Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، بندے کا ایمان جتنا زیادہ ہوگا اُس کے رزق میں تنگی بھی اُتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اصول کافی باب فضل فقراء المسلمین حدیث4

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

سوا ل ۴۹: بالخصو ص اما م حسینؑ پر گر یہ کے بارے میں روایا ت بیان کریں اور اما م حسینؑ پر گریہ کا فلسفہ بھی بیا ن کریں ؟
جوا ب : اما م حسین علیہ السلام پر گر یہ کے بارے بعض رو ایات در ج ذیل ہیں ۔
۱) معصو مؑ نے فرمایا :
’’ ہر آنکھ قیامت کے دن رو ئے گی مگر وہ آنکھ جو امام حسینؑ پر روئی ہو یہ آنکھ خوش و شا د ہو گی‘‘(۱)
۲) اما م رضا علیہ السلا م نے فر ما یا :
’’امام حسین علیہ السلا م پر گر یہ کبیر ہ گنا ہوں کو مٹا دیتا ہے ‘‘(۲)
۳)اما م صا دق علیہ السلام نے فر ما یا :
’’جو شخص اما م حسین علیہ السلا م کی یا د میں مکھی کے پر برا بر آنکھوں سے آنسو نکالتا ہے اس کا ثوا ب خدا و ند پر ہے اور خد ا و ند جنت سے کم تر ثوا ب پر راضی نہیں ہوگا‘‘(۳)
۴)اما م معصو مؑ نے فر ما یا :
’’جو شخص امام حسینؑکے مصا ئب پر رو ئے یا رلائے یا غم و حزن کی حالت بنالے، خداو ند اس پر جنت واجب کردیتا ہے‘‘(۴)
۵) اما م رضا علیہ السلام نے فر ما یا :
’’ اے شبیب کے بیٹے ! اگر رو نا چاہتے ہو تو حسینؑبن علیؑ پر روؤ
(۱) الخصائص الحسینیہ ، ص ۱۴۰
(۲)مسند امام رضاؑ ، ج۲، ص ۲۷
(۳)بحار الانوار ، ج۴۴، ص ۲۹۱،
(۴) الخصائص الحسینیہ،ص۱۴۲
’’ اے شبیب کے بیٹے ! اگر رو نا چاہتے ہو تو حسینؑبن علیؑ پر روؤ کہ انہیں اس طرح ذبح کیا گیا جیسے گو سفند کو ذبح کیاجاتا ہے ، اے شبیب کے بیٹے اگر حسینؑ بن علیؑ پر اس طر ح گریہ کروگے کہ تمہارے آنسو تمہارے رخسا روں پر جاری ہو جائیں تو خداوند تمہارے چھوٹے بڑے سب گناہ بخش دے گا خواہ تھوڑے ہوں یا زیادہ ‘‘(۵)
اما م حسین علیہ السلام پر گر یہ کے فلسفہ کے طور پر کچھ مطا لب ذکر کئے گئے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ وہ حرف آخر نہیں ہیں جیسے ـ:
الف ) گریہ خو د اچھی چیز ہے اور روح کو دھو ڈالتا ہے ، کہ یہ روح کی صفا ئی مجالس عزا میں زیادہ مفید ہوتی ہے۔
ب) اما م حسینؑ پر گر یہ ان کے شکر ئیے کے عنوا ن سے ہے، لیکن یہ مطلب صحیح نہیں ہے کیونکہ اگر ہمارے اوپر اما م حسین علیہ السلام کا شکر یہ ضروری ہو تا کیا شکر یہ کا رو نے دھو نے کے علاوہ کوئی اور طر یقہ نہیں تھا ، جب کہ اصولاً سوال یہ ہے کہ اما م حسین علیہ السلام کو شکرئیے کی کیا ضرورت ہے ؟
ج) اما م حسین علیہ السلام کو ہمارے گر یہ سے فا ئد ہ ہو تا ہے ، ہم گر یہ کے ساتھ معنو ی فیض کو پاتے ہیں نہ کہ ہم اس گر یہ سے اما م حسینؑ کے مقا م میں اضافہ کر تے ہیں ۔
د)ثو اب و شفا عت کو پانا
ان حکمتوں میں سے بعض کو اگرچہ رو ا یا ت سے استفادہ کیا جا سکتا ہے لیکن ان سے بڑھ کر حکمتیں بھی گریہ کے لئے مد نظر قرار دی جا سکتی ہیں ،لہٰذا ان چند چیزوں میں حکمت گریہ کو منحصر کی ضرورت نہیں ہے۔
اوراس حوا لے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اما م حسینؑ کے گر یہ کی حکمت دو بہت بنیادی چیزیں ہیں کہ ان میں سے ہر ایک اپنا خاص طبعی اثر رکھتی ہے۔
(۵) بحار الانوار، ج۴۴، ص ۲۸۵
پہلا )اخلا قی پہلو
پہلا یہ کہ :جیسا کہ بیا ن ہو چکا شیعہ ثقا فت میں وہ گریہ با ارزش ہے جو روح کی ترقی و عظمت کا باعث ہو ۔
اور دوسرا یہ کہ : اس گر یہ کا سر چشمہ معرفت ہے ،امام حسینؑ پرگر یہ یا اس خاطر ہے کہ خداوند کے اس حقیقی عاشق کے شہید ہو جا نے کا غم و حز ن یا د آتا ہے ، وہ جو اوصا ف الٰہی کا مر کز تجلی تھا اور مومن پھول کی خو شبو اس گلا ب سے سو نگتے تھے ـ۔
چو ن کہ گل رفت و گلستا ن شد خراب
بوی گل را از کہ بو یم ، از گلاب
یا اس لئے گریہ کر تے ہیں کہ ہم ان فضا ئل و کمالات سے محرو م ہیں جو آپ میں اورآپ کے اصحا ب با و فا میں پا ئے جا تے تھے، حبیب پر گر یہ ، اس با ت پر گر یہ ہے کہ وہ کیا مقا م سمجھتے تھے او ر ہم کیسے ہیں ، علی اکبرؑپر گر یہ اس بات پر ہے کہ وہ جوا ن رعنا کیا فضا ئل رکھتا تھااور میں ان میں سے کو ن سی صفت رکھتا ہوں ۔
اگر ہمارا گریہ اس جہت میں نہ ہو تو ہمیں کو شش کر نی چا ہیے کہ اپنے گریہ کو اس جہت میں قرار دیں تا کہ اس کے ذریعے سے ہما ری روح میں بھی ترقی ہو،یہ گر یہ در حقیقت ایک درد کا اظہا ر ہے جو انسان کو اس در جے پر پہنچنے کے لئے متحرک کر تا ہے ، ایساآنسو انسا ن ساز ہے۔
دوسرا )اجتماعی پہلو
اگر اما م حسینؑ پر گر یہ معرفت سے ہو اور اس کا منشا ء بھی اس نہضت کااخلا قی پہلو ہو تو یہ غم واند وہ انسا ن کے اند رتبد یلی کا با عث بننے کے بعد اجتما عی تبد یلیوں کا ما حول فراہم کرتا ہے۔
جب اما م حسینؑ پر گر یہ باعث بنے گا کہ انسا ن اپنے فر دی و اجتماعی فضائل میں غوروفکر کرے تو لازماً یہ اندرو نی تبد یلی با عث بنے گی کہ ایسا معاشر ہ تشکیل پائے جس میں اسلام کے بلند اہدا ف و مقا صد پو رے ہو سکیں ۔
جب انسان متو جہ ہو جا ئے کہ اما م حسین علیہ السلام نے کس لئے اور کیسے قیا م کیا اور آپؑنے خون کے قلم کے ساتھ صفحہ تا ریخ پر وہ جاو دانی اثرا ت چھوڑے اور اس معرفت کے گریہ سے اس کے اندر تبد یلی واقع ہو جا ئے تو یہ تبد یلی معا شر ہ کے اندر تک بھی آپہنچے گی وہ کوشش کرے گا کہ دین میں فسا د و انحرا ف کو رو کے اور جوا نمر دی و دینداری کو نہ صرف اپنے اندر زندہ کر ے بلکہ معا شرے میں ان کو لاگو بھی کرے ۔
دوسر ے لفظو ں میں در حقیقت اما م حسینؑ پر گر یہ با لوا سطہ آپ کے ارما نوں کی حفاظت اور انہیں معا شرہ پر حاکم کر نے کا مقد مہ فراہم کر تا ہے اسی وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ اما م حسینؑ پر گر یہ کی ایک حکمت معا شرہ کو انہی خطو ط پر تعمیر کر نا ہے جو آپ نے خود تعین فرمائے تھے ،شا ید اس جملہ ان الا سلام بد وہ محمد ی وبقا ئہ حسینی۔ (اسلام کی ابتداء محمد ی ہے اور بقا ء حسینی ہے) سے مرا د یہی ہو کہ مکتب اسلام کی بقا ء خصوصاً تشیع کی بقاء امام حسینؑ پر گر یہ کی مر ھو ن منت ہے ۔