Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف کرنے والا ہے، سوائے اس شخص کے جس نے دین میں بدعت ایجاد کی یا مزدور کے حق کو غصب کیا یا کسی آزاد انسان کو فروخت کیا عیون اخبارالرضا ؑج2ص33،وسائل الشیعۃ حدیث24256

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

گریہ وعزاداری

سوا ل ۴۸ : شیعی ثقافت میں گر یہ کا کیا مقا م ہے کہ اتنا زیادہ اس پر زور دیا گیا ہے ؟
جواب : یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اس کا ئنات کی بہت سی باتیں راز ہیں اور انسان
ان سے واقف نہیں ہے، بعض کی تو جہ صرف واقعات کے ظاہرپر ہو تی ہے اور ان کا فہم اسی ظاہر تک ہی محدو د رہتا ہے انہوں نے کبھی یہ نہیں سو چا کہ اس ظا ہر کے پیچھے کوئی بہت بڑ ی حقیقت بھی پو شید ہ ہو سکتی ہے۔
گر یہ بھی انہی امور میں سے ہے ، بہت سے لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ رو نا صر ف ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کے اندرونی درد کی ترجما تی کرتاہے ، بعض تو بچپنا اختیار کرتے
(۱) تفسیر و نقد و تحلیل مثنو ی ،ج۲ دفتر ۲ ص ۲۶۳ ۔۲۷۲
گر یہ بھی انہی امور میں سے ہے ، بہت سے لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ رو نا صر ف ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کے اندرونی درد کی ترجما تی کرتاہے ، بعض تو بچپنا اختیار کرتے ہوئے اس کا مذا ق اڑاتے ہو ئے اسے غیر تر قی یا فتہ عمل قرار دیتے ہیں ، بعض قائل ہیں کہ رونے کا سوائے سستی و کاہلی کے اور کوئی فائد ہ نہیں ہے ، جب کہ آج کی دنیا تو خرم و متحر ک دنیا ہے آج کا انسا ن تو خوشیوں کا طا لب ہے نہ کہ آنسو ؤں کا ،ہم کو شش کر یں گے کہ اس حقیقت کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیں تاکہ شیعہ کی نظر اس کے مقام کے بارے میں واضح ہو سکے۔
الف )گر یہ کی اقسام
گر یہ کی مختلف اقسا م ہیں جن میں سے چند اہم اقسا م در ج ذیل ہیں ۔ (۱)
۱)خوف و ہرا س کا گریہ
یہ قسم عمو ما ً بچوں میں پا ئی جاتی ہے اور بچہ اس کے ذریعے اپنے ڈر کا اظہا ر کر تا ہے۔
۲)جذبہ ترحم کو ابھارنے کے لئے گر یہ
اس کی دو اقسام ہیں ایک قدر تی ہے جو کہ بہت مو ٔثر ہے جیسے اس بچے کاگریہ جس کے والدین دنیا سے اٹھ جائیں ۔دوسرا بناوٹی گریہ ہے یہ رو نے کا اظہار کر تا ہے تا کہ دوسرے پر اپنے غمگین ہو نے کا اظہا ر کر سکے۔
۳) غم واندوہ کا گر یہ
یہ اندر کے درد و ظلمت کو منعکس کر تا ہے، اس قسم کے گر یہ کا مثبت پہلو صر ف یہی ہے کہ اس سے اندر کا غبا ر نکل جاتا ہے اس وجہ سے انسا ن رو نے کے بعد سکو ن محسوس کر تا ہے۔
۴)تقویٰ و شوق کا گر یہ
یہ رو نا ،بزرگ ہستیوں کا ہے جو سو زدروں ، اپنے عجز و پشیما نی ، پر یشانی ، تو بہ اور
یہ رو نا ،بزرگ ہستیوں کا ہے جو سو زدروں ، اپنے عجز و پشیما نی ، پر یشانی ، تو بہ اور معبو د کے ساتھ عشق کے اظہا ر کے لئے ہو تا ہے یہ بہت پسند ید ہ گر یہ ہے اس سے روح کی صفا ئی ہو تی ہے اور قر ب خدا کا سبب اور بنیاد بنتا ہے ، اسی گر یہ کی وجہ سے خداوند اپنے بندے پر توجہ فر ما تا ہے اور اس پر اپنی رحمت کے در وا زے کھول دیتا ہے۔
تانگرید ابر، کی خند د چمن
طفل یک روزہ ھمی داندطریق
تا نگریدطغل ، کی جو شد لبن
کہ بگر یم یا رسد دایۂ شفیق
تو نمی دانی کہ د ایۂ دایگان
گفت: فلیبکوا کثیراً گوش دار
کم دھد بی گریہ شیر او را را یگا ن
تا بر یزد شیر فضل کر دگار۔(۲)
’’جب تک بادل گر یہ نہ کرے شگو فے نہیں کھلتے ،جب تک بچہ نہ روئے دودھ نہیں پھو ٹتا ، ایک دن کا بچہ بھی یہ طریقہ جا نتا ہے کہ روؤں تاکہ پرورش کر نے والے شفیق ہستی آجا ئے، تم نہیں جا نتے کہ پرورش کر نے والوں کا پرورش کنندہ بغیر گریہ کے دودھ کم دیتا ہے ، اس نے فرمایا غور سے سنوزیادہ گریہ کرو ، ، تاکہ فضل و رحمت خدا خوب برسے ‘‘
گر یہ کے لئے کچھ عوا مل و اسبا ب ذکر کئے گئے ہیں :
۵۔۱ : گنا ہوں پر پشیما نی
بعض دفعہ الٰہی افراد اپنے گناہوں پر پشیمانی کی وجہ سے گریہ کرتے ہیں یہ عمل اپنے
برے اعما ل پرپشیمانی کا اظہار ہے اور اس سے انہیں چھوڑ دینے کے عزم میں پختگی پیدا ہوتی ہے جیسا کہ حضر ت علیؑ نے فر ما یا :
’’خو ش قسمت ہے وہ شخص جو اپنے پروردگار کی اطاعت شرو ع کر دے اور اپنے گناہوں پر گریہ کرے ‘‘(۳)
(۲) مثنو ی ،ج۳ دفتر ۵
(۳) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۴،ص ۱۸۵
(۲)
ورنمی تانی بہ کعبۂ لطف پر
زاری و گر یہ قوی سر ما یہ ای است
دایہ وما در بھا نہ جو بو د
عرضہ کن بیچا ر گی بر چا رہ گر
رحمت کلی قوی تر دا یہ ای است
تا کہ کی آن طفل او گر یا ن شود
طفل حاجات شمارا آفرید
گفت: ادعو اللہ بی زاری مباش
تا بنا لید و شود شیرش پدید
تا بجو شد شیر ھای مھر ھا ش۔ (۴)
۵۔۲ : خدا کی طرف لوٹ کرجا نے کے بارے ابہا م کا احساس
راہ خدا کے راہی ہمیشہ خطر ہ محسو س کر تے رہتے ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں ، کس طرح وہ منز ل مقصو د تک پہنچیں گے ، کس حالت میں اپنے پروردگارکے حضور حاضرہوں گے ، کیا وہاں تک پہنچتے پہنچتے ، شیطا ن اور نفس کی دھوکہ دہی اورگمراہی و چالبازی سے محفوظ رہ پا ئیں گے؟خدا کی طرف لو ٹنے کی اس حالت کے ابہام کی وجہ سے وہ گریہ کر تے ہیں ، امام زین العا بدینؑ کی منا جات کے کچھ حصے اس عامل کوبیا ن کرتے ہیں :
وما لی لا ابکی ولا ادری الی ما یکو ن مصیر ی
واری نفسی تخا د عنی ویا می تخاتلنی وقدخفقت عند
رأسی اجنحۃ المو ت فما لا ابکی ، ابکی نخروج
نفسی ، ابکی لظلمۃ قبر ی ابکی لضیق لحدی ۔(۵)
۵۔۳ : شوق وعشق
خدا وند کے حقیقی دوست و محب چو نکہ صر ف خدا ہی کو محبو ب سمجھتے ہیں کبھی تو ا سکی ملاقات کے شو ق میں گریہ کرتے ہیں اور کبھی اس کے ہجرو فراق سے گر یہ کر تے ہیں ایسا
(۴)مثنوی ، ج ۱،دفتر ۲
(۵)مفاتیح الجنان ،دعائے ابوحمز ہ ثمالی
خدا وند کے حقیقی دوست و محب چو نکہ صر ف خدا ہی کو محبو ب سمجھتے ہیں کبھی تو ا سکی ملاقات کے شو ق میں گریہ کرتے ہیں اور کبھی اس کے ہجرو فراق سے گر یہ کر تے ہیں ایسا گریہ فراق محبو ب کا بھی ہے اور شو ق دید ار کا بھی ہے ۔
زدو دید ہ خون فشا نم زغمت شب جدایی
چہ کنم کہ ہست اینھا گل خیر آشنایی۔(۶)
۵۔۴ : خوف وخشیت
یہ خو ف فہم و معرفت پر مبنی ہے ، جب الٰہی مر د و زن عظمت خدا کا احسا س کر لیتے ہیں تو ان کے دل میں خو ف خدا پیدا ہو جا تا ہے اوروہ اس خوف کی وجہ سے گریہ کر تے ہیں ، امام صادق علیہ السلا م فر ما تے ہیں
’’ہر آنکھ قیامت کے دن رو ئے گی مگر وہ آنکھ جو خدا کے محرمات سے اجتنا ب کر تی رہی ہو یا وہ آنکھ جو اطاعت خدا میں رات کو بیدار رہی ہو یا وہ آنکھ جو آدھی راتوں کو خو ف خدا سے گریہ کناں رہی ہو ‘‘(۷)
۵۔۵ :حقیقی دوستوں کی موت
آیات و روایات کی رو سے محبو ب الٰہی ہستیا ں حقیقی محبو ب شما ر ہو تی ہیں ، ان کی محبت خدا کی محبت شما ر ہو تی ہے ۔(۸)
ایسے محبو ب افراد جب اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تو ان کی خا طر اولیائے الٰہی گریہ کرتے ہیں ،یہ گریہ اس ہجرکی وجہ سے ہے جو ان محبو ب افراد کی وفات سے پیدا ہواہے۔
این محبت از محبت ھا جداست
حب محبوب خدا حب خدا است
ائمہ علیہم السلام کا ایک دوسرے پر گریہ، رسو ل ؐ خدا کا حضرت حمزہ جیسی ہستی کے جدا
(۶) حافظ (۷)اصول کافی، ج۲، کتاب الدعاء
(۸)دوست شناسی و دشمن شناسی درقرآن ، فصل ۳
(۹)السیرۃالحلبیہ، ج ۲، ص۲۴۷،بحارالانوار ، ج ۳۶،ص۳۴۹،ج۴۳،ص۲۳۸،ج۲۸ ، ص ۳۷ ، ج۲۲،ص۴۸۴،ج۸۲،ص۱۰۴،ج۴۲،ص۲۸۳
ائمہ علیہم السلام کا ایک دوسرے پر گریہ، رسو ل ؐ خدا کا حضرت حمزہ جیسی ہستی کے جدا ہونے پر گریہ ، حضر ت خدیجہ کی وفات پر گریہ ، سب اسی عنو ان سے تھا۔ (۹)
۵۔۶: صفا ت کما ل کے نہ ہو نے پرگر یہ
کبھی مردان الٰہی اس لئے گریہ کرتے ہیں کہ ان میں وہ صفا ت و کمالات نہیں ہیں جو ہونے چاہیے تھے ، جب اپنے سے برتر انسانوں کو دیکھتے ہیں تو انہیں احسا س ہوتاہے کہ ہم ان کمالات سے ابھی محرو م ہیں ، لہٰذا اس پر گر یہ کر تے ہیں اور پھر ان کمالات کو پانے کے کمر ہمت باندھ لیتے ہیں ۔
بہ کنج میکدہ گر یا ن و سر فکند ہ شد م
چر ا کہ شر م ھمی آیدم ز حاصل خویش(۱۰)
اما م زین العابدین علیہ السلام ایک منا جا ت میں اسی کو بیا ن فر ما تے ہیں :
واعنی بالبکا ء علی نفسی فقد افنیت باالتسو یف والا مال عمر ی (۱۱)
ب ) با ارزش گر یہ
اگرچہ گریہ کی دوسر ی اقسام سے روکا نہیں گیا لیکن وہ جس پر قرآن اور رو ایات میں زور دیا گیا ہے وہ تقو یٰ و روحانی گریہ ہے ، یہی گریہ اس طر ف سے سوزدل ہے اور اس طرف سے سکو ن ، راحت ، لذت و خوشی ہے (۱۲)اِس طر ف سے غم دل ہے اور اُس طرف سے خوشی و شرا ب طہو ر اور لذات شہو د ہے(۱۳)۔
شا د از غم شو کہ غم دام لقاست
غم یکی گنجست و رنج تو چو کان
اند ر این رہ سو ی پستی ار تقاست
لیک کی در گیر د این در کو دکان(۱۴)
’’غم سے خو ش ہو جا ؤ کہ غم ملاقا ت کا دام ہے ، اس را ہ میں پستی ہے بلندی بھی ، غم ایک دفینہ ہے اور رنج ایک کان کی ما نند ، لیکن بچوں میں یہ کیسے ہو سکتاہے‘‘
(۱۰)حافظ شیرازی
(۱۱)دعائے ابو حمزہ ثمالی
(۱۲)اصول کافی، ج۲،کتاب الدعاء
(۱۳)بحار الانوار ، ج۷۳، ص ۱۵۷(۱۴)مثنوی ، ج۲، دفتر ۳
روحانی گر یہ اس طرف سے توصرف گر یہ ہے لیکن دوسری طرف حضر ت حق سے نزدیکی ہے۔(۱۵)
حا فظ شا ید اگر در طلب گو ہر وصل
دید ہ در یا کنم از اشک و در ا و غو طہ خورم
’’حافظ اگر وصا ل کا گو ہر ڈھو نڈ نے میں اپنی آنکھوں سے اشکوں کے دریا بہا کر اس میں غو طے لگا ؤں ‘‘
قرآن کر یم اور رو ایا ت کی رو شنی میں اس گر یہ کی در ج ذیل خصوصیات ہیں :
پہلا : اس گر یہ کا منشاء فہم و شعو ر ہے ، یہ گر یہ اپنے تما م عوا مل کے ساتھ فہم و شعو ر سے پھوٹتا ہے نہ کہ تقلید و گما ن کی بناء پر جاری ہو تا ہے ۔
گر یہ پر جھل و پر تقلید و ظن
تو قیا س گر یہ بر گر یہ مساز
نیست ہمچون گر یہ آن مؤ تمن
ہست زین گر یہ بدان راہ دراز۔(۱۶)
قرآن فرماتا ہے:
’’ اے رسو ل ! امت سے کہہ دو کہ اس کتا ب پر ایما ن لے آؤ یانہ لاؤ بتحقیق جو لو گ اس سے پہلے علم و دا نش کے مقا م کو پاچکے ہیں جب ان پر آیا ت کی تلاوت کی جا تی ہے تو وہ کما ل خضو ع و فرو تنی کے سا تھ ان کے حکم کے سا منے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہماراخداوند پاک و منزہ ہے ،یقینا ہمارے خدا کا وعدہ پو را ہو گا وہ گریہ کرتے ہیں خاک پر گر جاتے ہیں اور ان کے دل میں خوف خدا کا مسلسل اضافہ ہو تا رہتا ہے ‘‘(۱۷)
(۱۵)اصول کافی
(۱۶)مثنوی ، ج۳، دفتر ۵
(۱۷)سورہ اسراء /۱۰۷،۱۰۹
ان آیات سے معلوم ہو تا ہے کہ جو بھی اعلیٰ معرفت ، علم اور فہم رکھتا ہو وہ آیات خداسن کر حقیقت کو پا لیتا ہے اور پھرحضو ر خدا میں چہر ہ خا ک پر رکھ دیتا ہے اور سوز دل سے اشک شوق جا ری کرتا ہے اس امید کے ساتھ کہ اس کے آنسو ؤں پر نظر کرم ہو اور ان پر نظر عنا یت ہو ، لہٰذا جو نہیں سمجھتا نہ اس کے دل میں سو ز ہوتا ہے اور نہ آنکھ میں آنسو ۔
آب در جو زان نمی گیر د قرار
زآک آن جو نیست تشنہ و آب خوار ۔(۱۸)
’’پا نی ند ی میں اس لئے نہیں ٹھہر تا چو نکہ ند ی پیا سی نہیں ہے اور پا نی خوا ر‘‘
مثلا ً ایک آدمی حقیقت گنا ہ کو نہیں سمجھتا ہے ،ا سے نہیں معلو م کہ گناہ انسان کی روح پر کیااثر بدڈالتا ہے، وہ شخص آرام سے گنا ہ کا ارتکا ب کرلیتا ہے یہی گنا ہ قسا وت قلبی کا موجب بن جا تے ہیں وہ شخص سوزدل رکھتا ہی نہیں کہ وہ گریہ کر ے اورآنسو جا ری کرے، اسی وجہ سے رو ایت میں آیا ہے کہ آنکھوں کی خشکی قساوت قلبی کی علامت ہے (۱۹)اور قسا وت قلبی صرف گنا ہوں کی کثر ت سے پیدا ہو تی ہے (۲۰)اور افسو س سے کہنا پڑ تا ہے کہ اس بد بختی کی جڑیں بھی جہا لت و کم علمی میں پا ئی جا تی ہیں ۔
تا ندا ند خو یش رامجر م عنید
آب از چشمش کجا داند دوید ،(۲۱)
گریہ جہادِ اکبر کا اسلحہ ہے ، اندورنی دشمن کے ساتھ جنگ کے لئے اسلحہ یہی گر یہ اور آہ و فغاں ہے ۔جیسا کہ حضر ت علی علیہ السلا م نے دعا کمیل میں فر ما یا ہے ’’وسلا حہ البکاء‘‘ خدا وند نے یہ مو ٔثر ہتھیا ر سب کو دیا ہے، لیکن افسو س ہے کہ ہم اس کی قد ر و منزلت نہیں جانتے ۔
تیسرا : گر یہ خدا کا انعا م و فضل ہے
(۱۸)مثنوی،ج۱، دفتر ۲
(۱۹)میزان الحکمۃ ، ج۱، ص۴۵۵،روایت ۱۸۴۵
(۲۰)حوالہ سابق، حدیث ۱۸۴۶
(۲۱)مثنوی،ج ۳،دفتر ۵
خدا و ند فر ما تا ہے کہ:
’’جو انبیاء میں سے تھے خدا نے ان پر انعا م کیا بنی آدم تھے اور ان
میں سے جنھیں ہم نے کشتی نوح پر سوار کیا ، اولاد ابراہیم و اسرائیل میں سے اوران میں سے جنہیں ہم نے ہدا یت کی اورانہیں منتخب کیا
جب بھی رحما ن کی آیا ت ان پر تلا وت کی جا تی تھیں وہ گر یہ کرتے ہو ئے سجد ہ میں گر جا تے ۔(۲۲)
خداوندنے اس آیت میں گریہ کو انبیاء الٰہی کی مشخص خصوصیات میں سے قرار دیاہے :
سو ز دل اشک رو اں ، آہ سحر
، این ہمہ از نظر لطف شما فی بینم(۲۳)
چو تھا : گر یہ عبد کے الٰہی ہو نے کی علا مت ہے
خدا وند فرما تا ہے : ’’جب وہ رسول پر نا زل کی جا نے والی آیا ت سنتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو جا ری ہو جا تے ہیں کیونکہ انہوں نے اس کی حقیقت کو پہچا ن لیا ہے جو کچھ رسول پر نازل ہو ا ہے، خدایا ہم تیر ے رسو ل ( محمد ؐ ) پر اور قرآ ن پر ایمان لے آئے ہیں اور ہمیں اس کے صد ق کے گوا ہوں میں سے قرار دے ‘‘(۲۴)
پا نچواں : اس کا باطن خوشی و سرور ہے
با ارزش گر یہ اسرا ر الٰہی میں سے ہے کہ جس کے اس طرف تو سو زو آتش ہے لیکن اُس طرف خوشی و لذت اور ملاقا ت محبو ب ہے۔(۲۵)
(۲۲)مریم / ۵۸
(۲۳)حافظ شیرازی
(۲۴)مائدہ / ۸۳
(۲۵)مقالات،ج۳، ص ۳۷۹
(۲۶)مثنوی ، ج۳، دفتر ۵
آتشی را شکل آبی دادہ اند
و اند را ٓتش چشمہ ای بگشا د ہ اند (۲۶)
’’اس طر ف غم ہے، دل کی پر یشا نی ہے، آنکھوں سے آنسو ہیں اور اُس طرف دل کی خوشی‘‘
غبا ر غم بر و د حا ل بہ شود حافظ
تو آب دیدہ ازین و ھگذر دریغ مدار
ج) با ارزش گر یہ روایا ت میں
خوف خدامیں روح کی گہرائیوں کے ساتھ ہونے والا گریہ ہی قدروقیمت اور اہمیت رکھتا ہے اس کا مقا م رو ایا ت میں یوں بیان ہو ا ۔
۱)اما م صا دق علیہ السلا م فرماتے ہیں :
’’بندے کی خدا کے نزدیک ترین حالت اس کی سجدہ میں گر یہ کی حالت ہے ‘‘ (۲۷)
۲) اما م محمد باقر علیہ السلا م نے فر ما یا :
’’ کوئی قطر ہ خدا کو اس قطر ہ ٔ اشک سے زیادہ پسند نہیں ہے جو رات کی تا ریکی میں خوف خدا سے گرا یا جا تا ہے ‘‘ (۲۸)
۳)واعوذبک من قلب الایخشع ومن عین لا تد مع
’’میں تیر ی پنا ہ ما نگتا ہوں ا س دل سے جس میں خشو ع نہ ہو اور اس آنکھ سے جس میں آنسو نہ ہو ‘‘ (۲۹)
۴) واعنی بالبکا ء علی نفسی ’’خدایامجھے میرے حال پر گر یہ کی مدد فر ما‘‘(۳۰)
۵) اما م صا دق علیہ السلا م نے فر ما یا : ’’اگر رونے کے لئے آنکھ سے آنسو نہ نکلیں تو غم و
(۲۷)اصول کافی
(۲۸)حوالہ سابق
(۲۹)مفاتیح الجنان ،دعائے بعد از زیارت امیرالمومنینؑ
(۳۰)دعائے ابو حمزہ ثمالی
(۳۱)مرآۃ العقول ، ج۱۲، ص۵۶
۵) اما م صا دق علیہ السلا م نے فر ما یا : ’’اگر رونے کے لئے آنکھ سے آنسو نہ نکلیں تو غم و حزن کی شکل بنا ؤ ‘‘(۳۱)
چو نا لا ن آیدت روان پیش
مدد بخشش زآب دیدۂ خویش