Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، ماضی کے گناہوں کو یاد کر کے رونا انسان کی عظمت کی دلیل ہے۔ بحارالانوار کتاب العشرۃ باب16 حدیث3

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

سوا ل ۵۰ : کیا کر و ں کہ مجلس میں دل شکستہ ہو جا ؤں اور آنسو نکل آئیں ؟
جواب: ایک تو یہ کہ مجلس عزا میں غم و اند و ہ کی شکل بنا لینا بھی کم اہم نہیں ہے، جیسا کہ روایات میں اس با رے صرا حت بیا ن ہو ئی ہے۔ (۶)
دوسرا یہ کہ: با ارزش گر یہ کا منشا ء معرفت ہے ،لہٰذا اگر محسو س کریں کہ مجلس عزا میں گر یہ طاری نہیں ہو رہا اور آنکھوں سے آنسو جاری نہیں ہو رہے حتیٰ کہ دل غمگین بھی نہیں ہو رہا تو اس صورت میں اہل بیتؑ کے بارے اپنی معرفت کو وسیع کر یں اور معرفت کے حصول میں جو رکاوٹیں ہیں انہیں دور کریں ـ۔
معر فت اہل بیتؑ کووسعت دینے کے اسبا ب در ج ذیل ہیں :
(۶)خصائص الحسینیہ ، ص۱۴۲،وسائل الشیعہ ،ج۴، ص۱۱۲۱،۱۱۲۴
۱)ان کے حالا ت زندگی کا مطا لعہ کریں ،
۲)ان کے فر مو دا ت و ارشا دات کا مطا لعہ اوران میں غور و فکر،
۳) خدا ند متعال کی معرفت و شناخت کہ وہ ہستیاں اوصاف خدا کی تجلی و مظہر ہیں ، خداوند کے اوصا ف کو پہچا ن کر ان کے فضا ئل و منا قب کا ادرا ک کیا جا سکتا ہے ۔(۷)
معرفت میں رکا وٹیں
یہ زیا دہ تر ہما رے اعما ل سے مر بو ط ہیں جو کہ قسا وت قلب کا باعث بنتے ہیں ۔(۸) جس کی وجہ سے ہمارے جذبات و احسا سات ہماری عقل کے کنٹر و ل میں نہیں رہتے ، یہ رکاوٹیں در ج ذیل ہیں :
۱ ذکر خدا کے علا وہ زیا دہ باتیں کر نا، (۹) ۲ زیادہ گنا ہ ،(۱۰)
۳لمبی چو ڑی آرزوئیں ، (۱۱)۴ لہو و لعب کو سننا ، (۱۲)
۵ما ل دنیا جمع کر نا، (۱۳)۶عبا دا ت کو چھو ڑنا ،(۱۴)
۷ظالم و گمرا ہ لو گوں میں اٹھنا بیٹھنا، (۱۵)
۸پست و ذلیل افراد کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ،(۱۶)
(۷)آئین مہرورزی،محبت اہل بیتؑ
(۸)میزان الحکمۃ ، ج۱،ص۴۵۵،حدیث ۱۷۴۵
(۹)بحار الانوار ، ج۷۱، ص۲۸۱
(۱۰)حوالہ سابق ، ج ۷۰،ص۵۵
(۱۱)حوالہ سابق ، ج ۷۸، ص۸۳
(۱۲)حوالہ سابق ، ج۷۵، ص ۳۷۰
(۱۳)مستدرک الوسائل ، ج۲، ص ۳۴۱
(۱۴)تنبیہ الخواطر، ص۳۶۰
(۱۵)بحا ر الانوار ، ج۱، ص ۲۰۳
(۱۶،۱۷)حوالہ سابق، ج۷۷، ص ۴۵
۹ زیادہ ہنسنا ،(۱۷)
روا یا ت میں قسا و ت قلب کو ختم کر نے کے کچھ اسبا ب ذکر ہو ئے ہیں جو یہ ہیں :
۱مو ت کی یا د ،(۱۸)۲ وعظ و نصیحت، (۱۹)
۳آیا ت الٰہی ،قیا مت اور اپنی حالت کے با رے میں غو رو فکر کر نا ، (۲۰)
۴علماء کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، (۲۱)
۵علمی گفتگو ،(۲۲)۶تنگ دستوں کو کھانا کھلانا ،(۲۳)
۷یتیموں پر رحم ،(۲۴)۸ذکر خدا، (۲۵)
۹ذکر فضا ئل اہل بیتؑ ،(۲۶)۱۰قرأت قر آن، (۲۷)
۱۱استغفا ر، (۲۸)
ان سب چیزوں سے بڑ ھ کر تو یہ ہے کہ خدا و ند کے حضو ر گڑ گڑ ا کر دعا کریں کہ ہمیں رو نے والی آنکھ عطا کرے اوراہل بیتؑ کاواسطہ دیں اورا ن ہستیوں سے بھی مدد ما نگیں ۔
(۱۸)بحار الا نوار ، ج۱۴، ص ۳۰۹
(۱۹)حوالہ سابق ، ج۷۷،ص۱۹۹
(۲۰)حوالہ سابق ، ج۷۸، ۱۱۵
(۲۱)حوالہ سابق ، ص ۳۰۸
(۲۲)معجم الفاظ ، غر ر الحکم ، ص۸۶۳
(۲۳)بحا ر الا نوار ، ج ۱، ص ۲۰۳
(۲۴)مشکاۃ الا نوار ، ص ۱۰۷
(۲۵)حوالہ سا بق
(۲۶)نہج البلاغہ ، خ ۲۲۲
(۲۷)حوالہ سابق
(۲۸)نہج البلاغہ ، خ ۱۷۶
چو زتنہا ئی تو نو میدی شوی
روز بجو یار خدا ئی راتو زور
زیر سایہ بار خو رشیدی شوی
چو ن چنا ن کر دی خدا یا ر تو بود
سوا ل ۵۱ : جو لوگ گنا ہ گار ہیں ، کیاان کے لئے صرف سیدالشہداء پرگریہ کر لینا مفید ہو سکتا ہے؟
جواب:شفا عت کی حقیقت کو سا منے رکھنے سے اس سوا ل کا جوا ب واضح ہو گا بعض روایات میں ایسے مو ار د ذکر ہو ئے ہیں جو انسا ن کو گنا ہوں سے پا ک کر دیتے ہیں ۔روایا ت کی بنیاد پر اس شفا عت کہ جس کا ایک مصدا ق اہل بیتؑ بالخصوص اما م حسینؑ پر گر یہ بھی ہے جو کہ گنا ہ گا ر وغیر گناہ گار سب کے شامل حال ہوجاتی ہے کا راز یہ بھی کہ انسان اوراہل بیتؑ کے در میا ن ایک خا ص ربط کا برقرار ہو نا ہے ،یعنی جو شخص کسی شخص کے ساتھ دنیا میں روحا نی را بطہ رکھتا تھا ، دونوں ہمرا ہ ، ہم فکر ، ہم عقید ہ و ہم سلیقہ تھے ، ایک دوسرے کی معرفت و پہچا ن رکھتے تھے اورایک دوسرے کے ساتھ محبت و مودت رکھتے تھے، تکو ینی طور پر ان دونوں کے در میا ن ایک را بطہ برقرار ہوتا ہے۔
بنا بر یں جو شخص بھی معصو مینؑکا معتقد ہو ،ان کا مطیع و فر ما نبر دا ر ہو،حتیٰ الو سع ان کے فرامین پر عمل کرے ،اس کی سو چ ا ن جیسی ہو اور اعتقا د ان جیسا ہو اور اس بنیا د پر ان کی محبت و معرفت رکھتا ہو ،ان سب سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے اور معصو مینؑکے درمیا ن ایک باطنی و اندر و نی را بطہ عالم ارواح میں بر قرا ر تھا ، اس کی مشا بہت معصو مینؑ کے ساتھ جتنی زیادہ ہوگی اس کا یہ را بطہ بھی اتنا ہی قوی ہو گا ، انسا ن جتنا نا قص ہو گا را بطہ اتنا ہی کمز ور ہو گا، جب یہ تکو ینی و وا قعی را بطہ پیدا ہو جا تا ہے تو اس کے اور معصو مینؑ کے درمیا ن ایک قسم کی وحد ت پیدا ہو جاتی ہے ، اس وحد ت کا نتیجہ قیامت کے دن اس طرح سامنے آئے گا کہ یہ شخص جو گناہ گار ہے یا غیر خدا کے ساتھ وا بستگی رکھتا ہے معصومینؑ اسے اس تکو ینی وحدت و ارتبا ط کی وجہ سے اپنے خاص جا ذبہ کے ساتھ ا وپر کھینچ لیں گے اورا سے جنت تک پہنچنے اور عذا ب و تکا لیف سے چھٹکارا پا نے میں مد دکریں گے۔
راز و سر شفا عت کو جا ن لینے سے یہ بات معلو م ہو جا تی ہے ،کہ آدمی کے اندر لیاقت ، آمادگی اور خدا کی طرف جا نے کی کشش ہو نی چاہیے تا کہ شفا عت کے سا تھ مل جانے سے اس گنا ہ اور تعلق سے چھٹکا را پا سکے اور یہ آما دگی صرف اس سے حاصل ہو تی ہے کہ ارواح معصومینؑ کے سا تھ انسا ن کو شباہت و سنخیت ہو، یعنی یہ شفا عت صرف ان افرا د کو حاصل ہوگی جو مو من ہوں اور عمل صالح کر تے ہوں ، وہ کسی حد تک خدا و معصومینؑ کے مطیع ہوں اور زیادہ گنا ہ گار و سر کش نہ ہو ۔(۱)
پس معلو م ہو گیا کہ ہر کسی کو یہ شفا عت نصیب نہیں ہو گی اور نہ ہر کوئی صرف اما م حسینؑ پر گریہ کر نے سے جنت چلا جا ئے گا اوراس کے سب گنا ہ بخش دئیے جا ئیں گے، یعنی یوں نہیں ہے کہ وہ ہر گنا ہ کر تا رہے اور وہ صر ف گر یہ کر نے سے ہر گناہ کے اثربد سے آزا د ہو جائے گا ،اسے نہ کوئی ڈر ہو گا، نہ عذا ب ،جب کہ حقیقت محبت انسا ن کو گنا ہ اوردلبستگی غیر سے کسی حدتک رو ک دیتی ہے ، پس اس شفا عت کے لئے کچھ شر ائط ہیں اور وہ حضر ت حق عزوجل کا انسان سے راضی ہو نا ہے اور انسا ن کا ایما ن و عمل صالح ہے۔
اما م صا دق علیہ السلا م نے اپنے اصحا ب کو جو خط لکھا اس میں یہی نکتہ ارشا د فرمایا:
’’جا ن لو ! حقیقت یہ ہے کہ خدا کی کوئی مخلو ق کسی کو خدا و ند سے بے نیاز نہیں کر سکتی ،نہ ملک مقر ب ،نہ نبی مرسل ،نہ کوئی اور ، پس جو بھی شفاعت کر نے والوں کی شفاعت پر خوش ہے کہ اسے یہ شفاعت فائد ہ دے گی، اسے خدا سے دعا کر نا ہوگی کہ خدا اس سے راضی ہو جائے‘‘(۲)
پس گنا ہ و تعلقا ت اس حد تک ہوں کہ خدا اس سے ناراض نہ ہو جا ئے کیونکہ اگر خدا انسا ن سے خو ش نہ ہو تو پھر یہ شفا عت بھی اس کے شامل حال نہیں ہوگی ، اگر انسا ن پو ری
(۱) تجسم عمل و شفاعت، ص ۱۰۶ ۔۱۱۶
(۲) بحا ر ،ج ۸ ،ص ۵۳
پس گنا ہ و تعلقا ت اس حد تک ہوں کہ خدا اس سے ناراض نہ ہو جا ئے کیونکہ اگر خدا انسا ن سے خو ش نہ ہو تو پھر یہ شفا عت بھی اس کے شامل حال نہیں ہوگی ، اگر انسا ن پو ری تسلی کے ساتھ گناہ کر ے اس پر پشیما ن بھی نہ ہو، نہ آہ و نالہ کرے، حتیٰ کہ یہ سوچ بھی اس میں پیدا نہ ہو کہ کیوں میں گنا ہوں سے چھٹکار ا نہیں پار ہا ،صر ف اما م حسین علیہ السلام کی مجالس میں آنسو بہا لے تو یہ وہ مو ر د ہے کہ خدا وند اس سے خو ش نہیں ہو گا، نتیجہ یہ ہو گا ،کہ امام حسین علیہ السلام کی شفا عت بھی اس کے شامل حال نہیں ہو گی ۔اگر کوئی گنا ہ کر لیتا ہے لیکن نادم و پشیما ن ہو، آہ ونالہ کرتا ہے ، گنا ہ سے چھٹکا را کے بارے فکر مند ہے ،کو شش کر تا ہے ، عقید ہ عمل میں ان جیسا بننا چاہتا ہے ، ایسا شخص چونکہ دل میں گناہ سے نفر ت رکھتا ہے اور اما م حسینؑ کے ساتھ ایک قسم کی وحد ت رکھتا ہے ،اس شخص کے گناہوں کے دھو نے میں اس کے آنسو مفید وا قع ہو سکتے ہیں ۔
بہرحال اگر اما م حسینؑ کی شفا عت چاہتے ہیں تو ان کی محبت کے ساتھ سا تھ عقائد، افکا ر ، اعما ل ، صفا ت اور اخلا ق میں ان کی موا فقت کرنا ہو گی اور سب سے بڑھ کر خداوند جو کہ اصلی و حقیقی شفیع ہے ،اس سے را ضی ہو نے کی دعا کریں ، اس کی خوشنو دی سے شفاعت امام حسین علیہ السلام بھی مل جائے گی ۔
ای خدا ! آن کن کہ از تو می سز د
جان سنگین دارم و دل آھنین
وقت تنگ آمد مرا و یک نفس
گر مرااین بار ستاری کنی
توبہ ام بپزیر این دگر
من اگر این بار تقصیری کنم
کہ زھر سوراخ مارم می گزد
ورنہ خون گشتی دراین رنج و حنین
پادشاھی کن مرا فریا د رس
توبہ کر دم من زھرنا کر دنی
تا ببند م بھر توبہ صد کمر
پس دگر مشنو دعا و گفتنم۔(۳)
’’اے خدا تو وہ کر جو تیرے شا یان شان ہے ،کہ ہرسوراخ سے مجھے سانپ ڈس رہا ہے،جا ن سنگین کررہی ہے اور دل لوہے کی طرح سخت، ورنہ اس رنج و محن میں خو ن ہو جاتا ،اب وقت کم ہے چند ہی
(۳) مثنوی،دفتر ۵ ، ابیا ت، ۲۲۶۷۔ ۲۲۶۲
’’اے خدا تو وہ کر جو تیرے شا یان شان ہے ،کہ ہرسوراخ سے مجھے سانپ ڈس رہا ہے،جا ن سنگین کررہی ہے اور دل لوہے کی طرح سخت، ورنہ اس رنج و محن میں خو ن ہو جاتا ،اب وقت کم ہے چند ہی سانسیں ہیں ،تو ہی مہر بانی کرمیری فر یادرسی فرما ،اس بار میری تقصیریں چھپا لے،میں ہر ناکر دہ گناہ سے بھی تو بہ کرتا ہو ں ،ایک بار پھر میری تو بہ قبو ل کرلے،تا کہ میں سو با ر توبہ کی کمر ہمت باند ھ لوں ،اگر میں پھر گناہ کر وں توپھر میری دعا و فریا د نہ سننا‘‘