Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، حسن ؑ اور حسین ؑ جوانانِ جنت کے سردار ہیں اور ان کے والد ان سے افضل ہیں بحارالانوارتتمہ کتاب الامامۃ ابواب علامات الامام و صفاتہ و شرائطہ باب12

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

کر بلا میں اتما م حجت

سوا ل۲۱ : میدا ن کر بلا میں اتما م حجت سے کیا مراد ہے ؟
جو اب :نہضت عاشو رہ میں اما م حسینؑکی کچھ تبلیغی روشیں ایسی تھیں جن کے ذریعے لوگوں کو حقیقت سے آگا ہ کیا جا سکے،یہ رو شیں جہاں نہضت عاشو رہ کو تحر یف و انحرا فات سے بچا کر استمرار دوام بخشنے کا باعث تھیں ۔وہاں اپنے چاہنے والوں کی دلی تقویت اور سپا ہ کوفہ میں تزلز ل ایجا د کر نے کا بھی باعث تھیں اوردشمن کے پرو پیگنڈا کا توڑ بھی تھیں ۔ ان روشوں میں سے ایک روش اتما م حجت کی روش تھی ،ا ما م حسینؑ نے اس روش سے دشمن کے لئے کسی عذ ر و بہانے کی کوئی گنجا ئش نہیں چھو ڑی اور لوگوں کے لئے حق کا سا تھ دینے کے سارے مقدمات فراہم کر دئیے تھے اور اتما م حجت کی یہ روش نا واقف لوگوں کوآپ کی دشمنی سے روکنے کا باعث بھی تھی، اتما م حجت کو ڈائیلا گ اور گفتگو کی تر ویج کا ذریعہ شمار کیا جاتا ہے، یہ روش آپ نے اپنے نانا رسولؐ خدا اور با با امیر المو منین علیہ السلام کی روش سے اپنائی تھی۔
آپ دیکھ رہے تھے کہ دعو ت ، تبلیغ اور ارشا د ورہنما ئی کی روش چھوڑ کر اس کی جگہ دھو نس دھمکی کی رو ش کو اپنا لیا گیا ہے، لہٰذا آپ کی مسلسل یہ کوشش تھی کہ اپنے استد لال اور اتمام حجت کے ذریعے لوگوں پر گفتگو اور مذاکرے کے اصو ل کی اہمیت کو رو شن کریں اور یہ اصو ل سنت حسنہ کے طور پر لوگوں میں باقی رہ جا ئے ۔
آپ اپنے ایک اتما م حجت میں فر ما تے ہیں :
’’کیا میں دختر رسول اور سب سے پہلے اسلام لا نے والے پسرِ عم رسول کا بیٹا نہیں ہوں ؟ کیا حمزہ سید الشہداء اور جعفر طیار میرے چچا نہیں ہیں ؟ کیا رسولؐ خداکا یہ فر ما ن آپ لوگوں نے
(۱) تاریخ طبر ی، ج ۵، ص ۴۲۷۔۴۲۴
’’کیا میں دختر رسول اور سب سے پہلے اسلام لا نے والے پسرِ عم رسول کا بیٹا نہیں ہوں ؟ کیا حمزہ سید الشہداء اور جعفر طیار میرے چچا نہیں ہیں ؟ کیا رسولؐ خداکا یہ فر ما ن آپ لوگوں نے نہیں سناکہ حسنؑو حسینؑجوانان جنت کے سردا رہیں ، اگر میری بات نہیں ما نتے ہو تو تمہا رے درمیا ن جابر بن عبد اللہ انصاری ، ابو سعید خدری ، سھل بن سعد سا عد ی ، زید بن ارقم اور انس بن مالک موجو د ہیں ان سے پوچھو،کیا میں نے تم میں سے کسی کو قتل کیا کہ اس کا انتقام لینے کی خاطر میرے خلاف تم کھڑے ہوگئے ہو یا میں نے کسی کا مالی نقصا ن کیا ہے جو مجھ سے وصول کر نا چاہتے ہو یا میں نے کسی کو زخمی کیا ہے کہ اس کا قصاص مجھ سے لینا چاہتے ہیں ؟
انہوں نے جو اب میں کچھ نہ کہا تو اما م نے فر ما یا :
’’ اے شبث بن ربعی ، اے حجار بن ابجر ، اے قیس بن اشعث اور اے یزید بن حارث کیا تم لوگوں نے مجھے یہ خط نہیں لکھے تھے کہ پھل پک چکے ہیں اور با غا ت سبز ہو چکے ہیں آپ جلدی تشریف لے آئیں کہ آپ تیا ر لشکر کی طرف آئیں گے؟ خدا کی قسم ایسا ہر گز نہیں ہو سکے گا کہ میں پست لوگوں کی بیعت کر لوں یا غلاموں کی طرح بھا گ جاؤں (۱)
اما م حسینؑ نے اس بات سے ثابت کر دیا کہ منطقی گفتگو، اصو ل پسند ی و سرفرا زی سے کوئی منافات نہیں رکھتی،یہی سیرت آپ کے پیرو کاروں میں بھی نظر آتی ہے جیسا کہ حضرت عباسؑ ، زہیر بن قین ، اور حبیب ابن مظاہر نے مختلف موقع پر خو نخوار دشمن سے گفتگو فرمائی اور ان پر حجت تمام کی ۔