Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، میرے اور اپنے باپ کے بعد حسن ؑ و حسین ؑ ہی تمام اہلِ زمین سے افضل ہیں اور ان کی ماں اہلِ زمین کی تمام عورتوں سے افضل ہے بحارالانوار کتاب تاریخ فاطمۃ ؑ والحسن ؑ والحسین ؑ باب3

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

سوا ل ۴۳ : عا شورہ کی یاد و مجالس کو مبا حثہ و گفتگو کی صورت میں کیوں منعقد نہیں کیا جا تا ؟ کیا وا قعہ عاشورہ کو زند ہ رکھنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ انسان سینہ زنی ، ما تم اور گر یہ کرے اورگھربارکو سیا ہ پوش کرلے ، لوگ آدھی آدھی رات تک عزاداری میں مصروف رہیں اور دن میں اپنے کام کا ج سے بھی رہ جا ئیں اور اس سے کتنا مالی نقصا ن ہو تا ہے ، کیا ممکن نہیں ہے کہ اس وا قعہ کی یا د اس طرح منا ئی جا ئے کہ اس سے مالی و اجتما عی نقصا ن کم سے کم ہو مثلاً بحث و مباحثہ ہو ، گو ل میز کانفر نس ہو ، سیمینا رہو ، جہا ں اس واقعہ کے بارے میں گفتگو ہو اور اس کی یا د تا زہ ہو؟
جواب :شخصیت سید الشہداء کے بارے میں گو ل میز کا نفر نس کر نا ، تقریریں کرنا ، مقالات لکھنا اور سیمینا ر کرنا یا اس طرح کے دوسرے علمی و تحقیقی کام کر نا بہت مفید اور ضروری ہیں اوراس بارے میں کافی حدتک کام ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے اور لوگ معارف سے روشنا س ہو رہے ہیں ۔یہ سب کام ضرور ی ہیں لیکن کیا واقعہ عاشورہ سے مکمل فا ئد ہ اٹھا نے کے لئے یہی کام کافی ہیں یا اس کے لئے عزادا ری اس طرح بھی منانی چاہیے جیسے آج کل منا ئی جارہی ہے؟
اس سوال کے جواب کے لئے ضرور ی ہے کہ ہم خو دا نسا ن پر ( سا ئیکا لو جیکلی ) نفسیا ت شناسی کے حوالے سے نظر ڈالیں کہ آیا کو ن سے عوا مل سے اس کے آگا نہ کر دار وسلوک میں مؤ ثر ہیں کیا صر ف معرفت وہ واحد عامل ہے جوانسا ن کے اجتما عی کردار و سلوک کی تشکیل میں مؤ ثرہے یا اس کے علا وہ بھی کچھ عوامل ہیں ؟
جب ہم اپنے سلو ک و طر ز عمل پر نظر کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہما رے سلوک و طر ز عمل میں کم از کم دو عوامل بنیا دی تا ثیر رکھتے ہیں ۔ایک قسم معرفتی عوامل ہیں جو انسان کے کسی مطلب کے سمجھنے اور قبول کرنے کا با عث بنتے ہیں اور واضح ہے کہ وہ مطلب جس باب سے متعلق ہواس کے مناسب عقلی یا تجرباتی دلیلوں یا دوسرے طریقوں سے اسے استفا دہ کیا جائے گا، معرفت یقینی طو ر پر ہمارے طرز عمل میں بہت زیا دہ دخالت رکھتی ہے، لیکن صرف معرفت کو موثر عامل قرار نہیں دیا جا سکتا ،بلکہ اور عوا مل بھی ہیں جن کی تاثیر ہمارے طرز عمل میں معرفت سے زیا دہ ہے ،ان عوامل کو کلی طور پر احساسات ، جذبات اور میلا نات قرار دیا جا سکتا ہے ، یہ کچھ اندرونی و نفسیا تی عوامل ہیں جو ہمارے طرز عمل میں موثرہوتے ہیں ـ۔
آپ اپنے طرزعمل کا تجزیہ کریں چاہے آپ کی فردی و خا ندانی زندگی کے حوالے سے ہو یااجتما عی وسیا سی حوالوں سے ہو ، آپ دیکھیں گے کہ وہ اصلی عامل جس نے آپ کو یہ طرز عمل اپنا نے پربرانگیختہ کیا ہے ،ہو سکتا ہے آپ کے اندرو نی ابھا رنے والے عوا مل ہی ہوں ـ۔
اس با رے میں شہیدمطہر ی ؒفر ما تے ہیں :
’’ ہما رے اند ر ایک عامل کا ہو نا ضروری ہے جو ہمیں کسی عمل پر ابھا رے ، کسی کام کو انجا م دینے کے لئے ہما رے اندر اس کام کے بارے میلا ن ہو نا چاہیے اس کام کے بارے ہمارے اندر شو ق و اشتیا ق ہو نا ضروری ہے ،ا س کام کے بارے تعلق خاطرہو نا چاہیے تا کہ اسے انجا م دیں ، صرف اس کے با رے میں معرفت وشناخت کافی نہیں ہے جو ہمیں اس کام کی طرف متحر ک کرے ، ہمارے اندر ایک اور روحانی عادل کی ضرورت ہے جو ہمیں اس کام پر ابھارے اورا س کے انجا م کی طرف حرکت دے ، ان جیسے عوامل کو نفسیاتی محرک ، احسا سات و جذبا ت کہتے ہیں ،یہ عوا مل بطور کلی انسان کے اندر انجا م دینے کے میلا ن کو ایجاد کر تے ہیں اس کے انجا م دہی کے شو ق و جذبے کو بیدا ر کر تے ہیں ۔ جب تک یہ عوا مل نہ ہوں کام انجا م نہیں پاسکتا ، حتیٰ کہ اگر انسا ن کو یقین ہو جائے کہ فلان قسم کی غذا یا خورا ک اس کے بد ن کے لئے فا ئد ہ مند ہے لیکن جب تک اس کے اندر کھا نے کی خوا ہش نہ ہو یا اس کی کھا نے کی خواہش بیدا ر نہ کی جا ئے وہ اس غذا کو کھانے کے لئے متحرک نہیں ہوگا ، مثلا کسی میں کھا نے کی خو اہش ہی مر جا ئے یا ایسی کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے، جس کی وجہ سے اس کے اندر کھانے کی خوا ہش پیدا نہ ہو اسے لا کھ کہتے رہیں یہ غذا تمہارے جسم کے لئے بہت فائدہ مند ہے وہ اسے کھا نے میں کوئی دلچسپی نہیں لے گا۔ پس معرفت اور جا ننے کے علا وہ انسان کے اندر اس میلان و محرک کا ہونا بھی ضرور ی ہے۔ اجتماعی اور سیا سی مسا ئل بھی اسی طرح کا حکم رکھتے ہیں ، انسا ن جتنا بھی علم حاصل کر لے کہ فلان اجتما عی یا سیا سی طر ز عمل بہت مفید ہے جب تک اس کے انجا م دینے کے لئے اس کے اندر محرک موجود نہ ہو گا وہ اسے انجا م دینے کے حوالے سے کوئی اقدا م نہیں کرے گا‘‘
اب جب کہ اس با ت کا پتہ چل گیا کہ ہمارے انسانی اور عالما نہ عمل و سلو ک کے لئے دو قسم کے عوا مل چاہئیں معرفتی و شناختی عوا مل اور تحر یکی و جذ با تی عوا مل اور یہ بات بھی ہم جا نتے ہیں کہ سید الشہدا ء کی تحر یک انسانوں کی سعادت میں کس حد تک مو ٔ ثر ہے توہمیں یہ بات معلو م ہو جا ئے گی کہ صرف یہ معرفت ہمارے طرز عمل میں مؤثر نہیں ہوگی ، اس واقعہ کی یاد اور اس کا جاننا تب ہمیں اسی طرح کے کردار کو اپنانے کا باعث بنیں گے کہ خود ہما رے اندر ایسا محر ک پیدا ہو جا ئے جو ہمیں ایسا ہی طر ز عمل اپنا نے پربرانگیختہ کرے۔
اس واقعہ کی معرفت و شنا خت ایسا جذ بہ پیدا نہیں کر تی بلکہ ضرور ی ہے کہ ہمارے جذبات و احساسات کو ابھارا جائے تاکہ ہم اس کے مشا بہ کام انجا م دیں ، گفتگو ، تقاریر ، سیمیناروغیرہ پہلے عامل کے لئے مفید ہوسکتی ہیں یعنی ہمیں اس واقعہ کے بارے میں معرفت و شناخت دے سکتے ہیں ۔ لیکن ایک عامل کو تحر یک دینے کی بھی ضرورت ہے ہمارے اندر احسا سا ت و جذبات کو ابھا ر نا ، اب ان کو ابھا رنے کے لئے معرفت کسی حد تک فائدہ مندتوہوسکتی ہے لیکن اصل مؤثر وہ چیزیں ہیں جو براہ راست ہما رے احسا سات و جذبات پر اثرانداز ہوتی ہوں ،جب ایک واقعہ کو عملاًکرکے دکھا یا جا تا ہے اس کی تا ثیر اس سے کہیں بڑھ کر ہوگی کہ انسان صرف سن لے کہ ایسا واقعہ پیش آیا ہے،آپ نے بھی اس کا تجربہ بارھا کیا ہو گا ، آپ نے با ر ھا سنا ہو گا اور یہ بات آپ کے ذہن میں موجود ہو گی کہ امام حسینؑ عاشورہ کے دن شہید ہو گئے لیکن صرف یہ جان لینے سے آپ کے آنسو تو جاری نہیں ہوئے ہوں گے ،ہاں جب آپ اس خاص ماحول میں جاتے ہیں مجلس ہورہی ہو ، مرثیہ پڑھا جارہا ہو ، نوحہ پڑھا جارہا ہو خصوصاً اگر اس میں سُربھی اچھی استعما ل ہورہی ہو اب آپ دیکھیں گے کہ کیسے بے اختیا ر آپ کے آنسو نکلتے ہیں ،یہ انداز آپ کے جذبات و احساسات کو ابھا رنے میں وہ اثر کر ے گا، جو صرف پڑھنے مطالعہ کر نے اور جان لینے سے پیدا نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح جب ایک منظر دیکھ لیا جا تا ہے تو اس کی تاثیر صرف جا ن لینے سے کہیں بڑ ھ کر ہے۔
اس مذکور ہ با لا وضا حت و تفصیل کا مقصد یہ تھا کہ جہاں ہمیں یہ جا ننا ضرور ی ہے کہ اما م حسینؑ نے کیو ں قیا م کیا وہاں یہ جاننا بھی ضرور ی ہے کہ آپ کیوں مظلومی کے ساتھ شہیدکر دئیے گئے اور یہ مطلب ہمارے لئے اس اندا ز میں پیش کیا جا ئے کہ جذبات و احساسات پراثر اندا ز ہو سکے جتنا زیا دہ یہ ہمارے جذبا ت کو ابھا رے گا اتنا ہی زیادہ واقعہ عاشورہ ہماری زند گی پر اثر اندا ز ہو گا۔
بس وا قعہ عا شورہ کی عالمانہ تحقیق و تجز یہ عزا دا ری والا کام نہیں کر سکتا بلکہ ان مناظرکامعاشرے میں دکھایاجاناضرو ری ہے جو لوگوں کے جذبات ابھا رسکیں ،جب لوگ صبح گھروں سے نکلیں دیکھیں کہ شہر کے در و دیوار سیاہ پوش ہیں اور سیاہ عَلَم لہرار ہے ہیں ، حالت کی یہی تبد یلی دل پر اثراندا ز ہو جا تی ہے ، اگر چہ لو گ جا نتے ہیں کہ کل محر م کی پہلی تاریخ ہے لیکن سیاہ علم دیکھ کر ان کے دل پر جو اثر ہو گا وہ صرف یہ جا ننے سے نہیں ہو گا کہ کل پہلی محر م ہے اور جب ما تمیوں کے دستے نو حہ خوا نی اور سینہ زنی کر تے ہوئے گلیوں بازاروں میں نکل آتے ہیں تو اس کا جو اثر دلوں پر ہو تا ہے وہ کسی اور چیز سے ممکن نہیں ہے۔
یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ اما م خمینی ؒبا ربا ر یہ کیوں فر ما تے تھے کہ ہم جو کچھ بھی رکھتے ہیں وہ محرم و صفر سے ہے، وہ کیوں اصرار کر تے تھے کہ عزاداری کو اسی پرانے رسم و رواج کے مطا بق باقی و زند ہ رکھیں ؟ کیونکہ ان چو د ہ صد یوں میں تجر بہ سے ثا بت ہو چکا ہے کہ یہ چیزیں انسا ن کے جذ بات ابھا رنے میں بہت مو ٔ ثر ہیں اور اس حوا لے سے معجزنما ہیں اور تجربہ سے ثا بت ہو ا ہے کہ انقلاب اسلامی کے دورا ن یا اس کے بعد محاذ جنگ پر زیاد ہ ترکامیابیوں کا تعلق اس جوش و جذ بے سے تھا جو ایا م محرم و عا شورہ کے دوران عزادا ری سے حاصل ہو تا تھا ۔ اس کے علا وہ ایسی کو نسی چیز ہے جو لوگوں میں اس حد تک مو ٔثر ہو اوران کے لئے محر ک بن سکے اور ایسا مقد س عشق و محبت ان کے اندر پیدا کرے کہ جس کے نتیجے میں لوگ شہادت کے لئے تیار ہو جائیں ـ ۔ اگر ہم یہ کہیں کہ کسی اور مکتب و مذہب میں ایسا عامل موجود نہیں ہے تو یہ بات قطعاًغلط بھی نہیں ہو گی۔