Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، تمہاری خندہ پیشانی، تمہاری ذاتی شرافت کی دلیل ہوتی ہے۔ مستدرک الوسائل حدیث9980

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

۶ )اہل بیتؑ کے مکتب ، ہدف اور طر یقے کا احیاء

سوا ل ۴۷ : اما م حسینؑ کے دشمنوں پر آپ کیوں لعنت بھیجتے ہیں ، اس کا کیا فا ئد ہ ہے ۔کیا یہ ایک منفی احسا س نہیں جو عصر جدید کے انسان کی طبیعت سے منا سبت نہیں رکھتا ؟ آج کا دور تو ایسا ہے کہ ہر کسی کے سا تھ ہنس کر ملیں ، آج صلح و آتشی کا دور ہے یہ لعنتیں کر نا اور دوسروں کو نا پسند کر نا وہ سخت رو یہ ہے کہ جو۱۴۰۰ سا ل پہلے جب امام حسینؑ کو شہید کیا گیا سے مربوط ہے ، آج کل کا معا شرہ اور لوگ اس چیزکو پسند نہیں کرتے ، پھرآپ کیوں صد بار لعنت کر تے ہیں ؟
جو اب : جیسے انسان کی فطرت و شر ست صرف اس کی معر فت سے تشکیل نہیں پا ئی، اُسی طرح نہ تنہا اس کے مثبت جذبا ت و احسا سات سے تشکیل پا ئی ہے، انسا ن وہ موجود ہے جس کی ذات میں مثبت و منفی دونوں قسم کے احساسات و جذبات پائے جاتے ہیں ، ہمارے وجو د میں جس طرح خو شی پا ئی جا تی ہے اسی طرح غم بھی پایا جاتا ہے ،خدانے ہمیں اس طرح خلق کیا ہے کہ کوئی انسان بھی بغیرخو شی یا بغیر غم کے زندہ نہیں رہ سکتا جیسے خداوندنے ہمیں ہنسنے کی صلاحیت دی ہے اسی طرح رونے کی صلاحیت بھی اس نے ہمیں بخشی ہے ، ہنسنے کی جگہ پر ہنسنا چاہیے اسی طرح رو نے کی جگہ پررو نا چاہیے ۔ اگر اپنے ایک حصے کو چھو ڑ دیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم خدا کے خلق کئے ہو ئے ایک حصے کو استعمال نہیں کررہے ۔
اس کی دلیل کہ خدا نے ہما ر ے اندر رو نا رکھا ہے یہ ہے کہ کچھ مو قع پر گر یہ کر نا ہوتا ہے خدانے ہما رے اندر یہ استعدا د کیوں رکھی ہے جس کی وجہ سے انسا ن غم و اندو ہ پیدا کرتا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جا ری ہو جا تے ہیں ،معلوم ہو تا ہے کہ رونا بھی انسان کی زندگی میں اپنی خاص جگہ رکھتا ہے ۔
(۱) فاطر /۶
خدا کی خا طرگریہ کر نا یعنی اس کے عذا ب کے خوف کی وجہ سے ، یا اس کی ملاقات کے شوق کی وجہ سے رونا ،انسان کے کما ل میں مو ثر ہے، انسان اپنے مصیبت زدہ محبو ب کے ساتھ دل سوزی کرتے ہوئے رقت پیدا کر تا ہے اور یہ قدرتی بات ہے کہ انسان اس جیسی جگہوں پر رقت پیدا کرے اور اس کی وجہ سے گریہ کرے، خداوندنے ہمارے اندرمحبت خلق کی ہے تاکہ جو ہماری خدمت کرتے یاجو لو گ کسی قسم کا عقلی ، جسمانی ، روحانی کما ل رکھتے ہیں انسا ن کی نسبت ہم اظہا ر محبت کر یں اور ان کو پسند کریں ۔
جب انسا ن محسو س کر تا ہے کہ فلاں شخص صاحب کما ل ہے یا فلاں جگہ کوئی کما ل موجو د ہے تو اس کی محبت انسا ن کے دل میں پیدا ہو جا تی ہے۔
اس کے مقا بل انسا ن کے اند ر بغض و دشمنی بھی رکھی گئی ہے ،جیسے انسان کی فطرت یہ ہے کہ جس نے اس کا کوئی کام کیا ہویا اس کے کام آیا ہو اس سے دوستی ومحبت رکھے ، اسی طرح انسا ن کی فطرت میں یہ بھی ہے کہ جس نے اسے تکلیف یا نقصا ن پہنچا یا ہو اسے دشمن سمجھے اور اس سے نفر ت کر ے، البتہ ما دی و دنیا وی ضرر مو من کے لئے زیا دہ اہمیت نہیں رکھتے کیونکہ خو د دنیا اس کے لئے کوئی قدر و قیمت اورحیثیت نہیں رکھتی ، لیکن جو دشمنی انسا ن سے ابد ی سعا دت اور دین چھین لے کیا اس سے چشم پو شی کی جا سکتی ہے؟
قرآن فر ما تا ہے :
ان الشیطا ن لکم عد و فا تخذو ہ عد و ا (۱)
’’شیطا ن تمہا را دشمن ہے اور تم بھی اس سے دشمنی کر و ‘‘
شیطا ن کے ساتھ تو ہنسنا یا دوستی کرنا قابل قبول نہیں ہے ور نہ انسا ن بھی شیطا ن ہو جا ئے گا،اگر اولیائے خدا سے دو ستی و محبت ضرو ر ی ہے تو دشمنا ن خد ا سے دشمنی بھی ضرور ی ہے یہ انسانی فطرت ہے اورانسا ن کی سعادت و کمال کا عامل ہے ، اگر خدا کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی نہ ہو تو رفتہ رفتہ انسان ان کا دو ست بن جا ئے گا اور ان کے ساتھ کی وجہ سے ان کا سلوک و طرز عمل اپنا لے گا ، ان کی باتیں ماننے لگے گا آہستہ آہستہ انہی جیسا شیطان بن جائے گا۔
دوسرے لفظوں میں دشمنوں سے دشمنی کرنے سے انسان کے اندر خطرات اور نقصانات کے مقابل ایک دفا عی سسٹم پیدا ہو جا تا ہے ، انسا ن کے بدن میں جیسے ایک جاذبہ کا نظا م موجود ہے جو مفید چیزوں کو جذ ب کر تا ہے اسی طرح ایک دفا عی سسٹم بھی موجود ہے جو زہریلے مادوں اور میکروبوں کو دورکر تا ہے ، یہ سسٹم میکروب کے ساتھ مبارزہ کر تاہے اورانہیں ماردیتا ہے۔خو ن کے سفید خلیوں کا یہی کا م ہے ،اگر بد ن کا دفاعی نظا م کمزور ہو تو میکروب بڑ ھنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے انسا ن پر بیما ریوں کا حملہ شروع ہوجاتا ہے ، اگر کوئی یہ کہے کہ اس سے کیا ہو جاتا ہے کہ ایک میکروب ہمارے بد ن میں داخل ہو جائے، اسے نکالنے کے بجا ئے خوش آمدید کہیں وہ مہما ن ہے اس کا احترام کریں ، اس صورت میں آپ کا بد ن تو صحیح و سالم نہیں رہ سکے گا ، میکروب کا ما رنا ضرور ی ہے یہی سنت الٰہی ہے یہ حکمت الٰہی ہے کہ خداوند نے ہر زند ہ موجود کے لئے دو سسٹم قرار دئیے ہیں ایک سسٹم جذب کے لئے اوردوسرا سسٹم دفع کے لئے ، جیسے موجودہ زندہ کے لئے مفید مو اد کا جذ ب ضروری ہے اسی طرح بدن سے زہریلے مادوں اور میکر وبوں کا دفع کر نا بھی ضروری ہے اگر ایسا نہ ہو تو انسا ن زندہ نہیں رہ سکے گا۔
زندہ موجود ات میں ایک قوت ہے جو قو ہ دافعہ کہلا تی ہے ،خصوصا ً حیوانات اور انسان میں اس کا کا م بہت اہم ہے۔
اسی طرح روح انسان میں ضروری ہے کہ ایسی استعدا د موجود ہو ،ایک روحانی جاذبہ کا عامل ہو تاکہ جو ہمارے لئے مفید ہیں ان سے ہم خو ش ہوں اور وہ ہمیں اچھے لگیں ان کے نزدیک ہو کر ان سے علم ، کما ل، ادب اور معرفت حاصل کریں ، انسان کیوں بعض
(۲) سورہ ممتحنۃ / ۴
(۳) حج / ۷۸
اسی طرح روح انسان میں ضروری ہے کہ ایسی استعدا د موجود ہو ،ایک روحانی جاذبہ کا عامل ہو تاکہ جو ہمارے لئے مفید ہیں ان سے ہم خو ش ہوں اور وہ ہمیں اچھے لگیں ان کے نزدیک ہو کر ان سے علم ، کما ل، ادب اور معرفت حاصل کریں ، انسان کیوں بعض لوگوں اور کاموں کو پسند کر تا ہے ؟ اس لئے کہ جب ان کے نزدیک ہو تا ہے تو ان سے فائدہ اٹھا تا ہے ، جواچھے لوگ منشاء کما ل ہیں اور معاشرے کے لئے مفید ہیں ان سے محبت کا اظہا ر کر نا چاہیے۔
اس کے مقا بل جو لوگ معا شرہ کے لئے نقصا ن دہ ہیں ان سے اظہا ر دشمنی کر نا چاہیے ، قرآن فرما تا ہے :
قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابرا ہیم والذین معہ
اذ قالو لقو مھم انا برنا ء منکم ومما تعبد و ن من
دون اللّٰہ کفرنا بکم وبدا یتنا و بینکم العداوۃوالبغضا ء ابدا حتیٰ تو منو با للّٰہ وحد ہ ۔ (۲)
’’تم ابراہیم اور اس کے سا تھیوں کی پیر وی کر واس بات میں جو انہوں نے اپنی قوم سے کہی کہ ہم تم سے اور تمہارے غیرازخدا معبودوں سے اظہا ر برأ ت کرتے ہیں ، ہم تمہیں نہیں مانتے ، ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی و بغض برقرار ہے یہاں تک کہ تم خداو ند وحد ہ ،پر ایما ن لے آؤ ‘‘
حضر ت ابرا ہیمؑکو اسلام میں بہت عظیم مرتبہ ملا ہے، رسول ؐ خدا نے فرمایا کہ میں بھی ابراہیمؑ کی اتبا ع کر نے والا ہوں ۔اسلام کا نام بھی حضرت ابرا ہیم نے ہما ری شر یعت کو دیا ’’ھو سما کم المسلمین من قبل‘‘ (۳)
صر ف خدا کے دوستوں کی دوستی کافی نہیں ہے ، اگر اس کے دشمنوں کی دشمنی نہ ہو تو پھر اس کے دوستوں کی دوستی بھی ختم ہو جا ئے گی ، اگر بد ن کا دفا عی نظا م نہ ہو تو جذب والا نظام بھی فیل ہو جا ئے گا ، ہمارے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ جذب اور دفع کی الگ
(۴) فتح /۲۹
(۵) حوالہ سابق
صر ف خدا کے دوستوں کی دوستی کافی نہیں ہے ، اگر اس کے دشمنوں کی دشمنی نہ ہو تو پھر اس کے دوستوں کی دوستی بھی ختم ہو جا ئے گی ، اگر بد ن کا دفا عی نظا م نہ ہو تو جذب والا نظام بھی فیل ہو جا ئے گا ، ہمارے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ جذب اور دفع کی الگ الگ جگہ کی پہچان کرلیں ۔
بعض جگہ الٹ ہو جا تا ہے جسے جذب کر نا تھا اسے دور کر دیتے ہیں ، ایک شخص سے کوئی غلطی ہو جا ئے جس پر وہ پشیما ن بھی ہو تو اس سے دشمنی نہیں کر نا چاہیے جو گنا ہ کا ارتکاب کرلے اسے معا شرہ سے نہیں نکا ل دینا چاہیے بلکہ اس کی اصلاح کی کوشش کریں وہ بیما ر ہے اسے علاج معالجے کی ضرور ت ہے دیکھ بھا ل کی ضرور ت ہے ۔ یہ اظہا ر دشمنی کا موقع نہیں ہے ، ہاں اگر کوئی جان بوجھ کر اور علی الاعلا ن گناہ کر ے اور اسے معا شرہ میں پھیلا نا چاہے تو یہ بڑا جرم ہے ایسے شخص سے دشمنی کرنی چاہیے۔ ہم اما م حسینؑ کی بر کتوں سے تب تک استفا دہ نہیں کر سکتے جب تک ان کے دشمنوں پر لعنت نہ کر لیں اس کے بعد ان پر سلا م کریں ، قرآن نے بھی پہلے’’ اشد اء علی الکفار ‘‘(۴)کہا اس کے بعد ’’رحما ء بینھم‘‘ کہا (۵)
پس معلو م ہو گیا کہ سلام کے ساتھ لعنت ضروری ہے ، ولا یت کے ساتھ دشمنوں سے اظہار دشمنی ضرور ی ہے۔