Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، عملِ صالح جیسی کوئی تجارت نہیں اور ثواب جیسا کوئی منافع نہیں۔ نھج البلاغۃ حکمت113

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

سوا ل ۳۵ : عزا دا ری کی رسم کیا صفو ی دور میں را ئج ہو ئی ؟
(۱) المنتظم فی تا ریخ الملوک والا مم، ج۷ ص ۱۵
(۲) تا ریخ الطبی ،ص ۱۸۳
(۳) مرآت الجنان ، ج ۳، ص۲۴۷،
جو اب : اما م حسین علیہ السلام کی عز ادا ری تو آپ کی شہاد ت کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی البتہ آل بویہ کی حکومت (۳۵۲ہجری) تک خفیہ تھی ، چو تھی صد ی ہجر ی سے پہلے تک ایرا ن میں عزاداری گھروں کے اندر ہو تی تھی لیکن چو تھی صد ی کے دوسرے نصف میں عاشورہ کے جلوس سڑکوں پر نکلنے لگے ، اکثراسلامی مو ٔ رخ خصوصاً وہ مؤرخ جنہو ں نے واقعات سال بہ سال ترتیب سے لکھے ہیں ،جیسے ابن جو زی کتا ب المنتظم میں ابن اثیر الکا مل میں ، ابن کثیر البدا یہ والنہا یہ میں ، یا فعی مرا ۃ الجنان میں اور ذہبی وغیر ہ جب ۳۵۲ ہجر ی اور اس کے بعد کے واقعات لکھتے ہیں تو انہوں نے رو ز عاشورہ شیعہ کی عزا داری کے بارے میں بھی لکھا ہے، جیسا کہ ابن جوزی لکھتے ہیں سال ۳۵۲ ہجری میں معزالد ولہ دیلمی نے حکم دیا کہ لوگ عا شو رہ کے دن عزاداری کی مجالس بر پا کریں ،ا س دن بازار بند ہو گئے ، خرید و فر و ش بند ہو گئی ، قصابوں نے جا نورذبح نہ کئے ، حلیم پکا نے والوں نے چولہے ٹھنڈ ے کر دئیے ، لوگوں نے پا نی نہ پیا، بازا روں میں عزاداری کے خیمے لگا د ئیے ،ان پر عزاداری کی علامت کے طور پر ٹا ٹ لگا دئیے گئے، عو رتیں اپنے سر اور منہ کو پیٹ رہی تھیں اور حسینؑ پر گریہ کر رہی تھیں ـ۔(۱)
ہمدا نی کے بقو ل اس دن عو رتوں نے اپنے با ل کھو ل لئے اورعز ادا ری کی رسم کے عنو ان سے اپنے چہر ے سیا ہ کر کے سڑ کوں پر نکل آئیں اور اما م حسینؑ کے غم میں اپنے منہ پیٹ رہی تھیں ۔ (۲) یافعی کے بقو ل:
’’ وہ پہلا دن تھا جس دن سید الشہدا ء کی عزاد ار ی برپاکی جا رہی تھی ‘‘ (۳)
ابن کثیرنے بھی ۳۵۲ہجری کے واقعا ت میں لکھا ہے کہ اہل سنت، شیعہ کو ان
(۴) النجوم الزاہرۃ فی ملو ک مصرو قا ہر ہ ،ج ۴ ص ۲۱۸
(۵) الخطط، مقریزی،۲ / ۲۸۹ ،نیز النجو م الزا ہرۃ، ج۴ ،ص ۱۲۶ و قا ئع سال، ۳۶۶،اتعا ظ الحنفا ء مقریزی، ج۲ ،ص ۶۷ ،منقول از سیا ہپوشی درسوگ ائمہ نور ، ص ۱۶۱۔۱۶۲
(۶) اس با رے دیکھیں : مقا لات تاریخی، رسول جعفریان، ج۱ ص ۱۸۳ ۔ ۱۸۵ ، ۲۰۱ ۔ ۲۰۶
ابن کثیرنے بھی ۳۵۲ہجری کے واقعا ت میں لکھا ہے کہ اہل سنت، شیعہ کو ان کاموں سے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے ،کیونکہ شیعہ کی تعدا د بھی زیادہ تھی اور حکومت کی طاقت بھی ان کے ساتھ تھی،۳۵۲ہجری سے لے کر پا نچو یں صد ی کے وسط تک ( کہ جب آل بو یہ کا دور اختتا م پذیر ہو ا ) عاشورہ کے مراسم اسی طریقے پر تقر یبا ً جا ری رہے اور اگر عاشورہ کے مراسم عیدنو رو ز کے دن آجائیں تو عید نو روز کو مو ٔخر کر دیا جا تا تھا۔(۴) انہی سالوں میں کہ جب مصر میں فاطمی( اسما عیلی) حکومت قائم ہوگئی اور انہو ں نے قا ہر ہ کی بنیاد رکھی، عزادا ری کی مجالس مصر میں بھی بر پا ہو ئیں ، مقریزی کے مطا بق ۳۶۳ ہجری عاشو رہ کے دن شیعہ اپنی روایت کے مطا بق مشہد کلثو م و سیدہ نفیسہ میں جمع ہو ئے اور ان دومقامات پرعزاداری و گریہ میں مشغول ہو گئے ۔ (مصنف کا اسے روایت کے مطا بق کہنا دلالت کر تا ہے کہ مصر میں عزاداری سالہا سال سے معمو ل بن چکی تھی)
عاشورہ کی عزاداری فا طمیوں کے دور میں ہرسال برپا ہوتی اور بازار بند ہو جاتے، لوگ دستوں کی صورت میں نو حے پڑھتے ہوئے قا ہر ہ میں اکٹھے ہو تے (۵)،اس کے بعدتشیع کو تنہا کر دئیے جا نے کی وجہ سے عزادا ری کے مراسم زیادہ علی الاعلان نہ رہے اگرچہ آل بویہ کے دور سے پہلے والی حالت سے بہترتھے اور کتب تاریخ خصوصاً کاشفی کی روضتہ الشہداء سے ثا بت ہو تا ہے کہ صفو ی دور سے پہلے بھی عزاداری سیدالشہدا ء کی مجالس بر پا ہوتی تھیں (۶)،البتہ صفوی دور میں بہت زیادہ آزادی سے یہ مراسم انجام پانے لگیں ۔