Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام محمد باقر نے فرمایا، مومن پہاڑ سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ پہاڑ کو کاٹا جاسکتا ہے،مگر مومن کے دین کو نہیں توڑاجاسکتا۔ اصول کافی باب المومن و علاماتہ حدیث37

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

ابن زیاد کا قتل نہ کیا جانا

سوا ل ۲۷ : حضر ت مسلم بن عقیل کو با وجود اس کے کہ ابن زیا د کے قتل کا مو قع ہا تھ آچکا تھا آپ نے اسے قتل کیوں نہ کیا؟
جوا ب : اہل بیت عصمت و طہارت اور قرآن کریم کی تعلیما ت میں ظلم و ستم اور دھو کہ و فریب کے ساتھ دشمن کے خلاف کامیا بی کو صحیح نہیں سمجھا گیا ، جیسا کہ حضر ت علی علیہ السلام کی حکومت کے دور میں ایک جنگ میں دشمن کے افرا د ایک جنگل میں چھپ گئے ،آپ کو مشو رہ دیا گیا کہ اس جنگل کو آگ لگا دیں تو آپ نے ظلم و ستم سے اجتنا ب کے عنو ا ن سے فر ما یا :
لا اطلب النصر با لجور (۱)
’’میں ظلم و ستم کے ساتھ قطعاً کامیا بی حاصل نہیں کر وں گا‘‘
حضر ت مسلم بن عقیل کی تربیت بھی اسی مکتب اسلام و اہل بیتؑ میں ہو ئی ، یہی وجہ ہے کہ جب ہا نی اور شر یک بن اعو ر مریض تھے اوران کی عیادت کے لئے ابن زیاد ان کے گھرآنا چاہتا تھا تو شر یک نے مسلم سے کہا جب ابن زیاد یہاں آئے تو اسے قتل کر دینا اور دارالامارہ جا کر قبضہ کر لینا ، لیکن مسلم کے میز بان ہا نی بن عر وہ نے اس تجو یز کی مخالفت کی ،
(۲) وقعہ الطف، ص ۱۱۴
(۳) تا ریخ طبری، ج۴ ،ص ۲۷۱
(۴) مائد ہ /۳۲
حضر ت مسلم بن عقیل کی تربیت بھی اسی مکتب اسلام و اہل بیتؑ میں ہو ئی ، یہی وجہ ہے کہ جب ہا نی اور شر یک بن اعو ر مریض تھے اوران کی عیادت کے لئے ابن زیاد ان کے گھرآنا چاہتا تھا تو شر یک نے مسلم سے کہا جب ابن زیاد یہاں آئے تو اسے قتل کر دینا اور دارالامارہ جا کر قبضہ کر لینا ، لیکن مسلم کے میز بان ہا نی بن عر وہ نے اس تجو یز کی مخالفت کی ، ابن زیاد آکر عیا دت کر نے کے بعد اٹھ کر چلا گیا اور شریک نے مسلم سے یہی سوا ل پو چھاآپ نے اسے کیوں قتل نہ کیا تو آپ نے فرمایا اس کی دووجوہات تھیں ، ایک تو ھا نی بن عر وہ راضی نہیں تھا کہ خو ن ابن زیاد اس کے گھر میں گرایا جا ئے ، دوسرا رسول ؐ خدا سے روا یت ہوئی ہے کہ ـ :
ان الا یمان قید الفتک ولا یفتک المومن۔(۲)
’’ایما ن دھو کے سے قتل میں مقید ہے اور مومن ایسا کا م نہیں کر تا ‘‘
ھا نی نے کہاہاں اگر آپ اسے قتل کر دیتے تو یہ فاسق فا جر اور حیلہ باز شخص کا قتل ہو تا لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ ان کا خو ن میرے گھر میں گرایا جا ئے۔ (۳)