Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام علی نے فرمایا، جب تک تمہیں کسی کام کا تجربہ حاصل نہ ہو جائے، اس کے بارے میں کوئی اقدام نہ کرو۔ غررالحکم حدیث11134

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

یزید کی توبہ

سوال ۱۴: کیا یز ید نے تو بہ کر لی تھی اور کیا ایسے شخص کی تو بہ قبول ہوسکتی ہے؟
جو ا ب : یہ سو ا ل دو حصوں ( تا ریخی اور کلامی) پر تقسیم ہو تا ہے دوسرے حصے کا جوا ب کئی اور سوالوں کے جواب پر موقو ف ہے جیسے کہ آیا ایسے گناہ عظیم کے بعد کیا ایسا شخص توبہ کی توفیق حاصل کر سکتا ہے ؟ اس کی تو بہ واقعی ہو گی یا ظا ہر ی ، جن آیات یارو ایات میں بطور عام قبول توبہ کاذکر ہو ا ہے کیا یہ مورد ان سے مستشنیٰ ہے یا نہیں وغیرہ ۔ لیکن ان سب سوالوں کی نوبت تب ہی آئے گی جب تا ریخی طو ر پریہ ثا بت ہو جائے کہ یزیداپنے گناہوں پرپشیما ن ہو گیاتھا اورا س کا ازالہ کرناچاہتا تھا اور اس نے بار گا ہ خدا میں تو بہ و استغفا ر کی تھی لیکن اگر یہ ثا بت نہ ہو سکے تو پھر ان سوالوں کی نو بت ہی نہیں آئے گی ۔
پوری اسلامی تا ریخ میں مؤرخین اور محدثین کی اکثریت اوردوسر ے مسلمان علماء
(۱) سبط ابن جو زی ،تذکرہ الخواص، ص ۲۵۶
پوری اسلامی تا ریخ میں مؤرخین اور محدثین کی اکثریت اوردوسر ے مسلمان علماء یزید کو ایک ظالم و گناہ گار شخص شما ر کر تے ہیں اور اسے اپنے گناہوں میں خصوصاً واقعہ عاشورہ کے حوالے سے قصو ر وا ر ٹھہر ا تے ہیں اور اسے خطاء پر سمجھتے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ غزا لی جیسے بعض افرا د بھی تھے جس نے احیاء العلو م میں یز یدپر اس لئے لعنت کرنے سے انکار کیا کہ ہو سکتا ہے اس نے تو بہ کرلی ہو ۔
غزا لی کی عالم اسلام میں مسلّم شخصیت کے با وجو د اس کی یہ بات مقبو لیت حاصل نہ کر سکی، اسی زمانے میں اس کے ہم عمربڑے بڑے علماء جیسے ابن جوزی( متوفیٰ ۵۹۷ ہجری) نے اس نظریئے کو بڑی شدت سے رد کر دیا حتیٰ کہ اس با رے میں ایک کتاب (الرد علٰی لمتعصب العنید) بھی لکھی۔بعد میں اسی طرح کی باتیں بعض مستشر قین نے بھی کیں ، جیسا کہ لامنس یہودی نے مقالات دائرہ المعا رف اسلام میں ایسا لکھا ہے اور آج کل پھر بعض علمی محا فل میں اس طرح کی بات کی جا رہی ہے اور شبہ دوسری طر ح پیش کیا جا رہا ہے ان سب سے اس بحث کی تا ریخی اہمیت پر روشنی پڑ تی ہے۔
یزید کی تو بہ کے حوا لے سے جو تا ریخی ثبو ت پیش کئے جا سکتے ہیں وہ در ج ذیل ہیں :
۱)ابن قتیبہ نے الا مامۃ والسیاسیۃ(ج۲ ص ۸ ) میں لکھا ہے کہ یزید کے دربار میں کچھ حوادث پیش آ ئے کہ فبکیٰ یزید حتیٰ کادت نفسہ تفیض ‘‘یعنی یزید اس طرح رویا کہ قریب تھا کہ اس کی روح بد ن سے نکل جا ئے ۔
۲) جب شہداء کے سر اور اسراء کو دربا ر یزید میں لا یا گیا تو یزید پر اس کا سخت گہر ا اثر ہو ا اور اس نے اس شنیع جنا یت کو ابن زیاد کی طرف منسو ب کر تے ہو ئے کہا :
لعن اللہ ابن مرجا نہ لقد بغضی الی المسلمین
وزرع لی فی قلوبھم البغضا ء ۔ (۱)
’’خدا وند ابن مرجا نہ( ابن زیاد) پر لعنت کر ے جس نے مجھے
(۲) الکا مل فی التا ریخ، ج۲ ، ص ۵۷۸
مسلمانوں کی نظروں میں برا اور ناپسندیدہ بنا دیا اور ان کے دلوں میں میرے لئے کینہ کاشت کر دیا‘‘
یزید کی طرف منسو ب ایک دوسرے کلا م میں یوں وار د ہے کہ یز ید اپنے آپ کو امام علیہ السلام کی مخالفتوں کے با وجو د بڑ ا بر د بار ظاہر کر تا ہے جو اما م حسینؑ کے نواسہ رسول ؐ ہونے کی وجہ سے ان کے قتل پر راضی نہیں تھا اوراس جرم کا ابن زیاد مر تکب ہوا۔(۲)
۳)جب یزیدنے قافلہ کربلا کو مدینہ کی طرف بھیجا تو امام زین العا بدین کو یہ خطاب کیا:
لعن اللّٰہ ابن مرجا نہ اما واللّٰہ لوانی صا حبہ
فاسألنی خصلۃ ابدا الا اعطیتہ ایاھا ولد فعت الحتف عنہ بکل ما استطعت ولوبھلاک بعض ولدی۔(۳)
’’ خدا ابن مرجانہ پر لعنت کر ے، خدا کی قسم اگر میں اما م حسینؑ کے مقابل ہوتاتو ان کی ہرخوا ہش پوری کرتا اور ہر ممکن طریقے سے موت کوان سے دورکرنے کی کوشش کرتا،اگرچہ اس میں میرااپنا کوئی بچہ مارا جاتا ‘‘
اگر ان سب باتوں کو ما ن لیں اور ان کی سند میں کوئی اشکا ل نہ کریں تو ان سے چند نکات کا استفا دہ ہوتا ہے:
(۳) تاریخی یعقوبی، ج۲، ص ۲۴۱
(۴،۸) لھو ف، ص ۸۲
(۵) تذکر ہ الخو ا ص ص ۲۷۵،وانسیت انفاذا عوا نک الی حرم اللہ لتقتل الحسینؑ و تاریخ یعقوبی ج۲ ،ص ۲۴۹
(۶) ابن عبد ابہ العقد الفرید، ج۵ ص ۱۳۰ ، و سیو طی تا ریخ الخلفاء ،ص ۱۶۵
(۷) تجا ر با لامم ج۲ ص ۷۷ و کتب یزید الی عبید اللہ بن زیا د ان اغزابن الزبیر فقال: واللہ لا اجمعھا للفاسق ابدا ً اقتل ابن رسو ل اللہ وا غز وا ابن زبیر
الف )کربلا کے واقعہ میں اصلی قصوروار ابن زیاد تھا اور یز یدنے نہ اما مؑ کے قتل کا حکم دیا تھا اور نہ ان پر سختی کرنے کی بات کی۔
ب) یزید ابن زیاد کے اس عمل پر سخت غصے میں تھا اور اس پر لعنت کی۔
ج) یزیدنے اما مؑ کے قتل پر سخت افسو س کا اظہا ر کیا۔
ان نکا ت میں سے پہلے نکتہ کے با رے میں تا ریخی حوالوں سے ثا بت ہے کہ یزید جھوٹ بول رہا تھا کیونکہ تا ریخ میں یہ بات موجود ہے کہ یزید نے برسر اقتدا ر آتے ہی اور اپنے با پ کی نصیحتوں کے برخلاف حاکم مدینہ ولید بن عتبہ کے نام اپنے خط میں لکھا تھا:
اذا اتا ک کتا بی ھذا فا حضر الحسین بن علی
وعبد اللّٰہ بن الزبیر فخذ ھما بالبیعۃ لی فان امتنعا
فاضرب اعنا قھما وابعث لی برؤ سہا ۔(۴)
’’ جیسے ہی تمہیں میرا خط ملے تو حسینؑ بن علیؑاور عبد اللہ بن زبیر کو طلب کر کے ان سے میر ی بیعت طلب کر و اگر قبو ل نہ کریں تو ان دونوں کو قتل کر کے ان کے سر میر ے پاس بھیجو ‘‘
بعض تا ریخو ں میں یہ بھی آیا ہے کہ جب اما مؑ مکہ تشریف فرما تھے تو یز ید نے بعض گماشتوں کو حاجیوں کے روپ میں مکہ بھیجا تا کہ منا سک حج کے دور ا ن اما م کو کعبہ کے پاس قتل کر دیں ۔ (۵)جیسا کہ ابن عبا س نے بھی یز ید کے نام اپنے ایک خط میں اس کا تذکر ہ کیا ہے۔ (۶)اس طرح تاریخی کتابوں میں آ یا ہے کہ جب اما مؑ عرا ق کی طرف سفر
(۹) تا ریخ یعقو بی ،ج۲ ، ص ۲۴۸
(۱۰) حوالہ سابق، ج۲ ، ص ۲۵۴
(۱۱) مزید تفصیلا ت دیکھیں : الر کب الحسینی فی اشام م و منہ الی المد ینۃ المنو رۃ ج ۶ از مجمو عۂ مع الرکب الحسینی من المد ینۃ الی المدینہ ج ۶ ص ۵۶۔۶۱
(۱۲) تذکر ہ الخو اص، ص ۲۹
بعض تا ریخو ں میں یہ بھی آیا ہے کہ جب اما مؑ مکہ تشریف فرما تھے تو یز ید نے بعض گماشتوں کو حاجیوں کے روپ میں مکہ بھیجا تا کہ منا سک حج کے دور ا ن اما م کو کعبہ کے پاس قتل کر دیں ۔ (۵)جیسا کہ ابن عبا س نے بھی یز ید کے نام اپنے ایک خط میں اس کا تذکر ہ کیا ہے۔ (۶)اس طرح تاریخی کتابوں میں آ یا ہے کہ جب اما مؑ عرا ق کی طرف سفر اختیا ر کر رہے تھے تو یز ید نے ابن زیا د کو لکھا کہ اما م حسینؑکے ساتھ سختی وشد ت کا مظا ہرہ کرے۔(۷) اور بعد میں خو دا بن زیا د نے بھی یہ اعترا ف کیا کہ یزید نے اسے اما م حسینؑ کے قتل کا حکم دیا تھا۔(۸)
ابن عبا س نے بھی اپنے خط میں یز ید کو اما م حسینؑ اور بنی ہا شم کے جوانوں کا قاتل قرار دیا اور اس کی تو بیخ کر تے ہو ئے کہا:
انت قتلت الحسین بن علی ولا تحسین لا ابا ک نسیت قتلک حسینا و فتیا ن بنی عبد المطلب ۔ (۹)
’’بد بخت یہ خیا ل نہ کر نا کہ میں اسے بھول چکا ہوں جو تو نے حسین اور بنی عبد المطلب کو قتل کیا ہے‘‘
یہ حقیقت اس زما نے میں اس حد تک رو شن تھی کہ حتیٰ یز ید کے بیٹے معاویہ ثانی نے مسجد جامع دمشق میں برسرمنبر اپنے باپ کو ملامت کر تے ہو ئے کہا : وقد قتل عترۃالرسول(۱۰)ان تا ریخی ثبو تو ں کے پیش نظر حکم یزید سے اما م حسینؑ کا قتل ناقا بل انکار حقیقت ہے جس سے کوئی صاحب انصا ف انکا ر نہیں کر سکتا ۔ (۱۱)
اور دوسرا نکتہ یہ کہ یز ید ابن زیا د پر سخت نا را ض ہو ا ، یہ خلافت حقیقت ہے تاریخ شاہد ہے کہ جب پہلی مر تبہ یز ید کو امام حسینؑ کی شہا دت کی خبر پہنچی تو اس پر وہ بہت خوش ہو ا اور ابن زیا د کی کھل کر تعریف کی ، سبط ابن جو زی نے لکھا ہے کہ یزید نے ابن زیاد کی خوب تعریف کی اسے بڑے قیمتی تحا ئف بھیجے اورا س کے ساتھ را توں کو شراب خوری کی محفلیں منعقد کیں اوراسے اپنے خاندا ن کے ایک فرد کے عنوا ن سے اپنے قر یب کیا ، اور ابن جوزی نے یز ید کے ایسے اشعا رنقل کیے ہیں جن سے واضح پتہ چلتا ہے کہ یزید ابن
(۱۳) تجارب الامم ،ج۲ ، ص ۷۷(۱۴) تاریخ یعقو بی، ج۲ ، ص ۲۴۵
(۱۵) ابن ابی الحدید ، شرح نہج البلا غہ، ج ۱۴ ، ص ۲۸۰
(۱۶) مقتل خوا رزمی، ج۲ ، ص ۵۸ ، تذکر ہ الخوا ص ،ص ۲۶۱
اور دوسرا نکتہ یہ کہ یز ید ابن زیا د پر سخت نا را ض ہو ا ، یہ خلافت حقیقت ہے تاریخ شاہد ہے کہ جب پہلی مر تبہ یز ید کو امام حسینؑ کی شہا دت کی خبر پہنچی تو اس پر وہ بہت خوش ہو ا اور ابن زیا د کی کھل کر تعریف کی ، سبط ابن جو زی نے لکھا ہے کہ یزید نے ابن زیاد کی خوب تعریف کی اسے بڑے قیمتی تحا ئف بھیجے اورا س کے ساتھ را توں کو شراب خوری کی محفلیں منعقد کیں اوراسے اپنے خاندا ن کے ایک فرد کے عنوا ن سے اپنے قر یب کیا ، اور ابن جوزی نے یز ید کے ایسے اشعا رنقل کیے ہیں جن سے واضح پتہ چلتا ہے کہ یزید ابن زیاد کے قتل اما م حسینؑ والے عمل سے مکمل راضی ومطمئن تھا۔ (۱۲) اس طرح تا ریخ شا ہد ہے کہ یز ید نے ابن زیا د کو عرا ق کی گو ر نر ی سے معز ول کرنے کا کوئی اقدا م نہیں اٹھا یا بلکہ جب سن ۶۳ ہجری میں ابن زبیر نے قیا م کیا تو یز ید نے ابن زیاد کو حکم دیا کہ ابن زبیر کے مقابلے کے لئے جا ؤ ۔ (۱۳)
لہٰذا باالفرض اگر یز یدنے ابن زیا د سے اظہا ر نا را ضگی کیا تھا تو اسے مصنوعی عمل شمارکیا جائے گا ،حضرت زینب بنت علیؑسلام اللہ علیہا اور اما م سجا دؑ کے خطبوں کی وجہ سے جب حالات بگڑنے لگے تو یز ید اس طرح کے اظہا ر پر مجبو ر ہو گیا تا کہ اس برے عمل کی وجہ سے اس کے با رے لوگوں میں جو نفر ت و غصہ پیدا ہو چکا ہے اسے کم کیا جا سکے اور تیسرا نکتہ یعنی یز ید کا قتل اما مؑ پرافسو س کا اظہار کر نا بھی تا ریخی شواہد کے برخلاف ہے کیونکہ تا ریخ یہ کہتی ہے کہ جب شہد ا ء کے سر اور اسیروں کاقا فلہ د مشق میں در با ر یزید میں وار د ہو ا تواس نے خو شی کا اظہا ر کیا اورچھڑی سے امام حسین علیہ السلام کے دندان مبارک پر گستاخی کی۔ (۱۴)اسی طرح اس نے ایسے اشعا ر پڑ ھے جن سے پتہ چلتاہے کہ اس کے دل میں بنی ہاشم سے بدر کا انتقام لینے کی خوا ہش موجود تھی ۔ (۱۵)کیونکہ جنگ بدر میں یز ید کا نا نا ، ماموں اور دوسرے بڑے بڑے قر یش ،پیغمبر ؐ کے ساتھیوں کے ہاتھوں ما رے گئے تھے،ا نہی اشعا ر میں یز ید نے حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت کی تکذیب بھی کی اور اسے صرف حکومت تک پہنچنے کا ایک حربہ قرار دیا۔
لعبت ھاشم بالملک فلا
خبر جا ء ولا حوالہ سابق نزل۴
’’بنی ہا شم نے حکومت بازی کی ور نہ نہ آسما ن سے کوئی خبر آئی اور نہ وحی اتری ‘‘
ہاں جیسا کہ اوپر بیا ن ہو چکا اس کا اظہا ر افسو س اس وقت تھا جب دمشق کے حالا ت بگڑنا شروع ہوئے، اب اس کی طر ف سے خو شی کا اظہا ر حالا ت کو مزید خرا ب کر سکتا تھا لہٰذا اس
(۱۷) الکا مل ابن اثیر ، ج۲ ص ۵۹۳
(۱۸) حوالہ سابق، ص ۶۰۲
نے مصنو عی افسو س کا اظہا ر شر وع کر دیا۔ اس بحث کے آخر میں دو نکا ت کا ذکر ضروری ہے:(۱۶)
پہلا یہ کہ : جیسا کہ یزید کی گفتگو سے ظا ہر ہے اس کا اظہا ر افسو س صر ف ایک سیا سی چال تھی اور اس میں کوئی ایسا قر ینہ نہیں تھا جس سے اس کی تو بہ و استغفا ر و پشیما نی کا پتہ چلتا ہو، لہٰذا اس کا یہ عمل بھی سیا سی عمل کے طو ر پر جا نچا جا نا چاہیے نہ کہ اسے یز ید کی توبہ کے طور پر لیا جائے اور پھر یہ بحث کریں کہ آیا اس کی تو بہ کے پیش نظر اس پر لعنت جائز ہے نہیں ؟
دوسرا یہ کہ : باالفرض قبو ل کر لیں کہ یز ید نے تو بہ کی تھی تو اس کے بعد والے اعما ل میں دیکھیں کہ آیا اس تو بہ کا کوئی اثر آتا ہے یانہیں جب کہ تا ریخ تو ا سکے برخلا ف بتلا تی ہے کیونکہ یزید نے واقعہ عاشو رہ کے بعدا پنی منحو س حکومت کے باقی ما ندہ دو سا لوں میں دو عظیم جرائم کا ارتکاب کیا ۔
۱) مدینہ میں قتل عام اوراس شہر کواپنے سپا ہیوں پر تین دن تک مبا ح قرا ر دے دینااور بہت سے صحابہ کا اس میں قتل ہو جا نا، یہ واقعہ حر ہ کے نام سے مشہو ر ہے۔ (۱۷)
۲) مکہ پرحملے کا حکم کہ جس میں اس کی فوج نے منجنیق سے اس مقد س شہرپر حملہ کیا اور کعبہ کی حرمت کو توڑا اور کعبہ پرآگ پھینک کر اسے جلا دیا۔ (۱۸)
لہٰذا یہ مسلّم تاریخی حقیقت ہے کہ نہ صر ف یہ کہ کوئی تا ریخی حوالہ ایسا نہیں ملتا جو یزید کی توبہ پر دلالت کر تا ہو بلکہ تما م تا ریخی قرا ئن اس کے تو بہ نہ کر نے پر دلا لت کرتے ہیں لہٰذا یزید پر لعنت کاحکم تما م مسلمانوں کے نز دیک ثا بت رہے گا۔
دوسرا حصہ
فلسفۂ قیام
امام حسین علیہ السلام
سید ابرا ہیم حسینی