Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا، مومن ہمیشہ خیر کی راہوں میں ہوتا ہےاور جب اس کے جسم سے روح قبض کی جارہی ہوتی ہےاس وقت بھی خدا کی حمد بجالارہا ہوتا ہے۔ کنزالعمال حدیث 682

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

امام حسین علیہ السلام کے سر کا مد فن

سوا ل۱۰: امام حسینؑ کا سرِ مبارک کہاں دفن ہوا؟
جوا ب: سر امام حسینؑ اور کربلاء کے شہدا ء کے سروں کے مدفن کے بارے شیعہ اور سنی کتب میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے اور جو اقوال اس بارے میں نقل ہوئے ہیں ان کے حوالے سے تحقیق کی ضرورت ہے۔ لیکن سب سے مشہور قول جو شیعہ میں سب نے قبول کیا ہے یہ ہے امام علیہ السلام کا سر مبارک کچھ مد ت کے بعد آپ کے بدن مبارک کے ساتھ ملحق ہو گیا اور کربلا میں لا کر دفن کیا گیا ہے۔ ہم مزید معلومات کے لئے ان اقوال کو یہاں ذکر کرتے ہیں ـ:
۱)کربلا
یہ نظریہ علمائے شیعہ میں مشہور ہے اور علا مہ مجلسیؒ نے اس کی شہرت کی طرف اشارہ کیا ہے۔(۱)شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے سر مبارک کے آپ کے بدن کے ملحق ہونے کے بارے میں فاطمہ بنت علی علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے۔ (۲) اب اس کی کیفیت کیا تھی کہ کیسے آپ کا سر مبارک آپ کے بدن سے ملحق ہوا ،اس بارے میں مختلف نظریات ذکر کئے گئے ہیں ۔ بعض جیسے سیدابن طاؤس اسے امر الٰہی شمار کرتے ہیں کہ خداوند نے خود اپنی قدرت کاملہ سے اعجاز کے طور پر یہ کام انجام دیا اور سید نے اس بارے میں چون و چرا سے بھی منع فرمایا ہے۔ (۳)
بعض دوسرے قائل ہیں کہ امام سجاد علیہ السلام جب شام سے واپس تشریف لائے(۴) تو وہ سر امامؑ کو اپنے ساتھ لائے اور کربلا میں اپنے بابا کے بدن کے ساتھ دفن کیا۔(۵)
اب یہ سوال کہ کیا سر بدن کے ساتھ ملحق ہو گیا یا امام کی ضریح میں یا اس کے نزدیک دفن کیا گیا۔ اس با رے میں کوئی واضح عبارت تو نہیں ملتی یہاں بھی سید ابن طاؤس نے چون و چرا سے نہی فرمائی ہے۔ (۶)
بعض قائل ہیں کہ سر مبا رک کو تین دن دروازہ دمشق پر آویزاں رکھنے کے بعد اتار کر حکومتی خزانے میں رکھ دیا گیا اور سلیمان عبدالملک کے دور تک یہ سر وہیں تھا اس نے سر مبارک کو وہاں سے نکالا اور کفن دے کر دمشق میں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا، اس کے بعد اس کے جانشین عمر بن عبدالعزیز ( ۹۹ تا ۱۰۱ہجری حکومت) نے سر کو قبر سے نکالا، لیکن پھر اس نے کیا کیا یہ معلو م نہیں ہوسکا ، لیکن ان کی ظاہری شریعت کی پابند ی کو دیکھتے ہوئے زیادہ احتمال یہی ہے کہ اس نے سر کو کربلا بھیجا ہو گا۔ (۷)

۲)حضر ت علی علیہ السلام کی قبر کے پاس نجف میں

علامہ مجلسیؒ کی عبارت اور روایات میں تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سر مقدس سید الشہداء، نجف اشرف میں حضر ت علی علیہ السلام کی قبر کے پاس دفن ہوا۔ (۸)
روایات میں آیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل کے ہمراہ نجف میں حضرت امیر المومنینؑ پر درود و سلام بھیجنے کے بعد امام حسینؑ پر سلام بھیجا۔ اس روایت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے دور تک سر مقدس نجف اشرف میں مدفون تھا۔(۹)
بعض دوسری روایا ت بھی اسی نظریہ کی تائید کرتی ہیں بلکہ بعض شیعہ کتابوں میں توحضرت علیؑ کی قبر مطہر کے پا س سر امام حسینؑ کی زیا رت بھی نقل ہوئی ہے۔ (۱۰)
سرِ مقدس کو نجف منتقل کرنے کے حوالے سے امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ اہل بیتؑ کے چاہنے والوں میں سے ایک شخص نے شام سے کسی نہ کسی طریقے سے یہ سر حاصل کیا اور حضر ت علیؑ کی قبر میں لا کر دفن کر دیا ۔(۱۱) لیکن اس نظریے پر اشکال یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے دور تک تو حضرت علیؑ کی قبر مبارک عام لوگوں سے مخفی تھی اور انہیں اس کا پتہ نہیں تھا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ دمشق میں سر مقدس کے ایک مدت تک رکھے جانے کے بعد اسے کوفہ ابن زیاد کے پاس بھیج دیا گیا اور اس نے لوگوں کی شورش کے خوف سے حکم دیا کہ سر کو کوفہ سے باہر لے جا کر حضرت علیؑ کی قبر کے پاس دفن کر دیا جائے۔(۱۲) اس پر بھی وہی اشکال ہے کہ اس وقت تک لوگوں سے حضرت علیؑ کی قبر مخفی تھی۔

۳)کوفہ

سبط ابن جوزی نے یہ نظریہ ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ عمرو بن حریث مخزومی نے سر کو ابن زیاد سے لیا اورپھر اسے غسل و کفن دیا اور خوشبو لگانے کے بعد اپنے گھر میں دفن کردیا ۔(۱۳)

۴)مدینہ

ابن سعد ( طبقا ت کے مصنف ) نے یہ نظریہ قبول کیا ہے کہ یزید نے سر حاکم مدینہ عمرو بن سعید کو بھیجا اور اس نے اسے کفن دینے بعد جنت البقیع میں امامؑ کی والدہ ماجدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی قبر کے پاس دفن کر دیا۔ (۱۴)
بعض دوسرے اہل سنت علماء جیسے خوارزمی نے مقتل الحسینؑ میں اورابن عماد جنبلی نے شذرات الذھب میں بھی یہی نظریہ قبول کیا ہے۔ (۱۵) اس نظریے پر اہم اشکال یہ ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی قبر تو معلوم نہیں تھی تو پھر اس کے ساتھ دفن کرنا کیسے ثابت ہوا۔

۵)شا م

کہا جا سکتا ہے کہ اکثر اہل سنت کا یہی نظریہ ہے کہ سر مقدس شام میں مدفون ہے اور پھر اس نظریے کے قائلین میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اس بارے پانچ نظریات ذکر کئے گئے ہیں :
الف: دروازہ فرادیس کے پا س دفن ہوا بعد میں وہاں مسجد الرائس تعمیر کی گئی،
ب: جامع اموی کے پاس ایک باغ میں دفن ہے،
ج: دارالامارہ میں دفن ہے،
د: دمشق کے ایک قبرستان میں دفن ہے،

ھ: باب تو ماکے نزد یک دفن ہے، (۱۶)

۶)رِقّہ

نہر فرات کے کنارے ایک شہر ہے، جس کا نا م رِقّہ ہے، اس دور میں آل عثمان میں سے آل ابی محیط کے نام سے مشہورایک قبیلہ وہاں آباد تھا، یزید نے سرمقد س ان کے پاس بھیجا اور انہوں نے اسے اپنے گھر کے اندر دفن کر دیا ،بعد میں وہ گھر مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ (۱۷)
۷) مصر (قاہرہ)
نقل ہواہے کہ فاطمی حکمران جن کی حکومت مصر پر چوتھی صدی ہجری کے دوسرے نصف سے شرو ع ہوئی اور سا تویں صدی ہجری کے دوسرے نصف تک باقی رہی ، یہ اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے سر امام حسین علیہ السلام کو شام کے باب الفرادیس سے عسقلان منتقل کیا اور پھر عسقلان سے قا ہرہ منتقل کیا اور وہاں دفن کر کے ۵۰۰ سا ل بعد اس پر تا ج الحسینؑ کے نام سے مقبرہ تعمیر کیا ۔ (۱۸)
تبریزی نے عسقلان سے قاہرہ کی طرف سر مقدس کے انتقال کی تا ریخ ۵۴۸ ہجری لکھی ہے اور کہا ہے کہ جب سر مقدس عسقلا ن سے نکالا گیا تو دیکھا گیا کہ خون ابھی تک تازہ ہے اور خشک نہیں ہوا اور مشک و عنبر کی خوشبو سر سے پھو ٹ رہی تھی ۔ (۱۹)
علامہ سید محسن امینی عسقلا ن سے مصر سر کے انتقال کا قول ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں ، سر مقدس کے دفن کی جگہ پر بہت بڑی بارگاہ بنائی گئی ہے اورا س کے پاس ایک بہت بڑ ی مسجد بھی بنائی گئی ہے۔ میں نے ۱۳۲۱ہجری میں وہاں زیارت کی اور وہاں میں نے زائرین کی بڑی تعداد زیارت و گریہ کرتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ فرما تے ہیں کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ سر عسقلان سے مصرمنتقل ہوا ہے ، لیکن آیا وہ امام حسین علیہ السلام کا سر تھا یا کسی اور کا اس بارے یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ (۲۰)
علامہ مجلسیؒ نے بھی بعض مصریوں سے نقل کیا ہے، مصر میں مشہد الکریم کے نام سے بہت بڑی بارگاہ موجود ہے ۔ (۲۱)
(۱) اقبا ل الا عما ل، ص ۵۸۸
(۲) محمد امین ، امینی ، مع الر کب الحسینی ،ج ۶ ، ص ۳۲۴، منقو ل مقتل الخوارزمی ، ج ۲ ، ص ۷۵
(۳) بحا ر الا نو ا ر ،ج۴۵، ص ۱۴۵
(۴) حوالہ سابق، ج ۴۵،ص ۱۷۸، منقو ل از کامل الزیا رات، ص ۳۴، اصو ل کافی ج ۴ ، ص ۵۷۱
(۵) بحا ر ،ج۴۵ ، ص ۱۷۸، مع الرکب الحسینی، ج۶ ، ص ۳۲۵، ۳۲۸
(۶) بحار الا نوار ،ج ۴۵، ص ۱۴۵
(۷) حوالہ سابق، ص ۱۷۸
(۸) تذکرہ الخواص ، ص۲۵۹،منقول از مع الرکب الحسینی، ص۳۲۹
(۹) ابن سعد ، طبقا ت، ج۵ ، ص ۱۱۲
(۱۰) مع الر کب الحسین، ج ۶ ، ص ۳۳۰ ، ۳۳۱
(۱۱) مع الرکب الحسینی، ج ۶ ، ص ۳۳۱ ۔۳۳۵
(۱۲) حوالہ سابق ص ۳۳۴، منقو ل از تذکر ہ الخواص ،ص۲۶۵
(۱۳،۱۴) البدا یۃ والنہا یۃ ،ج۸ ص ۲۰۵
(۱۴،۱۵) مع الر کب الحسینی، ج۶ ، ص ۲۳۷
(۱۶) سید محسن امین ، عاملی، لواعج الا شجا ن فی مقتل الحسینؑ، ص ۲۵۰
(۱۷) واقعۃ الطف ، ص ۱۹۷،طبقات ابن سعد ، ج۵،ص۹۹، تاریخ طبری، ج۵،ص۴۱۸،شیخ مفید، الارشاد،ص۴۴۲
(۱۸،۱۹)البدایۃ والنہا یۃ ،ج۸ ص ۲۰۵
(۲۰،۲۱)حوالہ سابق ص ۳۳۴، منقول از تذکرہ الخواص ،ص۲۶۵