Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، اللہ سبحانہ کے پیغمبر، حق کے ترجمان اور خالق و مخلوق کے درمیان سفیر ہوتے ہیں۔ غررالحکم حدیث1935

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

روایات میں عزاداری

سوال ۳۳ : کیا اہل بیت علیہم السلام کے لئے عزا داری برپا کرنے کے بارے کوئی روایت موجود ہے ؟
جواب : اس با رے بہت زیا دہ رو ا یا ت موجود ہیں ، ہم یہاں صرف آئمہ سے مرو ی تین
(۱) بحار الا نوار، ج ۴۳ ،ص ۲۲۲
(۲) بحارالا نوار ،ج ۴۳، ص۲۷۸
جواب : اس با رے بہت زیا دہ رو ا یا ت موجود ہیں ، ہم یہاں صرف آئمہ سے مرو ی تین روایات کی طرف اشا ر ہ کر تے ہیں :
۱) اما م صا دق علیہ السلا م نے فر ما یا :
رحم اللّٰہ شیعتنا :شیعتنا واللّٰہ ہم المو منون فقد واللّٰہ شرکو نا فی اعصیبۃ بطول الحزن والحسرۃ(۱)
’’خدا وند ہمارے شیعہ پر اپنی رحمت نا زل کرے، ہما رے شیعہ ہی مومن ہیں ، خدا کی قسم وہی ہما ری مصیبتوں میں اپنے طویل حزن و غم کے ساتھ ہما رے ہمد رد و شریک ہیں ‘‘
۲) اما م رضا علیہ السلام نے فر ما یا :
من تذکرہ مصابنا وبکی لما ارتکب منا کا ن معنا فی درجتنا یو م القیا مۃ ، ومن ذکر بمصا بنا فبکی وابکی لم تبک عینہ یو م تبکی العیو ن ومن جلس مجلسا یحیی فیہ امر نا لم یمت قلبہ یو م تمو ت القلوب ۔(۲)
’’ جو شخص بھی ہما رے مصا ئب کو یاد کرے اور ہمارے اوپر ڈھائے جانے والی مصیبتوں کو یاد کر کے روئے وہ قیا مت کے دن ہما رے ساتھ ہمارے درجہ میں ہوگااور جوشخص ہمارے مصائب کوبیا ن کرکے خو د بھی روئے اور دوسروں کو بھی رلائے تو جس دن سب آنکھیں رو رہی ہو ں گی، اس کی آنکھ نہیں روئے گی اور جو شخص کسی ایسی مجلس میں بیٹھے جس میں ہما را ذکر کیا جا رہا ہو اور ہماری ولایت کا تذکرہ ہو تو جس دن دل مردہ ہو جا ئیں گے اس کا دل مر دہ نہیں ہو گا‘‘
(۳) بحار، ج ۴۴، ص ۲۸۲ ، ۲۸۹
۳) اما م صا د ق علیہ السلام نے فضیل سے فر ما یا :
تجلسون وتحدثو ن؟ قا ل : نعم جعلت قداک ، قال: ان تلک المجا لس واحبھا فا حیو ا امر نا فضیل، فرحم اللّٰہ من احیی امرنا یا فضیل من ذکر نا او ذکر نا عند ہ فخر ج من عینہ مثل جنا ح الذباب غفر اللّٰہ لہ
ذنو بہ ولو کانت اکثر من زبد ا لبحر۔(۳)
’’کیا مجا لس عزا برپا کر تے ہو ؟ اور کیا جو کچھ اہل بیت پر گذرا ہے اس کے بارے گفتگو کر تے ہو ؟ فضیل نے عرض کیا ہاں مولا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، امامؑنے فرمایا ایسی مجالس کو پسند کر تا ہو ں ، پس ہمارے امر کو زندہ کرو،جو بھی ہمارے امر کو زندہ کر ے وہ خداوند کی رحمت و لطف کا حقدار قرار پاتا ہے ، اے فضیل جو بھی ہمارا ذکر کر ے یا اس کے نزدیک ہمار ا ذکر کیاجا ئے اور مکھی کے پربرابر اس کا آنسو نکل آئے تو خداوند اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اگرچہ دریا کی جھا گ سے زیا دہ ہوں ‘‘