گا ہ سے اس طرح کا میاب و کا مرا ن افرا د نہیں نکلے جتنے دا نش گا ہ کربلا سے نکلے ،کسی مکتب میں اتنے مختلف شعبوں کے طلبہ نہیں ہو ں گے جتنے کر بلا کے مکتب میں ہیں ، یہاں معرفت ، عشق ، عظمت ، ہد ف کے راستے میں استقا مت ، صبر ، شجاعت اور خالص عبو دیت کی کلاسوں میں پیر و جو ان ، زن و مر د ،طفل وشیر خوا ر اور غلام سیا ہ سب ہی سا تھ ساتھ نظر آتے ہیں اور شہادت کے عظیم معلّم سے در س لیتے نظر آتے ہیں ، وہ متعلمین ان سخت تعلیما ت اور مشکل امتحانات سے اس طرح سر بلند اور سر خرو ہو کر نکلے کہ ان کے نام ان کے پاک اما م کے نام کے ساتھ جرید ہ عالم پر لکھے گئے ہیں اوروہ زیا رت ناحیہ میں امام زما ن کے سلام و درود کے مستحق ٹھہر ے ۔
ہرگز نمیر د آنکہ دلش زندہ شد بہ عشق
ثبت است بر جرید ۂ عالم دوام ما
عاشورہ کا ہر لحظہ معرفت ، فضیلت اور اخلا ق کے عطر سے معطّر ہے اور سر زمین کربلا کا چپہ چپہ حق کے سا منے روح بند گی و تسلیم کی گو اہی دے رہا ہے۔
کر بلا کے جا وید حما سہ کا ور ق ور ق عظمت ، عزت ، عبو دیت اورافتخا ر کے خطوط سے لکھا گیا ہے۔ اس دفتر کے ورق ورق اور سطر سطر کا مطا لعہ تو ہماری اس گفتگو میں نہیں سما سکتا ہم صرف اس کے بعض درخشا ں اوراق ہی کھو ل سکیں گے۔
پہلا : اما م حسینؑ کے اخلاق ، عظمت اور معرفت کی ایک جھلک
اپنے کر دا ر اورگفتا ر کے ذریعے تو حید کی دعو ت ہی تما م الٰہی معا رف کا محو ر اور تمام انبیاء کی دعو ت کی بنیا د رہی ہے اور اما م حسینؑ کے قیا م کے تما م مرا حل ابتدا ء سے انتہا ء تک توحید کے محور پر گھو متے نظر آتے ہیں ـ ،اول سے آخر تک آپ کا کوئی لحظہ یا د خدا اور ذکر خدا سے خالی نظر نہیں آتا، مکہ سے عرا ق کی طرف سفر اختیا ر کر تے وقت آپ نے پہلی
با ت ہی یہ فر ما ئی ’’الحمد للّٰہ وما شا ء اللّٰہ لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ ’اور آپ نے اپنی زند گی کے آخر ی لمحو ں میں جب آپ زخمی بد ن کے سا تھ پیا سے زمین پرگر ے توآسما ن کی طر ف نظر کی اور عر ض کیا :
’’ صبرا علی بقضا ئک یا رب لا معبود سواک یاغیاث المستغثین (۱)
’’خدا یا تجھ سے تیر ی قضا ء پر صبر کا طلب گا ر ہو ں تیر ے علاوہ کوئی معبو د نہیں ہے اے پناہ طلب کر نے والوں کی پنا ہ ‘‘
دوسرا: شر عی ذمہ داری نبھا نا اور انسانی اعلیٰ اقدار کی مضبوطی
جو شخص بھی میدا ن جنگ میں قد م رکھتا ہے اور دشمن کے مقا بل کھڑا ہوتا ہے اس کامقصد اپنی کامیابی اوردشمن کی شکست ہوتا ہے ، اما م حسینؑ کا بھی یہی مقصد تھا لیکن شکست اور کامیابی آپ کی نظر میں ایک الگ مفہو م رکھتی ہے جس کا بعض لو گوں کے لئے سمجھنا مشکل ہے ،یہی وجہ ہے کہ جب آپ کے ایک چاہنے والے طر ماح بن عد ی نے ایک منز ل میں آپ سے ملاقات کی اور آپ نے اس سے کو فہ کے حالا ت پو چھے تو اس نے جواب دیا کوفہ کے بڑے بڑے سردار اور قبا ئل کے رؤسا و سربر اہ ابن زیاد سے بھاری رشو تیں لے کر اس کے ساتھ مل چکے ہیں اور لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں لیکن ان کی تلو ا ریں آپ کے خلاف ہیں ،یا بن رسول اللہ آپ کو خدا کا وا سطہ اس سفر سے وا پس ہو جا ئیں ، آپ قبیلہ بنی طے کی طرف چلے جائیں کہ وہ بڑ ی پر امن اور دشمن کی پہنچ سے دور جگہ ہے۔آپ نے طرما ح کو شرعی ذمہ داری اور انسا نی اقدا ر کی مضبو طی من جملہ عہدوپیمان کی وفا دا ری جیسے اہم نکات کی طرف متو جہ کر تے ہو ئے فر ما یا :
’’میر ے اور اہل کو فہ کے در میا ن عہدو پیما ن ہو ا ہے جس کی وجہ سے میرا لوٹنا نا ممکن ہے دیکھیں نتیجہ کیا نکلتا ہے‘‘
علی سعادت پرور، فروغ شہادت ، ص ۱۸۵
یعنی میں نے کوفہ جاکرلو گوں کی دینی رہنما ئی ورہبریت کا ان سے وعد ہ کر لیا ہے اورانہوں نے بھی ہما ری ہر طرح کی مدد کا وعد ہ کر لیا ہے، اب میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنا وعدہ پورا کر وں اگرچہ اس راہ میں ہر طرح کے خطرات سے دو چا ر ہو نا پڑے ، چاہے کوفہ والے اپنے عہدوپیما ن کا پا س کریں یا نہ کریں ۔(۲)