Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، زیادہ کھانے پینے سے اپنے دلوں کو مردہ نہ کرو، کیونکہ اس سے دل ایسے مردہ ہوجاتے ہیں جیسے زیادہ پانی سے کھیتی مرجاتی ہے تنبیہ الخواطر ج1ص46، مستدرک الوسائل حدیث 19619

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

سو ا ل ۲۵ : کیا اما م حسینؑ کا قیا م حکومت کے خلاف سرکشی و خروج تھا؟ اور اصولی طور پر کس موقع میں حکومت کے خلا ف قیا م و خروج جائز ہے؟
جو اب : عا شو رہ کے دن لشکر ابن سعد سے عمر و بن الحجا ج نے بآواز بلند کہا :
یا اہل الکو فہ : الزموا طا عتکم و جما عتکم و لا ترتا لوافی قتل من مرق من الدین و خالف الامام۔
اس نے اپنی گفتگو میں اما م حسین علیہ السلام کو دین سے نکل کر امام وقت کے خلا ف خروج کرنے والا قرا ر دیا اور اسی فکر کی جڑیں بھی آج بھی موجود ہیں
یہ با ت مسلّم ہے کہ اما م حسینؑنے ظالم حکو مت کے خلاف خرو ج کیا ،لیکن یہ بات بھی قابل تو جہ ہے کہ اسلا م کی نظر میں ہر حکومت کے خلاف خرو ج جائز نہیں ہے ،اگر بعض مکاتب فکر ایسا سمجھتے ہیں حق خروج کا بلا واسطہ تعلق ہے حکومت کی بے چو ن و چرا اطاعت کے ساتھ جو کہ ایک سیاسی فلسفہ کے بنیا دی مسائل میں سے ہے، اس مسئلہ کی وضاحت کے
جا ن سا لویں شا پیر و ، لیبر الیسم ،ص ۱۵۷
یہ با ت مسلّم ہے کہ اما م حسینؑنے ظالم حکو مت کے خلاف خرو ج کیا ،لیکن یہ بات بھی قابل تو جہ ہے کہ اسلا م کی نظر میں ہر حکومت کے خلاف خرو ج جائز نہیں ہے ،اگر بعض مکاتب فکر ایسا سمجھتے ہیں حق خروج کا بلا واسطہ تعلق ہے حکومت کی بے چو ن و چرا اطاعت کے ساتھ جو کہ ایک سیاسی فلسفہ کے بنیا دی مسائل میں سے ہے، اس مسئلہ کی وضاحت کے لئے کہ آیا حکومت وقت کے خلاف قیا م کیا جا سکتا ہے ؟ پہلے اس بات کی وضا حت ضروری ہے کہ ہمیں حکومت کی پیرو ی و اطاعت کیوں کرنا چاہیے؟ کیا حکومت کی اطاعت مطلقہ فرض ہے اور کسی صورت میں بھی اس کی مخالفت نہیں کی جا سکتی ؟ اور اگر کہیں اس کی مخالفت کی جا سکتی ہے تو اس کی حدود و قیو د کیا ہیں ؟ ان سوا لوں کے جوا ب ہم جمہوری نظریہ اور حق الٰہی نظر یہ دونوں کے مطا بق ذکرکریں گے ۔
پہلا ) ڈیموکر یٹک نظر یہ میں حق خرو ج
مغر ب کی نظر میں حکو مت کے جوا ز کا دار و مدا ر اجتما عی قرار داد اور لوگوں کی رضا پرہے ، حکومت کی اہم تر ین ذمہ دا ری و و ظیفہ لوگوں کی فلاح و بہبود اور امن و امان کا مہیا کر ناہے، اس کے مقابل لوگوں کا وظیفہ حکومت کی اطاعت ہے۔ حکومت قانون سازی اور اس کے اجراء میں لوگوں کی نما یند ہ ہو تی ہے ، اجتما عی و عمو می امن وامان کی برقراری جیسا کہ ھانبرنے کہا یا قدرتی حقو ق کی پاسداری کی خا طر جیسا کہ لاک نے کہا، ھانبر کی طرح کے مفکرین جو کہ قرار دادی نظر یہ کے حامی ہیں لوگوں کو حکومت کے خلاف خروج یا شو ر ش کا حق بالکل نہیں دیتے، یا کم از کم افر اد کو نہیں دیتے اگر چہ ملت کے لئے ایسے حق کے قائل ہوں ، جیسا کہ امریکہ کی آزا دی کے اعلا میے میں آیا ہے حکومتیں اپنا عا دلا نہ اقتدار ان لوگوں سے حاصل کریں گی جن پر حکومت کی جا نی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ جب کسی حکومت کی شکل ان اہدا ف کے خلاف سرگرم ہو جا ئے تو لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اس حکومت کا تختہ الٹ دیں یا اسے تبدیل کردیں اور اس کی جگہ نئی حکومت قائم کریں ۔(۱)
جان لاک اگرچہ انسانوں کے قدر تی حقو ق کا دفا ع کر تا ہے اور حکومت کے
(۲) جان جاک شوا لیہ آثا ر بز ر گ سیاسی، ص۱۰۴
(۳) جین ہمپٹن فلسفہ سیا سی ،ص ۱۰۷
(۴) سر وش محمد ،مقا ومت و مشروعیت ، فصل نا مہ حکومت اسلامی ،سا ل ہفتم شمارسوم پا ئنر ۳۸۱ ۱،ص ۷۹
(۵) فلسفہ سیا سی، ص ۱۱۷
جان لاک اگرچہ انسانوں کے قدر تی حقو ق کا دفا ع کر تا ہے اور حکومت کے انحراف کی صورت میں لوگوں کے حق شور ش کی بات کر تاہے، لیکن اس با رے میں کوئی واضح بات نہیں کرتا ، وہ مدنی حکومت ( شہر ی حکومت) کے بارے میں اپنے ایک رسا لے میں لکھتا ہے۔
اس قانون کی بناء پر جو کہ انسانوں کے بنا ئے ہو ئے تما م قو انین پر مقد م ہے اور سب پربرتری رکھتا ہے لوگ آخر ی فیصلے کا حق محفو ظ رکھتے ہیں ،جب تک زمینی داد رسی موجود نہ ہو لو گ در گا ہ ِ الٰہی سے تو سل کر سکتے ہیں ۔(۲)لیکن اس کے باوجودریاست کے افراد ان کے خلاف شورش کاحق نہیں رکھتے جنہیں وہ صحیح امین نہیں سمجھتے اگر چہ یہ حق پو ری ملت کو ( اکثریت کے ذریعے ) حاصل ہو۔(۳)
یہی وجہ ہے کہ ڈیمو کریسی کے بہت سے حامی بھی ایک ڈیموکریٹک نظام میں شورش کے حق کے قا ئل نہیں ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ ڈیمو کریٹک نظا م کے اندر اس سے صرف ِنظر کیا جا نا چاہیے کیونکہ جمہو ر ی نظا م میں اقلیتوں کو بھی اپنے خیالات کے اظہا ر کا منا سب موقع ملتاہے، وہ درحقیقت حق شو رش کو ایک ادارے کی شکل میں قرار دیتے ہیں ۔(۴) ڈیمو کر یٹک حکومتوں میں حق شورش قرار نہ دینے کے نظریئے پر کافی اعتراضا ت کئے گئے مثال کے طور پر:
پہلا اعتر اض:جب فر د حکومت کو اپنی سعا دت وخو ش بختی کے موا فق نہ پا ئے تواپنی پہلی موافقت سے پیچھے کیوں نہیں ہٹ سکتا۔(۵)
دوسرا اعتر اض : یہ احتما ل کہ برسر اقتدا ر اکثریت دوسروں کے حقو ق پاما ل کر سکتی ہے ہمیشہ رد نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسا کہ تجربہ سے ثا بت ہو چکا ہے کہ ڈیمو کریٹک حکومتیں بھی ظالم و جابراور سختی کرنے والی ہوسکتی ہیں ،تاریخ سے ثابت ہے کہ عمو می ارادہ کااصول بھی استبدا د و ڈکٹیٹر شپ میں بدل سکتا ہے۔ (۶)
(۶) ایلن ڈو ینو آنا ، تا ملی در میبا دی دمو کراس تر جمہ بزر گ نادرزاد، ص ۴۳اور ۷۱
(۷) فرینٹنر نیومن ، آزا دی و قدرت و قا نو ن، ص ۳۶۸
(۸) مقاومت و مشروعیت، ص ۸۱
تیسرا اعتراض : یہ کون تشخیص دے گا کہ ڈیموکریسی میں ا قلیت کو کافی حد تک مواقع ملتے ہیں اور کون یہ فیصلہ کرے گا کہ اقلیتوں کے حقو ق کی پاسدار ی ہو چکی ہے اور شو ر ش و خرو ج کی ضرورت نہیں ہے،اگر یہ تشخیص ( جو بھی کرے) اقلیت کی نظر کے موا فق نہ ہو تو ان کا یہ دعو یٰ اپنی جگہ پر باقی رہے گا کہ ان کے حقو ق کا خیا ل نہیں رکھا جا رہا اورفر ینٹنر نیو من کے بقو ل ڈیمو کریسی کے حامی نظریہ والوں نے حق شو ر ش و خرو ج کے حوالے سے کوئی چارہ اور راہ حل نہیں سو چا ۔(۷)
چو تھا اعتر اض : ڈیمو کر یسی کے نظر یہ میں چو نکہ حقو ق کی بنیا د اکثریت کی رائے ہوتی ہے اور یہ چیزاہم شمارہو گی، لہٰذا کوئی بھی عمو می سوچ کے بر خلاف کسی چیز کو حق یا ارزش شما ر نہیں کر سکتا اور اسے دلیل نہیں بنا سکتا ،بنا بر ین شو ر ش و خر و ج کا کوئی مو قع باقی نہیں رہے گا۔ ڈیمو کریسی میں سیا سی فضا معاشرہ میں کھلی نہیں رہ پاتی اور اکثریت جو کہ در حقیقت اقلیت ہو تی ہے اسے نسبی اکثریت حاصل ہو تی ہے اقتدا ر پر قابض ہو جا تی ہے اور یہ نسبی اکثریت مطلق اکثریت پر حکومت کرتی ہے جس سے افراتفری پھیلنے کی فضا پیدا ہو نا شروع ہو جا تی ہے۔(۸)
دوسرا )نظر یہ حق الٰہی میں شو رش و خرو ج
اس نظریہ کے مطا بق حکو مت کی مشروعیت و جوازالٰہی اذن کی بناء پر ہو تا ہے او ر حکومت حاکمیت الٰہی سے سرچشمہ پاتی ہے۔ یہ بہت قدیمی نظر یہ ہے اور تاریخ میں مختلف شکلوں میں موجود رہا ہے۔ مشرقی قدیم شہنشا ہیت میں شہنشا ہوں کو اور فراعنہ کے دورمیں فرعو نوں کو خدا سمجھا جاتا تھا، بعض نظریات کے مطا بق بادشاہ کی منشاء خدا ئی ہوتی تھی
(۹) فلسفہ سیا ست از موسسہ آموزشی و پژ و ہشی اما م خمینی ،ص ۱۲۷
(۱۰) مقاو مت و مشر و عیت ،ص ۸۱
(۱۱) ژاک رؤد جان ، قرا ر داد اجتما عی، ترجمہ مر تضیٰ کلا نتریان، ص ۳۱۸
(۱۲) مو سو عۃ الفقھیہ ،ج۶، ص ۲۲۰
اس نظریہ کے مطا بق حکو مت کی مشروعیت و جوازالٰہی اذن کی بناء پر ہو تا ہے او ر حکومت حاکمیت الٰہی سے سرچشمہ پاتی ہے۔ یہ بہت قدیمی نظر یہ ہے اور تاریخ میں مختلف شکلوں میں موجود رہا ہے۔ مشرقی قدیم شہنشا ہیت میں شہنشا ہوں کو اور فراعنہ کے دورمیں فرعو نوں کو خدا سمجھا جاتا تھا، بعض نظریات کے مطا بق بادشاہ کی منشاء خدا ئی ہوتی تھی اوراس کی حاکمیت خداو ند کی مشیت سے ہو تی تھی ، قر و ن و سطیٰ میں عیسا ئی معتقد تھے کہ حکومت الٰہی و خدائی منشاء رکھتی ہے اور مشر ق میں جو بادشا ہ کو ظل الٰہی کہا جا تا تھا اس کی حقیقت بھی یہی باد شا ہ کے خدا کے ساتھ رابطے کا اظہا ر تھی۔(۹)
اس نظریہ میں حق شو ر ش وخر و ج کے حوا لے سے مختلف نظر یا ت ہیں ۔
۱)کتا ب مقد س فصل ۱۳ کی ابتدا ء میں ہے :
سب پر حا کموں کی اطا عت واجب ہے کیونکہ ہراقتدار خداو ند کا عطا کر دہ ہے اور ہر حاکم کوا س نے مقر ر کیا ہے لہٰذا جو حا کم کے خلا ف سر کشی کر ے گا اس نے الٰہی نظا م پر خروج کیا ہے اوراپنے آپ کو عذ اب و سزا کا مستحق بنا لیا ہے۔
تھا مس قدیس کا نظر یہ بھی یہی تھا کہ کسی کو ظالم حاکم کا مقابلہ کر نے یا اسے قتل کرنے کاحق حاصل نہیں ہے ۔ہاں عمو می اقتدا ر کے سا تھ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ (۱۰)گذشتہ دور میں مغر بی سیاست کے اعلا میوں میں یہ پیغا م ہو تا تھا کہ چو نکہ حاکم مشیت خدا کے ساتھ برسر اقتدا ر آتے ہیں لہٰذا با د شا ہ کو ما ننا پڑ ے گا اگر چہ وہ ظا لم و ستمگر ہو اس کی اطاعت کے سوا کوئی چار ہ نہیں ہے۔ (۱۱)
اہل سنت کا نظریہ
مسلمانوں کی غالب اکثریت نے ایسا نظر یہ قبو ل نہیں کیا اور اکثر اسلامی فرقے ظالم حکمران کے خلاف خر و ج اور اسے معزو ل کر دینے کوجا ئز سمجھتے ہیں اگر چہ شو ر ش اور آشوب کے پھیل جا نے کا ڈر جو از شو ر ش کا فتویٰ دینے سے ہمیشہ ایک اہم مانع شما ر ہو تا رہا ہے۔ (۱۲)البتہ بعض نے ابو حنیفہ کی طر ح نہ صر ف جو از شورش کا فتویٰ دیا بلکہ خو د ظلم کے خلاف قیام کرکے عملاً اس کی حمایت بھی کی (۱۳)اس کے مقابل حنبلی فرقہ والے حا کم کے
(۱۳)مقاومت ومشرعیت، ص ۸۴
(۱۴) مقاومت ومشرعیت، ص ۸۴
مسلمانوں کی غالب اکثریت نے ایسا نظر یہ قبو ل نہیں کیا اور اکثر اسلامی فرقے ظالم حکمران کے خلاف خر و ج اور اسے معزو ل کر دینے کوجا ئز سمجھتے ہیں اگر چہ شو ر ش اور آشوب کے پھیل جا نے کا ڈر جو از شو ر ش کا فتویٰ دینے سے ہمیشہ ایک اہم مانع شما ر ہو تا رہا ہے۔ (۱۲)البتہ بعض نے ابو حنیفہ کی طر ح نہ صر ف جو از شورش کا فتویٰ دیا بلکہ خو د ظلم کے خلاف قیام کرکے عملاً اس کی حمایت بھی کی (۱۳)اس کے مقابل حنبلی فرقہ والے حا کم کے خلاف خر و ج کو غلط قر ار دیتے ہیں اور اسے جائز نہیں سمجھتے اور بد قسمتی سے آج کل غالب اہل سنت میں اس نظر یئے کو قبو ل کیا جاتا ہے کیونکہ:
پہلا یہ کہ پیغمبر اکر م ؐ سے مر و ی بعض رو ایا ت جیسے{ اسمعوا واطیعو ا فانما علیھم ماحملو ا و علیکم }سے سطحی استفا دہ اسی کا کیا گیا۔
دوسرا یہ کہ اس نظر یہ کے حامل اکثر افرا د حکمر ا نوں سے قر یبی مر ا سم رکھتے تھے ۔
تیسرا یہ کہ عقلی میلانات ان میں کم تر ہو تے چلے گئے اور معتزلہ جیسے عقلی میلانا ت رکھنے والے فرقے کنا رے پرکر دئیے گئے ابن ابی الحدید لکھتے ہیں ہمارے علماء ظالم حکمرانوں کے خلاف قیام کو واجب قراردیتے ہیں جب کہ اشعر ی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے غزالی جیسے علما ء اسے جائز نہیں سمجھتے۔(۱۴)بد قسمتی سے اہل سنت کے اندر ان افکا ر و نظر یا ت کا پا یا جا نا با عث بنا کہ آج کے دور میں بعض عرب مما لک کے اند ر مبار زہ کر نے والے دین کے پابند گر وہ اس فکر میں مبتلا ہیں کہ ظالم حکومت کے خلاف مسلح قیا م کہیں شریعت کے خلاف نہ ہو ۔
۳)شیعہ نظریہ
چو نکہ مسئلہ شورش و خرو ج کا حکو مت کی مشر وعیت سے تعلق ہے، لہٰذا ہم اس مسئلہ کومختصر طورپر شر عی و غیر شر عی حکومت کے لحا ظ سے دیکھیں گے۔
۱۔۳)ظالم حکومت میں شو ر ش و خروج
شیعہ عقید ہ کے مطا بق اما مؑکی موجو دگی کے دور میں چو نکہ اما م و رہبر میں عصمت شرط ہے لہٰذا غیر معصو م حاکم جیسا بھی ہو غاصب اور جا ئر ( ظالم) شما ر ہو گا ، اس کا حکومتی معاملات چلا نا غصب اور ناجا ئز ہے ،اسی طرح غیبت کے دور میں بھی جو حاکم اما م عصر کی طرف سے اذن نہ رکھتا ہو وہ غاصب و جا ئر ہے اور ایسااذن صرف فقیہ عادل کو حاصل ہے
(۱۵) اما م خمینی ، ولا یت فقیہ، ص ۳۷
شیعہ عقید ہ کے مطا بق اما مؑکی موجو دگی کے دور میں چو نکہ اما م و رہبر میں عصمت شرط ہے لہٰذا غیر معصو م حاکم جیسا بھی ہو غاصب اور جا ئر ( ظالم) شما ر ہو گا ، اس کا حکومتی معاملات چلا نا غصب اور ناجا ئز ہے ،اسی طرح غیبت کے دور میں بھی جو حاکم اما م عصر کی طرف سے اذن نہ رکھتا ہو وہ غاصب و جا ئر ہے اور ایسااذن صرف فقیہ عادل کو حاصل ہے اس کے غیر کے لئے ثا بت نہیں ہے ،لہٰذا جو حکومت فقیہ عادل جا مع الشر ائط کی نظارت کے ما تحت نہ ہو وہ حکومت حکومت جور و طا غو ت شما ر ہو گی ۔(۱۵)جب حکومت کو مشر وعیت حاصل نہ ہو تو اسے حکمر انی کا کوئی حق نہیں اور لوگوں پر اس کی اطاعت لازم نہیں ہے ،لیکن اس کے باوجود اضطر ار ی او ر عام عادی صو رت حال کے لحا ظ سے فرق کر نا ہوگا کیونکہ :
اضطراری و مجبو ر ی کی صو رت حال میں اگر چہ حکومت ذا تی طور پر مشر وعیت نہیں رکھتی لیکن موجود ہ سیا سی و اجتما عی حالا ت کے پیش نظر حکومت کی بعض مخالفتوں سے چشم پوشی کرنا ہو گی تا کہ اس سے بر تر مصلحت کو حاصل کیا جا سکے یا زیادہ فسا د و برائی سے بچا جا سکے، ایسی صورت حال میں اطا عت کا لازمی ہو نا اس وجہ سے نہیں کہ وہ شرعی حکومت ہے بلکہ ایک ثانو ی عنوا ن یعنی اضطر ار ی صورت حا ل اس کا با عث بنی ہے۔
مثا ل کے طور پر شیعہ فقہا ء حکومت جو ر کے ساتھ تعا ون کو حرام قرار دیتے ہیں ، لیکن بعض مواقع پر جیسے اسلامی سرزمین پر دشمن کے حملوں کو رو کنے اور اسلامی سرزمین کے دفا ع کے لحا ظ سے حکومت جو ر کے ساتھ تعا و ن اور اس کی اطاعت کو وا جب قرا ر دیتے ہیں اب واضح سی بات ہے کہ اس کے معنی حکومت جو ر کو جو از فر اہم کر نے کے نہیں ہیں بلکہ یہ سب اسلامی معاشرہ کی مصلحتوں کی خاطر مجبو ر ی کے حالات میں کیا گیا ہے۔ اس نظریہ کی دلیل اصلی اسلامی تعلیما ت ہیں ، جیسا کہ اما م ہشتم اما م رضا علیہ السلام سے ایک شخص نے یہی سوال کیا کہ غیروں کے حملوں کے مقابلے میں اسلامی سرحدوں کی محافظت کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فر ما یا اگر اسلامی مر کز اور مسلمانوں کو خطر ہ در پیش ہو تو جنگ کرنا ضرور ی ہے ۔ لیکن اس جنگ کا مقصد سلطا ن کی تقو یت نہیں ہوگی بلکہ اسلامی معا شر ہ کا دفا ع اس کا مقصد ہو گا، آپ کے الفاظ یہ ہیں :
(۱۶) کلینی فر وع کافی، ج ۵ ص ۲۱
(۱۷) محمد با قر مجلسی بحا ر الا نو ا ر ج ۴۴ ص ۳۲۵
(۱۸) نہج البلاغہ ،خ ۶۲
وان خاف علی بیضتہ الاسلاام والمسلمین
قاتل فیکو ن قتا لہ لنفسہ ولیس للسلطان ۔(۱۶)
خروج کے مراحل
اسلامی تعلیما ت کے مطا بق حا کم جور کے مقا بل خرو ج کے مختلف مراحل ہیں :
پہلا، انکا ر ، حکومت جور کی بیعت سے انکا ر کردے اور اس کے احکام نہ ما نے جیسا کہ ائمہ معصومین کی سیرت یہی رہی ہے ،جیسا کہ حضر ت علی علیہ السلام نے حکا م وقت کی بیعت نہ کی یاامام حسین علیہ السلا م نے یز ید کی بیعت سے انکا ر کر دیا اور عبد اللہ بن زبیر سے فر ما یا :
انی لا ربایع لہ ابدا لان الا مر انما کا ن لی من بعد اخی الحسن (۱۷)
’’میں کبھی یزیدکی بیعت نہیں کر وں گا کیونکہ بھا ئی حسن کے بعد خلافت میرا حق تھی‘‘
بعض دفعہ اہم مصلحت کے پیش نظر حکومت کے ساتھ ہمکار ی کر نا پڑ تی ہے جیسا کہ حضر ت علی علیہ السلا م نے ایسا کیا، آپ اس بارے فرما تے ہیں :
فخشیت ان لم انصر الاسلام واھلہ ان اری فیل ثلما اوحد ما تکون المصیبۃ بہ علی اعظم من فوولا یتکم (۱۸)
’’مجھے یہ خطرہ لاحق ہواکہ اگر میں اسلام اور اہل اسلام کی مدد نہ کروں تو اس میں ایسا شگاف …دیکھوں گا کہ جس کی مصیبت میرے لئے تمہا ری ولا یت کے فو ت ہو نے سے بڑھ کر ہو ‘‘
اس کے برخلاف اما م حسینؑ حکومت یزید کے لئے ایسا بھی نہیں کر سکتے تھے، چونکہ اگر ایسا کر تے تو یہ اس کے فسق وفجور اورظلم و استبدا د کی تا ئید شما ر ہو تا، جس کا ارتکا ب یزید کھلے عام کر تا تھا اس کا نتیجہ دین اسلام کی مکمل نا بو دی کی صورت میں نکلتا ۔اما م حسینؑ حتیٰ
(۱۹) تاریخ طبری، ج ۳،ص ۲۸۰
(۲۰) تاریخ طبری ،ج ۳،ص ۲۸۰
(۲۱) بحرانی تحف العقول، ص ۱۶۸
اس کے برخلاف اما م حسینؑ حکومت یزید کے لئے ایسا بھی نہیں کر سکتے تھے، چونکہ اگر ایسا کر تے تو یہ اس کے فسق وفجور اورظلم و استبدا د کی تا ئید شما ر ہو تا، جس کا ارتکا ب یزید کھلے عام کر تا تھا اس کا نتیجہ دین اسلام کی مکمل نا بو دی کی صورت میں نکلتا ۔اما م حسینؑ حتیٰ کہ انتہائی مجبوری کی صورت میں بھی اس کی بیعت پر راضی نہ ہو ئے اور آپ نے خو د اس کی وجہ بھی ذکر فر ما دی کہ:
ان السنۃ قد امتیت وان البد عۃ تد ا حییت (۱۹)
’’سنت کوما ر دیا گیا اور بد عت کو زند ہ کر دیا گیا‘‘
دوسرامرحلہ) قیام ومبارزہ
حا کم جو ر کے مقا بل دوسر او ظیفہ امربا لمعرو ف و نہی عن المنکر کا ہے، جس کی ابتداء زبا نی کلامی متو جہ کر نے سے ہوتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے عملی اقدا م ہو جو اس کی حکومت کے گرادینے تک جا ری رہے ۔اس حوا لے سے خرو ج اور شو ر ش کی خا ص اہمیت ہے ،عثمان کے خلاف بعض مسلمانوں کی شو رش مسلمانوں کا اس حوا لے سے پہلا تجربہ تھا ۔ حاکم جو ر کے مقابل قیام کی دوسری مثال اما م حسینؑ کی نہضت ہے کہ امام پاکؑنے (۲۰) امر بالمعر و ف و نہی عن المنکر کے وظیفہ کی خاطر یز ید کی مخالفت میں قیا م فرما یا آپ نے ظا لم کی مخا لفت کو امر بالمعر و ف و نہی عن المنکرکے طور پر وا جب شما ر کیا ہے اورآپ نے علماء کی اس بات پر سر زنش کی کہ انہوں نے کیوں ظالموں کے ساتھ مصالحت کر کے آرام سے بیٹھنا قبو ل کر لیا ہے آپ فرماتے ہیں :
ـ بالادھان والمصانعۃ عندا لظلم تا منون کل ذلک
مما مرکم اللّٰہ بہ من النھی و التناھی وانتم عنہ غافلون(۲۱)
’’کیوں تم نے موت سے ڈر کر ظا لموں کو قدر ت دے دی کہ وہ اپنی خوا ہشات کو حاکم کر دیں اور کمزورو ں پر قبضہ جما لیں اور
(۲۲) موسوعہ کلما ت اما م حسینؑ ، ص ۳۱۴
(۲۳) تاریخ طبر ی، ج ۳ ،ص ۳۰۶
مستضعفین کو دبا کے رکھیں اور حکومت اپنی مرضی سے چلائیں ‘‘
اما م حسین علیہ السلا م نے حکو مت بنی امیہ کے ناجائز حکومت ہونے کو ثابت کرنے کے لئے حقیقی رہبر اور اما م کی شر ائط بیا ن فر ما ئیں ۔
فلعمر ی ما الا ما م الا العامل بالکتا ب والا ٓ خذ بالقسط والد ائن با لحق والحا بس نفسہ علی ذات اللّٰہ ۔(۲۲)
اور آپ نے اپنے ایک خطبہ میں حربن یز ید ریاحی کے فو جی دستے کو یز ید ی حکومت کے خلاف قیا م کی ضرور ت بیان کر تے ہو ئے فر ما یا :
الا وان ھو لا ء القوم قد لزمو ا طا عۃ الشیطا ن وترکو ا طاعۃ الرحمن واظھر وا الفسا د و عطلواا لحدود و
استاثروابالفی ء واحلو احرام اللّٰہ وحرمواحلا ل اللّٰہ وانا احق من غیر۔(۲۳)
’’اس قوم نے شیطان کی اطاعت اپنالی ہے اور رحمان کی اطاعت چھو ڑ دی ہے، انہوں نے فسا د پھیلا دیا ہے، حدو د خدا کو معطل کردیاہے، فئی المسلمین کواپنے لئے خاص کردیاہے۔ انہوں نے حرام خدا کو حلا ل اور حلا ل خدا کو حرا م کر دیا ہے جب کہ میں خلافت کا دوسروں سے زیادہ حق دار ہوں ‘‘
۲۔۳)شرعی حکومت میں سرکشی وخروج
شیعہ عقیدے کے مطابق حکومت حق اور شر عی حکو مت اما م معصو مؑکی اما مت اور رہبریت میں قائم ہو تی ہے اور غیبت کے دور میں اسے اما م معصو مؑ کی طر ف سے اذن کی
(۲۴) تذکرۃ الفقہا ء ،ج۹، ص ۴۱۰
(۲۵ ) نہج البلا غہ ،حکمت ۱۶۵
شیعہ عقیدے کے مطابق حکومت حق اور شر عی حکو مت اما م معصو مؑکی اما مت اور رہبریت میں قائم ہو تی ہے اور غیبت کے دور میں اسے اما م معصو مؑ کی طر ف سے اذن کی ضرورت ہے جو کہ جامع الشرائط فقہا ء کو دیا گیا ہے۔
مسلّم ہے کہ اما م معصو مؑکی حکومت میں ان کے خلاف سر کشی و خرو ج ناقابل توجیہ ہے، کیونکہ عصمت کی خصو صیت کے پیش نظر ان سے کسی غلطی ، اشتبا ہ ، انحرا ف یا گنا ہ کا امکان ہی موجود نہیں ہے، لہٰذا ان کے خلاف سرکشی قطعی طو ر پر بغا و ت شما ر ہو گی ، جس کا مقابلہ کر نا واجب ہے ۔ اس بارے میں علامہ حلّی کہتے ہیں جو بھی اما م عا دل کے خلاف خروج کر ے اس کے خلا ف جنگ کر نا واجب ہے(۲۴)اور اگر اما م غا ئب ہوں اور ولی فقیہ جامع الشرائط کی حکومت برقرار ہو تو اس صورت میں خروج کی کیا تو جیہ ہو سکتی ہے؟
جیسا کہ یہ با ت ہمیں معلو م ہے کہ نظر یہ حق الٰہی میں حکمران کی اطاعت اذن الٰہی کی حدودمیں کی جا سکتی ہے۔ ان حدو د سے با ہر قطعا ً اس کی اطا عت جا ئز نہیں ہے، لہٰذا کسی حکمران کی اطا عت مطلقہ قابل قبو ل نہیں ہے، جیسا کہ حضر ت ا میرؑ نے فر ما یا :
الا طاعت المخلوق فی معصیۃ الخالق ۔ (۲۵)
’’کہ خدا کی نا فر ما نی لا زم آتی ہو تو وہاں مخلو ق کی اطا عت نہیں کی جا سکتی ‘‘
ائمہ معصو مینؑ میں عصمت کی وجہ سے چو نکہ کوئی فرمان یا عمل ان سے خلاف شرع صادر ہی نہیں ہو گا کہ ان کے خلاف خرو ج کی ضرور ت پیش آئے، لیکن معصو مین کی طرف سے جنہیں غیبت کے دور میں منصو ب کیا گیا ہے ان کی اطا عت کی حدو د صرف شر عی احکا م اور اجتما عی مصالح ہیں جیسا کہ حضرت امیرالمو منینؑ نے جب مالک کو مصر کی گو ر نر ی پر منصو ب فرما یا تو اس کی بہت تعر یف و تمجید فرما ئی اور پھر مصر والوں سے ارشا د فر ما یا :
… فاسمعو ا لہ واطیعو امرہ فیما طا بق الحق (۲۶)
’’مالک کی اطا عت کر و اس کے ان او ا مرمیں جو حق کے مطا بق ہو ں ‘‘
(۲۶) نہج البلا غہ، خط ۳۸
(۲۷) شیخ مفید، الجمل، ص ۴۲۰
(۲۸) مشر و عیت و مقا ومت، ص ۱۰۶
اسی طرح آپ نے جب عبدا للہ بن عبا س کو بصرہ کا حا کم منتخب فرمایا توبصرہ والوں سے ارشا د فرمایا :
’’جب تک یہ خدااور اس کے رسو ل کے مطیع رہیں ان کی اطاعت کر و ، اگر کسی بد عت کے مر تکب ہو ں یا حق سے منحرف ہو جائیں تو فو را ً مجھے بتلاؤ تاکہ اسے معزو ل کر دوں ‘‘ (۲۷)
البتہ حا کم کے کا موں میں حق و با طل کے تعین ، یا حکومت کے کاموں اور ان کی طرف سے جاری کردہ احکا م میں حق و با طل کی تعین صرف ان لوگوں سے ممکن ہے کہ جو اسلامی حقوق کے مبا نی اورشرعی معیا ر سے مکمل واقفیت کے ساتھ ساتھ زما نے کے تقا ضو ں سے بھی مکمل آگا ہ ہوں ۔
اس کے علا وہ جو چیزیں حا کم کا اشتبا ہ یا انحرا ف شما ر ہو تی ہیں اس کی مختلف صورتیں ہیں کہ ان میں سے بعض تقویٰ و عدا لت کے معیا ر سے ہٹ کر ہیں اور بعض کاتعلق اسلامی مسائل یا اجتماعی معاملات کو غلط سمجھنے سے ہے(۲۸)اور ان دو نوں باتوں کے در میان فرق کو مد نظر رکھنا چاہیے کیونکہ تقویٰ و عدالت کے معیار سے ہٹنا کسی صورت میں قابل قبو ل نہیں ہے۔ اس سے حا کم خودبخود معزو ل ہو جائے گا اور اس کی حکمرا نی کا جواز ختم ہو جا ئے گا ۔ لیکن اگر حالات ومسا ئل کے صحیح تجزیہ و تحلیل میں غلطی کامرتکب ہوجائے اور وہ بھی نادر اتفاق ہو یا اس وجہ سے ہو کہ اس نے اس معاملے کے ما ہر ین سے مشورہ نہ کیا ہو اور خو د فیصلہ کرلیا ہو تو ا یسا سب حکومتوں میں پیش آتا رہتا ہے یہ عقلی و شرعی طور پر بھی چشم پوشی کے قابل ہے ،جیسا کہ شہید صدر اس بارے میں فر ما تے ہیں : جب مجتہد ولی امرمسلمین ہو نے کے نا طے نہ کہ قاضی ہونے کے نا طے کوئی حکم صادر کرے تو اس حکم کا توڑنا جائز نہیں ہے اگر چہ اس کے مخالف واقع ہو نے کا علم ہی کیوں نہ ہو جا ئے، جسے اس حکم کے خلاف واقع
(۲۹) صد ر سید محمد با قر ، منہا ج الصا لحین، ج۱ ،ص ۱۱
(۳۰) مواضع ما ، ص ۶۹
اس کے علا وہ جو چیزیں حا کم کا اشتبا ہ یا انحرا ف شما ر ہو تی ہیں اس کی مختلف صورتیں ہیں کہ ان میں سے بعض تقویٰ و عدا لت کے معیا ر سے ہٹ کر ہیں اور بعض کاتعلق اسلامی مسائل یا اجتماعی معاملات کو غلط سمجھنے سے ہے(۲۸)اور ان دو نوں باتوں کے در میان فرق کو مد نظر رکھنا چاہیے کیونکہ تقویٰ و عدالت کے معیار سے ہٹنا کسی صورت میں قابل قبو ل نہیں ہے۔ اس سے حا کم خودبخود معزو ل ہو جائے گا اور اس کی حکمرا نی کا جواز ختم ہو جا ئے گا ۔ لیکن اگر حالات ومسا ئل کے صحیح تجزیہ و تحلیل میں غلطی کامرتکب ہوجائے اور وہ بھی نادر اتفاق ہو یا اس وجہ سے ہو کہ اس نے اس معاملے کے ما ہر ین سے مشورہ نہ کیا ہو اور خو د فیصلہ کرلیا ہو تو ا یسا سب حکومتوں میں پیش آتا رہتا ہے یہ عقلی و شرعی طور پر بھی چشم پوشی کے قابل ہے ،جیسا کہ شہید صدر اس بارے میں فر ما تے ہیں : جب مجتہد ولی امرمسلمین ہو نے کے نا طے نہ کہ قاضی ہونے کے نا طے کوئی حکم صادر کرے تو اس حکم کا توڑنا جائز نہیں ہے اگر چہ اس کے مخالف واقع ہو نے کا علم ہی کیوں نہ ہو جا ئے، جسے اس حکم کے خلاف واقع ہو نے کا علم ہو جا ئے وہ اس حکم کی مخالفت کے عنوا ن سے اپنے علم پر عمل نہیں کرسکتا۔ (۲۹)
لیکن اگر حاکم سے غلطیاں پے درپے ہو ں تو اس سے معلو م ہو جا ئے گا کہ اس میں اجتماعی معاملا ت کے صحیح ادرا ک اور ا ن کے حل و فصل کی صلاحیت لازم موجود نہیں ہے، اس سے اس کی رہبر یت کی صلاحیت زائل ہو جا ئے گی اور وہ اس منصب کے لائق نہیں رہے گا۔
نما ئند وں کے خلا ف سرکشی
سرکشی کی ایک اور قسم حا کم اسلامی کے نما ئند وں اور کا ر ند وں کے مقا بل سرکشی کرنا ہے، شہید بہشتی اس با رے میں فرماتے ہیں : اگر قا نونی ادارے اپنی قا نونی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کوتاہی کریں اور خلا ف اسلام روشوں اور طریقوں کے سامنے رکاو ٹ ایجا د نہ کریں تو افراد اور اسلامی جما عتوں کی ذمہ داری ہے کہ اوپر والے ذمہ دار افراد سے دخالت کی در خواست کریں اگر وہ بھی تو جہ نہ کریں اور اسلامی معاشرے کی مصلحتوں کو خطرہ در پیش ہو جائے تو پھر افر اد اور اسلامی جما عتوں کی ذمہ دا ری ہے کہ بلاواسطہ رہبر و حا کم سے رابطہ کر کے اس با رے حکم در یافت کریں اورو لی امر کے حکم کے مطابق خو د عمل کریں تاکہ اس طر یقے سے اسلامی مملکت کی حفاظت کا فریضہ بھی ادا ہوجائے اور معاشرے میں بدنظمی و آشو ب کی صورتحال بھی پیدا نہ ہونے پا ئے ۔(۳۰)
اما م خمینی ؒنے بھی کا رند وں کی اپنی ذمہ دا ریوں کے حوا لے سے کو تا ہی کی صورت میں راستہ کھلا رکھا ہے ،آپ نے اپنی الٰہی سیا سی وصیت میں ارشا د فر ما یا ہے جو چیز شرعاً حرام ہو اور ملک و ملت کے مستقبل کے لئے نقصان دہ ہو اور مملکت اسلامی کی حیثیت کے خلاف ہو اگر سختی سے اسے رو کا نہ جا ئے تو سب لو گ اس کے ذمہ دارہیں ، اگر لوگوں اور حزب اللہٰی جوانوں کو کہیں ایسی صورتحال نظر آئے تو ان پر مر بو ط افرا د کو اطلا ع دینا لازم
(۳۱) صحیفہ اما م ،ج ۲۱ ،ص ۴۳۶
اما م خمینی ؒنے بھی کا رند وں کی اپنی ذمہ دا ریوں کے حوا لے سے کو تا ہی کی صورت میں راستہ کھلا رکھا ہے ،آپ نے اپنی الٰہی سیا سی وصیت میں ارشا د فر ما یا ہے جو چیز شرعاً حرام ہو اور ملک و ملت کے مستقبل کے لئے نقصان دہ ہو اور مملکت اسلامی کی حیثیت کے خلاف ہو اگر سختی سے اسے رو کا نہ جا ئے تو سب لو گ اس کے ذمہ دارہیں ، اگر لوگوں اور حزب اللہٰی جوانوں کو کہیں ایسی صورتحال نظر آئے تو ان پر مر بو ط افرا د کو اطلا ع دینا لازم ہے اگر وہ لوگ اس بارے میں کوتا ہی کریں تو خو د اس با رے میں ا قدا م کر کے اسے روکیں ۔(۳۱)