Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، مومن کا ایمان صرف عمل ہی سے ثابت ہوتا ہے اور عمل ایمان کا حصہ ہے۔ اصول کافی باب فی ان الایمان مثبوت حدیث 6، وسائل الشیعۃ حدیث 20223

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

سوا ل ۶۰ : عا شو رہ کے دن اما م حسین علیہ السلام کے سا رے کام عشق کی منزل پرتھے نہ عقل کی منزل میں ، کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ خلاف عقل تھے؟
جو اب : انسا ن کے اند ر صفا ت رذیلہ اور فضا ئل اخلا قی کے در میا ن مسلسل چپقلش جاری ہے کہ عا م طور پراسے جہا د اکبر کہا جا تا ہے، حالا نکہ یہ جہا داو سط ہے۔
جب انسا ن عقل کے مطا بق کوئی کا م کر نا چاہتا ہے اور ھو یٰ و ہوس اور گنا ہ سے کنارہ کش ہوناچاہتا ہے یہ جہا د اوسط ہے، وہ عا قل رہنا چاہتا ہے ، اس مرحلے کے بعد جہاداکبر کی نوبت آئے گی جو کہ عقل و عشق ، فلسفہ و عرفا ن اور معقو ل اور مشہو ر کے درمیان جہا د ہے ،اس جہا د میں عقل مطالب و مفا ہیم کو رسمیت دیتی ہے ان پر دلیل و برھان قا ئم کرتی ہے اور نتیجہ نکا لتی ہے ،لیکن عشق کبھی بھی مفہو م ( علم حصولی) کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ وہ خود حقیقت اور علم حضور ی کا طا لب ہے، وہ چاہتا ہے جسے سمجھا ہے اسے روح کے سا تھ ادراک کرے اور اس کا مشا ہد ہ کر ے ، اب عقل اور عشق کے در میا ن چپقلش شر و ع ہوتی ہے اوراب جہاد اکبر کی ابتدا ء ہو تی ہے ، البتہ کوئی بھی غلط نہیں ہے،دونوں حق ہیں ،ایک کو حق کہیں گے اور دوسرے کو احق ، ایک خو ب و بہتر دوسرا بہترین و خوب تر ، ایک کا مل ہے، دوسرا اکمل ، اسی لحا ظ سے اولیا ئے الٰہی کے کام عشق کی بنیا د پر ہیں ۔
اما م صادق علیہ السلام نے فر ما یا :
افضل الناس من عشق العبا دۃ ۔(۱)
’’سب سے افضل وہ شخص ہے جس نے عباد ت سے عشق کیا ہو ‘‘
یعنی یہ وہ شخص ہے جس نے عبادت کا مزہ چکھ لیا ہے اور جنت و جہنم کے حقائق کو دیکھ لیا ہے۔
یہ جواب آیت اللہ جوادی آملی سے ہے
عقل دلیل و بر ھا ن کے ساتھ ثابت کر تی ہے کہ جنت وجہنم ہیں ،جب کہ عشق کہتا ہے کہ میں جنت و جہنم کو دیکھنا چاہتا ہوں ، جو شخص دلیل کے سا تھ معا د ، جنت و میز ان وغیرہ پر اعتقاد پیدا کر لیتا ہے وہ عا قل ہے لیکن جو شخص جنت و جہنم کو دیکھنا چاہتا ہے وہ عاشق ہے۔
سیدا لشہدا ء کے کام عا شقا نہ تھے ،عشق جو کہ عقل سے اوپر ہے نہ کہ عقل کے نیچے ہے، ایک دفعہ کہتے ہیں فلان کا م عا قلا نہ نہیں ہے بلکہ وہم وخیا ل کی بنیا د پر ہے، لیکن ایک وقت کہتے ہیں یہ کام نہ صرف یہ کہ عا قلانہ ہے بلکہ اس سے بڑ ھ کر عا شقا نہ ہے یعنی جسے سمجھا اسے اپنے اند ر پا لیا ہے۔
جب انسا ن ایک حقیقت کو پا لیتا ہے اور عا شقا نہ شہو د کے مطا بق آگے بڑ ھتا ہے وہاں عقل کا کر دا ر نہیں ہے ،لیکن اس وجہ سے کہ نور عقل سے ایک بر تر نور کے تحت اشعا ع قرار پا چکا ہے نہ کہ عقل کا نور بجھ چکا ہے۔ دوصورتوں میں عقل بے کار ہو جا تی ہے اور انسان کے کام عقل کے مطا بق نہیں رہتے۔
۱) جب انسا ن غصے ( غضب ) اور شہو ت کا شکا ر ہو کر گنا ہ میں مبتلا ہو جا ئے یہاں کام عاقلا نہ نہیں ہو گا بلکہ احمقا نہ ہو گا ، یہ ایسے ہی ہے جیسے چا ند گہن کا شکا ر ہو جا ئے اور تا ریک ہو جا ئے، اس حالت میں عقل بھی نورا نیت نہیں رکھتی ، گنا ہ گا ر انسا ن کی عقل گہن والے چاند کی مانند ہے، حضر ت علی علیہ السلام نے اسی کی طرف اشا رہ فر ما یا :
کم من عقل اسیر تحت ہو ی امیر (۲)
۲) عقل نو را نیت رکھتی ہے لیکن کا ر آمد نہیں ہے ،یہ اس وقت ہو گا کہ جہاں ایک قو ی ترنو ر کے تحت اشعا ع آجا ئے جیسا کہ ستا ر ے دن کے وقت کا ر آمد نہیں رہتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا نور سو رج کے نور کے تحت اشعا ع آجا تا ہے نہ کہ اب ان میں نورانیت
(۲)اصول کافی ، ج۲
۲) عقل نو را نیت رکھتی ہے لیکن کا ر آمد نہیں ہے ،یہ اس وقت ہو گا کہ جہاں ایک قو ی ترنو ر کے تحت اشعا ع آجا ئے جیسا کہ ستا ر ے دن کے وقت کا ر آمد نہیں رہتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا نور سو رج کے نور کے تحت اشعا ع آجا تا ہے نہ کہ اب ان میں نورانیت نہیں رہی اگر کوئی عا شق ہو جائے توعقل رکھتا ہے ،اس کی عقل کام بھی کر رہی ہے، لیکن نو ر عقل نور عشق کے تحت اشعا ع آچکا ہے ، اما م حسینؑ کے کام بھی عا شورہ کے دن اسی طرح سے تھے نہ صرف عاقلانہ تھے بلکہ اس سے بڑھ کر عا شقا نہ بھی تھے۔