Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، موذن کی آواز اور نگاہ کی حد تک مغفرت ہوتی ہے، تمام خشک و تر اس کی تصدیق کرتے ہیں، اس کی اذان سن کر جو بھی نماز پڑھتا ہے موذن کو ایک نیکی ملتی ہے بحارالانوارج81ص104، تتمۃ کتاب الصلوٰۃ، تتمۃ ابواب مکان المصلی باب 13الأذان والاقامۃ و فضلھما، وسائل الشیعۃ حدیث6848

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

عاشورہ اوراسلامی انقلا ب

سوا ل ۲۹ : کس دلیل کی وجہ سے آپ مدعی ہیں کہ انقلاب اسلامی ایران قیام امام حسین علیہ السلام سے متاثرتھا ، عا شورہ کا اس انقلاب کی پیدائش اوراس کی بقا ء میں کیا کردار ہے؟
جوا ب : بہت سے دا نش مند اورمفکر جنہوں نے اسلامی انقلا ب کے اسبا ب و عوامل کے بارے میں گفتگو کی ہے یہ سمجھتے ہیں کہ مذہبی عنصر وہ اہم اور قو ی عا مل ہے جس نے انقلاب اسلامی کی پیدا ئش اور کامیابی میں بڑ ا مؤ ثر کردا ر ادا کیا ۔ (۱)
فرا نس کے مشہو ر فلسفی اور جدید ما ڈر ن پو سٹ کا نظر یہ دینے والے میشل فو کو اسلامی انقلاب کے عو ا مل کا تجز یہ و تحلیل کر تے ہو ئے ’’سیا سی معنو یت گر ائی‘‘کا نام لیتے ہیں ان کی نظر میں اسلامی انقلا ب کی روح اس حقیقت میں نظر آتی ہے کہ ایرا نی اپنے انقلاب کے دوران اپنے اندر ایک تحو ل و تغیر کی جستجو میں تھے۔ اپنے انفرا دی ، اجتما عی وجود اوراپنی اجتما عی و سیاسی زند گی ایک بنیا د ی تحو ل اپنے فکر و نظر میں ایجا د کر نا ان کا اصلی مقصدوہد ف تھا۔انہو ں نے اصلاح کواسلام میں پایا اور اسلام ان کے انفرا دی اور اجتما عی مسائل ، مشکلات اور نقائص کا واحد حل تھا۔ (۲)
آصف حسین اپنی کتاب’’ایرا ن اسلامی انقلاب وضدآن‘‘ میں ا س با ت پر اصرا ر
(۳) منقول از ضیا فت ھا ی نظر ی پر انقلا ب اسلامی ، مجمو عہ مقالا ت عبدا لو ھاب فراتی، ص ۲۹۷
آصف حسین اپنی کتاب’’ایرا ن اسلامی انقلاب وضدآن‘‘ میں ا س با ت پر اصرا ر کرتے ہیں کہ اسلامی انقلاب کامطالعہ کرتے وقت آئیڈیا لوجی،اسلامی پوزیشن، مشروعیت ( شرعی جواز)تعلیمات آور خصوصاًرہبریت کے عنا صر کو مد نظر رکھنا ضرور ی ہے۔ (۳)
حامد الگاربھی اپنی کتاب’’ ریشہ ھا ئے انقلاب اسلامی‘‘ میں انقلاب اسلامی کی جڑیں تشیع، امام خمینیؒ کی رہبریت اوراسلام کو آئیڈیالوجی کے طور پر پیش کر نے کو قرار دیتے ہیں ۔ دوسری طرف انقلاب اسلام کے وقو ع میں رائج سیا سی ادب پر نظرکرنے اور شعا ر ، تقریریں ، انقلا بیوں اور اس نہضت کے رہبر وں کے بیا نات سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ مذہبی عنا صر میں نہضت امام حسینؑ اور فرہنگ عاشو رہ نے اس حوالے سے بڑامؤثر کردار اداکیا ہے۔ عا شورا ئی تعلیما ت در ج ذیل امور پر مشتمل ہیں :
۱) فر ہنگ عاشو رہ
۲) حق و با طل کی دائمی جنگ کی فر ہنگ
۳)طا غوت و باطل سے نفر ت و جہاد کی فر ہنگ
۴) رضا ئے خدا اور مسلمانوں کے مصالح و منا فع کی پیر وی کا اصو ل
۵ ) عمومی نظا رت یعنی امر با لمعر وف و نہی عن المنکر کی فر ہنگ میں جرم و فسا د کے واقع ہو نے سے پہلے اسے روکنے کی فرہنگ
ان عنا وین کا انقلا ب کی پیدا ئش اور کا میا بی میں بڑ ا مؤثرکردار تھا اورا نقلاب اسلامی کی بقا ء بھی انہی محو روں پر حرکت کے مر ھو ن منت ہے۔ مزید معلومات کے لئے ہم ان چند محو روں پر ذراتفصیلی گفتگو کر تے ہیں :
پہلا : انقلاب اسلامی کی پیدائش میں عاشورائی فرہنگ کے اثرات
۱)انقلابیوں کے اہداف و مقا صد پراثرات
ایرانیوں کا انقلاب سے ہد ف و مقصد یہ تھا کہ ظلم و استبدا د کو نا بو د کر کے عدل الٰہی
(۴) قیا م عا شو رہ، کلا م و بیا ن اما م خمینی، ص ۵۵
(۵) حوالہ سابق ،ص ۳۸
ایرانیوں کا انقلاب سے ہد ف و مقصد یہ تھا کہ ظلم و استبدا د کو نا بو د کر کے عدل الٰہی کی حکومت کو بر پا کریں اور معر و ف کے عنو ان سے اسلام کے احکام کا قیا م ہو اور منکر کے عنوان سے غیر وں سے وا بستگی کو روکیں اور یہ وہی ہد ف و مقصد ہے جو اما م حسینؑنے اپنے قیا م میں ذکر فر ما یا تھا کہ:
انماخرجت لطلب الا صلاح فی
امۃ جدی ارید ان امر با لمعروف و نہی عن
المنکر وسیر بسیرۃجدی وابی علی ابن طالب۔
اگر یزیدبن معا ویہ علی الا علا ن فسق و فجور کا مرتکب ہو تا تھا تو ایران کا شاہی پہلوی خا ندان بھی اسی طرح کا کردا ر رکھتاتھا ، مثا ل کے طور پر وہ اسلام کے قلع قمع میں اس حد تک آگے چلے گئے کہ انہوں نے ہجرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تا ریخ کو شہنشا ہی تاریخ میں تبدیل کر دیا ، امام خمینیؒ انقلا ب اسلامی کے اہدا ف و مقا صد پر عاشو رہ کے اثرا ت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حضر ت اما م حسینؑ نے سب کو سکھلا دیا کہ ظلم و ستم اور ظلم و جا بر حکومت کے مقابل کیا کر نا چاہیے ؟(۴)
بعض علماء اسلام کا نظر یہ یہ ہے کہ اما م حسین علیہ السلام کے قیا م کااہم مقصد اسلامی حکومت کا قائم کرنا تھا ، اس بارے میں اما م خمینی فرماتے ہیں ’’ا ما م حسین علیہ السلام، صاحب الا مرؑ اور سب انبیاء کی زند گی کا مقصد ہی یہی تھا کہ ظلم و جور کے مقابل حکومت عدل قائم کر نے کی کو شش کریں ۔(۵)یہی وجہ ہے کہ انقلا ب اسلامی کے نعر وں میں سے یہ نعر ہ بہت مشہو ر ہوا :
’’نہضت ما حسینی اے رہبر ما خمینی اے ‘‘
’’تحریک ہماری حسینی ہے ، رہبر ہمارے خمینی ہیں ‘‘
۲)رہبر انقلاب پر اثرات
(۶) صحیفہ اما م ،ج۱۷، ص ۵۶
(۷) مصطفی گو ا کیا ن قطر ہ از جا ری زلا ل اندیشہ اما م خمینی، ص ۲۲۹
اما م حسین علیہ السلام کی سنت و رو ش کے حامل رہبر انقلا ب اما م خمینی ؒکا وجود نہضت عاشورہ کے اہم تر ین اثرات میں سے ایک اہم اثر تھا ،انقلا ب اسلامی کی پیدا ئش میں ایرانی اما م حسین علیہ السلام کی شجا عت، دلیری ، استقا مت ، لہجے کی پختگی اور با طل کے سامنے سر نہ جھکا نے جیسی صفا ت کو امام خمینیؒ میں جلو ہ گر دیکھ رہے تھے اور جوشر ائط اسلامی رہبر کے لئے امام حسینؑ نے بیا ن فر ما ئی تھیں وہ سب انہیں امام خمینی ؒکی ذات میں نظر آرہی تھیں اور انقلابیوں کا یہ شعار خمینی ، خمینی تو وارث حسین ای، اسی حقیقت کو بیا ن کر تا ہے۔
۳) مبارزے کے انداز پر اثرات
دنیاوی میدان جنگ میں خالی ہا تھ کو ڈنڈے والے کی جنگ میں نہیں جا نا چاہیے لیکن ایرانی ملت نہضت عاشو رہ کی تا ثیر کی وجہ سے امام حسینؑ اورا صحا ب اما م حسینؑ کے مجاہدا نہ جذبات سے سرشار تھی ، جوا ن ، اللہ اکبر ، تو پ ، ٹینک اور مشین گنیں ہمیں نہیں ڈرا سکتی جیسے نعرے لگاتے ہوئے شہنشا ہی حکومت کے ٹینکوں ، توپوں اور مشین گنوں کے مقابل سینہ تا ن کرجاتے ، تو امام خمینیؒ اس بارے میں فر ما تے ہیں ’’ایک ظالم و جابر اور طا قتو ر حکومت کے سامنے گنے چنے افراد کا خالی ہاتھ مبارزہ کیسے ہو نا چاہیے یہ ہماری ملت کو سیدالشہداء نے سکھایا ہے۔ (۶)لوگوں نے افراد سے جنگ کے بجا ئے اسلامی انس و محبت اپناتے ہو ئے اما م کی سیر ت کو جو انہوں نے حر کے ساتھ اپنا ئی تھی اختیا ر کر لیا تھا لوگـ:
گل در مقابلہ گلو لہ (گولی کے بد لے پھو ل ) اور
ارتش ایرا ن حسینی شدہ رہبر ما خمینی شد ہ
جیسے نعرے لگاتے تھے ۔ (۷)
۴) عزاداری کے مقامات وایام کے اثرا ت
(۸) ایر انی ملت کی عظیم ریلی جو چہلم سیدالشہدا ء کے دن ۱۳۵۷ /۱۰/۲۹ کو انجا م پا ئی ا س کے ۲۳ دن بعد۱۳۵۷/۱۱/ ۔۲۲، انقلا ب کا میا ب ہو گیا۔
عزادا ری کے ایا م اور مقا مات جیسے امام بار گا ہیں ، خیمہ وہ اہم تر ین مکان و زمان تھے جن میں انقلا بی جوان فا سد پہلوی حکومت کے بارے لوگوں کے ضمیروں کو بیدار کرتے اور اس کے خلاف جلسے جلو سو ں کو منظم کر تے تھے۔ بنیا دی طور پر عز ادا ی کے دومہینوں یعنی محر م و صفر میں انقلاب اسلامی کے عروج کے سال میں اس کا نقطہ عر و ج ۹ محرم اور عا شو رہ کے دن ہی تھے جس میں پہلوی حکومت کے ستون مکمل طور پر ڈگمگا گئے۔
ساواک کے آفیسر ز نے اپنی خفیہ رپورٹس میں کہا تھا کہ اگر ہم نے ماہ محرم کو خیریت سے گزار لیا تو شاہ کی حکو مت کو کچھ نہیں ہو گا ، لیکن سب نے دیکھ لیا کہ ۱۳۹۹ ہجری قمری کے چہلم سیدالشہد ا ء کے فو را ً بعد ہی ایک ما ہ کے اندر اندر اڑ ھا ئی ہز ا ر سالہ شہنشاہیت کی عمارت گر گئی ۔ (۸)
دوسرا : انقلا ب اسلامی کی کامیابی میں عاشو را ئی فر ہنگ کے اثرات
انقلا ب اسلامی کی کامیا بی کے اہم ادوا ر پر نظر کر نے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی ابتدا ء بھی نہضت عاشورہ کی تعلیما ت کے زیر سا یہ ایا م عزا دا ری ہی تھے:
۱)۱۵ خر د کے قیا م کی ابتدا ء اما م خمینیؒ کی اس شد ید تقر یر کے بعد ہو ئی جوآ پ نے عاشورہ کے دن عصر کے وقت ارشا د فر ما ئی …………… آپ ۱۵ خرداد کے قیام کے بارے میں فرما تے ہیں :
’’اس عظیم الشان ملت نے ۱۵ خردا د ۱۳۴۲ش ،کو عا شورہ سے سبق سیکھ کر یہ قیا م کیا اگر عاشورہ اور اس کی عظیم کا میا بی کا احساس تمہا ے اند ر نہ ہو تا تو بے سر و سا مانی کی حالت میں ایسا عظیم قیا م کیسے کیا جا سکتا تھا‘‘ (۹)
(۹) صحیفہ اما م خمینی، ج۱۶، ص ۲۹۰
(۱۰) حوالہ سابق، ص ۳۴۶
(۱۱) صحیفہ اما م، ج۱۶ ،ص ۳۴۶
۲ ) ۱۷ شہر یور بھی انقلا ب اسلامی کے اہم تر ین ایام میں سے ہے، یہ بھی فر ہنگ عاشورہ کے اثرا ت کا نتیجہ تھا ، ۱۷ شہر یور عاشو رہ کا تکر ا ر ، میدا ن شہدا ء کربلا کا تکر ار تھا اور ہمارے شہداء ،شہدا ئے کربلا کی یاد دلا تے ہیں اور ہمارے مخالف بھی یز ید و یز ید یوں کی یاد دلاتے ہیں ۔(۱۰)
۳) اما م خمینیؒ کا وہ تا ریخی اعلامیہ ۲۱ بھمن ۱۳۵۷ کے دن جس میں آپ نے کرفیو کی مخالفت کا حکم دیا، دشمن تو انقلا ب کے صف اول کے لیڈروں کو گرفتا ر کر کے اپنے گما ن میں اس انقلا ب کی لہر کو ہمیشہ کے لئے دبا دینا چاہتا تھا لیکن یہ بھی عا شورا ئی حما سہ آفرینی کی یاد دلاتا ہے ۔لو گ اس اعلامیہ اور اپنے زما نے کے حسین کی آواز پر لبیک کہتے ہو ئے سڑکوں پر نکل آئے اور شاہ کی سازشوں کو نابو د کر دیا۔
اما م خمینی اس بارے میں فر ما تے ہیں :
’’اگر سیدا لشہد ا ء کا قیا م نہ ہو تا تو آج ہم بھی کامیا ب نہ ہو پاتے ،یہ ہماری و حدت و انسجام جوہماری کامیا بی کا سبب بنی ہے۔انہی مجا لس و عزا دا ر ی کی وجہ سے ہے ۔ (۱۱)
تیسرا ۔ انقلا ب اسلامی کی بقا ء میں فر ہنگ عاشو رہ کی تا ثیر
نہ صرف انقلا ب کی اصل پیدا ئش و کا میا بی اپنے مختلف مر احل میں فر ہنگ عاشورہ کی مرھون منت تھی بلکہ اس انقلا ب کی بقا ء کی ضا من بھی یہی فر ہنگ ہے۔ اگر انقلا ب اسلامی اسی فر ہنگ کی بنیا د پر با قی رہنا چاہے جس پر اس کی تشکیل ہوئی ہے تو اسے اسی فرہنگ پر مسلسل اپنی تو جہ مر کو ز رکھنا ہوگی۔شو ق شہادت ، آزا د ی ، عز و شر ف ، ظلم و ستم کے ساتھ مبا ر زہ ، احکام اسلام کی مخالفت کو روکنا ، مختلف سیا سی میدا نوں ، دوسرے مما لک کے ساتھ تعلقا ت دا خلی و خارجی سیا سی پالیسی ، مختلف اقتصا دی ، سیا سی ثقا فتی میدانوں میں
(۱۲) ہفت قطر ہ، ص ۲۳۵
(۱۳) صحیفہ اما م، ج۱۷ ،ص ۵۸
پالیسیوں کی تشکیل، ان سب میں اسے نہضت اما م حسین علیہ السلام کی تعلیما ت اور فر ہنگ عاشورہ کو سامنے رکھنا ہوگا، اگر انقلاب سازشوں کے مقابل کامیاب رہا ہے ۔ اگر آٹھ سالہ جنگ جس میں تما م بڑی بڑی طاقتیں اس کے خلاف سرگرم ہوگئی تھیں اور اسے شکست نہیں دے سکیں ، اگر اسلام کے دشمنوں کی دھمکیاں ، امپریل ازم کی تبلیغا ت اور اقتصادی پابندیاں ، اور فوجی کو انقلاب مل کر بھی اس انقلا ب کو ذرا برا بر بھی نقصا ن نہیں پہنچا سکے اور نہ اس کے عزم و اراد ہ میں ذرا برا بر تز لز ل ایجاد کر سکے ہیں ،تو اس کی وجہ صرف اور صر ف یہ ہے کہ ملت ایران کے سا منے عاشورہا ء کی تعلیمات مشعل راہ بنی ہو ئی تھیں ـ۔ (۱۲)
اما م خمینی ؒا س با رے میں فرماتے ہیں :
’’اس محر م کو ہمیشہ زندہ رکھنا ، ہم جو کچھ رکھتے ہیں وہ سب اسی محرم کی وجہ سے ہے ، یہ محرم اور سیدا لشہداء کی شہاد ت اس کا باعث ہیں ہمیں اس شہادت کی گہرائی کو پا نا ہو گا اور کائنات پر اس کی تاثیر کو سمجھنا ہو گا اور متو جہ رہنا ہو گا کہ آج بھی اس کی تاثیر ہے ۔ اگر یہ مجا لس ، خطبے ، تقریریں ،عزا دا ری ، جلو س اور ماتم نہ ہو تے تو ہمارا ملک کبھی کامیاب نہ ہوتا ،یہ سید الشہداء و عبا س علمدار کے عَلَم کے زیر سا یہ قیا م ہی تھا جس نے عظیم کامیابی عطا کی ، آج بھی محا ذ جنگ پر آپ دیکھیں سب امام حسینؑ سے عشق ہی ہے جس نے وہاں کی روحانی فضا کو زند ہ رکھا ہو ا ہے‘‘(۱۳)
آپ دو سر ی جگہ فرماتے ہیں : (۱۴) صحیفہ اما م ، ج۱۵ ص ۲۳۰،انقلا ب اسلامی پر فر ہنگ عا شور ہ کی تا ثیر کے حوا لے سے مزید مطالعہ کے لئے رجو ع کریں ؛ الف :۔ عبدا لو ہا ب فراتی ضا فتی نظر ی بر انقلا ب اسلامی فضل نا مہ حکو مت اسلامی سال ۸ ،شمار ہ اول بہا ر ۸۲ ،ص ۳۹۶
’’یہ امام حسین علیہ السلام کی قربانی ہی تھی جس نے ہما رے لئے اسلام کو زندہ رکھا ، آپ بھی جا ن لیں کہ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کی یہ تحریک ہمیشہ با قی رہے تو اس نہضت عاشورہ کی حفاظت کرو‘‘ (۱۴)
چو تھا حصہ
عزاداری کا فلسفہ
محمد رضا کا شفی