Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، خدا کی قسم نیک لوگ کامیاب ہوگئے، جانتے ہو کہ وہ کون ہیں؟ وہی جو چیونٹی تک کو اذیت نہیں دیتے بحارالانوار ج75ص193،تتمۃ کتاب الروضۃ، ابواب المواعظ والحکم، باب23مواعظ الصادق جعفر بن محمد ؑ

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

سیروسلوک میں گریہ کا کردار

سوال ۸۹ : عرفانی نکتہ نظر سے اما م حسینؑ پر گریہ کو عشق خدا اور سیروسلوک کے ساتھ کیسے ربط دیا جا سکتا ہے؟
جو اب : سالک کو مقا م استغفا ر میں سو ز دل اور با اخلا ص گر یہ کو بہت غنیمت شما ر کر نا چاہیے اور اس کی تحصیل میں خو ب کوشش کر ے اگر وہ اسے حاصل نہ بھی ہو سکے تو کم از کم کیفیت گر یہ ( تباکی ) تو اس پر طا ر ی ہو جا ئے گی ، بہر کیف عبا د ت و سیر و سلوک کی منز ل میں ہر صورت میں مقا م استغفار ہو یا مقا م حال یا کوئی اور حا لت سو ز دل و گر یہ کا اپنا ایک حساب ہے جس کی شرح و تفسیر نا قابل بیا ن ہے ، گر یہ و سوز دل شوق سے ہو یا خوف سے، مقام استغفا ر میں ہو یا مقام تلاوت قرآن میں یا ان کا استما ع ہو ، سجد ہ کی حالت میں ہو یااس کے علا وہ جہاں بھی ہو ،انسا ن کے ادراک اور فہم و شعو ر سے سر چشمہ پا تا ہے ،جوسمجھتا ہے وہ تپش محسو س کر تا ہے اور آنسو بہاتا ہے اور جو نہیں سمجھتا نہ جلتا ہے نہ آنسو بہا تا ہے۔
اگر سور ہ اسرا ء کی آیت ۱۰۷تا ۱۰۹ پر نظر کریں تو صا ف پتہ چل جا ئے گا کہ جو سمجھتے ہیں ان کی روش آیا ت حق کے مقا بل خضو ع کر نا ہے اوروہ سو ز ، خشو ع اور گر یہ کر تے ہیں ۔
قل آمنو بہ او لا تو منو ا ان الذین اوتو العلم من قبلہ اذا یتلی علیھم یخرون للا ذقا ن سجدا ،(۱۰۷)
ویقولون سبحان ربنا ان کا ن وعد ربنا لمفعو لا ،(۱۰۸)
یخر و ن للا ذقان یبکو ن و یزید ھم خشوھا،(۱۰۹)
جو سا لک با اخلا ص ہیں انہیں ان آیا ت میں خو ب غو ر و فکر کر نا چاہیے اور متوجہ رہیں کہ یہ کلام حق اور حق کلام ہے ، ان آیا ت سے وضاحت کے ساتھ استفا دہ ہو تا ہے کہ جو بھی اعلیٰ سطح کی معر فت و فہم رکھتا ہو تو آیا ت قرآن کی تلاوت سنتے ہی وہ حقا ئق کا ادرا ک کر لیتا ہے ان کو باور کر تا ہے ، خدا وند کے وعد وں کو مسلّم شما ر کر تا ہے، وہ سمجھتا ہے اور جو سمجھتا ہے اس کے سبب اس کے یقین اور خضو ع و خشو ع میں اضافہ ہو جا تا ہے ، خوف ، خشیت ، شوق اور اشتیاق اس کے وجود کو گھیر لیتے ہیں ، اس کی سعی و کوشش میں اضا فہ ہو جا تا ہے ، راہ فقر اختیار کر لیتا ہے ، حضو ر خدا میں چہر ہ خاک پر رکھ دیتا ہے اور سو ز دل کے ساتھ آنسو بہاتا ہے اس امید کے سا تھ کہ اس کے ان آنسو ؤ ں پر نظر عنایت ہوجائے۔
اور جو شخص موجود حقیقتوں کا ادر اک نہیں کر تا اس نے اپنی جہنم جو خو د اس نے تیار کی ہے اور اس میں ہا تھ پا ؤں ما ر رہا ہے کو نہیں پہچا نا اور وہ حجا ب کو صحیح پہچا ن نہیں سکا ، ( جو تمام مصیبتوں کی جڑ ہے ) یہ بات ملحو ظ خا طر رہے کہ ان آیا ت میں جس علم و معرفت کی بات کی گئی ہے اور اس علم و معر فت والے کو اہل سو ز و گر یہ بتلا یا گیا ہے اس سے مراد رسمی علم اور نظر ی معرفت نہیں ہے بلکہ یہ علم و معرفت ان سے الگ ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کوئی اہل علم میں سے ہو اور نظر ی عرفا ن کی اعلیٰ سطح کو رکھتا ہو بلکہ ایسے افرا د ہیں لیکن یہ خصوصیا ت ان میں نہ ہوں اور نہیں ہیں ۔ بہر حا ل سوز دل اور گریہ کے ساتھ چہرے کو خا ک فقر پر رکھنا عارف با للہ افراد کی خصوصیا ت میں سے ہے ، قرآن کریم ان خصوصیات کو انبیا ء الٰہی جو کہ حقیقی عالم و عارف ہیں کی بڑ ی واضح خصوصیات کے طور پر شمار کر تا ہے، سور ہ مر یم میں خداوند نے کچھ انبیا ء کا ذکر کیا ہے اور ہر ایک ذکر اس کے اوصا ف کے ساتھ کیا ہے۔
ان کے بارے میں خدا وند فر ما تا ہے:
اولئک الذین انعم اللّٰہ علیھم من النبین من ذریۃ آدم و ممن حملنا مع نوح و من ذریۃ ابر اہیم وا اسرائیل و ممن ھد ینا وا جتبینا اذا تتلی علیھم آیات الرحمن خرو ا سجدا و بکیا ۔(۱)
’’یہ وہ ہیں جن پر خدا وند نے نبیو ں میں سے انعا م کیا آدم کی ذریت میں سے ان میں سے جنہیں نو ح کے ساتھ ہم نے کشتی پر سوا ر کیا ، ذریت ابرا ہیم و یعقو ب میں سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے ہدایت دی اور انہیں چن لیا جب ان پر ہما ری آیات کی تلا وت کی جاتی ہے تو گر پڑتے ہیں اس حال میں کہ وہ سجد ہ کر نے والے اور گر یہ کر نے والے ہو تے ہیں ‘‘
اس آیت کے آخری جملے میں بیا ن ہو ا ہے کہ جب ان پر آیات رحما ن کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ خضو ع کے ساتھ گر یہ کر تے ہو ئے سجد ہ میں گر پڑ تے ہیں ، یہ گر یۂ خوف و خشیت ہے۔
اس آیت میں اہل تو حید کے لئے کچھ رمز و اشا رے ہیں کہ بہت دقیق و لطیف ہیں ، آیت کے ابتدا ء میں انبیا ء اور بر گزیدہ افرا د کے او پر انعا م کا ذکر فر ما یا ہے اورفر ما یا ہے کہ یہ سب وہ ہیں جن پرخدا کا انعام ہوا ’’اولئک الذین انعم اللّٰہ علیھم من النبین‘‘اور پھرآیت کے آخر میں فر ما یا ’’ واذا تتلی علیھم آیات الرحمن‘‘ان کے خضوع ، گر یہ اور سجدہ کو ان کے لئے خدا کے سب سے بڑے انعا م کے طور پر ذکر کیا ہے اس سے اس حقیقت کی طرف اشا ر ہ ہو تا ہے کہ خضو ع ، سجد ہ ، سوزدل اورگر یہ جسے بھی یہ سب حاصل ہو ا یہ سب خداوند کا انعام و تفضل ہے۔
گر یہ و خند ہ غم و شادی دل
ھر یکی رامخز ن و مفتاح آن
ہر یکی از معد نی دان مستقل
ای برادر در کف فتاح دان ۔(۲)
حافظ شیرا زی بھی کہتے ہیں :
سو زِ دل اشکِ روان آہ سحر نالہ شب
این ھمہ از نظر لطف شما می بینم
’’سوزِ دل ہو یا جا ری آنسو، سحر کی آہیں ہوں یا گریہ شب ، یہ
مریم / ۵۸
’’سوزِ دل ہو یا جا ری آنسو، سحر کی آہیں ہوں یا گریہ شب ، یہ سب مجھے آپ کا لطف نظر آتا ہے‘‘
قرآن مجید میں ہے :
ومن یو من باللّٰہ یھد قلبہ
’’جو خدا پرایما ن لا ئے خدا وند اس کے دل کو ہدایت کر تا ہے‘‘
رسو ل ؐ خدا نے فر ما یا :
قلب المو من بین اصبعین من اصابع الرحما ن۔(۳)
’’مو من کا دل رحما ن کی دو انگلیوں کے درمیا ن ہے‘‘
اما م محمد با قر علیہ السلام نے فر ما یا :
ان القلو ب بین الصبعین من اصا بع اللّٰہ
یقلبہا کیف یشا ء سا عۃ کذا و ساعۃ کذا۔(۴)
اس با ب میں ان دو رو ایا ت سے ہر کوئی اپنے اندا ز میں استفا دہ کر سکتا ہے، پہلی رو ایت سے پتہ چلتا ہے کہ جو شخص خدا و ند پر سچاایما ن لے آتا ہے وہ اسم مبارک رحمن کے تصر ف و تد بیر کے ماتحت آجا تا ہے اوراسم کی تجلیا ت اس پر نازل ہو تی ہیں ، صاحبا ن ایما ن کے دل ان کے مرا تب ، صلاحیتوں اور مختلف حالات کے مطا بق اس اسم مقدس کی ولا یت کے مظا ہر قرار پا تے ہیں ۔
دوسری روا یت سے ظاہر ہو تا ہے کہ سب قلو ب چاہے اہل ایمان کے ہوں یادوسروں کے اسم اللہ کے تحت تصرف ہیں اور یہ اسم مقدس مظا ہراسما ء میں جلوہ گر ہو کر ہر دل کو اس کے مطا بق متاثر کرتا ہے ،ایک حال سے دوسرے حال کی طرف لے جاتا ہے،
(۲) دفتر پنجم، مثنو ی
(۳) بحار الانوار ، ج۷۰،ص ۳۹
(۴)حوالہ سابق ، ص ۵۳
دوسری روا یت سے ظاہر ہو تا ہے کہ سب قلو ب چاہے اہل ایمان کے ہوں یادوسروں کے اسم اللہ کے تحت تصرف ہیں اور یہ اسم مقدس مظا ہراسما ء میں جلوہ گر ہو کر ہر دل کو اس کے مطا بق متاثر کرتا ہے ،ایک حال سے دوسرے حال کی طرف لے جاتا ہے، کبھی اس طرح اور کبھی اُس طرح ۔
سا لک کو ہر حال میں ، ہر جگہ پر سلو ک عبادت میں گریہ کو بہت اہمیت دینی چاہیے، خصوصاً اس مقا م ( استغفا ر ) میں جتنا بھی سو ز دل کے ساتھ سو ز ش ہو اس کی قدر کرے اور جب بھی ایسی توفیق نصیب ہو جا ئے تو پھر تضر ع ودعا ء اور استغفا ر میں اصرا ر کو کسی اور چیز سے معاملہ کرے ، دشمن کے فریب سے ہوشیا ر رہے ، جو راستہ اس پر کھلا ہے کہیں وہ حیلوں بہانوں سے آپ پر بند نہ کر دے ، تضر ع و استغفا ر کو قطع نہ کر دے، حال کو ختم نہ کر دے ۔ایسے مواقع با ربا ر نہیں ملتے ۔
اما م صادق علیہ السلام فر ما تے ہیں :
اذا امشعر جلد ک و دمعت عینا ک ،فدوک دونک، فقد قصد قصد ک(۵) ۔
’’جب تیر ے رو نگٹے کھڑے ہو جا ئیں اور آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں تو اپنے آپ پر تو جہ رکھو، شیطا ن تمہا را قصد کر چکا ہے‘‘
اشک فی با ر وھمی سوز از طلب
ہمچو شعمی سربر ید ہ جملہ شب۔(۶)
گر یہ و سوز کے اُس طرف
عاشقوں ، مشتا قوں اور خا ئفین کا گر یہ و سو ز دل کے پر دے کے اس طرف تو سو ز دل اور گریہ ہے ،لیکن پر دے کے اُس طرف سکو ن و لذت وخو شی و کرا مت ہے۔
ا س جما ل کی توضیح کلام معصو مین سے پیش کر تے ہیں :
ٍ۱)سوز وگر یہ اور سکون و اطمینان
اما م صا د ق علیہ السلام نے فر ما یا :
(۵) اصول کافی ، ج۲، ص ۴۷۸
(۶)دفتر پنجم، مثنوی
کل عین با کیۃ الا ثلاثۃ : عین غضب عن محارم اللّٰہ و عین سھر ت فی طا عۃ و عین بکت فی جوف اللیل من خشیۃ اللّٰہ ۔ (۷)
’’ہر آنکھ قیا مت کے دن رو ئے گی سو ائے تین آنکھوں کے:
۱) وہ آنکھ جو خدا و ند کے محا رم سے بند رہے ،
۲) وہ آنکھ جو سا ری رات اطا عت خدا میں جا گتی رہے ،
۳) وہ آنکھ جو را ت کے وسط میں خو ف خدا سے گر یہ کرے،
اس روا یت سے معلو م ہو تا ہے کہ وہ جو را ت کی تار یکی میں پر دے کے اِس طرف سوز دل اور گر یہ ہے خو ف خدا سے وہ پشت پردہ میں سکو ن و اطمینا ن کی صورت میں ہے اور قیامت کا دن جب حقا ئق پس پر دہ سے ظا ہر ہوں تو یہ حقیقت بھی ظہو ر پذیر ہو گی، یعنی قیامت کے دن جو کہ حقا ئق کے آشکا ر ہو نے کا دن ہے، اِس دن پس پر دہ حقائق ظہور پذیر ہوں گے۔
۲)سوزوگریہ اور لذت و خوشی
رسو ل ؐ خدا نے فر ما یا:
ان اللّٰہ یحب کل قلب حزین (۸)
’’ خدا وند محزو ن و غمگین دل کو پسند فر ما تا ہے‘‘
خد ا کے پسند کر نے کا مطلب بند ے کا اس کی طرف جذ ب ہو نا ہے، اس لحا ظ سے حدیث کے معنی یہ ہو ں گے کہ بند ے کا دل سو زو گر یہ کی حالت میں پر دے کے اُس طرف خدا وند کی طرف جذب ہو جاتا ہے اس جذبے کی حالت میں اسے خاص لذت و خوشی حاصل ہو تی ہے۔
(۷)اصول کافی ، ج۲، کتاب الدعاء
اما م محمد باقر علیہ السلام فرما تے ہیں :
ما من قطرۃ احب الی اللّٰہ من قطر ۃ دموع فی سواداللیل مخافۃ من اللّٰہ لا یرا د بھا غیرہ۔(۹)
’’کو ئی قطر ہ بھی خدا وند کو اس آنسو سے زیادہ پسند نہیں ہے جو رات کی تاریکی میں خو ف خدا سے گرے اور خدا کے علا وہ اس سے کوئی اور مراد نہ ہو ‘‘
اس کے یہ معنی ہیں کہ بند ہ را ت کے وقت گر یہ و سوز کی کیفیت میں خداوند کا محبو ب ہوتا ہے یعنی پس پر دہ خدا وند کی طرف مجذو ب ہے اور وہ ربو بی جذبا ت میں لذت و سرور کی کیفیتوں سے دو چار ہے۔
پر دے کے پیچھے ایسے ربو بی جذبے ہیں کہ جو تسلسل سے سا لک کو جذ ب کر تے رہتے ہیں یہی جذبے ہیں جو پر دہ کے اِس طرف سوز و گریہ کی صورت میں ظا ہر ہو رہے ہیں ۔اِس طرف غم ، پریشا نی اور آنسو ہیں ، اُس طرف جذبے یعنی خو شی شراب طہو ر اور لذت شہود ہے۔
بررھگذرت بسہ ام از دیدہ دو صد جوی
باشد کہ تو چون سرو خرامان بہ درآیی(۱۰)
’’تیر ے راستے پر میں نے آنکھوں سے دو سر چشمے بنا دئیے ہیں ، ہو سکتا ہے کہ تم سر و کی طرح خرا ماں ہماری طرف آؤ‘‘
اگر کسی کو اِس طرف اوراُس طرف کو مکمل طور پر دیکھنے کی صلاحیت حاصل ہو، یعنی افق با لا میں برقر ا ر رہ کرپر دہ کے اِس طرف بھی دیکھے اور پر دہ کے اُس طرف بھی تو اسے عجیب چیز نظر آئے گی، وہ ایک شخص کو ایک ہی وقت میں دو مختلف و متضاد حالتوں میں دیکھے گا اِس
(۸)بحار الا نوار ، ج۷۳، ص ۱۵۷
(۹)اصو ل کافی ، ج ۲ ، کتاب الدعاء
اگر کسی کو اِس طرف اوراُس طرف کو مکمل طور پر دیکھنے کی صلاحیت حاصل ہو، یعنی افق با لا میں برقر ا ر رہ کرپر دہ کے اِس طرف بھی دیکھے اور پر دہ کے اُس طرف بھی تو اسے عجیب چیز نظر آئے گی، وہ ایک شخص کو ایک ہی وقت میں دو مختلف و متضاد حالتوں میں دیکھے گا اِس طرف ( دنیا وی طرف ) وہ اسے سو ز و گر یہ و اشک و نیاز کی حالت دیکھے گا اور اُس طرف (اخروی طرف) وہ اسے لذت ، خو شی ، شہو د و شر اب طہو ر کے ساتھ دیکھے گا عجیب بات ہے غم کا باطن خوشی ہے اور خوشی کا باطن غم ہے ،گر یہ کا باطن ہنسی ہے اور ہنسی کا باطن گر یہ ہے۔
اس سے بڑ ھ کر تعجب اس با ت پر ہے کہ ہم اپنے طور پر سمجھتے ہیں کہ ہم نے کائنات اور اس کے رازوں کو سمجھ لیا ہے اور اس گما ن غلط سے جو کرنا تھاوہ کر لیااور سب سے بڑ ھ کر ہم اس با ت کی طرف متو جہ بھی نہیں ہیں ۔
۳)سو زوگر یہ اور قرب حضرت حق
اما م صادق علیہ السلام نے ابو بصیر کو دعا و گریہ کے بارے میں کچھ مطا لب ارشاد فرمائے ۔ اس کے ضمن میں آپ نے اپنے والد گرا می سے یہ حدیث نقل فرما ئی :
ان اقرب ما یکو ن العبد من الرب عز و جل وھو ساجد باک۔(۱۱)
’’بند ے کی خدا وند کے سب سے نز دیک حالت اس کی گریہ کے ساتھ سجد ہ کر نے کی حالت ہے‘‘
اس روایت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اِس طر ف سو ز ِدل کے ساتھ پیشا نی خا ک پر رکھنا ہے اور گر یہ کر نا ہے جب کہ اسی حالت میں اُس طر ف حضر ت معبو د حق کے نز دیک ہو نا ہے اور اس کے جوا ر میں نعمت و خوشی سے سر فرا ز ہو نا ہیـ ۔
حافظ زدیدہ دانہ اشکی ھمی فشان
باشد کہ مرغ وصل کند قصد دام ما
’’حافظ اپنی آنکھ سے ایک دا نہ آنسو گرا ؤ ، ہو سکتا ہے کہ وصا ل کا پر ند ہ ہمارے دام میں آجا ئے‘‘
(۱۰) حافظ
(۱۱)اصول کافی ، ج۲ ، کتاب الدعاء

عاشقا نہ یا عاقلا نہ (۱)