Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، تم میں سے نیک وہ ہیں جن کا اخلاق اچھا ہے وہ دوسروں سے الفت کرتے ہیں اور دوسرے ان سے مشکوٰۃ الانوارباب 3 فصل23، مستدرک الوسائل حدیث9971

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

امام حسین علیہ السلام کے اصحاب

سوا ل۱۱: آیا شب عاشورہ اصحا ب اما مؑ میں سے کسی نے حضرت کاساتھ چھوڑا تھا اور یہ کہ عاشورہ کے دن اما م کے اصحا ب و انصار کی تعدا د کتنی تھی؟
جواب : اس سوال کے دو حصے ہیں لہٰذا دونوں کے الگ الگ جواب دیتے ہیں :

پہلا حصہ : اصحاب امام کی وفا داری

تا ریخی منا بع میں جہاں شب عاشورہ کے واقعا ت ذکر کئے گئے ہیں وہاں اس نکتہ کو بھی بیان کیا جا تا ہے کہ جب اما م پا کؑ نے اپنے اصحا ب اور رشتہ داروں سے فرمایا کہ دشمن صرف مجھے قتل کرناچاہتا ہے لہٰذا اگرآپ لوگ جا نا چاہیں تو جا سکتے ہیں ۔ تو انہوں نے جواب میں بالا تفا ق بڑے دلیرا نہ اور جذبات سے بھر پو ر انداز میں اما مؑ کے قدموں میں شہا دت کی تر جیح کو ذکر کیا اور کوئی ایک شخص بھی اما م علیہ السلام کو چھوڑ کر جا نے پر رضامند نہ ہو ا۔ اسی جانثاری کو دیکھ کر اما م پا ک علیہ السلام نے وہ معر وف جملہ فر ما یا تھا :
…فا نی لااعلم اصحا با ًاولیٰ ولا خیرا من
اصحابی ولااہل بیت ابر ولا اوصل من اہل بیتی۔ (۱)
’’میں اپنے سا تھیوں سے بڑ ھ کر اور بہتر کوئی سا تھی نہیں پاتا اوراپنے خا ندان سے بہتر اور زیادہ صلہ رحم کر نے والا کوئی خاندان نہیں پاتا ‘‘
بعض کتب تاریخ میں یہ بھی ملتاہے کہ جب منزل زبالہ پر اما مؑ کے قاصد عبد اللہ بن یقطر کی شہادت کی خبر لوگوں کو ملی تو بہت سے لوگ آپ کے اطر اف سے تتر بتر ہو گئے اور جب مایوس کن خبریں آئیں تو اما م پاکؑ نے جنا ب مسلم اور ھانی بن عر وہ کی شہادت کی خبر دیتے ہو ئے یوں ارشاد فرما یا :
قد خذ لتنا شیعتنا فمن احب منکم
الانصراف فلینصرف لیس علیہ منا ذمام ۔(۲)
’’ہمیں ہما رے سا تھی چھو ڑ گئے پس تم میں سے جو بھی جا ناچاہے وہ چلا جا ئے ہم نے اپنی بیعت اس کی گردن سے اٹھا لی ہے ‘‘
آپ کی یہ بات سنتے ہی لو گ گروہ در گرو ہ آپ کو چھو ڑنے لگے آخر تھوڑی تعداد میں لوگ بچ گئے جن میں اکثر وہی تھے جو مدینہ سے آپ کے ساتھ آرہے تھے۔ جن لوگوں نے راستے میں امامؑ کا سا تھ چھو ڑا یہ وہ اعرا بی تھے جو اس خیا ل سے امام کے ساتھ چل پڑے تھے کہ اما مؑ ایک پر سکون اور مطیع شہر کی طرف جارہے ہیں جہاں جا کر آپ کی حکومت برقرا ر ہو جا ئے گی اورا نہیں بھی کچھ مل جا ئے گا۔(۳)
ایسے لو گوں کا اما مؑ کو چھو ڑ کر چلے جا نا ایک طبعی سی با ت تھی، معتبر کتا بوں میں اس منزل کے بعد اصحا ب میں سے کسی ایک کے بھی چھوڑ کر چلے جا نے کی بات نہیں کی گئی ۔ ہاں متا خرین کی کتابوں میں ایک مجہو ل وغیر معتبر کتاب بنا م نو ر العیون سے ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ بی بی سکینہ فرما تی ہیں شب عاشورہ لو گ دس دس ، بیس بیس افراد کی ٹولیوں میں بابا کو چھو ڑ کر جا رہے تھے۔(۴)یہ ایک ضعیف رو ایت ہے جس کا معتبر کتابوں میں نام و نشا ن نہیں ملتا، لہٰذا یہ ان معتبر اور مستند روایات کا مقابلہ نہیں کر سکتی ، خصوصاً یہ جعلی روایت شب عاشو رہ اما م کے خاندا ن کے افراد اور اصحاب کی گفتگو کے بھی منا فی ہے نیز اما مؑ نے اپنے اصحا ب کے بارے میں جو ارشاد فرمایا اس کے بھی منا فی ہے۔

دوسر احصہ : اصحا ب کی تعد اد

اما مؑ کے اصحا ب کی تعد اد کے بارے میں کتا بوں میں اختلا ف پا یا جا تا ہے۔(۵)
طبر ی نے سو افر اد کہے ہیں ، جن میں سے پا نچ حضر ت علیؑ کے بیٹے ، سولہ افراد بنی ہاشم
سے اور بقیہ دوسرے قبا ئل کے افرا د تھے۔ (۶)ابن شہر آشو ب نے کل تعدا د بیاسی افراد کی ذکر کی ہے۔ (۷)ابن نما ( جو کہ چھٹی و سا تویں صد ی ہجر ی میں بزرگ شیعہ علماء میں سے تھے) لکھتے ہیں کہ اصحا ب اما مؑ سو افرا د پیا دے تھے اور پینتالیس افرا د سوا ر تھے ۔ (۸)سبط ابن جوزی نے بھی یہی تعداد بتلا ئی ہے۔ (۹)اور اما م محمد با قر علیہ السلام سے ایک روا یت جو کہ شیعہ کتب روایت میں مذکور ہے اسی قو ل کی تائید کرتی ہے (۱۰)
سب سے عجیب مسعو دی کا قو ل ہے کہ اما م حسینؑ کے کر بلا میں ورود کے وقت تک آپ کے اصحا ب کی تعداد پا نچ سو افرا د سوا ر تھے اور ایک سو افرا د پیادے تھے۔ (۱۱)ان میں سے مشہو ر قو ل وہی ہے جو آج بھی شہر ت پا چکا ہے کہ آپ کے اصحا ب کی تعد ا د کربلا میں ۷۲ افر ا د تھی جن میں سے ۳۲افراد سوار تھے اور ۴۰ پیا دے (۱۲)
(۱) بحار، ج ۴۵،ص ۱۴۴
(۲) وقعۃ الطف، ص ۱۶۶
(۳) وقعۃ الطف، ص ۱۶۶
(۴)اکسیر العبا دات فی اسرار الشھا دات ج ۲ ص ۱۸۲
(۵) اس سوا ل کے آخر تک سب حوالے ہم تاریخ اما م حسینؑ ،ج۳ ص ۲۴۲۔۲۵۰،سے نقل کر رہے ہیں یہ کتاب پا نچ جلدوں پر مشتمل ہے۔
(۶) تا ریخ طبر ی، ج۵ ص ۳۹۳
(۷) المنا قب، ج۴ ، ص ۹۸
(۸) مشیر الا حزا ن، ص ۲۷و ۲۸
(۹) تذکرہ الخو اص، ص ۱۴۳
(۱۰) بحارالانوار، ج۴۵، ص ۴
(۱۱) مروج الذھب ،ج۳ ،ص ۷۰
(۱۲) انسا ب الا شراف، ج۳ ، ص ۱۸۷ ، دینوری الا خبار الطوال ،ص ۲۵۴ ، ابن اعثم الفتوح ، ج۵ ، ص ۱۸۳ ، بحار الانوار، ج ۴۵ ، ص ۴ ، فتال نیشا پوری روضۃ الو اعظین ص ۱۵۸ و …